فن و ادب
کرشمہ کپور 51 سال کی ہو گئیں
(سالگرہ 25 جون کے موقع پر)
ممبئی، بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرشمہ کپور آج 51 برس کی ہو گئیں 25 جون 1974 کو ممبئی میں پیدا ہونے والی کرشمہ کو اداکاری کا فن وراثت میں ملا ان کے والد رندھیر کپور اداکار جبکہ ماں ببیتا بھی معروف فلم اداکارہ تھیں کرشمہ نے بطور اداکارہ اپنے فلمی کیریئر کےآغاز سال 1991 کی فلم’ پریم قیدی‘ سے کیا۔ نوجوان محبت کی کہانی پر بنی اس فلم میں ان کے ہیرو کا کردار ہریش نے نبھایا فلم باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی۔ ساتھ ہی کرشمہ کی اداکاری کو بھی سراہاگیا۔
فلم ’پریم قیدی‘ کی کامیابی کے بعد کرشمہ نے پولیس آفیسر، جگر ،اناڑی، انداز اپنا اپنا، دلارا جیسی سپر ہٹ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان فلموں کو ناظرین نے پسند تو کیا لیکن کامیابی کا
کریڈٹ بجائے ان کے فلم کے اداکاروں کو دیا گیا۔
کرشمہ کی قسمت کا ستارہ سال 1996 میں آئی فلم راجہ ہندوستانی سے چمکا۔ اس فلم میں ان کے ہیرو عامر خان تھے۔ بہترین نغموں ، موسیقی اور اداکاری سے سجی اس فلم کی کامیابی نےکرشمہ اسٹار کے طور پر قائم کر دیا۔
سال 1997 میں آئی فلم دل تو پاگل ہے کرشمہ کپور کے فلمی کیریئر کی ایک اور اہم فلم ثابت ہوئی۔ یش چوپڑا کی ہدایت میں بنی اس فلم میں ان کا مقابلہ مادھوری دکشت سے تھا باوجود اس کے وہ اپنی اداکاری سے سامعین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے میں کامیاب رہیں۔
نوے کی دہائی میں کرشمہ پر یہ الزام لگنے لگے کہ وہ صرف گلیمرس کردار ہی ادا کرتی ہیں۔ اس شبیہ سے باہر نکالنے میں ڈائریکٹر پروڈیوسر شیام بینیگل نے ان کی مدد کی اور ان کے ساتھ فلم ’زبیدہ‘ بنائی۔ اس فلم میں وہ ’زبیدہ‘ کے مرکزی کردار میں نظر آئیں۔
اداکارہ ریکھا کی موجودگی کے باوجود کرشمہ اپنی مضبوط اداکاری سے ناظرین کی دادو تحسین حاصل کرنے میں کامیاب رہی.۔فلم میں اپنی بااثر اداکاری کے لیے وہ فلم فیئر کے ریویو ایوارڈ سے نوازی گئیں۔
سال 2000 کی دہائی میں کرشمہ کپور نے ناظرین کی پسند کو دیکھتے ہوئے چھوٹے پردے کا بھی رخ کیا اور سیریل میں بطور اداکارہ کام کرکے ناظرین کی بھرپور تفریح کی۔
سال 2003 میں صنعت کار سنجے کپور سے شادی کرنے کے بعد کرشمہ نے فلم انڈسٹری کو الوداع کہہ دیا لیکن بعد میں فلم ساز سنیل درشن کے زور دینے پر انہوں نے فلم ’میرے جیون ساتھی‘ کے ذریعے فلم انڈسٹری میں ایک بار پھر واپسی کی۔ فلم میں اپنے منفی کردار سے کرشمہ کپور نے ناظرین کی داد حاصل کی۔
کرشمہ کے فلمی کیریئر میں ان کی جوڑی اداکار گووندا کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ ان کی جوڑی سب سے پہلے سال 1993 میں آئی فلم مقابلہ میں ایک ساتھ پسند کی گئی بعد میں ان کی جوڑی کو فلم سازوں نے اپنی فلموں میں دوہرایا۔ ان فلموں میں راجہ بابو، دلارا ، خودار، قلی نمبر ون، ساجن چلے سسرال، ہیرو نمبر ون، حسینہ مان جائے گی اور شکاری جیسی فلمیں شامل ہیں۔
کرشمہ کو ان کے فلمی کیریئر میں تین بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ سال 1996 کی راجہ ہندوستانی. کیلئے انہیں پہلا بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے بعد سال 1997 کی فلم ’دل تو پاگل ہے‘ کے لیے انہیں بہترین معاون اداکارہ کا فلم فیئر اور قومی ایوارڈ، سال 2000 میں فلم ’فضا‘ کے لیے بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ بھی دیا گیا۔
