تازہ ترین
کچھ تو غور وفکر کر ائے ابن آدم !!
تحریر:جاوید اختر بھارتی
یہ دنیا ہے کل مذاہب ، کل برادری کا سنگم ہے ، کوئی ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے تو کوئی بہت ساری چیزوں کی عبادت کرتا ہے کوئی حکمراں بن کر زندگی گزارتا ہے تو کوئی رعایا بن کر زندگی گزارتا ہے کوئی دولت کے نشے اور سکوں کی جھنکار میں مست مگن ہے تو کوئی ایک ایک پائی کے لئے دردر کی ٹھوکر کھاتا ہے کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے تو کوئی آج بھی رکشہ چلاتے چلاتے جب تھک کر چور ہوجاتا ہے تو اپنے رکشے پر ہی سوجاتا ہے کوئی اخبار بچھاکر سوجاتا ہے کوئی نیند کی گولی کھاکر سوتا ہے تو کوئی بغیر گولی کھائے سوجاتا ہے کوئی اپنے گھر کے بھرے کنبے کے ساتھ رہتا ہے تو کوئی اپنا بھرا کنبہ چھوڑ کر ہزاروں کلو میٹر کی دوری کا سفر کرتاہے تاکہ گھر کے لوگ سکون سے رہیں اس دنیا کے اندر کسی کے ہاتھوں میں قلم ہے تو کسی کے ہاتھوں میں ہتھوڑا ہے قلم چلانے والا بھی پیسہ کماتا ہے اور ہتھوڑے سے پتھر توڑنے والا بھی پیسہ کماتا ہے مگر ایک کو آفیسر کہا جاتا ہے اور دوسرے کو مزدور کہا جاتا ہے ایک شخص کو پیسہ ملتا ہے تو تنخواہ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو پیسہ ملتا ہے تو مزدوری کہا جاتا ہے ایک شخص کی پیشانی کا پسینہ بہہ کر ٹخنوں تک آتا ہے تو دوسرا شخص ایر کنڈیشن روم میں بیٹھتا ہے آگے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ محنت کرنے سے ہی انسان ترقی کرتاہے اگر اس بات میں صد فیصد سچائی ہے تو اینٹ بھٹوں پر بوجھ اٹھانے والا کیوں نہیں ترقی کرتا صبح سے شام تک زمین کی کھدائی کرنے والا اور پتھر توڑنے والا کیوں نہیں ترقی کرتا معلوم ہوا کہ یہ بات صرف ایک مزدور کی تسلی کے لئے کہا جاتا ہے بہر حال یہ دنیا ہے ہزاروں رنگ بدلتی ہے کبھی کسی جگہ کوڑے کا انبار بھی لگایا جاتاہے تو کبھی اسی جگہ پر بنگلہ اور محل بھی تعمیر کیا جاتا ہے یہ دنیا ہے کوئی کھا کھا کر مرتا ہے تو کوئی کھائے بغیر مرتا ہے کسی کو کھانے کا ذائقہ نہیں ملتا اور وہ کبھی اس ڈھابے تو کبھی اس ڈھابے پر پہنچ کر پیسہ پھینکتا ہے اور بڑے باپ کی اولاد ہونے کا اظہار کرتاہے تو اسی دنیا میں کوئی اتنا نڈھال ہوتا ہے کہ صبح سویرے ہی بول پڑتا ہے کہ میرا حال دیکھو کپڑا بوسیدہ ہے، چہرہ اداس ہے ہونٹوں پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں پاوں میں جوتے اور چپل بھی نہیں ہے آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں اور صدا دیتا ہے کہ میرا حال دیکھو اور بتاؤ کہ مجھے تختی کی ضرورت ہے یا گندم کی ضرورت ہے؟ جواب ملتا ہے کہ تجھے گندم کی بھی ضرورت ہے، تختی کی بھی ضرورت ہے اور تعلیم کی بھی ضرورت ہے،، لیکن گندم بھی مہنگا اور تعلیم بھی مہنگی اب ایسی صورت میں غم جہاں سے نڈھال انسان کیسے ان چیزوں کا انتظام کرے تعلیم کا نعرہ ہر شخص بلند کرتا ہے مگر تعلیم کی راہ کو آسان بنانے کا نعرہ کوئی بلند نہیں کرتا کسی کو پتھر توڑتے دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی ، ہوٹلوں پر کام کرنے والوں کو دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا تعلیم کا مشورہ ہی دینا کافی ہے اور تشویش و افسوس کا اظہار ہی کافی ہے یا مسائل کے حل کی ضرورت ہے،، کہیں ایک ماہ میں پانچ کروڑ روپئے کے سموسے کھانے کی ویڈیو وائرل کی جاتی ہے اور اس پر تبصرہ کیا جاتا ہے تو کہیں نذرانوں کا انبار لگاہوا ہے کہیں جلسوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے تو کہیں مرغ و ماہی کا بازار گرم ہے اور ان اندھا دھند حاصل ہونے والے نذرانے کی رقم سے نہ یونیورسٹی بنوائی جاتی ہے اور نہ اسپتال تعمیر کرایا جاتاہے ملک میں ایسے ایسے پیر ہیں جن کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں اور بنگلہ ہے ایک طریقے سے وہ حکومت چلاتے ہیں مگر مریدین کی شکل میں اپنی رعایا کے لئے حالت بیماری میں علاج کا بھی انتظام نہیں کراتے تعلیم کے لئے اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں بھی نہیں بنواتے شائد انہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ مریدین کہیں تعلیم یافتہ ہوکر ہمیں تنہا نہ چھوڑ دیں حالانکہ انہیں ایسا نہیں سوچنا چاہئے کیونکہ آج کے ترقی یافتہ دور میں تعلیم یافتہ بھی اندھ بھکتوں کی فہرست میں اپنا نام درج کراتے ہیں ،، بہر حال یہ تو حقیقت ہے کہ آج کے دور میں خانقاہوں سے اگر اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں تعمیر کرانے اور مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی مہم چلائی جائے اور مکمل انتظام کیا جائے تو بہت آسانی ہوگی اور کامیابی بھی حاصل ہوگی،، ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کو کارآمد بنائے اور دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوکر ہاتھ بٹائے کیونکہ صرف خود کا جینا کوئی جینا نہیں اگر کوئی یہ سوچ کر زندگی گزارے کہ بس اپنا کام چلے باقی جس کا جو حال ہے وہ سمجھے تو ایسی سوچ اور ایسی ذہنیت رکھنے والے انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں اس لئے کہ زندگی تو جانور بھی گزار لیتے ہیں پھر اشرف المخلوقات ہونے کا کیا مطلب ہے بہترین انسان وہی ہے جو خود کو انسانیت کے سانچے میں ڈھالے یعنی پہلے اچھا انسان بنے اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جو اچھا انسان نہیں بن سکتا وہ اچھا مسلمان بھی نہیں بن سکتا کیونکہ ہاتھ اللہ نے بخشا ہے سخاوت کے لئے ، پاؤں بخشا ہے راہ صداقت کے لئے ، دل دیا ہے ایمان کی دولت کے لئے ، اپنے محبوب کی اور اپنی محبت کے لئے ، نظر بخشی ہے نظارہ قدرت کے لئے ، شعور بخشا ہے حق اور ناحق کی پہچان کے لئے جب سب کو جمع کیا جاتا ہے تو ایک پیغام جاری ہوتاہے ایک اعلان ہوتاہے کان عطا کیا ہے اسی سماعت کے لئے کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں-
اب آئیے حالات پر غور کریں اور فیصلہ کریں کہ مرنے کے بعد ہم کاندھا دینے کے لئے بے چین رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کوشش کرتے ہیں تو آخر جیتے جی ہم ایک دوسرے کا کاندھا کیوں نہیں پکڑتے یعنی سہارا کیوں نہیں دیتے،، بستر پر ایک شخص موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے تو اس کے نزدیک بیٹھ کر قرآن مجید پڑھا جاتا ہے بالخصوص سورہ یٰس کی تلاوت کی جاتی ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرنے کے لئے سورہ یٰس پڑھی جاتی ہے حالانکہ اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ حیات باقی ہوتو اللہ تبارک وتعالیٰ شفائے کاملہ عطا فرمائے یا پھر موت کا معاملہ آسان فرمائے یہاں بھی سبق ملتا ہے کہ آخر جینے کے لئے اور جینے کا سلیقہ سیکھنے کے لئے قرآن کیوں نہیں پڑھا جاتا ،، مردے کے نام پر خوب کھانا کھلانے کا اہتمام ہوتاہے تو پھر زندہ لوگوں کے لئے بھکمری اور فاقہ کشی سے بچانے کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، مزاروں پر چادروں پر چادر چڑھانے کے بجائے غریبوں کو کپڑا پہنانے کا انتظام و اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تقاریب کا راقم الحروف مخالف نہیں ہے مگر اس سے جو نتائج اخذ ہورہے ہیں جس سے انسانیت کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے اس دنیا میں بہت سے لوگوں کی زندگیاں سنور سکتی ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی ہوسکتی ہے وہ بیان و تحریر کرنا اصل مقصد ہے ،، یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اسلام کے اندر نہ پاپائیت ہے اور نہ ہی برہمنیت ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہے کہ ہر شخص اس قابل بنے کہ اپنی بیٹی کا نکاح خود پڑھائے ، اپنے باپ کا جنازہ خود پڑھائے دین کا داعی بنے مبلغ بنے یہ ذمہ داری کسی ایک ذات برادری تک کے لئے محدود و مخصوص نہیں کی گئی ہے کہ فلاں ذات برادری کے لوگ یہ کام کریں گے یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں نے ایسا نظریہ پیش کیا ہے انہوں نے غلط کیا ہے بلکہ ایسا کرنے والوں نے اندھ بھگتی کا جال بچھانے کی کوشش کی ہے تاکہ کوئی ہمارے مد مقابل نہ بیٹھ سکے اور نہ کھڑا ہوسکے ایسے لوگوں نے دعوت، خطابت، صحافت، نظامت ،تعلیم، اسکول و مدارس، تقریر و تحریر سب کو تجارت سمجھا ہے،، بعض بزرگان دین نے کہا ہے کہ اساتذہ اور سرپرست دونوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھائیں ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ حصول تعلیم کے بعد ہنر سے محروم لوگ دین کو بیچیں گے آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے بہت سے مقررین نے ریٹ مقرر کیا ہوا ہے ، نعت خوانی کے لئے شعرا چالیس چالیس ہزار روپیہ عام طریقے سے لیتے ہیں یہاں تک کہ پروگرام میں شریک ہونے سے پہلے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منگواتے ہیں یہ حال ہے مسلمانوں کا اور ایڈیڈ مدارس کا تو حال یہ ہے کہ اللہ رحم کرے رشوت لینے دینے کا طریقہ اور برق رفتاری تو کوئی انہیں سے سیکھے،، حال ہی میں ایک بزرگ عالم دین کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ان کی باتوں میں دین اور معاشرے کے ساتھ گرانٹیڈ مدارس کے حالات پر درد چھلکا باتیں تلخ ضرور لگتی ہیں مگر انہوں نے سچائی بیان کردی ہے ایک طرف مدارس کو دین اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے اور دوسری طرف رشوت دینے کی قطاریں لگی رہتی ہیں یہ تو شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے –
javedbharti508@gmail.com
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
