تازہ ترین
کچھ تو غور وفکر کر ائے ابن آدم !!
تحریر:جاوید اختر بھارتی
یہ دنیا ہے کل مذاہب ، کل برادری کا سنگم ہے ، کوئی ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے تو کوئی بہت ساری چیزوں کی عبادت کرتا ہے کوئی حکمراں بن کر زندگی گزارتا ہے تو کوئی رعایا بن کر زندگی گزارتا ہے کوئی دولت کے نشے اور سکوں کی جھنکار میں مست مگن ہے تو کوئی ایک ایک پائی کے لئے دردر کی ٹھوکر کھاتا ہے کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے تو کوئی آج بھی رکشہ چلاتے چلاتے جب تھک کر چور ہوجاتا ہے تو اپنے رکشے پر ہی سوجاتا ہے کوئی اخبار بچھاکر سوجاتا ہے کوئی نیند کی گولی کھاکر سوتا ہے تو کوئی بغیر گولی کھائے سوجاتا ہے کوئی اپنے گھر کے بھرے کنبے کے ساتھ رہتا ہے تو کوئی اپنا بھرا کنبہ چھوڑ کر ہزاروں کلو میٹر کی دوری کا سفر کرتاہے تاکہ گھر کے لوگ سکون سے رہیں اس دنیا کے اندر کسی کے ہاتھوں میں قلم ہے تو کسی کے ہاتھوں میں ہتھوڑا ہے قلم چلانے والا بھی پیسہ کماتا ہے اور ہتھوڑے سے پتھر توڑنے والا بھی پیسہ کماتا ہے مگر ایک کو آفیسر کہا جاتا ہے اور دوسرے کو مزدور کہا جاتا ہے ایک شخص کو پیسہ ملتا ہے تو تنخواہ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو پیسہ ملتا ہے تو مزدوری کہا جاتا ہے ایک شخص کی پیشانی کا پسینہ بہہ کر ٹخنوں تک آتا ہے تو دوسرا شخص ایر کنڈیشن روم میں بیٹھتا ہے آگے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ محنت کرنے سے ہی انسان ترقی کرتاہے اگر اس بات میں صد فیصد سچائی ہے تو اینٹ بھٹوں پر بوجھ اٹھانے والا کیوں نہیں ترقی کرتا صبح سے شام تک زمین کی کھدائی کرنے والا اور پتھر توڑنے والا کیوں نہیں ترقی کرتا معلوم ہوا کہ یہ بات صرف ایک مزدور کی تسلی کے لئے کہا جاتا ہے بہر حال یہ دنیا ہے ہزاروں رنگ بدلتی ہے کبھی کسی جگہ کوڑے کا انبار بھی لگایا جاتاہے تو کبھی اسی جگہ پر بنگلہ اور محل بھی تعمیر کیا جاتا ہے یہ دنیا ہے کوئی کھا کھا کر مرتا ہے تو کوئی کھائے بغیر مرتا ہے کسی کو کھانے کا ذائقہ نہیں ملتا اور وہ کبھی اس ڈھابے تو کبھی اس ڈھابے پر پہنچ کر پیسہ پھینکتا ہے اور بڑے باپ کی اولاد ہونے کا اظہار کرتاہے تو اسی دنیا میں کوئی اتنا نڈھال ہوتا ہے کہ صبح سویرے ہی بول پڑتا ہے کہ میرا حال دیکھو کپڑا بوسیدہ ہے، چہرہ اداس ہے ہونٹوں پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں پاوں میں جوتے اور چپل بھی نہیں ہے آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں اور صدا دیتا ہے کہ میرا حال دیکھو اور بتاؤ کہ مجھے تختی کی ضرورت ہے یا گندم کی ضرورت ہے؟ جواب ملتا ہے کہ تجھے گندم کی بھی ضرورت ہے، تختی کی بھی ضرورت ہے اور تعلیم کی بھی ضرورت ہے،، لیکن گندم بھی مہنگا اور تعلیم بھی مہنگی اب ایسی صورت میں غم جہاں سے نڈھال انسان کیسے ان چیزوں کا انتظام کرے تعلیم کا نعرہ ہر شخص بلند کرتا ہے مگر تعلیم کی راہ کو آسان بنانے کا نعرہ کوئی بلند نہیں کرتا کسی کو پتھر توڑتے دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی ، ہوٹلوں پر کام کرنے والوں کو دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا تعلیم کا مشورہ ہی دینا کافی ہے اور تشویش و افسوس کا اظہار ہی کافی ہے یا مسائل کے حل کی ضرورت ہے،، کہیں ایک ماہ میں پانچ کروڑ روپئے کے سموسے کھانے کی ویڈیو وائرل کی جاتی ہے اور اس پر تبصرہ کیا جاتا ہے تو کہیں نذرانوں کا انبار لگاہوا ہے کہیں جلسوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے تو کہیں مرغ و ماہی کا بازار گرم ہے اور ان اندھا دھند حاصل ہونے والے نذرانے کی رقم سے نہ یونیورسٹی بنوائی جاتی ہے اور نہ اسپتال تعمیر کرایا جاتاہے ملک میں ایسے ایسے پیر ہیں جن کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں اور بنگلہ ہے ایک طریقے سے وہ حکومت چلاتے ہیں مگر مریدین کی شکل میں اپنی رعایا کے لئے حالت بیماری میں علاج کا بھی انتظام نہیں کراتے تعلیم کے لئے اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں بھی نہیں بنواتے شائد انہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ مریدین کہیں تعلیم یافتہ ہوکر ہمیں تنہا نہ چھوڑ دیں حالانکہ انہیں ایسا نہیں سوچنا چاہئے کیونکہ آج کے ترقی یافتہ دور میں تعلیم یافتہ بھی اندھ بھکتوں کی فہرست میں اپنا نام درج کراتے ہیں ،، بہر حال یہ تو حقیقت ہے کہ آج کے دور میں خانقاہوں سے اگر اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں تعمیر کرانے اور مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی مہم چلائی جائے اور مکمل انتظام کیا جائے تو بہت آسانی ہوگی اور کامیابی بھی حاصل ہوگی،، ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کو کارآمد بنائے اور دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوکر ہاتھ بٹائے کیونکہ صرف خود کا جینا کوئی جینا نہیں اگر کوئی یہ سوچ کر زندگی گزارے کہ بس اپنا کام چلے باقی جس کا جو حال ہے وہ سمجھے تو ایسی سوچ اور ایسی ذہنیت رکھنے والے انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں اس لئے کہ زندگی تو جانور بھی گزار لیتے ہیں پھر اشرف المخلوقات ہونے کا کیا مطلب ہے بہترین انسان وہی ہے جو خود کو انسانیت کے سانچے میں ڈھالے یعنی پہلے اچھا انسان بنے اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جو اچھا انسان نہیں بن سکتا وہ اچھا مسلمان بھی نہیں بن سکتا کیونکہ ہاتھ اللہ نے بخشا ہے سخاوت کے لئے ، پاؤں بخشا ہے راہ صداقت کے لئے ، دل دیا ہے ایمان کی دولت کے لئے ، اپنے محبوب کی اور اپنی محبت کے لئے ، نظر بخشی ہے نظارہ قدرت کے لئے ، شعور بخشا ہے حق اور ناحق کی پہچان کے لئے جب سب کو جمع کیا جاتا ہے تو ایک پیغام جاری ہوتاہے ایک اعلان ہوتاہے کان عطا کیا ہے اسی سماعت کے لئے کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں-
اب آئیے حالات پر غور کریں اور فیصلہ کریں کہ مرنے کے بعد ہم کاندھا دینے کے لئے بے چین رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کوشش کرتے ہیں تو آخر جیتے جی ہم ایک دوسرے کا کاندھا کیوں نہیں پکڑتے یعنی سہارا کیوں نہیں دیتے،، بستر پر ایک شخص موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے تو اس کے نزدیک بیٹھ کر قرآن مجید پڑھا جاتا ہے بالخصوص سورہ یٰس کی تلاوت کی جاتی ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرنے کے لئے سورہ یٰس پڑھی جاتی ہے حالانکہ اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ حیات باقی ہوتو اللہ تبارک وتعالیٰ شفائے کاملہ عطا فرمائے یا پھر موت کا معاملہ آسان فرمائے یہاں بھی سبق ملتا ہے کہ آخر جینے کے لئے اور جینے کا سلیقہ سیکھنے کے لئے قرآن کیوں نہیں پڑھا جاتا ،، مردے کے نام پر خوب کھانا کھلانے کا اہتمام ہوتاہے تو پھر زندہ لوگوں کے لئے بھکمری اور فاقہ کشی سے بچانے کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، مزاروں پر چادروں پر چادر چڑھانے کے بجائے غریبوں کو کپڑا پہنانے کا انتظام و اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تقاریب کا راقم الحروف مخالف نہیں ہے مگر اس سے جو نتائج اخذ ہورہے ہیں جس سے انسانیت کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے اس دنیا میں بہت سے لوگوں کی زندگیاں سنور سکتی ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی ہوسکتی ہے وہ بیان و تحریر کرنا اصل مقصد ہے ،، یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اسلام کے اندر نہ پاپائیت ہے اور نہ ہی برہمنیت ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہے کہ ہر شخص اس قابل بنے کہ اپنی بیٹی کا نکاح خود پڑھائے ، اپنے باپ کا جنازہ خود پڑھائے دین کا داعی بنے مبلغ بنے یہ ذمہ داری کسی ایک ذات برادری تک کے لئے محدود و مخصوص نہیں کی گئی ہے کہ فلاں ذات برادری کے لوگ یہ کام کریں گے یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں نے ایسا نظریہ پیش کیا ہے انہوں نے غلط کیا ہے بلکہ ایسا کرنے والوں نے اندھ بھگتی کا جال بچھانے کی کوشش کی ہے تاکہ کوئی ہمارے مد مقابل نہ بیٹھ سکے اور نہ کھڑا ہوسکے ایسے لوگوں نے دعوت، خطابت، صحافت، نظامت ،تعلیم، اسکول و مدارس، تقریر و تحریر سب کو تجارت سمجھا ہے،، بعض بزرگان دین نے کہا ہے کہ اساتذہ اور سرپرست دونوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھائیں ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ حصول تعلیم کے بعد ہنر سے محروم لوگ دین کو بیچیں گے آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے بہت سے مقررین نے ریٹ مقرر کیا ہوا ہے ، نعت خوانی کے لئے شعرا چالیس چالیس ہزار روپیہ عام طریقے سے لیتے ہیں یہاں تک کہ پروگرام میں شریک ہونے سے پہلے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منگواتے ہیں یہ حال ہے مسلمانوں کا اور ایڈیڈ مدارس کا تو حال یہ ہے کہ اللہ رحم کرے رشوت لینے دینے کا طریقہ اور برق رفتاری تو کوئی انہیں سے سیکھے،، حال ہی میں ایک بزرگ عالم دین کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ان کی باتوں میں دین اور معاشرے کے ساتھ گرانٹیڈ مدارس کے حالات پر درد چھلکا باتیں تلخ ضرور لگتی ہیں مگر انہوں نے سچائی بیان کردی ہے ایک طرف مدارس کو دین اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے اور دوسری طرف رشوت دینے کی قطاریں لگی رہتی ہیں یہ تو شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے –
