تازہ ترین
کورونا وائرس: رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے؟
کورونا وائرس کے باعث جہاں ملک بھر میں لاک ڈاؤن اور پابندیاں لگائی گئی ہیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود کیا گیا ہے وہیں کچھ ایسے شعبے بھی ہیں جس سے وابستہ لوگ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
انہی شعبوں میں ایک شعبہ ذرائع ابلاغ کا بھی ہیں جہاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات فرائض کی انجام دہی میں مصروف عمل ہیں، کچھ صحافی رپورٹنگ کے ذریعے معلومات فراہم کر رہے ہیں تو بہت سے ایسے صحافی بھی ہیں جو گھروں سے کام کے ذریعے عوام تک بروقت معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
انہیں صحافیوں خاص طور پر رپورٹنگ کے فرائض انجام دینے والوں کو اس عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران کن ہدایات پر عمل کرنا چاہیے، اس سلسلے میں سینٹر فار ایکسی لینس ان جرنلزم (سی ای اے) کی جانب سے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے تعاون سے کچھ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ان ہدایات کو کچھ اقسام میں تبدیل کیا گیا ہے، جس میں ایک اپنا خیال رکھیں، کورونا سے متعلق آگہی، مصدقہ رپورٹنگ، مثبت رویوں کے فروغ کیلئے رپورٹنگ، طبی عملے اور زیر علاج افراد کے احترام کا لحاظ شامل ہے۔
کورونا وائرس کی اس عالمی وبا کے دوران رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے ہدایات دی گئی کہ وہ باہر نکلتے وقت یا لوگوں سے ملتے وقت ماسک ضرور پہنیں، اس کے علاوہ جتنا ممکن ہوسکے ہاتھ دھوتے رہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی ہدایت دی گئی کہ لوگوں سے ملتے وقت کم سے کم بھی ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں اور اپنے موبائل فون میں کورونا ہیلپ لائن نمبر، محکمہ صحت کے مختص ترجمان کا نمبر، معالج کا نمبر اور اس قریبی شخص کا نمبر رکھیں جس سے ہنگامی صورتحال میں رابطہ کیا جاسکے۔
ساتھ ہی اپنا خیال رکھیں کٹیگری میں جن باتوں کو گریز کرنے سے کہا گیا ہے آنکھ اور ناک یا چہرے کے دوسرے کسی حصے کو چھونے سے گریز کریں، اجتماعات اور مجمع میں لوگوں کے قریب نہ جائیں اور ان نمبرز کو محفوظ رکھنا نہ بھولیں۔
کورونا سے متعلق جن آگہی کے بارے میں ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے ان میں کورونا وائرس کی صورت میں پھیلنے والی نئی بیماری سے متعلق لوگوں تک معلومات پہنچانا شامل ہے۔
اس کے علاوہ ان لوگوں کو موضوع بحث بنائیں جو کورونا سے متاثر ہوئے ہیں، اس کے ساتھ انہیں بھی اسی طرح موضوع بحث بنائیں جو ممکنہ طور پر وائرس یا وبا سے متعلق مفروضات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
مذکورہ ہدایات میں کہا گیا کہ ان لوگوں کے حوالے سے بات کریں جو کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں یا پھر جانبر ہوئے ہیں۔
سی ای جے نے اپنی ہدایات میں کورونا وائرس کی نسب کسی قوم یا خاص مقام کی طرف کرنے سے گریز کرنے کا کہا ہے، ساتھ ہی بتایا گیا کہ اس بیماری کو کووڈ 19 کا نام اس لیے دیا گیا تاکہ اسے کسی قوم، قبیلے یا مقام سے نہ جوڑا جائے۔
ساتھ ہی اس وائرس کے کوڈ کووڈ 19 کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں co سے مراد کورونا، vi سے مراد وائرس، d سے مراد ڈیزیس (بیماری) ہے جبکہ 19 کا ہندسہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بیماری 2019 میں سامنے آئی۔
کورونا وائرس سے متعلق یہ جن باتوں میں احتیاط برتنے کو کہا گیا ہے وہ شبہ کی بنیاد پر کسی کیس کو موضوع بحث بنانا ہے، ساتھ ہی کہا گیا کہ اس بیماری کو کسی جرم یا غیر انسانی اقدام کے طور پر پیش کرنے سے گریز کریں۔
رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بیماری کے علاج کی دریافت کو مرکزی موضوع نہ بنائیں، اس طرح متاثرہ افراد مایوس ہوسکتے ہیں۔
سی ای اے جے مصدقہ رپورٹنگ سے متعلق یہ ہدایات جاری کیں کہ لوگوں کو سائنسی اعداد و شمار اور حکام کی طرف سے آنے والی تجاویز کی روشنی میں کورونا کی سنگینی کے بارے میں بتائیں، اس کے علاوہ کسی بھی تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے وقت احتیاط برتیں اور اس بات کو دیکھ لیں کہ یہ رپورٹ معتبر علمی اور تحقیقی اداروں کی توثیق سے شائع ہوئی یا نہیں۔
مزید برآں حکام یا صحت کی سہولیات سے متعلق مصدقہ اطلاعات آگے پہنچانے کی ہدایت کی گئی۔
تاہم جن چیزوں سے احتیاط کرنے کو کہا گیا ہے اس میں غیرمصدقہ اطلاعات کو دہرانے اور پھیلانے سے گریز کرنے، غیر معتبر اداروں اور افواہ ساز حلقوں کی جاری کردہ معلومات کو بطور حوالہ پیش کرنا شامل ہے۔
علاوہ ازیں محکمہ صحت کے ذمہ داران اور تشخیصی سہولت کے حوالے سے غیرذمہ دارانہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مذکورہ ہدایات میں کہا گیا کہ کورونا سے متعلق بات کرتے وقت مثبت انداز کو اختیار کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے ہدایات کتنی ضروری ہیں جبکہ ایسی تصاویر کا بھی استعمال کیا جائے جو کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کو آسانی سے بیان کرسکتی ہوں۔
تاہم منفی طرز عمل اختیار کرنے کسی کو دھمکی دینے سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے ساتھ ہی صحافیوں کو دوا اور ویکسین کے حصول کے لیے زور دینے سے گریز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
