تازہ ترین
کشمیر خطہ بے آئین: سید علی گیلانی
خبراردو: حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے حکومت اور پولیس کی طرف سے کشمیر یونیورسٹی میںمنعقدہ کتاب میلے میں شرکت کی اجازت نہ دئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کے اس خطہ بے آئین میں نہ صرف سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد ہے بلکہ یہاں نجی اور علمی سرگرمیوں کے حوالے سے نقل و حمل پر بھی بندشیں عائد کی جاتی ہے۔
حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی کو اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت کشمیر یونیورسٹی میں اردو میلے میں شرکت اور وہاں موجود طلباءوطالبات سے بات کرنے کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے ریاستی سرکار کی اس پولیس گردی اور دھونس دباوکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے لخت ہائے جگروں سے ملاقات کے لیے پُرامن طریقے سے جانا چاہتا تھا، لیکن اس خطہ بے آئین میں سیاسی ہی نہیں، بلکہ نجی اور علمی سرگرمیوں پر بھی قدغن لگادی گئی ہے۔ سروں پر پہرے تو پہلے ہی تھے اور زبانوں پر بھی تالے چڑھائے جاچُکے ہیں۔ بھارتی جمہوریت کا ایسا بھیانک اور انوکھا چہرہ شاید ہی کسی نے دیکھا ہوگا، جہاں 90سال کے ایک شخص کو پچھلے 10سال سے گھر کی چار دیواری میں قید کرکے اُس کی تمام سیاسی، سماجی، ذاتی اور مذہبی سرگرمیوں پر روک لگا کر بھارتی حکمران خود ہی اپنی نام نہاد جمہوریت کا جنازہ نکال کر اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
موصولہ بیان کے مطابق حریت(گ) چیرمین نے دانش گاہ کشمیر میں انتظار میں بیٹھے اپنے جگرگوشوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ظلم وستم کی اس سیاہ رات کی سحر ضرور ہوگی۔ اردو کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے حریت راہنما نے کہا کہ ہمارا دینی، ملی، ثقافتی اور معاشرتی لٹریچر کا تقریباً 90فیصد حصہ اردو میں ہی ہے اور اگر اس زبان کے حوالے سے لاپرواہی اور تساہل برت کر اس کو ہماری زندگیوں سے دور کرنے والی طاقتیوں کو پذیرائی ملی تو وہ وقت دور نہیں جب ہم اس زبان کے ایک ایک نقطہ کو برابر اسی طرح ترس رہے ہوں گے جس طرح ہم فارسی زبان اب ہمارے لیے انجانی اور غیر مانوس ہوکے رہ گئی ہے۔ انہوں نے ملّت کے بہی خواہوں، ذی شور جوانوں، ملی درد رکھنے والے طلباءوطالبات سے دردمندانہ اپیل کی کہ قوم کے اس گرانقدر اثاثے کی حفاظت کریں۔ آنے والی نسلوں کو اردو سے روشناس کرکے ان کو اس کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کریں اور اس کو کمزور کرنے کی کسی بھی سازش اور منصوبے کے خلاف صف آرا ہوجائیں۔
انہوںنے کہا کہ اس زبان کو صرف اور صرف مسلمانوں کی طرف منسوب کرکے اس کے ساتھ بھی اقلیتوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے، لیکن یہ زبان اپنے بولنے اور ماننے والوں کو بلالحاظ مذہب وملّت اپنی مٹھاس اور اپنائیت سے محظوظ کرتی ہے۔ آزادی پسند راہنما نے کہا کہ آج کل ہمارے گھروں میں ہماری نئی نسل اردو بول تو سکتی ہے، لیکن لکھ اور پڑھ نہیں سکتی ہے جو پریشان کُن ہی نہیں، بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ اردو میلہ منعقد کرنے والوں کو اپنے دل کی عمیق گہرائیوں کے ساتھ مبارکباد دینا چاہتاہوں کہ بھارت کے کونے کونے سے اردو کے دیوانے اس وادی پُرخار میں تقریباً ایک ہفتے سے اپنے اسٹال لگائے ہوئے ہیں۔ ہم ان کی اس کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دُعا کرتے ہیں کہ اردو کے تئیں ان نیک جذبات اور کوششوں کو ہم عملی جامہ پہنا کر نایاب بنائی جارہی اس زبان کو ایک نئی زندگی اور نئی روح بھر کر اپنی نئی نسل کو اس سے ہم آہنگ کریں تاکہ انہیں اپنے دین اور اپنی شناخت کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
طلباءوطالبات سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علم وتحقیق کی بلندیوں پر کمند ڈالنے کے لیے انتھک محنت اور لگن کے ساتھ ساتھ اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے علم و ہنر اور تحقیقاتی ہتھیاروں سے لیس ہوکر میدان میں مقابلے کی تیاری کرتی ہے۔
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی ہندوستان نے شدید مذمت کی
نئی دہلی، ہندوستان نے سعودی عرب کے ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنا کر گزشتہ چند دنوں میں کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان حملوں میں شہریوں کی موت اور کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
ہندوستان نے حملوں میں جاں بحق ہونے والے لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہندوستان نے سعودی عرب کے عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعادہ کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ منگل اور بدھ کے روز مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے حملوں میں جان و مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
