تازہ ترین
ڈی اے وائی- این آر ایل ایم تغذیاتی باغیچوں اور پائیں گاہ پولٹری کو فروغ دے رہا ہے، تاکہ روزگار اور تغذیاتی تحفظ کی صورت حال کو بہتر بنایا جاسکے
نیتا کیجریوال
کووڈ-19 کی وبا کے سبب روزگار، غذائیت اور صحت خدمات کے متاثر ہونے کے سبب ڈی اے وائی- این آر ایل ایم پوشن ماہ 2020 کے دوران تغذیاتی باغیچوں کو فروغ دینے کے لیے ایک مہم کی قیادت کررہا ہے۔ اس سے تغذیاتی تحفظ اور غریب ترین اور سوئے تغذیہ سے متاثرہ لوگوں کے لیے آمدنی کے اسباب پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
کووڈ-19 کی غیرمعمولی وبا کے سبب متعدد سوالات کھڑے ہورہے ہیں، جن میں دیہی برادریوں کے روزگار، خوراک اور تغذیاتی تحفظ سے متعلق مسائل کا ازالہ کیے جانے کی ضرورت ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران غذائیت پر مبنی روزگار جیسے تغذیاتی باغیچوں اور پائیں گاہ پولٹری میں شروع شروع کی سرمایہ کاری ایک نعمت ثابت ہوئی ہے۔ اس سے کنبوں کو مقامی سطح پر اس وقت انڈوں اور غذائیت بخش سبزیوں تک رسائی میں مددملی، جب سپلائی چین، نقل وحمل اور بازاروں تک رسائی بری طرح متاثر تھی۔ دیہی ترقیات کی وزارت کے تحت دین دیال انتودیہ یوجنا –قومی دیہی روزگار مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) نے اس تجربے سے فائدہ اٹھایا ہے۔
ژچگی کی عمر والی 50 فیصدسے زیادہ خواتین میں خون کی کمی کی شکایت ہے اور تقریبا 23 فیصد بی ایم آئی کی قلت کا شکار ہیں۔ اس بات کا اظہار این ایف ایچ ایس -4 (2015-16) کے اعداد وشمار سے ہوتا ہے۔ صحت اور تغذیاتی خدمات تک حقدار خواتین کی رسائی ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان 51.2 فیصد خواتین میں سے محض 4 یا اس سے زیادہ خواتین اینٹی نیٹل کیئر وزٹ کرسکیں اور 30.3 فیصد خواتین نے کم از کم 100 دنوں تک آئی ایف اے لیا۔ (ایل ایف ایچ ایس-4) رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے ملک گیر لاک ڈاؤن کے سبب خواتین اور بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی لڑکیوں کے لیے ضروری خدمات سے متعلق التزامات کی راہ میں رخنہ پڑا،جس سے پہلے ایک ہزار دنوں کے دوران خواتین کی غذائیت اور صحت کو بہتر بنانے کے سلسلے میں جوکامیابیاں ملی تھیں،ان کو دھچکا پہنچا۔
63.3لاکھ سے زیادہ ایس ایچ جی اور6.98کروڑخواتین اراکین پرمشتمل اپنے نیٹ ورک کے ساتھ ڈی اے وائی –این آرایل ایم غذائیت اور صحت کے متعلق اپنی صورتحال میں بہتری سمیت غریب کنبوں کی غریبی کودورکرنے اورسماجی ترقی کی سمت میں کام کرنے کے لئے قدم اٹھارہاہے ۔ مشن اپنی سرگرمیوں کا از سر نو آغاز کررہا ہے، جس میں خصوصی توجہ کمیونٹی پر مبنی اداروں کے لچیلے پن کو مضبوط کرنے پر ہے، تاکہ ہنگامی حالات کے سبب غذائی اور تغذیاتی تحفظ پر،جو ضرب پڑی ہے، اس کا تدارک کیا جاسکے۔
ایس ایچ جی اور ان کے فیڈریشنوں کی طاقت ان کے آؤٹ ریچ، نیٹ ورک اور سماجی سرمایے میں مضمر ہے۔ صلاحیت سازی، کمیونٹی پر مبنی ایس ایچ جی اداروں کو مضبوط بنانا اور غذائیت نیز غذائی عناصر کے تئیں حساس زرعی ماڈل پر کمیونٹی میں ری سورس پرسنس کی ٹریننگ، حکمت عملی کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ ان ابتدائی سرمایہ کاریوں نے ان سرگرمیوں کو بڑھانے کےلیے کمیونٹی پر مبنی مطلوبہ ادارہ جاتی آرکیٹکچربھی فراہم کیا ہے۔ یہ بات تب ہے جب ریاستیں کووڈ-19 کے انفیکشن کے بڑھتے معاملات سے نبردآزما ہیں۔
