تازہ ترین
کورونا لاک ڈاؤن ۔ دوم کا 8واں دن،عید کی خوشیاں ماند ،معیشت تباہ
معمو لات زندگی درہم برہم ،تجارتی وکاروباری ادارے ہنوز مقفل
خبراردو:-
سرینگر:وادی کشمیر میں جاری کورونا لاک ڈاؤن ۔ دوم کے آٹھویں روز سوموار کو معمولات زندگی درہم برہم رہے جبکہ تجارتی وکاروباری ادارے ہنوز مقفل ہیں ۔ نجی گاڑیوں کی آمد ورفت جاری ہے اور کئی ایک روٹوں پر سومو گاڑیاں بھی چلتی دیکھی گئیں ۔
کورونا کے سائے میں عید ِ قر بان کی خوشیاں ماند پڑ گئیں جبکہ کشمیر کی معیشت کی کمر مکمل طور ٹوٹ چکی ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق کورونا وائرس ( عالمی وبا ۔ کووڈ ۔ 19) مثبت معاملات اور اموات میں تشویشناک اضافہ کے پیش نظر انتظامیہ کی جا نب سے دوبارہ نافذ کئے گئے لاک ڈاءون کا دائرہ نہ صرف بڑھا دیا گیا بلکہ اس میں 25جولائی تک توسیع بھی کی گئی ۔
کورونا کیسز اور اموات کے حوالے ہاٹ اسپارٹ دارالحکومت سرینگر میں سوموار کو مسلسل آٹھویں روز بھی کورونا لاک ڈاءون ۔ دوم کے نتیجے میں دکا نات ،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ مجموعی طور پر سڑکوں سے غائب رہا ۔ سرینگر میں صبح وشام بعض بازاروں میں دکانیں کھلی رہتی ہیں ،مجموعی طور پر یہاں جملہ سرگرمیاں ٹھپ ہیں ۔
انتظامیہ کی جانب سے ریڈ زون قرار دیئے گئے درجنوں علاقے ہنوز موٹی موٹی سلاخوں سے سیل ہیں جبکہ ان علاقوں کی ناکہ بندی کےلئے گلی کوچوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو گھروں تک محدود رکھا گیا ۔ شہر میں چھاپڑی فروشوں کی تعداد میں ناکے برابر ہے ۔
تاہم دارالحکومت سرینگر میں سرکاری دفاتر کھلے رہے جبکہ بعض راستہ پر سومو گاڑیاں بھی چلتی ہوئی دیکھی گئیں ۔ اس کے علاوہ سیول لائنز علاقوں میں ٹاٹا مٹیاڈار مسافر گاڑیاں بھی نظر آئیں ،تاہم ان کی تعداد کم ہے ۔ نجی گاڑیوں کی آوا جاہی میں گزشتہ دنوں کے مقابلے میں اضافہ دیکھنے کو ملا ۔
کپوارہ ،بارہمولہ اور پلوامہ کیساتھ ساتھ اننت ناگ اضلاع میں کورونا پابندیوں اور بندشوں میں 25جولائی تک توسیع کی گئی ہے ۔ ان اضلاع میں بھی معمولات زندگی مکمل طور ٹھپ ہیں اور سڑکوں پر لوگوں کی آوا جاہی انتہائی قلیل ہے ۔ بڈگام میں بھی دفعہ 144کے تحت پابندیاں اور بندشیں عائد ہیں ۔
گاندر بل ،بانڈی پورہ ،شوپیان اور کولگام میں معمو لات زندگی کووڈ ۔ 19قواعد وضوابط (گائیڈ لائنز)کے تحت جاری ہے ،تاہم ان اضلاع میں کورونا کا سایہ فگن کی مانند چھایا ہوا ہے ۔ وادی کشمیر میں انتظامیہ کی جانب سے مرحلہ دوم کے تحت نافذ کئے لاک ڈاءون کے نتیجے میں عید ِ قربان کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں ۔ عید کے آمد آمد پر بازاروں میں زبردست گہما گہما رہتی تھی ،تاہم یہ تیسری عید ہے کہ کشمیر کے بازاروں میں کوئی گہما گہمی نظر نہیں آرہی ہے بلکہ کورونا کے حالات میں بازار سنسان اور ویران نظر آرہے ہیں ۔
دکانوں کے افسر دہ شٹر نیچے ہیں جسکے نتیجے میں کشمیر کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ ایک مقامی اردو روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے چلتے وادی میں مسلسل تیسری عید کے موقعہ پر تاجروں کو300کروڑ روپے کے نقصانات کا خدشہ ہے،جبکہ تاجروں نے ایک آواز میں عید پر لاک ڈاؤن میں نرمی کامطالبہ کیا ہے ۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ وادی میں عید کے موقعہ پر ہونے والے کاروبار کا حجم300کروڑ روپے ہیں اور عید سے10روز قبل عید کی خریداری شروع ہوتی ہے ۔
صورتحال کا دوسرا پہلو امسال عید الفطر پر دیکھنے کو ملا جب مارچ کے وسط سے ہی وادی میں کرونا لاک ڈاءون ہوا اور تاجروں و دکانداروں کی عید پر تجارت اور کاروبار کی رہی سہی امیدیں بھی بھر نہیں آئی ۔ کرونا کے خوف سے لوگوں نے ناہی بیکری کی خریداری کی،نا ہی ملبوسات اور نا ہی دیگر ساز و سامان کی خریداری ہوئی،جس کے نتیجے میں دکانداروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔
عید الضحیٰ میں اب جبکہ صرف11روز رہ گئے ہیں اور سرینگر سمیتوادی کے دیگر اضلاع میں کرونا کے کیسوں اور اموات میں اضافے کے پیش نظر سر نو لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے،تاجروں کو ایک بار پھر خدشہ ہے کہ مسلسل تیسری عید کو انہیں کچھ کمانے کو نہیں ملے گا ۔
کورونا کے خوف اور مسلسل لاک ڈاؤن کے نتیجے میں جہاں معیشت براہ راست نشانہ بن گئی ہے اور خریداروں کی قوت خرید بھی جواب دے چکی ہے،اس میں دکانداروں اور تاجروں کے ہاتھ سے عید کا سنہرا موقعہ بھی جا رہا ہے،جس کو وہ حسرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
