تازہ ترین
کشمیر میں روزگار کے متنازع قانون کو عمر عبداللہ نے توہین قرار دے دیا
بھارت نے جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019 کو خصوصی حیثیت ختم کرنے اور خطے کو تقسیم کرنے کے بعد پہلی مرتبہ سرکاری نوکریوں کے حوالے سے متنازع قانون جاری کیا جس کو سابق وزیر اعلیٰ نے توہین قرار دے دیا۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ‘نئے قانون کے تحت جونیئر اسسٹنٹ اور چپراسی جیسی صرف نچلے درجے کی نوکریاں جموں و کشمیر کا مقامی ڈومیسائل رکھنے والے افراد کے لیے مختص کی گئی ہیں’۔
متنازع قانون کے تحت ‘دیگر تمام نوکریاں پورے بھارت کے شہریوں کے لیے بھی کھلی ہوں گی’۔
خیال رہے کہ اس سے قبل تمام نوکریاں خطے کے شہریوں کے لیے مختص تھیں اور انہیں زمین کا ملکیتی حق بھی حاصل تھا۔
بھارت کی حکومت نے متنازع قانون کے تحت ‘شہریت کی تعریف بھی بدل دی ہے اور اس میں گزشتہ 15 برس سے جموں و کشمیر میں رہنے والے افراد کو بھی شامل کرلیا گیاہے’۔
جموں و کشمیر کے شہریوں میں ‘ان افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو وہاں 7 برس سے زیر تعلیم ہوں اور میٹرک اور بارہویں جماعت تک تعلیم قائم کیے گئے نئے خطوں میں قائم تعلیمی اداروں سے حاصل کی ہو’۔
جموں و کشمیر میں تعینات بھارتی حکومت کے عہدیداروں کے بچوں کو بھی اس فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق ‘مذکورہ قانون کی شقوں کے تحت کوئی بھی فرد بنیادی اسکیل کی چوتھی سطح کا اہل نہیں ہوگا جس کی تنخواہ 25 ہزار 500 بھارتی روپیہ بنتی ہے، سوائے جموں و کشمیر کا ڈومیسائل رکھنے والے افراد’۔
متنازع قانون کا نوٹی فکیشن بھارت کی وزارت داخلہ سے جاری کیا گیا اور تحصیل دار کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اس کا فوری نفاذ کرے۔
جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس قانون کے جاری ہوتے ہی اپنے بیان میں اس کو مسترد کردیا۔
نیشنل کانفرنس کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘مرکزی حکومت زخموں کو گہرا کرکے توہین کر رہی ہے’۔
انہوں نے ڈومیسائل کے حوالے سے قانون پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس سے جنگ جاری ہے اس طرح کے قانون جاری کیے جارہے ہیں۔
ٹوئٹر پر بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘ایک ایسے وقت میں جب تمام کوششیں اور توجہ کورونا وائرس پر ہونی چاہیے حکومت جموں و کشمیر میں نئے ڈومیسائل میں گھری ہوئی ہے’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ‘زخموں کی توہین کی انتہا ہے جبکہ ہمیں قانون میں وعدے کے مطابق کوئی تحفظ نہیں دیا گیا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ڈومیسائل کا قانون حقائق کے برخلاف اور کھوکھلا ہے یہاں تک کہ مرکز کی ستائش سے ایک نئی پارٹی بنادی گئی ہے جن کے رہنما دہلی میں اس قانون کی لابنگ کر رہے تھے’۔
ایک اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ڈومیسائل کے قانون سے نہ صرف ریاست کی موجودہ سرحدوں کو جھنجوڑا گیا ہے بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کو بدترین مسائل سے دوچار کرنے کی کوشش ہے’۔خیال رہے کہ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابق اتحادی جماعت پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کو 5 اگست کے متنازع قانون کے بعد نظر بند کردیا گیا تھا جو تاحال جاری ہے۔
جموں و کشمیر کی تمام سیاسی قیادت بشمول حریت رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کو بھارتی حکومت نے گرفتار یا گھروں میں نظر بند کرلیا تھا جو متنازع حیثیت کو ختم کرنے کے مخالف تھے۔
بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر کا مکمل لاک ڈاؤن کیا تھا جو 8 مہینے گزرنے کے باوجود جاری ہے جہاں انٹرنیٹ اور مواصلات کے دیگر ذرائع سمیت نقل و حرکت کا بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ہے۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
