جموں و کشمیر
کشمیر میں کھیتوں میں دھان کی پنیری لگانے کا سیزن جوبن پر
سری نگر، وادی کشمیر میں کھیتوں میں دھان کی پنیری لگانے کا کام شروع ہوا ہے اور کسان ان دنوں کھیتی باڑی کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔
تاہم وادی کے طول و ارض میں زرعی اراضی پر میوہ باغوں، رہاشئی مکانوں، کمرشل عمارتوں کی تعمیر سے دھان کے کھیت ہر گذرتے برس کے ساتھ سکڑتے ہیں۔
علی محمد نامی ایک کسان نے بتایا: ‘ہمارے نوجوان کھیتوں پر شاذ و نادر ہی جایا کرتے ہیں اور یہاں سارا کام بیرون وادی کے مزدور ہی کیا کرتے ہیں اور اس سال بھی حسب معمول ایسا ہی ہوا’۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف زرعی اراضی سکڑ رہی ہے تو دوسری طرف نوجوان طبقہ ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کر رہا ہے جس سے یہاں اس اہم ترین شعبے پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا: ‘کورونا وبا کی وجہ سے نافذ لاک ڈائون کے دوران کھیتوں میں ہمارے نوجوان پنیری لگاتے ہوئے نظر آئے تھے لیکن اس کے بعد پھر ہم غیر مقامی مزدورں پر ہی منحصر ہوئے’۔
وادی کے میدانی علاقوں میں ان دنوں کسان دھان کی پنیری لگا رہے ہیں تاہم بالائی علاقوں میں کسان کھیتوں کو پنیری لگانے کے لئے تیار کر رہے ہیں اور میدانی علاقوں میں پنیری لگاتے ہوئے کشمیری کم غیر مقامی مزدور زیادہ نظر آ رہے ہیں۔
وسطی ضلع بڈگام کے پاٹوائو سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف نامی ایک کسان نے بتایا: ‘پہلے زمین تیار کرنے میں کافی وقت لگتا تھا کیونکہ کسان سارا کام خود اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے، آج ٹریکٹر اور ٹلر کام پر لگائے جاتے ہیں جو ایک دن کا کام ایک گھنٹے میں پورا کرتے ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘پنیری لگانے کے لئے غیر مقامی مزدور آتے ہیں جو ٹھیکے پر کام کرتے ہیں لہذا اب یہاں کھیتی باڑی کوئی محنت طلب کام نہیں رہا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہمارے اپنے بچے یہ کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، آج کا نوجوان کھیت پر جانے کو کسر شان سمجھتا ہے، یہ اچھی بات ہے کہ غیر مقامی مزدور آتے ہیں اور دوسرے کام انجام دینے کے لئے مشینری ہے ورنہ ہمارے کھیت بے کار رہنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے’۔
اسی سالہ غلام نبی نامی ایک عمر رسیدہ کسان نے بتایا: ‘ہمارے لڑکپن میں دھان کی پنیری لگانے کا سیزن ایک تہوار کی حیثیت رکھتا تھا، کوئی کسی مزدور کو یہ کام انجام دینے کے لئے نہیں لاتا تھا، بلکہ یہ کام مل کر اپنے احباب و اقارب اور ہمسایوں ساتھ انجام دیا جاتا تھا’۔
انہوں نے کہا: ‘دس بارہ کنبے ایک ساتھ مل کر یہ کام کرتے تھے، بھاری بھاری ہر کنبے کی کھیت کو آباد کیا جاتا تھا’۔
ان کا کہنا ہے: ‘جس کسان کے کھیت میں پنیری لگانی ہوتی تھی اس دن اس کے گھر میں با قاعدہ لنگر لگتا تھا اور مختلف پکوان تیار کئے جاتے تھے جن کو دوپہر کے کھانے کے لئے کھیت پر ہی لایا جاتا تھا’۔
انہوں نے کہا: ‘اس سیزن کو مقامی زبان میں ‘تھج کاد’ کہتے تھے، اس سیزن میں کھیتوں میں چہل پہل ہوتی تھی اور ہر کھیت سے خصوصی کشمیری گانوں کی آوازوں سے ہر سو سچ مچ تہوار جیسا سماں ہوتا تھا’۔
موصوف کسان نے کہا: ‘لیکن آج ایسا نہیں ہے، پتہ ہی نہیں چلتا ہے کب پنیری کا کام شرع ہوتا ہے اور کب یہ ختم ہوتا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘زمین بھی سکڑ رہی ہے، جہاں جہاں وسیع و عریض لہلہاتے کھیت کھلیان نظر آتے تھے وہاں آج بستیاں، کمرشل عمارتیں یا میوہ باغ دکھائی دے رہے ہیں’۔
ایک اندازے کے مطابق وادی میں گزشتہ برسوں کے دوران ہزاروں ہیکٹر زرعی زمین کو دیگر مقاصد بالخصوص رہائشی و کمرشل ڈھانچوں کی تعمیر اور میوہ باغات میں بدلنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی، جہاں لوگوں کی بنیادی خوراک چاول ہے، میں زرعی زمین کا تیزی سے سکڑنا اس ہمالیائی خطہ کے مستقبل کے لئے انتہائی ضرر رساں ثابت ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسانوں کی طرف سے زیادہ کمائی کی کوشش میں زرعی زمین کو میوہ باغات میں بدلنا بھی کسی بھی صورت میں خوش آئند نہیں ہے۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
