فن و ادب
کاجول 50 سال کی ہو ئیں
ممبئی، مشہور بالی ووڈ اداکارہ کاجول آج 50 سال کی ہوئیں۔
ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ کاجول نے اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کا دل جیتا ہے اور اداکاراؤں کو محض ’شوپيس‘ کے طور استعمال کیے جانے کے نظریات کو بدل کر سلور اسکرین پر اپنی ایک مضبوط شناخت بنائی تھی۔
5 اگست 1974 کو ممبئی میں پیدا ہونے والی کاجول کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا۔ ان کے والد سومو مکھرجی پروڈیوسر جبکہ ماں تنوجا جانی مانی فلم اداکارہ تھیں۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ کاجول اکثراپنی ماں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے جایا کرتی تھیں اسی وجہ سے ان کا بھی رجحان فلموں کی جانب ہو گیا اور وہ بھی اداکارہ بننے کے خواب دیکھنے لگیں۔
کاجول نے بطور اداکارہ اپنے فلمی کیریئر کا آغاز سال 1992 میں آئی فلم ’بے خودی‘ سے کیا تھا ۔ اس فلم میں ان کے ہیرو کا کردار کمل سدانا نے نبھایا لیکن کمزور اسکرپٹ اور ہدایت کی وجہ سے فلم باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئی۔1993 میں انہیں عباس-مستان کی فلم ’بازیگر‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔حالانکہ پوری فلم شاہ رخ خان پر مرکوز تھی لیکن کاجول نے اپنی زبردست اداکاری کے جوہر دکھاکر ناظرین کومسحور کردیا۔یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔
سال 1994 کاجول کے فلمی کیریئر میں اہم ثابت ہوا۔ اس سال ان کی ’ادھار کی زندگی، یہ دل لگی اور کرن ارجن‘ جیسی فلمیں جلوہ گر ہوئیں۔ ان فلموں میں اپنی بااثر اداکاری سے ناظرین کا دل جیتنے والی کاجول بامبے فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازی گیئں۔
سال 1994 میں کاجول کو یش چوپڑا کے بینر تلے بنی فلم ’یہ دل لگی‘ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم میں ان کے ہیرو کا کردار اکشے کمار اور سیف علی خان نے نبھایا۔ اس فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ پہلی مرتبہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کی گئیں۔
سال 1995 میں یش چوپڑا کی ہی فلم’دل والے دلهنيا لے جائیں گے‘ کاجول کے فلمی کیریئر کے لئے سنگ میل ثابت ہوئی۔ کاجول اور شاہ رخ خان کی بہترین اداکاری سے آراستہ یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی۔
سال 1997 میں انہیں پروڈیوسر ۔ ڈائرکٹر راجیو رائے کی فلم ’گپت‘ میں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ فلم بھی سپر ہٹ ثابت ہوئی حالانکہ فلم میں کاجول کا کردار گرے شیڈس لئے ہوئے تھا۔فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ بہترین ویمپ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی گیئں۔ فلم انڈسٹری کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب کسی اداکارہ کو بہترین ویمپ کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا تھا۔
سال 1998 میں ریلیز فلم دشمن میں کاجول نے اپنے فلمی کیریئر میں پہلی بار دوہرا کردار نبھا کر ناظرین کو محظوظ کر دیا۔اس فلم میں وہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کی گئیں۔
اسی سال ان کی ’پیار تو ہونا ہی تھا اور کچھ کچھ ہوتا ہے‘ جیسی فلمیں پردہ سمیں پر جلوہ گر ہوئیں۔ ان دونوں فلموں کے لیے بھی وہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئیں۔ یہ ان کے سنےکیریئر میں پہلا موقع تھا جب ایک سال میں تین فلموں کے لیے انہیں فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
سال 1999 میں کاجول نے اداکار اجے دیوگن کے ساتھ شادی کر لی اور فلموں میں کام کرنا کافی حد تک کم کر دیا۔ 2001 میں فلم’کبھی خوشی کبھی غم‘کے بعد کاجول نے فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا تھا۔