اس ثبوت کی بنا پر کہ خواتین کی فیصلہ سازی اور اقتصادی آزادی کو بڑھاوا دینے سے کمیونٹی اور کنبے کی سطح پر کھانے پینے اور غذائی تنوع کے تعلق سےاپنی آمدنی میں سے مختص کی جانے والی رقم کی صورت حال بہتر بنتی ہے، مشن نے 2010-11 میں مہیلا کسان سشکتی کرن پریوجنا (ایم کے ایس پی) کا آغاز کیا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ڈی اے وائی – این آر ایل ایم کے تعلق سے ایم کے ایس پی کو آفاتی حیثیت دے دی گئی ہے اور زرعی روزگار کے فروغ کو سبھی ریاستوں کے دیہی روزگار مشن سے متعلق سالانہ کارروائی منصوبے میں شامل کیا جارہا ہے۔ اب تک 40.22 لاکھ کنبوں کو تغذیاتی باغیچوں کے قیام کے کام میں مدد دی گئی ہے۔ ریاستی مشنوں کو تعاون دینے کےلیے بہترین طور طریقوں پر مبنی کی ایک قومی ایڈوائزری بھی لائی گئی تھی۔ ان سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اگائی جانے والی سبزیوں کے غذائی مشمولات سے متعلق بیداری پیدا کرنے کا کا م بھی کیا جارہا ہے۔
چھتیس گڑھ دیہی روزگار مشن (سی جی-ایس آر ایل ایم) نے تغذیاتی باغیچوں کو فروغ دینے کے لیے روزگار سے متعلق اپنے اقدامات کے تحت ایک ریاست گیر حکمت عملی کا آغاز کیا تھا۔یہ پائیں گاہ کچن گارڈن یا تغذیاتی باغیچے مختلف قسم کی غذائیت بخش سبزیوں کی کاشت میں لگے ہوئے ہیں، تاکہ کنبوں کےلیے سالوں بھر غذائی تحفظ کویقینی بنایا جاسکے۔ اس کا مقصد حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں، بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی لڑکیوں اور بچوں سمیت ایس ایچ جی کنبوں کو مسلسل تغذیاتی تعاون فراہم کرنا بھی ہے۔ان باغیچوں کو لگانے میں خرچ بھی کم آتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کنبے کے استعمال شدہ پانی کو استعمال میں لاکر کی جاسکتی ہے۔
ریاست کے، برتاؤ میں تبدیلی سے متعلق مواصلاتی حکمت عملی میں خصوصی توجہ ماؤں اور نوجوانوں کی صحت پر مرکوز کی گئی ہے، جس میں ایک ہزار دنوں کے اندر ژچگی کی عمر سے متعلق گروپوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔چھتیس گڑھ میں پوشن سکھیوں، جنہیں ‘ماگن مٹس’ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کو اس طرح تربیت دی گئی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر سیکھی گئی چیزوں اور تجزیاتی تکنیک کا استعمال حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی لڑکیوں کے برتاؤ میں تبدیلی کے لیے کر سکیں۔ یہ کام چھتیس گڑھ کے بستر ضلع میں نافذ کیے جارہے ایک تجرباتی پروگرام ‘سوابھیمان’ کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کو تکنیکی تعاون یونیسیف انڈیا کے ذریعے فراہم کرایا جارہا ہے۔ ان ہدف شدہ گروپوں کے درمیان بیداری پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ تغذیاتی خدمات کے مطالبات بھی پیش کرتی ہیں۔ اس کے لیے وہ اے این ایم، اے ایس ایچ اے اور آگن واڑی کارکنوں کے ساتھ تال میل سے کام کرتی ہیں، تاکہ ٹیک ہوم راشن جیسے استحقاق کو یقینی بنایا جاسکے اور اس ہدف شدہ گروپ کو آئی ایف اے ٹیبلیٹس فراہم ہوسکیں۔
