دنیا
کویت میں آتشزدگی کے واقعہ میں 49 افراد ہلاک، ہندوستانی سفارت خانہ بھی امدادی کاموں میں مصروف
کویت سٹی/نئی دہلی، جنوبی کویت کے المنغاف میں ایک چھ منزلہ رہائشی عمارت میں بدھ کو لگنے والی زبردست آگ میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 49 ہو گئی ہے، جن میں عمارت میں رہنے والے کئی ہندوستانی مزدور بھی شامل ہیں۔ اس واقعہ میں 40 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ کویتی حکام راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں اور ابھی تک مرنے والوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
ہندوستانی کارکنوں کی مدد کے لیے کویت میں ہندوستانی سفارت خانے نے ایک کنٹرول روم قائم کیا ہے جس سے ٹیلیفون نمبر +965-65505246 کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ جے شنکر نے اس حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ کویت میں ہندوستانی سفارت خانہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ کویت میں ہندوستانی سفارتی مشن کے اہلکار وہاں کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں کی مدد میں مصروف ہیں۔
کویت کی خبر رساں ایجنسی کنا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 49 ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں وزارت داخلہ میں سیکیورٹی انفارمیشن کے ڈائریکٹر میجر جنرل ناصر عبدالسلیب کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عمارت کے مالکان کو سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے سینئر حکام آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں اور مرنے والوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔
کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح نے متعلقہ حکام کو اس واقعہ کے پیش نظر ایسے اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے کہ اس طرح کا سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
سوشل میڈیا پر ایک تعزیتی پیغام میں مسٹر مودی نے کہاکہ ”کویت سٹی میں آتشزدگی کا واقعہ افسوسناک ہے۔ میں ان لوگوں سے تعزیت کرتا ہوں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ کویت میں ہندوستانی سفارت خانہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور متاثرہ لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔”
وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر نے مرنے والوں کے اہل خانہ کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر جے شنکر نے سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ کیاکہ “کویت سٹی میں آتشزدگی کے واقعہ کی خبر سے گہرا صدمہ ہوا۔ بتایا جا رہا ہے کہ آتشزدگی میں اب تک 49 لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور 40 سے زیادہ کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
ہمارے سفیر امدادی کیمپ گئے ہیں اور ہم مزید معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہمارا سفارت خانہ اس سلسلے میں تمام متعلقہ افراد کو مکمل مدد فراہم کرے گا۔
کویت حکومت کے مطابق مقامی حکام کو کثیر المنزلہ عمارت میں صبح 6 بجے آگ لگنے کی اطلاع دی گئی اور آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں۔
شنہوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس عمارت میں اسی کمپنی کے تقریباً 160 ملازمین رہتے تھے اور آگ عمارت کے ایک کچن سے شروع ہوئی اور تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔
کویت کے سیکیورٹی آفیسر میجر جنرل عید راشد حماد نے آگ لگنے کی تصدیق کی ہے۔
کویتی وزارت صحت نے کہا کہ آگ سے زخمی ہونے والے متعدد افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا جن میں سے چار علاج کے دوران دم توڑ گئے۔
کویت میں ہندوستانی سفیر العدن نے زخمیوں کا علاج کرنے والے اسپتال کا دورہ کیا جہاں اس وقت 30 سے زائد ہندوستانی کارکن زیر علاج ہیں۔ ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کی حالت مستحکم ہے۔
اس ہولناک سانحے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کویت میں ہندوستانی سفارت خانے نے آگ سے متاثرہ ہندوستانی کارکنوں کے لیے ہنگامی ہیلپ لائن نمبر فراہم کیا ہے۔ کسی بھی قسم کی معلومات اور مدد کے لیے نمبر +965-65505246 دستیاب کرایا گیا ہے۔ سفارتخانے نے واقعے سے متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
کویت کی وزارت صحت نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ المنغاف عمارت میں آگ واقعی ایک تباہی ہے اور ایسا واقعہ کمپنی کے مالکان اور عمارت کے مالکان کی لالچ کا نتیجہ ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
غزہ، گوگل میپس کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر نے محصور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے تقریباً تین سال بعد ہونے والی بڑے پیمانے کی تباہی کی واضح تصویر پیش کی ہے۔
ایک کے بعد ایک پورے محلے ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں اور بیشتر مقامات پر صرف اہم سڑکوں کے مدھم نقوش باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث اب غزہ کے ایک علاقے کو دوسرے سے الگ کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ زرعی زمینیں جھلس چکی ہیں، جبکہ صدیوں پرانی عبادت گاہیں بھی نقصان کا شکار ہوئی ہیں یا منظرنامے سے مکمل طور پر مٹ چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر (یو این او ایس اے ٹی) کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد میں تقریباً ایک سال قبل جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایجنسی (انروا) کے مطابق غزہ کی تقریباً 82 فیصد عمارتیں، یعنی لگ بھگ دو لاکھ عمارتیں، نقصان کا شکار ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
