تازہ ترین
کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی پر ابہام برقرار
سیاہ فہرست والی ویب سائٹوں کی فہرست ت
سوشل میڈیا تک رسائی کو روکنے کیلئے’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘ کو بند کرنے کا فیصلہ
سرینگر 29،جنوری:کے این ایس / وادی کشمیر میں طویل ترین عرصے سے جاری’انٹر نیٹ کرفیو‘کے باعث انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔اگرچہ انٹر نیٹ سروس کو محدود اور مشروط بنیادوں پر بحال کیا گیا ہے،تاہم عوام اس اقدام کو مذاق سے تعبیر کررہے ہیں۔شدید تنقید کے بعد حکام نے کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ ترتیب دیا ہے،تاہم اس پر ابہام ابھی بھی برقرار ہے۔حکام نے انٹر نیٹ کی مکمل بحالی سے قبل (بلیک لسٹڈ) یعنی سیاہ فہرست والی ویب سائٹوں کی فہرست تیار کرلی ہے،جو عنقر یب مشتہر کی جائیگی،جن ویب سائٹوں تک عام صارفین کی رسائی ہوگی،اُنہیں (وائٹ لسٹڈ) یعنی سفید فہرست والی ویب سائٹس قرار دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا تک صارفین کی رسائی کو روکنے کیلئے ’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘(وی پی این) کو مکمل طور (بلاک)بند کرنے کا فیصلہ بھی لیا گیا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک بحث بھی شروع ہوگئی ہے اور نوجوان پود سوشل میڈیا تک رسائی کیلئے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی تگدو بھی کررہی ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق 5اگست 2019کو کشمیر میں انٹر نیٹ کرفیو نافذ ہوا،اگرچہ پابندیوں کو محدود حد تک ہٹایا گیا،تاہم مجموعی طور پر کشمیر میں انٹر نیٹ کرفیو تاحال جاری ہے۔حالیہ دنوں حکام نے ایک غیر معمولی فیصلے اور سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت پر موبائیل انٹر نیٹ خدمات2۔جی رفتار کیساتھ بحال کردیں،تاہم صارفین کی جانب سے جموں وکشمیر کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔صارفین نے حکومتی فیصلے کو مذاق اور درد سر سے تعبیر کیا۔شدید تنقید کے بعد حکام نے وادی کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ بنایا ہے۔اس سلسلے میں کئی سطحوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں:انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ: انٹرنیت کی جزوی اور مشروط بحالی سے قبل حکام نے ایک لسٹ جاری کی جس میں وہ ویب سائٹس شامل ہیں جن تک رسائی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فہرست کو وائٹ لسٹ کہا گیا ہے جبکہ اس سے باہر رہنے والی سبھی ویب سائٹس بلیک لسٹ میں رکھی گئی ہیں۔ حکام کیلئے یہ صورت حال مضحکہ خیز بن گئی ہے کیونکہ دنیا میں کروڑوں ویب سائٹس ہیں اور محض چند درجن ویب سائٹس کو وائٹ لسٹ میں شامل کرکے انٹرنیٹ کی بحالی کا دعوی ہدف تنقید بن رہا ہے۔ حکام اب سوچ رہے ہیں کہ وائٹ لسٹ کے بجائے بلیک لسٹ جاری کی جائے تاکہ پیدا شدہ ہزیمت کا کسی حد تک ازالہ کیا جاسکے۔ذرائع کے مطابق، حکومت ویب سائٹوں کی ایک فہرست تیار کررہی ہے جس پر خطے میں فل اسپیڈ انٹرنیٹ کے دوبارہ آغاز کے باوجود پابندی عائد رہے گی۔ذرائع نے بتایا کہ کچھ ایسی سائٹیں ہیں، جن پر پابندی عائد رہنے کا امکان ہے جن میں سوشل میڈیا سائٹس جیسے،وٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ شامل ہیں۔اس کی تصدیق کرتے ہوئے، ایک ٹیلی کام کمپنی کے ایک ملازم اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعوی کیا کہ اب براڈ بینڈ اور لیز لائنوں سمیت باقی سروسز کو کسی بھی وقت بحال کردیا جائے گا لیکن مکمل بحالی کے باوجود، کچھ سائٹیں ایسی ہوں گی جو ناقابل رسائی رہیں گی۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کے ایک سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس صحافیوں، تاجر، طلبا اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی جانب سے شکایتیں موصول ہو رہی ہیں کہ سست رفتار انٹرنیٹ اور وائٹ لسٹ میں ضروری ویب سائٹ شامل نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ویب سائٹس کی تعداد تقریبا لامحدود ہے اور اطلاعات پر سب کا برابر حق ہے۔ اس لیے انتظامیہ وائٹ لسٹ کی جگہ اب ویب سائٹس کو بلیک لسٹ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ویب سایٹ کو بلیک لسٹ کرنے سے انتظامیہ کے لیے بھی کافی آسانی رہے گی۔
پہلے مرحلے میں 400سے500ویب سائٹس بلیک لسٹ کی جائیں گی،ان میں سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی شامل ہونگی۔ بعد میں اگر کسی ویب سایٹ کے خلاف غلط خبروں کی تشہیر کرنے یا قوانین کی خلاف ورزی کی شکایت موصول ہوئی تو اس کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ موبائل صارفین کی دوبارہ سے جانچ پڑتال کی خبروں کے تعلق سے ان کا کہنا تھا کہ پری۔پیڈ موبائل صارفین کی فزیکل ویری فیکیشن یعنی جانچ نہیں ہوتی ہے، اس لیے موبائل کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ پوسٹ۔ پیڈ صارفین کی طرز پر ہی پری۔ پیڈ موبائل صارفین کی جانچ پڑتال کریں، اس سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔یاد رہے کہ حکومت نے تقریبا 6 ماہ مکمل بلیک آوٹ کے بعد25جنوری کو سبھی22اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز محدود اور مشروط طور پر بحال کیں۔