مزید یہ کہ رپورٹنگ پر موجود افراد کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی تصاویر شیئر نہ کریں جو غلط رہنمائی یا غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہوں۔
سی ای جے کی جانب سے صحافیوں کو کہا ہے کہ وہ طبی عملے اور زیر علاج افراد کا احترام کرتے ہوئے مریض اور اس کے تیمار داروں کی راز داری کا خیال کریں۔
اس کے علاوہ اپنے رویے اور روابط کے ذریعے لوگوں میں یہ احساس اجاگر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس سے طبی عملی کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
ساتھ ہی رپورٹرز کو اطلاعات و معلومات کے لیے ہسپتال یا محکمہ صحت کی طرف سے متعین کردہ ذمہ دار سے رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے۔
صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مریض اور ان کے تیمار داروں کی رضا مندی کے بغیر کوئی خبر نشر کرنے سے اجتناب کریں اور طبی عملے کی اہم سرگرمیوں کو بے بنیاد خبروں سے متاثر نہ کریں۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں ہزاروں اموات کا باعث بننے والا مہلک کورونا وائرس پاکستان میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایک ماہ کے دوران یہاں کیسز کی تعداد 1100 سے تجاوز کرگئی۔
26 فروری 2020 کو پاکستان میں وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا اور آج ایک ماہ مکمل ہونے تک ملک میں کورونا وائرس کے مزید 40 نئے کیسز سامنے آنے سے تعداد 1118 ہوگئی ہے۔
اس عالمی وبا نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی ہے اور 21 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 4 لاکھ 74 ہزار سے زائد متاثر ہوچکے ہیں۔
دنیا
روبیو کے ‘موت کے فرقے’ سے متعلق بیان پر ایران کا سخت ردعمل، امریکہ پر تہذیب کو نشانہ بنانے کا الز
تہران، ایران نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبائیو کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ مغربی تاریخ میں مزاحمت کی تعریف کرتا ہے، لیکن ایران کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ قرار دیتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام نے روبیو کے اس بیان کو چیلنج کیا ہے جس میں انہوں نے قدیم یونانی تاریخ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ کشیدگی سے جوڑا تھا۔
ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ روبیو کی حالیہ تقریر میں واضح تضاد ہے۔ ان کے مطابق قدیم یونان کے تناظر میں آخری دم تک ڈٹے رہنے کی تعریف کی جاتی ہے، لیکن عظیم ایرانی قوم کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”مسٹر روبیو، آپ کا مسئلہ اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ایرانی تہذیب ہے۔”
ولایتی نے کہا کہ اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کی تعریف کرنا اور دوسروں کی جانب سے اسی طرز عمل کو اختیار کیے جانے پر اس کی مذمت کرنا دیانت داری نہیں ہے۔ انہوں نے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تباہ کاریوں کے ذمہ داروں کو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا حق نہیں۔
دوسری جانب بقائی نے روبیو پر الزام لگایا کہ وہ قدیم یونان سے جدید امریکہ تک مغربی تہذیب کو ایک مسلسل تاریخی سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یونانی فلسفے کا انتخابی استعمال کرکے طاقت اور قومی عزائم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ایتھنز کے تاریخی مقام ایکروپولس میں روبائیو نے مغرب کی تاریخ کو قدیم یونان سے عصر حاضر کے امریکہ تک ایک غیر منقطع سلسلے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق، مختلف تاریخی ادوار اور تصورات کو اس طرح یکجا کرنا تاریخ کے تناظر کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے یہ دریافت کر لیا ہو کہ تاریخ کے فلسفے کی روشنی میں دھمکی آمیز رویے کو پیش کرنا، روایتی سخت گیر زبان کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ روبیو نے یونانی تصور ‘تھوموس’ کو اس کے تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر سے الگ کرکے طاقت، مسابقت اور قومی ارادے کی تعریف کے طور پر پیش کیا ہے۔ ‘تھوموس’ کا تعلق جذبے، ولولے اور احساسِ وقار سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تشریح میں یونانی فکری ورثے کا ایک اہم پہلو نظرانداز کیا گیا ہے، کیونکہ قدیم یونانی فلسفہ صرف طاقت اور عظمت کے تصورات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں سامراجی عزائم، جارحیت اور اقتدار کی حدود پر تنقید بھی شامل تھی۔
بقائی نے ہومر کی رزمیہ نظم ‘ایلیڈ’، ٹروئے کی داستان، تھوسی ڈائڈیز کی ‘پیلوپونیشین جنگ کی تاریخ’، افلاطون کی ‘ریپبلک’، ارسطو کی ‘پولیٹکس’ اور سوفوکلیز کے ڈراموں ‘اینٹی گون’ اور ‘اوڈیپس ریکس’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تصانیف میں طاقت کی حدود، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی تقدیر جیسے موضوعات پر گہری بحث کی گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن اپنی موجودہ پالیسیوں اور فوجی طاقت کو جائز ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے منتخب پہلوؤں کو استعمال کر رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس طرح تاریخ کو تحقیق اور تنقیدی غوروفکر کے بجائے سیاسی مقاصد کے جواز کے آلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں موجودہ سیاسی پالیسیوں کو ناگزیر اور تاریخ کے طے شدہ راستے کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تاریخ کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مقصد ماضی کو سمجھنا نہیں، بلکہ طاقت کی عظمت کا جشن منانا رہ جاتا ہے۔
