تازہ ترین
کرینہ نے اپنی فٹنس کا راز بتایا
بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور نے اپنی فٹنس کا راز بتایا ہے۔ کرینہ ان اداکاراؤں میں شمار کی جاتی ہیں جو اپنی فٹنس پر بہت زیادہ توجہ دیتی ہیں۔
حالانکہ وہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال نہیں کرتیں پھر بھی انہوں نے اس پلیٹ فارم پر اپنے جم کے بارے میں بہت سی معلومات شیئر کی ہیں ۔ ورزش کے علاوہ کرینہ کا خیال ہے کہ زندگی کے تیئں مثبت رویہ اور صحت مند نظریہ کے ساتھ اچھا کھانا صحت مند رہنے کا بہترین طریقہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے دن کا آغاز گرم پانی میں لیموں ڈال کر پینے سے کرتی ہیں۔ پھر اس کے بعد ناشتے میں پوہا یا پھر اپما کھاتی ہیں۔

کرینہ نے بتایا کہ وہ باہر کا کھانا اور فاسٹ فوڈ کھانے سے پرہیز کرتی ہیں اور گھر میں بنا کھانا ہی کھانا پسند کرتی ہیں ۔ وہ رات آٹھ بجے تک اپنا کھانا کھا لیتی ہیں ۔ کرینہ اپنی صحت کے لئے روزانہ جم جاتی ہیں اور مختلف طریقوں سے اپنی فٹنس برقرار رکھتی ہیں۔
اس کے لئے متعدد قسم کی مشقیں بھی کرتی ہیں ، جن میں باکسنگ اور پلاٹے شامل ہیں۔ کرینہ نے بتایا کہ وہ ہفتے میں چار دن ورزش کرتی ہیں۔اس وقت وہ عامر خان کے ساتھ فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جو ہالی ووڈ فلم ٹام ہینکس اسٹارر ’فاریسٹ گمپ‘ کا ریمیک ہے۔یہ فلم کرسمس کے موقع پر ریلیز ہوگی۔(ای ٹی وی)
ہندوستان
گیانیش کو ہٹانے اور ایس آئی آر واپس لینے کے مطالبے پر ‘انڈیا’ اتحاد کا سپریم کورٹ تک مارچ
نئی دہلی، ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ نے ووٹ چوری کا الزام لگاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کارروائی، ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) پر روک لگانے اور ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کی تحقیقات کے مطالبات کے حق میں پیر کے روز یہاں بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک مارچ نکالا، جس میں بڑی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔
اپوزیشن اتحاد ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست سے مبینہ طور پر غلط طریقے سے ہٹائے گئے ناموں کے معاملے میں مداخلت کرنے اور انتخابی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ حقِ رائے دہی کے تحفظ اور انتخابی عمل میں عوام کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ان مسائل پر عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
‘انڈیا’ اتحاد کے اس مارچ میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ اور کانگریس رہنما ڈی کے شیو کمار، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، کانگریس رہنما سچن پائلٹ، ہماچل پردیش حکومت کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ، راشٹریہ جنتا دل کے تیجسوی یادو، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شراد پوار) کی سپریا سولے، کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو، شیو سینا (اودھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے اراکینِ پارلیمنٹ سنجے راؤت اور اروند ساونت، جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی رہنما مہوا مانجھی نیز ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا سمیت متعدد اپوزیشن رہنما شامل ہوئے۔
مارچ کے دوران اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے بازی کی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے۔ مظاہرین نے ‘ووٹ چوروں’ سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ یہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی نظام کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ چیف الیکشن کمشنر کا استعمال ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کی لڑائی ہندوستان کے چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ چیف الیکشن کمشنر، وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کی جمہوری اقدار اور اصولوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے کویت، قطر اور مصر کے ساتھ توانائی تعاون کے معاہدے
ریاض، سعودی عرب نے توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے کویت، قطر اور مصر کے ساتھ تین مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں میں بجلی، تیل و گیس، قابل تجدید توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کویت کے وزیر بجلی، پانی اور قابل تجدید توانائی صبیح عبدالعزیز عبدالمحسن المخیزیم، قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی امور سعد بن شریدہ الکعبی اور مصر کے وزیر پٹرولیم و معدنی وسائل کریم بدوی کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے۔
ان معاہدوں کے تحت ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، توانائی کے ذخیرے، سپلائی چین اور مشترکہ منصوبوں کی ترقی میں تعاون کیا جائے گا۔
کویت کے ساتھ مفاہمت نامے میں بجلی کی پیداوار اور برآمد، قابل تجدید توانائی، بجلی کے باہمی رابطوں، توانائی کی کارکردگی، ذخیرہ کرنے کے نظام اور اسمارٹ گرڈ کی ترقی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل تبدیلی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، اختراع، مقامی صنعتوں کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے والی ٹیکنالوجی میں بھی تعاون کیا جائے گا۔
