تازہ ترین
کورونا لاک ڈاؤن:بندشیں کہیں نرم،کہیں سخت اور کہیں دوبارہ نافذ
کیاصرف شٹر ڈاؤن سے وبا کی رفتار رُک جائے گی؟
لوگوں کے روز مرہ مسائل میں اضافہ،پریشا نیوں نے الجھنیں پیدا کیں
خبراردو:-
سرینگر:وادی کشمیر میں طویل عرصے سے کورونا لاک ڈاؤن کے نتیجے میں جہاں لوگوں کے روزمرہ مسائل میں اضافہ ہوا ہے،وہیں اب پریشا نیوں نے طرح طرح کی الجھنیں پیدا کیں۔ادھر کورونا لاک ڈاؤن کے تحت عائد بندشیں کہیں نرم،کہیں سخت تو کہیں دوبارہ نافذ کی گئیں۔
جمعہ کو مسلسل 20 ویں ہفتے بھی بڑی مساجد،خانقاہوں اور زیارت گاہوں پر جمعہ اجتماعات منعقد نہ ہوسکے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں کورونا مثبت معاملات اور اموات کے نہ تھمنے والے سلسلے کو روکنے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیا گیا لاک ڈاؤن تاحال برقرار ہے۔
لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پوری وادی میں چہار سو سناٹا چھا یہ ہوا ہے۔شہر ودیہات میں سبھی دکانات،بازار،کاروباری وتجارتی مرکز بند ہیں جبکہ ہر طرح کا پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں اور شاہراہوں سے غائب ہے۔سخت ترین بندشوں اور پابندیوں کے سبب دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب میں ہو کا عالم ہے۔دارالحکومت سرینگر کی مرکزی عبادت گاہوں میں مسلسل20ویں ہفتے کو بھی جمعے اجتماعات منعقد نہ ہوسکے۔
مرکزی جامع مسجد،آثار شریف حضرتبل،خانقاہ معلی اور صوفی بزر گان دین کی زیارت گاہوں کے منبر ومحراب خاموش رہے۔تاہم محلہ سطح کی چھوٹی مساجد میں مختصر اور طبی مشوروں وہدایات کے تحت لوگوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ائمہ مساجد نے جمعہ خطبہ کو مختصر رکھا اور لوگوں کو وبا سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنا نے پر زوردیا۔اسی طرح کی صورتحال شمال وجنوب کے دیہات میں بھی دیکھنے کو ملی،جہاں پر اطلاعات کے مطابق چھوٹی مساجد میں جمعہ کے مختصر اجتماعات منعقد ہوئے۔
اس دوران سرینگر میں نجی ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کی آوا جاہی کیساتھ ساتھ آٹو رکھشا بھی سڑکوں پر دوڑتے ہوئے نظر آئے۔شہر میں اگر چہ شٹر ڈاؤن سختی کیسا تھ جاری ہے،تاہم نجی گاڑیوں کی آمد ورفت میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہے،جو انتظامیہ کے لاک ڈاؤن منصو بے پر کئی سوالات بھی اٹھا رہا ہے،کیا صرف دکانوں کے شٹر ڈاؤن کرنے سے وبا کی رفتار کو کم یا روکا جاسکتا ہے۔کئی دکانداروں نے سوالیہ انداز میں کے این ایس کو بتایا کہ جن علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا اور جہاں موٹی موٹی سلاخیں نصب کی گئی ہیں،وہاں آمد ورفت بغیر کسی خلل کے جاری،سڑکوں پر نجی ٹریفک کی آوا جاہی اور جام کے مناظر سب کے سامنے ہیں،کیا ان اقدامات سے وبا رُک جائیگی؟۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کو ایک مذاق بنا یا ہے،لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر کسی خلل اور رکاوٹ آ بھی سکتے ہیں اور جا بھی سکتے ہیں،یہ کون سا لاک ڈاؤن ہے،یہ ذہنوں کو الجھا نے والی اذیت ہے۔انہوں نے کہا ’انتظامیہ کو اب نئی منصو بہ بندی کیساتھ آگے آنا چاہئے‘۔
ادھر شہر کے کئی علاقوں میں اک دکا دکانیں کھلی نظر آئیں،البتہ تجاری مرکز لالچوک سمیت سبھی بڑے بازار مقفل ہیں۔اس دوران وادی کے دیگر اضلاع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہاں کہیں بندشیں سخت تو کہیں نرم ہیں۔اس بیچ گذشتہ روز49کورونا کیس ظاہر ہونے کے بعد بانڈی پورہ ضلع انتظامیہ نے جمعہ کوپابندیاں عائدکرنے کا فیصلہ لیکر لاک ڈاؤن کو48گھنٹوں تک بڑھایا ہے۔رات دیر گئے جاری ایک حکمنامے میں ضلع انتظامیہ نے بتایا کہ گذشتہ پانچ روز میں ضلع کے اندر170افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت ظاہر ہوئے ہیں جن میں ضروری سروس فراہم کرنے والے بھی شامل ہیں۔
انتظامیہ نے کہا کہ کورونا کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات اٹھانا لازم بن گیا ہے۔آرڈر میں سبھی دکان بغیر ادویات اور ضروری سپلائی کو بند رکھنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں اور ان احکامات کو آج سے اگلے48گھنٹوں کیلئے نافذ العمل بتایا گیا ہے۔اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔کپوارہ میں پہلے ہی10اگست تک بندشوں میں توسیع کی گئی ہے۔گاندر بل میں بھی آئندہ تین روز بندشیں عائد رہنے کے حوالے سے احکامات سادر کئے گئے ہیں،پلوامہ کا بھی حال کچھ ایسا ہے جبکہ بڈگام،کولگام اننت ناگ اور شوپیان میں بندشوں کا ملا جلا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
