تازہ ترین
کشتوار کی سڑکوں پر موت کا رقص ،35لقمہ اجل، 17زخمی ،ایکس گریشیا واگذار
خبراردو: کشتوار میں سڑک کے المناک حادثے میں مسافروں سے کھچا کھچ بس سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری جسکے نتیجے میں گاڑی میں سوار 35مسافر موقعے پر ہی لقمہ اجل جبکہ دیگر 17مسافر شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں 15کو انتہائی نازک حالت میں جموں کے میڈکل کالج منتقل کیا گیا۔
جولائی کی پہلی تاریخ یعنی سوموار کو ضلع کشتوار میں اُس وقت سڑکوں پر موت کاخونین رقص دیکھنے کو ملا جب مسافروں سے کھچا کھچ منی بس زیر نمبرJK17-6787کیشون کے مقام پر سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار35از جان جبکہ مزید 17مسافر شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں سے 15زخمی مسافروں کو نازک حالت میں جموں کے میڈیکل کالج میں معیاری علاج و معالجے کی خاطر داخل کیا گیا۔معلوم ہوا کہ سوموار کی صبح 8:40 بجے کیشون سے کشتوار جارہی منی بس اُس وقت حادثے کا شکار ہوئی جب گاڑی سرگواری کے مقام پر سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ گاڑی میں مسافروں کی بہتات تھی جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور گاڑی کاکنٹرول کھوبیٹھا جس کے نتیجے میں دلدوز حادثہ رونما ہوا۔حادثہ رونما ہونے کےساتھ ہی یہاں چیخ و پکار سنائی دی جس کے نتیجے میں آس پڑوس میں موجود لوگ جائے حادثے کی جانب بڑھنے لگے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثہ اس قدر بھیانک تھا کہ گہری کھائی میں مسافر گاڑی گر جانے سے گاڑی پرزوں میں تقسیم ہوگئی جبکہ گاڑی میںسفر کرنے والے مسافروں کی لاشیں دوردور تک بکھری ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے ابتدائی مرحلے میں 28مسافر موقعے پر ہی لقمہ اجل بن گئے جبکہ دیگر زخمی مسافروں کو مختلف ہسپتالوں کو روانہ کیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ مختلف ہسپتالوں کو منتقل کئے گئے زخمی مسافروں میں سے پہلے 3جبکہ بعد میں مزید 4افراد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے جس کے ساتھ ہی حادثے میں مرنے والوں کی تعداد35تک پہنچ گئی۔
ذرائع سے معلوم ہوا کہ جائے حادثے کے موقعے پر خونین رقص جیسا سماں تھا جہاں لاشیں اور زخمی مسافر خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ حادثے رونما ہونے کے فوراً بعد پولیس، انتظامیہ ، ایس ڈی آر ایف اور مقامی لوگوں نے ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے گاڑی میں پھنسے ہوئے مسافروں کو کافی مشقت کے بعد کشتوار کے کئی ہسپتالوں کو منتقل کیا جبکہ موقعے پر ہی از جان ہوئے افراد کی شناخت اور دیگر طبی و قانونی لوازمات کو پورا کرنے کےلئے پولیس نے لاشوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ادھر جموں میں تعینات دفاعی ترجمان کرنل دیوندر آنند نے بتایا کہ کشتوار حادثے میں زخمی ہوئے افراد کو انڈین ائر فورس کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جموں میڈیکل کالج منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ائر فورس کے چاپر نے 7زخمیوں کو جموں منتقل کیا جن میں ایک کمسن بچہ اور چارتیماردار شامل تھے۔ادھر حادثہ رونما ہونے کے ساتھ ہی ضلع کشتوارمیں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی جبکہ حادثے میں مہلوک افراد کے گھروں میں چیخ و پکار کے مناظر دیکھے گئے۔ معلوم ہوا کہ سانحہ رونما ہونے کی خبر جونہی کشتوار کے مضافات میں پھیل گئی تو لوگوں کی بڑی تعداد اپنے عزیز و اقارب کی سلامتی کےلئے جائے حادثے کی جانب دوڑ پڑے جس دوران کوئی خواتین کو جائے حادثے پر غش آتے ہوئے دیکھا گیا۔