لیکن 2006 میں کاجول نے یش چوپڑا کے بینر تلے بنی فلم ’فنا‘ کے ذریعے فلم انڈسٹری میں اپنی زبردست واپسی کی۔ اداکار شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی جوڑی خوب پسند کی گئی۔ اپنے فلمی کیریئر میں وہ چار مرتبہ بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی جا چکی ہیں۔ 2011 میں وہ پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازی گئی ہیں۔
کاجول نے سال 2015 میں جلوہ گر ہوئی فلم ’دلوالے‘ سے کم بیک کیا۔ روہت شیٹی کی ہدایت میں بنی اس فلم میں شاہ رخ کے ساتھ ان کی کیمسٹري کو ناظرین نے بے حد پسند کیا ۔یہ فلم باکس آفس پر سپرہٹ ثابت ہوئی۔کاجول کی حالیہ ویب سیریز دی ٹرائل – پیار قانون دھوکہ ریلیز ہوئی۔ کاجول کی آنے والی فلموں میں ‘مہاراگنی کوئین آف کوئینز’ اور دو پتی شامل ہیں۔
یواین آئی۔ م س
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
جموں و کشمیر کی پانچ فلمیں پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے منتخب
سری نگر، جموں و کشمیر کے ہدایت کاروں کی بنائی ہوئی پانچ فلموں کو پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر 2026 کے مسابقتی ’’جموں و کشمیر سلیکٹ‘‘ حصے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
منتخب فلموں میں محمد ولی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘، روہن رویندرن نائر کی ’عریفہ‘، سدھارتھ کول اور انکت ولی کی ’بٹ کوچ‘ (گم شدہ گلی)، کپل متو کی ’تصرف دار‘ (کشمیر کے جنات) اور بابا تصدق حسین کی ’نقشِ دور‘ (غلام نبی دھر کی کہانی) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق فیسٹیول کے لیے قائم پیش نظارہ کمیٹی نے موصولہ فلموں کا جائزہ لینے اور ان کی فنی خوبیوں اور مسابقتی حصے کے لیے موزونیت کا جائزہ لینے کے بعد ان فلموں کی سفارش کی۔ اس انتخاب میں مختلف النوع کہانیوں، اصناف اور نقطۂ نظر کو جگہ دی گئی ہے، جن میں خاص طور پر جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے، سماجی حقائق اور انسانی تجربات سے جڑی کہانیوں پر توجہ دی گئی ہے۔
کشمیری اور ہندی زبانوں میں بنائی گئی یہ پانچوں فلمیں بچپن، خاندان اور یادداشت سے لے کر نقل مکانی، شناخت، ورثے، ثابت قدمی اور کشمیر کے بدلتے سماجی منظرنامے جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘ عید کے موقع پر کشمیر کے ایک گاؤں میں رہنے والے دو کم عمر بہن بھائیوں کی کہانی ہے۔ ’عریفہ‘ ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جو کشمیر میں اپنے آبائی گھر واپس آتی ہے اور بچپن اور اپنے والد سے جڑی یادوں کا سامنا کرتی ہے۔
’بٹ کوچ‘ ایک کشمیری مہاجر خاندان کی کہانی کے ذریعے نقل مکانی، شناخت اور گھر سے جڑے دیرینہ تصور کو پیش کرتی ہے۔ ’تصرف دار‘ کشمیر کے ماضی کے پراسرار واقعات، یادوں اور زخموں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے، جبکہ ’نقشِ دور‘ پدم شری سے سرفراز لکڑی کے ایک کاریگر کی زندگی اور خدمات کو پیش کرتی ہے جو سری نگر کے وسطی علاقے میں رہتے ہوئے کشمیر کی دستکاری، ثقافتی ورثے اور ثابت قدمی کو اجاگر کرتے ہیں۔
منتخب فلمیں چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے مسابقتی پروگرام کا حصہ ہوں گی، جہاں ناظرین اور فلم سازوں کو جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی منفرد فلمی آوازوں اور کہانیوں سے روبرو ہونے اور ان پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔
یو این آئی۔ م ع
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان5 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ جنرل موہت سیٹھ جموں میں وائٹ نائٹ کور کے نئے جی او سی ہوں گے