قطر کے ساتھ معاہدے میں تیل و گیس، ریفائننگ، پیٹروکیمیکل، بجلی، صاف ہائیڈروجن اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک تیل و گیس کی برآمد کے لیے پائپ لائنوں کی تعمیر کے مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ تعمیرات اور دیگر صنعتوں میں پائیدار پیٹروکیمیکل مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت توانائی کی منتقلی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی امور پر بھی تال میل قائم کیا جائے گا۔ اس میں اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی اور پیرس معاہدے کے تحت مذاکرات کے علاوہ پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کی تشکیل کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
مصر کے ساتھ مفاہمت نامہ خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور قدرتی گیس پر مرکوز ہے، جس میں تجارت، نقل و حمل، ذخیرہ، تقسیم اور رسد کے امور شامل ہیں۔ اس کا مقصد تجارتی بنیادوں پر اور دونوں ممالک کے قوانین کے مطابق توانائی کی منڈیوں کے انضمام کو بہتر بنانا، سپلائی چین کو مضبوط کرنا اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
سعودی عرب مصر میں ایندھن کے اسٹیشنوں کو جدید بنانے اور ان کے انتظام و آپریشن سے متعلق اپنا تجربہ بھی فراہم کرے گا۔ دونوں ممالک مصر میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دینے اور پیٹروکیمیکل صنعت کے ساتھ موجودہ اور منصوبہ بند منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے امکانات کا جائزہ بھی لیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، کم از کم 72 کان کن ہلاک: حقوق انسانی کی تنظیم
خرطوم، سوڈان اور مصر کی متنازع سرحد کے قریب سونے کی ایک کان پر فضائی حملے میں کم از کم 72 کان کن ہلاک ہوگئے۔ سوڈان میں جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے والی تنظیم ‘ایمرجنسی لائرز’ نے یہ اطلاع دیتے ہوئے حملے کا الزام مصری فوج پر عائد کیا ہے۔
خرطوم میں قائم تنظیم نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مصری لڑاکا طیاروں نے سوڈان کے شمالی علاقے وادی میں شہری کان کنوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 72 شہری ہلاک ہوگئے۔
ہفتے کو ہونے والے اس مبینہ حملے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور مصر نے اس پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس سال جبل العقیادات کے پہاڑی سرحدی علاقے میں یہ دوسرا حملہ ہے۔ یہ علاقہ سونے کی کان کنی کے لیے مشہور ہے۔ جون میں بھی اسی مقام پر اسی نوعیت کے حملے میں 23 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔ ان حملوں کا الزام بھی مبینہ طور پر مصر پر عائد کیا گیا تھا۔
اس وقت مصری فوج نے کہا تھا کہ اس نے اپنی سرحدوں کے اندر غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔
سوڈان اور مصر کے درمیان سرحدی علاقے پر تنازع ہے اور دونوں ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال حلايب مثلث پر دعویٰ کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور مقامی حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے شیئر کی گئی ایسی تصاویر، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، میں ملبے کے درمیان درجنوں لاشیں اور کفن میں لپٹی لاشیں دکھائی گئی ہیں۔ کان کنوں نے بھی علاقے میں فضائی حملے کی اطلاع دی ہے۔
اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ میں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس بحران نے بڑی تعداد میں لوگوں کو سونے کی خطرناک کان کنی کی جانب دھکیل دیا ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی دونوں متحارب فریقوں کی جنگی سرگرمیوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
معدنی ذخائر سے مالا مال یہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ سیکڑوں کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں متنازع حلايب مثلث بھی شامل ہے۔
ایمرجنسی لائرز نے کہا کہ حملہ سوڈانی حدود کے اندر ہوا۔ تنظیم کے مطابق، ”سونے اور معدنی وسائل سے مالا مال سرحدی علاقوں پر بار بار حملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مصری حکام سوڈان کے قدرتی وسائل پر اپنا کنٹرول بڑھانا اور مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔”
تاہم، مصری فوج نے جون میں کہا تھا کہ اس کی کارروائی مصری سرزمین کے اندر کی گئی تھی۔ فوج کے مطابق، اس دوران 223 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 136 غیر ملکی شہری شامل تھے۔ اس نے علاقے میں ”غیر قانونی سونے کی کان کنی اور اسلحے کی اسمگلنگ” کے خلاف مہم چلانے کا اعلان بھی کیا تھا۔
سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کی حمایت کرنے کے باوجود مصر اپنی سرحد کے قریب جاری جنگ کو اپنی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ بحیرۂ احمر سے لیبیا تک پھیلی دونوں ممالک کی سرحد تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے۔
دریائے نیل کے مشرق میں واقع اس سرحدی علاقے کو کئی برسوں سے سونے کی غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مصر ان سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر ملک بدری کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
دنیا1 week agoروس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
-
جموں و کشمیر1 week agoماضی کی حصولیابیوں سے استفادہ کرتے ہوئے پائیدار زراعت کے لیے اختراع کریں: لیفٹیننٹ گورنر کی نوجوانوں سے اپیل
-
دنیا1 week ago۔کیریبین سمندر میں امریکی فوج کا کشتی پر حملہ، منشیات اسمگلنگ کے 4 مبینہ ملزم ہلاک: کمانڈ