ادھر ڈپٹی کمشنر کشتوارانگریزسنگھ رانا نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ گاڑی کاڈرائیور برق رفتاری سے گاڑی چلارہا تھا جبکہ گاڑی میں انتہائی حد تک اوور لوڈ تھا جس کے نتیجے میں گاڑی سڑک سے لڈھک کر گہری کھائی میں جاگری۔انہوں نے کہا کہ 27سیٹوں پر مشتمل منی بس جو کہ کیشون سے کشتوار کی جانب جارہی تھی ، کا ڈرائیور برق رفتار سے گاڑی کو چلارہا تھا۔انہوں نے کہا کہ سرگواری کے مقام پر سوموار کی صبح گاڑی سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں تلف ہوئیں۔
ڈپٹی کمشنر انگریز سنگھ رانا کے مطابق حادثے کی شکار منی بس میں کافی اوورلوڈنگ تھی اور ڈرائیور گاڑی کو برق رفتار کےساتھ چلارہے تھے۔انہوںنے کہا کہ ہماری طرف سے جو انکوائری عمل میں لائی گئی اس کے مطابق گاڑی میں کافی اوورلوڈنگ تھی اور گاڑی کو برق رفتاری کےساتھ چلایا جارہا تھا۔ڈپٹی کمشنر کے بقول اس حوالے سے کیس درج کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ادھر حادثے میں انسانی جانوں کے تلف ہونے پر عوامی حلقوں میںسخت ناراضگی پائی جارہی ہے اور لوگ ایسے سانحات کےلئے ضلع انتظامیہ کے علاوہ محکمہ ٹریفک کی لاپرواہی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ جموں صوبے کے پہاڑی اضلاع بشمول کشتوار، ڈوڈہ، راجوری اور پونچھ میں گزشتہ کئی برسوں سے متواتر طور پر سڑک کے المناک حادثات رونما ہورہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں تلف ہوئیں۔خیال رہے 27جون 2019کو مغل روڑ پر اسی طرح کے ایک دلدوز حادثے میں سیر و تفریح پر جانے والی 11طالبات جاں بحق ہوئیں۔ ادھر ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے اس اندوہ ناک حادثے پر اپنی گہری فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مہلوک افراد کے لواحقین کےساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرنے کےساتھ ساتھ زخمی ہوئے افراد کی فوری اور جلد صحت یابی کےلئے دعا کی۔ انہوں نے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین میں فی کس 5لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا ریلیف واگذار کرنے کے احکامات صادر کئے۔
گورنر نے انتظامیہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں زخمی افراد کے علاج و معالجے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیورں کی لائسنس کو فوری طور پر منسوخ کریں۔ گورنر کا کہنا ہے کہ بیشتر حادثات میں یہ محسوس کیا گیا ہے کہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کی لاپرواہی اور غفلت شعاری کے نتیجے میں ہی حادثات رونما ہوتے ہیں جن میں انسانی جانیں بڑی تعداد میں تلف ہوجاتی ہیں۔گورنر ستیہ پال ملک نے حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ حادثات کے پیچھے محرکات کا پتہ لگانے کےلئے ٹھوس بنیادوں پر تحقیقات عمل میں لائی جائیں گی اور آنے والی سیک میٹنگ میں اس حوالے سے ٹھوس اور مربوط فیصلے لئے جائیں گے تاکہ ملوث عناصر کےخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
ادھر حادثے پر جن لوگوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اُن میں وزیر اعظم نریندرمودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، گورنر کے صلاح کار، ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی، ڈاکٹر شاہ فیصل،بیگم خالدہ شاہ، ایڈوکیٹ مظفر شاہ، سجاد غنی لون، عمران رضا انصاری، غلام احمد میر، غلام حسن میر، حکیم محمد یاسین، محمد یوسف تاریگامی، انعام النبی سمیت متعدد سیاسی و سماجی لیڈران شامل ہیں۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