الجزیرہ نے گوگل میپس پر حال ہی میں جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے جنگ سے پہلے کے غزہ اور موجودہ صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا ہے، جس میں جنوبی علاقے رفح سے شمالی غزہ تک کے علاقے شامل ہیں۔ رفح کی تصاویر رواں سال کی ہیں، جبکہ شمالی غزہ کی تصاویر 2025 اور 2024 کی ہیں۔
غزہ کا سب سے جنوبی شہر رفح غزہ کے مختلف علاقوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے ایک بڑا پناہ گاہ بن گیا تھا، تاہم مئی 2024 میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ان میں سے بیشتر پہلے ہی متعدد بار بے گھر ہو چکے تھے۔ انہیں رفح کے شمال میں واقع خان یونس اور وسطی غزہ کے دیر البلح کی جانب منتقل ہونا پڑا، جبکہ رفح میں انروا کے پناہ گزین مراکز بھی خالی کرا لیے گئے۔
مغربی رفح کا کبھی گنجان آباد رہنے والا تل السلطان محلہ تقریباً مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ان مقامات پر جہاں کبھی مکانات موجود تھے، اب بیشتر جگہ صرف ریت دکھائی دیتی ہے۔
المواصی کبھی رفح اور خان یونس گورنریٹس کے ساحلی علاقے میں پھیلی ہوئی نسبتاً کم آبادی والی ریتلی اور زرعی پٹی تھی۔ اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسے ’’انسانی بنیادوں پر محفوظ علاقہ‘‘ قرار دیا تھا اور بے گھر فلسطینیوں سے وہاں پناہ لینے کو کہا تھا۔
مئی 2024 میں جب اسرائیل رفح میں فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا تھا، اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا، ’’اگر وہ رفح میں داخل ہوئے تو… میں انہیں ہتھیار فراہم نہیں کر رہا ہوں۔‘‘
اس کے باوجود اسرائیل نے کارروائی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مزید لاکھوں افراد المواصی منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے اس علاقے پر متعدد بار بمباری کی ہے۔
تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں کبھی تقریباً خالی نظر آنے والا یہ علاقہ اب خیموں سے بھرا ہوا ہے، جہاں ایسے خاندان بڑی تعداد میں مقیم ہیں جن کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں۔
یو این او ایس اے ٹی کے اکتوبر 2025 کے جائزے کے مطابق خان یونس گورنریٹ میں غزہ کے کسی بھی گورنریٹ کے مقابلے میں سب سے زیادہ عمارتیں، یعنی 51,885، نقصان کا شکار ہوئی تھیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے وزیر خارجہ عراقی کی قطری ثالثوں سے ملاقات، امریکہ کا جوہری معاملہ حل کیے بغیر معاہدے سے انکار
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی نے نیویارک میں قطری ثالثوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز پر بات چیت کی ہے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
عراقی نے پیر کو ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قطری ثالث ملاقات میں زیر بحث آنے والی تجاویز امریکہ کے سامنے پیش کریں گے اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن کا حتمی جواب منگل تک موصول ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے خیالات اور ایران کی شرائط پوری کرنے کے لیے حل تلاش کرنے اور ان شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات کی۔ ان کے پاس کچھ تجاویز تھیں اور ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ وہ انہیں امریکی فریق کے سامنے بھی پیش کریں گے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب کا انتظار کرنے کے لیے نیویارک میں قیام کریں گے، عراقی نے کہا کہ وہ چند گھنٹوں میں تہران روانہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا، ”جب بھی قطریوں کے پاس کوئی جواب ہوگا، وہ جانتے ہیں کہ اسے ہم تک کیسے پہنچانا ہے۔”
عراقی نے ان ملاقاتوں کو قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری پیغامات کے تبادلے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے اپنی تجویز پیش کیے جانے کے بعد یہ رابطے ”زیادہ سنجیدہ شکل” اختیار کر گئے ہیں۔
ایران نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تجویز پیش کی تھی، جس میں امریکہ سے ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے، پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عراقی کے مطابق ان اقدامات کو چار یا پانچ دن کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔
الجزیرہ سے بات کرنے والے امریکی عہدیدار نے کہا کہ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
عہدیدار نے مذاکرات کو ”مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ٹرمپ جوہری معاملے میں پیش رفت کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔
عہدیدار نے کہا، ”ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، تاہم فریقین اب بھی وعدوں پر عمل درآمد کے وقت اور اس معاملے پر اختلاف رکھتے ہیں کہ پہلے کون سا فریق کون سا قدم اٹھائے گا۔”
امریکی عہدیدار نے ایران کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران نے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے۔ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے قائم کرنے کی کوشش کرکے خود اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ع ا۔
دنیا
صدر ایردوان کی نے انڈونیشیا کے صدر سوبیانتو سے ٹیلیفونک بات چیت
انقرہ، صدر رجب طیب ایردوان نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
صدارتی محکمہ اطلاعات کے بیان کے مطابق، گفتگو میں ترکیہ-انڈونیشیا تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی موضوعات پر بات چیت کی گئی۔
صدر ایردوان نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی بین الاقوامی فورمز پر یکجہتی سے خوش ہیں اور اسے برقرار رکھنا ترکیہ اور انڈونیشیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
ایردوان نے زور دیا کہ تجارت اور دفاعی صنعت بالخصوص کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اہم ہے اور اس سمت میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
ترک صدر نے سبیانتو کو 9 تا 20 نومبر کو انطالیہ میں منعقدہ COP31 لیڈرز سمٹ میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
