جموں و کشمیر
کشمیری پنڈتوں کے محبوب تہوار ‘ہیرتھ’ کی چار روزہ روایتی تقریبات شروع
کشمیری پنڈتوں کے محبوب تہوار ‘ہیرتھ’ کی چار دنوں پر محیط روایتی تقریبات ہفتے کے روز سے شروع ہوگئی ہیں۔
اس تہوار کو ہندوستان، پڑوسی ممالک بشمول پاکستان میں مقیم ہندو برادری ‘مہا شیوراتری’ کے نام سے مناتی ہے۔ ہندو مذہب کے مطابق یہ تہوار بھگوان شیو اور دیوی پاروتی کی شادی کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔
‘ہیرتھ’ کے موقع پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بالخصوص فیس بک اور ٹویٹر پر کشمیری مسلمانوں اور مہاجر کشمیری پنڈتوں کی سینکڑوں جذباتی تحریریں دیکھنے کو ملیں جن میں کشمیری مسلمانوں نے اپنی پنڈت برادری کو کشمیر واپس لوٹنے کی دعوتیں دی ہیں جبکہ کشمیری پنڈتوں نے ہیرتھ سے متعلق کشمیر کی یادیں تازہ کی ہیں۔ وادی میں سنہ 1989 میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد بیشتر کشمیری پنڈت ملک کے مختلف شہروں بالخصوص جموں ہجرت کرگئے۔
کشمیری پنڈت برادری کا اس مذہبی تہوار ‘مہاشیوراتری یا ہیرتھ’ کو منانے کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔ کشمیری پنڈت برادری اس تہوار کی تقریبات کا آغاز خصوصی پوجا جوکشمیری پنڈتوں کے ہاں ‘وٹک پوجا’ کے نام سے جانی جاتی ہے، سے کرتی ہے جس کے لئے مخصوص قسم کے برتنوں اور خشک پھلوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس خصوصی پوجا کا اہتمام کشمیری پنڈت اپنے گھروں میں ہی کرتے ہیں۔
کشمیری پنڈت رامیش امباردار نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پنڈت گھرانوں میں ہیرتھ کی تقریبات کا آغاز خصوصی اور مخصوص ‘وٹک پوجا’ سے ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا ‘بیشتر پنڈت گھرانوں میں اس مخصوص پوجا کا اہتمام ہفتے کی شام ہوگا جبکہ بعض پنڈت گھرانے ایسے ہیں جن میں اس پوجا کا اہتمام گذشتہ شام کیا گیا’۔
جموں میں رہائش اختیار کرچکے کشمیری پنڈت سنیل پنڈت نے بتایا کہ ‘ہیرتھ’ تہوار کی چار دنوں تک جاری رہنے والی تقریبات ہفتے کے روز سے شروع ہوئی ہیں اور اس کی مناسبت سے سنیچر کی شام خصوصی ‘وٹک پوجا’ کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوئوں میں صرف کشمیری پنڈت وٹک پوجا کا اہتمام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ‘اس خصوصی پوجا کا سلسلہ غروب آفتاب سے شروع ہوکر رات دیر گئے تک جاری رہے گا۔ وٹک پوجا بھگوان شیو اور دیوی پاروتی کی شادی تقریب کی علامت ہے’۔
انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر سارے ہندو مہاشیوراتری یا ہیرتھ کا تہوار مناتے ہیں مگر اُن کا اور ہمارا اس تہوار کو منانے کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیری پنڈتوں کو چھوڑ کر دوسرے ہندو اس تہوار کے موقع پر مندروں میں جاکر پوجا کرتے ہیں جبکہ ہم اس تہوار سے متعلق خصوصی وٹک پوجا کا اہتمام اپنے گھروں میں ہی کرتے ہیں۔
انہوں نے اس خصوصی ‘وٹک پوجا’ کے طریقہ کار کے بارے میں بتایا ‘ہم دولہا دلہن (بھگوان شیو اور دیوی پاروتی) کی علامت کے طور پر دو برتن پوجا کے وقت سامنے رکھتے ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی کے شروع ہونے سے قبل ہم اس پوجا کے لئے مٹی کے برتن (مٹکے) استعمال میں لاتے تھے چونکہ ایسے برتنوں کو اب حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے تو آج المونیم یا سٹیل کے برتن استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ دو بڑے برتنوں کے علاوہ چار یا چھ چھوٹے چھوٹے برتن بھی پوجا کے وقت سامنے رکھتے جاتے ہیں جن کو باراتیوں کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ شادی کی رسم انجام دینے کے لئے ایک گرو اور حفاظت کے لئے دو محافظوں کی علامت کے طور پر تین مزید برتن رکھے جاتے ہیں۔ اس پوجا میں زیادہ سے زیادہ گیارہ برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو مختلف لوگوں کی علامت ظاہر کرتے ہیں’۔ وادی میں اس تہوار کے حوالے سے بھیگے ہوئے اخروٹوں کا پرساد اور مچھلیوں کا سالن بہت ہی مشہور ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وٹک پوجا کے لئے استعمال ہونے والے برتنوں میں اخروٹ، بادام اور دوسرے خشک پھلوں کی گریاں رکھی جاتی ہیں جو تہوار کے چار دنوں کے بعد پرساد کے طور پر رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پرساد میں سے ایک بڑا حصہ بیاہی گئی عورتوں کے وہاں بھیجا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل یعنی اتوار کے روز تہوار کے دوسرے دن بچوں اور عورتوں میں نقدی تقسیم کی جائے گی جس سے سلام کہتے ہیں۔
ایک اور مہاجر کشمیری پنڈت نے کہا کہ آج جب مہاجر کشمیری پنڈت اس تہوار کو مناتے ہیں تو وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مسلمان اخروٹ ساتھ لیکر اپنے پنڈت بھائیوں کو سلام کے موقعے پر مبارک باد پیش کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سلام کے دن کنبے کا سربراہ بچوں اور کنبے کے جونیئر اراکین کو جیب خرچ پیش کرتا ہے جس کو کشمیری میں ‘ہیرژ خرچ’ کہتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا ‘ہر ایک کشمیری پڑوسی اور دوست ہیرتھ کی مبارکباد دینے کے لئے جموں یا دہلی نہیں آسکتا ہے’۔
جنوبی ہند میں رہائش اختیار کرچکے ہیں، ایک کشمیری پنڈت نے بتایا کہ شیوراتری جسے کشمیری میں ہیرتھ کہتے ہیں، کشمیری پنڈتوں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ اس تہوار کے موقع پر ہمیں اپنے مادر وطن، کشمیری پڑوسیوں اور دوستوں کی بے حد کمی محسوس ہورہی ہے۔ ہیرتھ کے اگلے روز کو سلام کے طور پر منایا جاتا ہے اور وہ (کشمیری پڑوسی اور دوست) سلام کے موقع پر ہمارے گھر آکر ہمیں اس دن کی مبارکباد پیش کرتے تھے۔
انہوں کہا ‘ہم آج بھی ہیرتھ کے بعد آنے والے دن کو سلام کے طور پر مناتے ہیں، لیکن یہاں ہمیں کوئی پڑوسی یا دوست اس موقع پر مبارکباد پیش نہیں کرتا ہے’۔
اس دوران ‘ہیرتھ’ کے موقع پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بالخصوص فیس بک اور ٹویٹر پر کشمیری مسلمانوں اور مہاجر کشمیری پنڈتوں کی سینکڑوں جذباتی تحریریں دیکھنے کو ملیں۔
ایک کشمیری پنڈت رامیش رینا نے ‘ہیرتھ’ کے موقع پر اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا ‘ ہم کشمیری پنڈت ہیرتھ تہوار سے متعلق تمام رسوم کو من وعن ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم دوسرے تہواروں کی طرح ہیرتھ تہوار کی رونق اور چہل پہل بھی پنڈتوں کی ہجرت سے متاثر ہوئی ہے’۔
دریں اثنا شیو راتری کے تہوار کے سلسلے میں سنیچر کے روز وادی میں قائم مندروں میں خصوصی پوجاپاٹ کا اہتمام کیا گیا جن میں تجارت کی غرض سے کشمیر آئے ہوئے ہندومذہب کے پیروکاروں نے شرکت کی۔ سب سے بڑی تقریبات سری نگر کے ہنومان مندر ، رام مندر اور شنکر آچاریہ مندر میں منعقد ہوئیں۔
مہاشیوراتری کے تہوار کے سلسلے میں جموں بھر کے مندروں پر چراغاں کیا گیا ہے۔ شیو پاروتی مندر، شیو دھام اور دیگر مشہور مندروں کو پھول مالائوں اور رنگا رنگ روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔
کشمیر انتظامیہ نے مہاشیوراتری یا ‘ہیرتھ’ کے تہوار کے سلسلے میں پنڈت برادری والے علاقوں میں معقول انتظامات کئے ہیں۔ محکمہ فشریز کی طرف سے ٹراﺅٹ فش کی خریداری کے لئے سیل مراکز قائم کئے گئے ہیں
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا19 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر19 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان21 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا19 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا23 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا23 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
