جموں و کشمیر
کشمیر کے بعض علاقوں میں تانگہ سواری کا رواج آج بھی جاری
سری نگر،10 اپریل (یو این آئی) دنیا میں لوگوں کی آمد و رفت کے لئے ٹرانسپورٹ کے مختلف النوع تیز ترین اور آرام دہ وسائل کی آمد کے ساتھ ہی تانگہ سواری، جس کا شمار قدیم ترین ذرائع ٹرانسپورٹ میں ہوتا ہے، کا رواج و چلن بھی معدوم ہوتا جا رہا ہے لوگ وقت بچانے اور آرام سے سفر کرنے کے لئے جدید طرز کے ٹرانسپورٹ کے استعمال کو ہی ترجیح دیتے ہیں جس کے اپنے فائد بھی ہیں اور نقصانات بھی ہیں۔
تاہم سڑکوں پر مختلف قسم کی گاڑیوں کی بھر مار کے باوصف بھی وادی کشمیر کے بعض علاقوں میں تانگے یا گھوڑا گاڑیاں نظر آ رہی ہیں جو جہاں کئی لوگوں کے لئے روزی روٹی کا وسیلہ ہیں وہیں بعض لوگوں کے شوق کو پورا کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔
ان علاقوں میں سے ایک علاقہ جنوبی کشمیر کا سرنل اننت ناگ ہے جہاں مٹن چوک سے سرنل تک کا سفر طے کرنے کے لئے تانگہ سروس چل رہی ہے۔
گلزار احمد وگے نامی ایک تانگہ بان، جس کا تانگہ بالی ووڈ فلم بجرنگی بھائی جان کی شوٹنگ کے دوران استعمال کیا گیا تھا، نے یو این آئی کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ میں گذشتہ لگ بھگ 35 برسوں سے تانگہ چلا رہا ہوں۔
انہوں نے کہا: ‘میرے والد بھی یہی کام کرتے تھے میں بھی اسی کام سے اچھی طرح سے اپنے عیال کو پال رہا ہوں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘گرچہ لوگوں کے پاس سفر کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع ہیں لیکن پھر بھی کئی لوگ تانگوں میں ہی سفر کرنا پسند کرتے ہیں بلکہ تانگے میں سفر کرنا کچھ لوگوں کا شوق ہے’۔
موصوف تانگہ بان نے کہا کہ مٹن چوک سے سرنل تک تانگہ سروس چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘اس مسافت کے لئے ہم دس روپیہ فی سواری سے کرایہ لیتے ہیں اچھا کام ہے اور ہم کروڑوں تو نہیں لیکن ہم اتنا کماتے ہیں کہ اپنا عیال پال سکیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘تانگہ سواری ایک محفوظ سواری ہے کیونکہ اس کو حادثہ ہونے کے بہت کم امکانات ہوتے ہیں اور آج نئے طرز کے تانگے بھی ہیں جو سواریوں کے لئے بھی آرام دہ ہیں’۔
گلزار احمد نے کہا کہ ایک گھوڑا گاڑی یا تانگہ کم سے کم دو لاکھ میں تیار ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا تانگہ پہلگام میں بالی ووڈ فلم بجرنگی بھائی جان کی شوٹنگ کے دوران استعمال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا: ‘اس فلم کی شوٹنگ کے دوران میں وہاں پانچ دن رہا اور اچھا کام کیا’۔
موصوف تانگہ بان نے کہا کہ حکومت نے ہمیں ایک بار تانگوں کے بدلے گاڑیاں خریدنے کے لئے بینک قرضہ دینے کی بات کی تھی لیکن ہم نے بغیر سود کے قرضہ کا مطالبہ کیا جو انہوں نے نہیں مانا تو ہم اسی پیشے سے جڑے رہے۔
انہوں نے کہا: ‘ایک بزرگ نے مجھے نصیحت کی کہ بیٹا یہ پیشہ ذریعہ روزی روٹی ہی نہیں بلکہ کشمیر کی ثقافت کا ایک حصہ بھی ہے اس کو کبھی چھوڑنا نہیں’۔
ان کا ماننا ہے کہ حکومت چاہے تو تانگہ سواری میں ہی بہتری لا سکتی ہے اور اس کو مسافروں کے تقاضوں کے مطابق بنایا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف یہ پیشہ زندہ رہے گا بلکہ اس سے وابستہ لوگوں کی آمدنی میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