بقائی نے روسی مصور واسیلی ویریشچاگن کی پینٹنگ ‘دی اپوتھیوسس آف وار’ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انسانی کھوپڑیوں کا ایک ڈھیر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فن پارہ فتوحات کی شان و شوکت کے بیانیے کے برعکس جنگ اور فتح کے تباہ کن نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے مغربی مفکرین پر زور دیا کہ وہ مغربی تہذیب کی فکری اور تاریخی روایات کی انتخابی تشریح کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ان کے مطابق، خطرہ صرف ماضی کو غلط سمجھنے میں نہیں، بلکہ موجودہ دور میں طاقت کے بے لگام استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے تاریخ کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے میں بھی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین پر روسی حملوں میں 15 افراد ہلاک، جنگ بندی کے لیے امریکہ میں ‘مثبت’ مذاکرات
کیف، یوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا پر روسی فضائی حملوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع یوکرین کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے دی ہے۔ ادھر امریکہ نے روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی اور یوکرینی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتہ کو اس سے قبل کہا تھا کہ شہر پر روسی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا، ”آج روس نے رہائشی عمارتوں پر پانچ گلائیڈ بم گرا کر ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانے پر اپنے انداز میں شکریہ ادا کیا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کیف سے الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میکالپائن نے کہا کہ یوکرین بھر میں دن کے وقت حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ رواں ہفتے ایک بس اسٹاپ پر گلائیڈ بم گرنے سے 30 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ کیف میں بھی دن کے وقت جیٹ انجن والے ڈرون تیزی سے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو اسکول کے سامنے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جو جیٹ طیارے جیسی آواز سن کر عمارت سے بھاگتا ہے اور محض چند سیکنڈ کے فرق سے جان بچانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعات یوکرین میں شہریوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ایک روز قبل امریکہ، یوکرین اور یورپ کے حکام نے فلوریڈا کے شہر میامی میں روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات میں موسم سرما سے قبل جنگ میں کشیدگی کم کرنے، اسے ختم کرنے اور پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا۔
وٹکوف کے مطابق، اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل گروپ ‘ای تھری’، یورپی کمیشن، یوکرین اور نیٹو کے نمائندے شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں توانائی کے تحفظ، اناج کی برآمدات، سلامتی کی ضمانتوں اور مستقبل میں تنازعات کی روک تھام کے لیے یوکرین اور یورپ کی سلامتی سے متعلق طویل مدتی انتظامات پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیر نو، اقتصادی خوشحالی اور یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا تھا کہ جنگ ایک خطرناک تعطل کا شکار ہو چکی ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں ناکامی سے تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ تعطل ختم ہونے کا ایک راستہ کشیدگی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جس سے جنگ نیٹو کے پڑوسی ممالک تک پھیلنے کا خطرہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
سی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
سری نگر، کانگریس، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر مشتمل انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کو سری نگر میں ملک گیر مہم ”جمہوریت بچاؤ ہفتہ” اور ”ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ” کے تحت مشترکہ احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کانگریس ہیڈکوارٹر سے مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم وہاں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد انہوں نے دفتر کے احاطے میں علامتی احتجاج کیا۔ انڈیا اتحاد کے مظاہرین کے ہاتھوں میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پرچم تھے۔
کانگریس رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس کے ایک رہنما نے کہاکہ ”آج ہم نے مشترکہ طور پر پُرامن احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر سے کنیا کماری تک ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ گنیش کمار، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو اپنے عہدوں سے ہٹ جانا چاہیے۔”
رہنماؤں نے دہلی میں عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی، جن میں نقل و حرکت اور انٹرنیٹ خدمات پر قدغنیں شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے متحد ہوجائیں۔
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