پوشن سکھیاں کچن گارڈن اور پائیں گاہ پولٹری کے قیام کے لیے کرشی سکھیوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔یہ سرگرمیاں ان موجودہ سرگرمیوں کے علاوہ ہیں، جن میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے ، بچوں کو لازمی طور پر ماں کا دودھ پلانے اور بچوں کی غذائیت پر زور دیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں اس پروگرام سے جو کچھ سبق ملا ہے، انہیں ریاست کے 6 اضلاع تک وسعت دی گئی ہے اور اسے مزید پھیلایا جائے گا۔
ڈی اے وائی-این آر ایل ایم نے پی آراے ڈی اے این جیسی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ اشتراک کیاہے ۔ تاکہ غذائی اعتبارسے حساس زرعی طورطریقوں اور روزگارکو مختلف اضلاع میں فروغ دیاجاسکے ۔ چھتیس گڑھ –اسٹیٹ مشن میں زرعی محکموں سے بھی فائدہ اٹھایاہے تاکہ تغذیاتی باغیچوں کے فروغ کے لئے پودے اوربیج دستیاب کرائے جاسکیں ۔ اسی طرح کی کوششیں سبھی ریاستی مشنوں میں جاری ہیں ۔
مشن اپنی غذا، صحت اور واش ( ڈبلیو اے ایس ایچ ) سے متعلق حکمت عملی کو جینڈرٹرانسفارمیٹوبنانے کے تئیں بھی پابندعہد ہے تاکہ خواتین کو اتنابااختیاربنادیاجائے کہ وہ صنفی مسائل کا تدارک کرسکیں جس کا اثران خدمات تک رسائی پرپڑتاہے ۔ خواتین کی قیادت میں روزگاراور صنعتوں کو مضبوط کرکے خواتین کی صحت سے متعلق معاملے کو آگے بڑھایاجاناچاہیے۔خواتین کی صحت کو بہتربنانے اورڈی اے وائی ۔این آرایل ایم اورپوشن ابھیان کے ذریعہ طے شدہ تغذیاتی اہداف کے حصول کی خاطرپائیدارتبدیلی کے لئے یہ اقدامات ضروری ہیں ۔
(مضمون نگار محترمہ نیتا کیجریوال، حکومت ہند کی دیہی ترقیات کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری ہیں)
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
نئی دہلی، دہلی ہائی کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے دہلی پولیس کے انکار کو چیلنج کرنے والی یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کے روز سماعت ہو سکتی ہے۔
یوتھ کانگریس نے بتایا کہ تنظیم کے سینئر ایڈوکیٹ سنجے گھوش نے بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ کے کارگزار چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی بنچ کے سامنے عرضی کا ذکر کیا تھا۔ عدالت نے اس کے بعد معاملے کو جمعہ کے روز سماعت کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ یوتھ کانگریس نے امید ظاہر کی ہے کہ معاملے پر جمعہ کے روز سماعت ہوگی۔
عرضی یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چب کے ذریعے تنظیم کے لیگل سیل کے چیئرمین ایڈوکیٹ روپیش سنگھ بھدوریا نے دائر کی ہے۔ اس میں دہلی پولیس کے یکم اکتوبر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں 25 ستمبر کو مجوزہ 100 سے 150 لوگوں کے پرامن مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
یوتھ کانگریس نے کہا کہ اس نے مظاہرے کے دوران سکیورٹی، ٹریفک، نظم و ضبط اور امن و قانون سے جڑی تمام شرائط پر عمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔
عرضی کے مطابق پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو انتظامی صوابدید کی بنیاد پر من مانے طریقے سے پابند نہیں کیا جا سکتا۔ یوتھ کانگریس نے کہا ہے کہ ایسے امتناع آئینی، ضرورت کے مطابق اور متناسب ہونے چاہئیں۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