غلام رسول نامی ایک بزرگ نے کہا کہ تانگہ سواری کو شاہی سواری کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک زمانے میں یہاں مہاراجوں کی سواری تھی اور لوگوں کی آمد و رفت کا ایک موثر ذریعہ بھ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ موٹر گاڑیوں کی آمد کے ساتھ اس کا رواج روبہ زول ہے لیکن لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ تانگہ میں سفر کیا کریں تاکہ ایک تو یہ ثقافت زندہ رہے دوسرا اس کے ساتھ جڑے لوگوں کی روزی روٹی کی سبیل بھی ہوسکے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے چوواڑی علاقے میں جعلی نوٹ چھاپنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرکے جعلی کرنسی کے ایک ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔
پولیس ذرائع نے منگل کو بتایا کہ شہر میں جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے میں ملوث ایک گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے پولیس نے پیر کو دیر رات چوواڑی علاقے میں کارروائی کرکے تین ملزمان کو گرفتار کیا۔
انہوں نے بتایاکہ ’’ملزمان مبینہ طور پر ایک کرائے کے کمرے سے جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے کا کام کر رہے تھے۔ چھاپے کے دوران 13,500 روپے مالیت کے جعلی نوٹ، اسکیننگ مشین، پرنٹر، کمپیوٹر اور دیگر سامان ضبط کیا گیا۔‘‘
ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار کیے گئے تمام ملزمان سے یہ معلوم کرنے کے لیے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ انہوں نے کتنے جعلی نوٹ بازار میں چلائے ہیں۔
گرفتار ملزمان کی شناخت بہار کے رہنے والے وجے ساہنی، مدھیہ پردیش کے رہنے والے راہل اہروار اور جھارکھنڈ کے رہنے والے اندرپال کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ ’’ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران گرفتار افراد نے پولیس کو بتایا کہ وہ چند روز قبل اس علاقے میں آئے تھے اور ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا۔‘‘
پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اچن میں 361 کروڑ روپے کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ ٹینڈر کے مرحلے میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ سری نگر کے اچن میں مجوزہ 800 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (آئی ایس ڈبلیو ایم) پروجیکٹ، جس کی تخمینی لاگت 361 کروڑ روپے ہے، فی الحال ٹینڈر کے مرحلے میں ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کا قلمدان بھی سنبھالتے ہیں، نے جاری خزاں اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں رکن اسمبلی مبارک گل کے سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ابھی تک کسی ایجنسی یا ٹھیکیدار کو یہ پروجیکٹ الاٹ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ فی الحال ٹینڈر کے عمل سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پروجیکٹ میں روزانہ 800 ٹن کچرے کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہوگی اور اس کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں تعمیراتی کام کے لیے 24 ماہ شامل ہیں۔
مجوزہ مربوط پروجیکٹ میں کمپوسٹنگ سہولیات، بایو-سی بی جی پلانٹ، میٹریل ریکوری فیسیلٹیز (ایم آر ایف)، ریفیوز ڈیریوڈ فیول (آر ڈی ایف) سہولت، سائنسی سینیٹری لینڈ فل، ٹرانسفر اسٹیشنز، لیچیٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر اور دیگر ماحولیاتی بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔
دریں اثنا، ایوان کو بتایا گیا کہ نئے مربوط پروجیکٹ کے شروع ہونے تک سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی جانب سے اچن میں میونسپل کچرے کے سائنسی انتظام، ماحولیات کے تحفظ اور پرانے جمع شدہ کچرے کی صفائی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یواین آئی۔ طا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