تاہم صارفین کی رسائی صرف 300کے قریب ویب سائٹوں تک ہی محدود تھی، جسے انتظامیہ نے’وائٹ لسٹڈ‘سائٹس سے تعبیر کیا۔ وائٹ لسٹ یو آر ایل میں سرکاری سائٹیں، ای میل اور دیگر یوٹیلیٹی سائٹ شامل ہیں۔حکومت کی اپنی سائٹوں سمیت متعدد سائٹیں لوگوں کے لئے نہیں ہیں۔ چونکہ سروسز2۔جی تک محدود ہیں جس کی وجہ سے سرفنگ اور بھی دشوار ہوجاتی ہے۔سوشل میڈیا پر پابندی اوروی پی این: صارفین کی سوشل میڈ یا تک رسائی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ کشمیر میں انٹرنیٹ سے چند روز قبل جزوی طور پر پابندیاں تو اٹھائیں لیکن سوشل میڈیا بدستور بند ہے، اور صرف محدود سست رفتار2جی موبائل انٹرنیٹ چل رہا ہے۔تاہم سوشل میڈیا پر سرگرم ہونے کیلئے نوجوان نسل نے ٹیکنالوجی کے ذریعے سوشل میڈیا تک رسائی کا ’فار مولہ‘ بھی تلاش کیا۔کئی نوجوان صارفین سوشل میڈیا پر نظر آئے اور ساتھ ہی وی پی این یعنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کا ذکر بھی ہونے لگا۔وی پی این کے ذریعے صارفین سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر تے ہیں۔چنانچہ سوشل میڈ یا تک رسائی کو روکنے کیلئے حکام نے اس کا توڑ بھی تلاش کرنا شروع کردیا۔اب وی پی این کو بھی مکمل طور ’بلاک‘ یعنی بند کرنے کا فیصلہ لیا گیاہے۔
وی پی این ہوتا کیا ہے؟:وی پی این یعنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹورک ایک ایسا ’سافٹ ویئر‘ہے جو کہ موبائیل ڈیوائس اور کسی دوسرے کمپیوٹر کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے ایک محفوظ کنکشن قائم رکھتا ہے۔عام طور پر جب ہم انٹرنیٹ پر جاتے ہیں تو ہماری ڈیوائس ہمارے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر یعنی آئی ایس پی کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ جب آپ وی پی این استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے آئی ایس پی کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آپ کون سی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔وی پی این سروسز عموماً دفاتر کے باہر سے آفس کے کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں لیکن انہیں حکومتی’سینسرشپ‘کی وجہ سے بعض ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔بعض ویب سائٹس کو مارکیٹ میں دستیاب جن وی پی اینز کا علم ہوتا ہے وہ انھیں بلاک کر دیتی ہیں لیکن نئے وی پی این نیٹ ورک اکثر بنتے رہتے ہیں۔یاد رہے کہ5اگست کو کشمیر میں دوسری مواصلاتی سروسز کے ساتھ انٹرنیٹ سروسز منقطع کردی گئی تھیں۔
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
فوج نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی ایک طاقت کے طور پر ابھری ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ وہ ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ خدمت، ہمدردی، حوصلے اور عزم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سری نگر کے کیمپ میں 144 کامیاب آپریشن کیے گئے، جبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگدھر کیمپ نے سرحد پر منعقد ہونے والے پہلے میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگ میل قائم کیا۔
مشکل جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف 2 دن میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے ٹنگدھر کے جغرافیائی حالات دیکھے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں مدد لے کر پہنچنا بھی ایک چیلنج ہے۔ پہاڑوں کو عبور کرنا، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرے کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسی مشکل اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے امید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جدید جراحی آلات کو فضائی راستے سے ٹنگدھر پہنچایا گیا، جس سے ایسے علاقے میں آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے اس طرح کی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔
کھیورپورہ، تنگدھر، باگ بیلا اور آس پاس کے گاؤں کے مریضوں نے اس کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہی حقیقی حوصلہ، فرض کے تئیں لگن اور خدمت کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات بلا شبہ ثابت کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو، وہ ہندوستانی فوج کی انسانی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر اور ٹنگدھر میں کیے گئے 364 آپریشن محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ بدلی ہوئی زندگیوں کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر آپریشن عزتِ نفس کی بحالی اور امید کے دوبارہ جاگنے کی ایک داستان بن گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت 10 شہروں میں اب تک 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے اور 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ نے فوج اور مقامی برادریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نہ صرف دفاعی طاقت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے معاون عملے، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی بہادری کو سلام پیش کیا جنہوں نے آلات پہنچانے، زیر زمین آپریشن تھیٹر تیار کرنے اور نامساعد حالات میں پیچیدہ آپریشنوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی طاقت ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ بینائی بحال کرکے فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا نظریہ دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا ایک تسلسل ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’آپریشن درشٹی‘ ملک بھر کے مزید گاؤں اور قصبوں تک پہنچے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹنگدھر کیمپ ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپریشن درشٹی کے تجربے سے ہمیں اعتماد ملتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طب کو ملک کے ہر کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا عزم ہے اور معزز وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران قابل قدر خدمات انجام دینے والے دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اعزاز سے نوازا۔
انہوں نے مستفید ہونے والوں کو آپریشن کے بعد استعمال ہونے والی طبی کٹس بھی حوالے کیں۔
لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)، چنار کور؛ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، سینئر کنسلٹنٹ اور شعبۂ امراضِ چشم، آرمی ہاسپٹل آر اینڈ آر کے سربراہ؛ بریگیڈیئر بی وی راؤ، کمانڈنٹ، 92 بیس ہاسپٹل، اور سینئر سول و دفاعی افسران نے اختتامی تقریب میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
دنیا
ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
تہران، — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مہاجرانی نے واشنگٹن کے جواب کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تہران اب کیا اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراقچی نے کابینہ کو یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط بھی شامل تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچائی گئی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران عراقچی نے امریکی تجویز صدر مسعود پزشکیان کے سامنے پیش کی۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر کامیاب عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بات کہی۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے فوائد اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کو ایران کے مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی شق میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
پزشکیان نے معاہدے کو ’’باعثِ فخر‘‘ اور ایران سے متعلق پیش رفت کے دوران ’’فیصلہ کن اور انتہائی مؤثر دستاویز‘‘ قرار دیا۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی شرائط میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ، منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کی رہائی اور محفوظ بحری راستے پر اتفاق شامل ہے۔ تہران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے دو گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی تھیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور واشنگٹن سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندری علاقوں میں ایران کی مضبوط موجودگی نے ملک کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو متاثر ہونے سے بچایا۔
عالمی یومِ بحری جہازرانی کے موقع پر بدھ کو پزشکیان نے سمندر کو ایران کے لیے محض پانی کا ذخیرہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک الٰہی نعمت اور ملک کی تاریخ، شناخت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایران کے حال اور مستقبل کے لیے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بھی قرار دیا۔
صدر نے کہا، ’’آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت میں خصوصی مقام رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے ممالک کی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔‘‘
پزشکیان نے زور دیا کہ ’’خلیج فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کا انحصار سب سے بڑھ کر خطے کے ممالک کے تعاون، ذمہ داری اور فعال کردار پر ہے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو برقرار رکھنے میں ملک کی بحری برادری کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
