جموں و کشمیر
کولگام کا اوکے گاؤں: جہاں روزانہ کم سے کم 5 ہزار کانگڑیاں تیار کی جاتی ہیں
سری نگر، وادی کشمیر میں موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی جہاں بازاروں میں دکانوں اور ریڑھیوں وغیرہ پر روایتی کانگڑیاں نمودار ہوتی ہیں وہیں سردیوں سے بچنے کے لئے اہلیان وادی بھی اسی کی خریداری کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔
وادی کے شہر و گام میں گرمی کے لئے جدید الیکٹرانک و دیگر آلات ہر گھر میں موجود ہیں لیکن اس کے با وصف کانگڑی نہ صرف ہر گھر کی زینت ہے بلکہ اس کی اپنی ایک منفرد اہمیت ہے۔
کانگڑیاں وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں بُنی جاتی ہیں تاہم جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں اوکے نامی ایک ایسا گائوں ہے جس کی ساری بستی اسی پیشے سے وابستہ ہوکر وادی کی اس قدیم دستکاری کو زندہ رکھتے ہوئے لوگوں کے لئے سیال کی ٹھٹھرتی سردیوں سے بچنے کا بندوبست کرتی ہے۔
اوکے سے تعلق رکھنے والے منظور احمد شاخساز نامی کاریگر نے یو این آئی کے ساتھ اپنی گفتگو کے دوران کہا: ‘پہلے ہم صرف 30 شاخساز کنبے کانگڑیاں بنانے کے پیشے سے وابستہ تھے اور اپنی روزی روٹی کما رہے تھے لکین بعد میں ساری بستی اسی پیشے سے جڑ گئی’۔
انہوں نے کہا: ‘ہم کانگڑیاں بنانے کے لئے مواد ٹہنیاں اور مٹی کے برتن جن کو مقامی زبان میں ‘کنڈل’ کہتے ہیں، مخلتف علاقوں سے لاتے ہیں اور پھر اپنے گھروں میں کانگڑیوں کو تیار کرتے ہیں تاہم یہاں ایسے بھی کنبے ہیں جو اپنے کھیتوں میں کانگڑیاں بنانے کے لئے ٹہنیاں اگاتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ کانگڑیاں بنانے کے لئے ٹہنیوں کو پہلے پانی میں کافی وقت تک رکھ کر ان کو نرم کیا جاتا ہے پھر ان کو مختلف رنگوں میں رنگ کر کانگڑیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
کانگڑیاں بنانے کا پیشہ اوکئی کے رہائشیوں کا کوئی نیا نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد کا پیشہ ہے جس پر ان کی روزی روٹی کا انحصار ہے۔
موصوف کاریگر نے کہا: ‘یہ ہمارے آبا و اجداد کا پیشہ ہے میرے والد بھی یہی کام کرتے تھے اور میں بھی اسی کام سے وابستہ ہو کر روزی روٹی کما رہا ہوں’۔انہوں نے کہا: ‘ہمارے گائوں کی کم سے کم ایک ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کا یہ ذریعہ معاش ہے ہمارے بچے اور خواتین بھی کانگڑیاں بناتے ہیں اور اس طرح ہماری مدد کرتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا: ‘ہمارے گائوں میں روزانہ کم سے کم 5 ہزار کانگڑیاں تیار کی جاتی ہیں’۔
منظور احمد نے بتایا کہ بیو پاری ہمارے پاس آکر ان کانگڑیوں کو خرید کر بازاروں میں بیچتے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘کانگڑیوں کی بھی مختلف قسمیں ہیں کوئی کانگڑی بنانے میں زیادہ سے زیادہ آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے جبکہ ایک خاص کانگڑی بنانے میں برابر ایک دن لگ جاتا ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘کانگڑیوں کی قسموں کے لحاظ سے ان کی الگ الگ قیمتیں بھی ہیں کسی کانگڑی کی قیمت ایک سو ڈیڑھ سو روپیہ تو کسی کی قیمت ایک ہزار روپیے سے بھی زیادہ ہے’۔
موصوف کاریگر نے کہا کہ وادی میں بھی لوگ گرمی کے لئے جدید الیکٹرانک آلات استعمال کر رہے ہیں جس سے یہ پیشہ متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرچہ لوگ کانگڑیاں استعمال کر رہے ہیں لیکن مانگ میں کمی آئی ہے۔
اس پیشے کو کسی قسم کا سرکاری سپورٹ ہونے کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ‘حکومت ہمیں سپورٹ نہیں کر رہی ہے جس طرح باقی دستکاریوں کے فروغ کے لئے کیا جا رہا ہے’۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ہمارے لئے بھی اسکیمیں بنائے گی تو ہمارا یہ پیشہ بھی فروغ پائے گا۔ایک اور کاریگر نے کہا کہ کانگڑی کے استعمال کے لئے بجلی یا گیس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس میں کوئلہ ڈال کر گرمی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے زیادہ خطرات بھی نہیں ہے جبکہ گرمی کے الیکٹرانک آلات کے خطرات بھی زیادہ ہی ہیں۔
موصوف نے کہا کہ مختصر مدت کے لئے ہی سہی لیکن کانگڑی کا استعمال وادی کے ہر گھر میں کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگڑیوں کو گھروں کی زیبائش اور آرائش کے سامان کے بطور بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح وادی کی دوسری دست کاریوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اسی طرح کانگڑیاں بنانے کی دست کاری کو بھی وسیع پیمانے پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
محمد رمضان نامی ایک کارباری نے کہا کہ میں کانگڑیوں کی خرید و فروخت کے تجارت سے کئی برسوں سے وابستہ ہوں اور اپنی روزی روٹی کما رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں کاریگروں سے مال خرید کر دکانداروں کو فروخت کرتا ہوں اور اس طرح سے اپنا کام چلاتا ہوں اور اچھی خاصی کمائی کرتا ہوں۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کانگڑیوں کی مانگ میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
یو این آئی ایم افضل، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا21 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر21 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا1 day agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان23 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان23 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
