جموں و کشمیر
کشمیر میں ہفتے کی شام سے برف باری شروع ہونے کا امکان
سری نگر، محکمہ موسمیات کی طرف سے 4 جنوری کی شام سے 6 جنوری کی صبح تک درمیانی سے بھاری برف باری کی پیش گوئی کے بیچ وادی کشمیر میں ٹھٹھرتی سردیوں کا راج برقرار ہے۔سری نگر اور دیگر ملحقہ علاقوں میں جمعہ کی صبح گہری دھند چھائی رہی جس سے لوگوں کو چلنے پھرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔فجر کی ادائیگی کے لئے مسجدوں میں جانے والے نمازیوں کو سیل فونوں کی لائٹس کا استعمال کرنا پڑا وہیں ڈرائیور حضرات بھی صبح کے وقت ہیڈ لائٹس آن کرکے ہی گاڑیاں چلا سکے۔
تاہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ دھند مدھم ہوتی گئی اور روشنی نے معمولات زندگی کو حیات نو بخشی۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق وادی میں 3 جنوری کو موسم ابر آلود رہنے کے ساتھ ہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برف باری کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک اور مغربی ہوا کے زیر اثر 4 جنوری کی شام سے 5جنوری کی رات دیر گئے تک وادی کے میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری جبکہ پہاڑی علاقوں میں بھاری برف باری ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دوران جموں کے میدانی علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔
موصوف ترجمان نے کہا کہ بعد ازاں 6 جنوری کی دوپہر سے موسم میں بہتری متوقع ہے۔نہوں نے کہا کہ وادی میں 7 جنوری سے 10 جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد میں وادی میں 11 اور 12 جنوری کو مطلع ابر آلود رہنے کے ساتھ کہیں کہیں ہلکی برف باری ہوسکتی ہے۔
محکمے نے ایڈوائزری میں سیاحوں، مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اہم گذر گاہوں اور پہاڑی علاقوں پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے درج ہونے اور برفانی حالات کے یش نظر ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں۔انہوں نے کہا کہ 4 سے 6 جنوری کے دوران وادی کے کچھ پہاڑی علاقوں میں بھاری برف باری کا امکان ہے۔دریں اثنا وادی کے شبانہ درجہ حرارت میں کہیں بہتری تو کہیں مز€ید گراوٹ درج ہوئی ہے۔
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی2.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی2.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
سری نگر میں 21 دسمبر کو شبانہ درجہ حرارت منفی 8.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوکر رواں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ ہوئی تھی جو گذشتہ 133 برسوں میں سری نگر میں ماہ دسمبر میں ریکارڈ ہونے والا تیسرا کم ترین درجہ حرارت ہے۔سری نگر میں سال 1974 کے ماہ دسمبر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی10.3 ڈگری سینٹی گریڈ اور 13 دسمبر سال 1964 کو شبانہ درجہ حرارت منفی 12.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی8.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی4.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہیاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی1.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی7.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی5.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
جنوبی کشمیر کے پلوامہ، اننت ناگ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی6.1 ڈگری سینٹی گریڈ، منفی7.7 ڈگری سینٹی گریڈ، منفی6.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی8.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ زوجیلا پر شبانہ درجہ حرارت منفی24.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی 3.2 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی4.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتیب منفی 4.8 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.4 ڈگری سینٹی گریڈ اور ضلع کرگل میں منفی6.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔سائیبریا کے بعد دنیا کے دوسرے سرد ترین علاقہ دراس میں شبانہ درجہ حرارت منفی8.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے ریاست کے درجے کی بحالی پر قرارداد منظور کرنے میں ایوان کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسپیکر عبد الرحیم راٹھور کو عہدے سے ہٹانے کا دوبارہ مطالبہ کیا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کے روز بی جے پی قانون سازوں کے شور شرابے اور واک آؤٹ کے درمیان ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد منظور کی تھی۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، شرما اور بی جے پی کے دیگر اراکین نے قرارداد کے کچھ حصوں بالخصوص 2000ء کی خودمختاری کی قرارداد سے جڑے حوالوں پر اعتراض کیا۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کی حامی ہے لیکن خودمختاری کے حوالوں کی مخالفت کرتی ہے۔
شور شرابے کے دوران شرما نے قرارداد پر کارروائی کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا جس پر اسپیکر کو مداخلت کرنی پڑی۔ مسٹر راٹھور نے کہا کہ قواعد کے مطابق انہیں عہدے سے ہٹانے کی تحریک کو 14 دنوں کے بعد فہرست میں شامل کر کے اس پر غور کیا جائے گا۔ ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر نے ایوان میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجی اراکین کو کارروائی میں خلل ڈالنے کے خلاف خبردار کیا۔ مسٹر راٹھور نے حزب اختلاف کو یاد دلاتے ہوئے کہ وہ پہلے ہی طریقہ کار کی وضاحت کر چکے ہیں اور ضروری نوٹس جاری کر چکے ہیں، کہا کہ میں غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دوں گا۔
مسٹر راٹھور نے احتجاجی اراکین سے کہا کہ آپ نے میری ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں، وہ ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے سکھانے کی کوشش نہ کریں۔ میں اپنا کردار اور فرض جانتا ہوں۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حزب اختلاف پر پلٹوار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کو جموں و کشمیر کے عوام نے ان کے مفادات سے جڑے مسائل اٹھانے کے لیے اسمبلی میں بھیجا ہے۔
چودھری نے بی جے پی اراکین پر بحث میں حصہ لینے کے بجائے کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب آپ یہاں بحث کے لیے آئے تو آپ نے ایوان کو معطل کیا اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا استعمال نعرے بازی کے بجائے عوام سے جڑے مسائل بشمول ترقی، روزگار، تعلیم، کھیل اور انتخابات پر بحث کے لیے ہونا چاہیے۔ اس تلخ کلامی نے اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کو مزید تیز کر دیا اور بار بار کی رکاوٹوں نے کارروائی میں خلل ڈالا۔ بی جے پی کے قانون ساز بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ وہ کچھ دیر بعد ایوان میں واپس آ گئے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے چوواڑی علاقے میں جعلی نوٹ چھاپنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرکے جعلی کرنسی کے ایک ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔
پولیس ذرائع نے منگل کو بتایا کہ شہر میں جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے میں ملوث ایک گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے پولیس نے پیر کو دیر رات چوواڑی علاقے میں کارروائی کرکے تین ملزمان کو گرفتار کیا۔
انہوں نے بتایاکہ ’’ملزمان مبینہ طور پر ایک کرائے کے کمرے سے جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے کا کام کر رہے تھے۔ چھاپے کے دوران 13,500 روپے مالیت کے جعلی نوٹ، اسکیننگ مشین، پرنٹر، کمپیوٹر اور دیگر سامان ضبط کیا گیا۔‘‘
ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار کیے گئے تمام ملزمان سے یہ معلوم کرنے کے لیے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ انہوں نے کتنے جعلی نوٹ بازار میں چلائے ہیں۔
گرفتار ملزمان کی شناخت بہار کے رہنے والے وجے ساہنی، مدھیہ پردیش کے رہنے والے راہل اہروار اور جھارکھنڈ کے رہنے والے اندرپال کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ ’’ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران گرفتار افراد نے پولیس کو بتایا کہ وہ چند روز قبل اس علاقے میں آئے تھے اور ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا۔‘‘
پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