سال 2012 کی فلم ’ڈینجرس عشق‘ سے کرشمہ نے ایک بار پھر انڈسٹری میں واپسی کی لیکن بدقسمتی سے یہ فلم کامیاب نہیں رہی۔ کرشمہ نے اپنے دو دہائی طویل فلمی کیریئر میں تقریبا 60 فلموں میں کام کیا ہے۔ کرشمہ ان دنوں فلم انڈسٹری میں سرگرم نہیں ہیں۔
یو این آئی۔ م س
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
نئی دہلی، معروف اداکار، فلم ساز اور تھیٹر فنکار نانا پاٹیکر، جن کی پُرجوش اداکاری، منفرد آواز اور انسانی جذبات سے بھرپور کرداروں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار کردار دیے، جمعرات کی صبح 75 سال کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ 5 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ایک شاندار فلمی سفر کا اختتام ہو گیا۔
نانا پاٹیکر، جن کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا، کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر منی پال اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن صبح 5:20 بجے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
ان کے اچانک انتقال کی خبر سے ہندوستانی فلمی صنعت میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے صرف ایک معروف اداکار کے انتقال پر افسوس نہیں کیا بلکہ ایسے فنکار کے کھو جانے کا دکھ منایا جس کی محض ایک نظر، ایک لمحے کی خاموشی یا مکالمے کی ایک سطر بھی پردے کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ نانا پاٹیکر کبھی روایتی معنوں میں فلمی ستارہ نہیں رہے۔ وہ ایسے اداکار تھے جو عام لوگوں کی جذباتی دنیا میں اتر جاتے تھے، ان کے غصے، زخموں، بے بسی، مزاحمت، کمزوری اور کبھی کبھی بے باک مزاح کو اپنے کرداروں میں پوری سچائی سے پیش کرتے تھے۔
ان کی اداکاری میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو مرکزی دھارے کی فلموں کے بناوٹی انداز کو قبول نہیں کرتی تھی۔ ان کی منفرد آواز اور مکالمے ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت عام سے عام جملے کو بھی جذبات اور اثر سے بھر دیتی تھی۔ وہ اپنی آواز بلند کیے بغیر بھی پورے منظر پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور خاموشی کے ذریعے بھی کسی کردار کی پوری جذباتی داستان بیان کر دیتے تھے۔
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے مشکلات سے بھرے بچپن کے بعد اپنی نسل کے سب سے قابل احترام اداکاروں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے 1978 میں ‘گمن’ کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا اور ہندی و مراٹھی فلموں میں مشکل اور چیلنجنگ کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لیے ایک منفرد مقام بنایا۔
ان کی اصل شناخت ایسے کرداروں سے بنی جن میں ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اداکاری کی طاقت اور شخصیت کا اثر درکار تھا۔ 1989 کی فلم ‘پرندہ’ میں بے رحم انا کا خوفناک کردار ادا کرنے پر انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘پراہار: دی فائنل اٹیک’ میں شاندار اداکاری کی، جس کی ہدایت کاری بھی انہوں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ ‘انگار’، ‘ترنگا’، ‘اگنی ساکشی’ اور ‘خاموشی: دی میوزیکل’ جیسی فلموں میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ۔ایم جے
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
ہندوستان1 week agoبیلا کلسٹر کے 729 ووٹوں میں سے 728 کو حذف کرنا ووٹ کی چوری : راہل
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