javedbharti508@gmail.com
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
فوج نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی ایک طاقت کے طور پر ابھری ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ وہ ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ خدمت، ہمدردی، حوصلے اور عزم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سری نگر کے کیمپ میں 144 کامیاب آپریشن کیے گئے، جبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگدھر کیمپ نے سرحد پر منعقد ہونے والے پہلے میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگ میل قائم کیا۔
مشکل جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف 2 دن میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے ٹنگدھر کے جغرافیائی حالات دیکھے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں مدد لے کر پہنچنا بھی ایک چیلنج ہے۔ پہاڑوں کو عبور کرنا، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرے کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسی مشکل اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے امید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جدید جراحی آلات کو فضائی راستے سے ٹنگدھر پہنچایا گیا، جس سے ایسے علاقے میں آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے اس طرح کی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔
کھیورپورہ، تنگدھر، باگ بیلا اور آس پاس کے گاؤں کے مریضوں نے اس کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہی حقیقی حوصلہ، فرض کے تئیں لگن اور خدمت کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات بلا شبہ ثابت کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو، وہ ہندوستانی فوج کی انسانی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر اور ٹنگدھر میں کیے گئے 364 آپریشن محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ بدلی ہوئی زندگیوں کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر آپریشن عزتِ نفس کی بحالی اور امید کے دوبارہ جاگنے کی ایک داستان بن گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت 10 شہروں میں اب تک 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے اور 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ نے فوج اور مقامی برادریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نہ صرف دفاعی طاقت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے معاون عملے، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی بہادری کو سلام پیش کیا جنہوں نے آلات پہنچانے، زیر زمین آپریشن تھیٹر تیار کرنے اور نامساعد حالات میں پیچیدہ آپریشنوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی طاقت ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ بینائی بحال کرکے فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا نظریہ دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا ایک تسلسل ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’آپریشن درشٹی‘ ملک بھر کے مزید گاؤں اور قصبوں تک پہنچے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹنگدھر کیمپ ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپریشن درشٹی کے تجربے سے ہمیں اعتماد ملتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طب کو ملک کے ہر کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا عزم ہے اور معزز وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران قابل قدر خدمات انجام دینے والے دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اعزاز سے نوازا۔
انہوں نے مستفید ہونے والوں کو آپریشن کے بعد استعمال ہونے والی طبی کٹس بھی حوالے کیں۔
لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)، چنار کور؛ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، سینئر کنسلٹنٹ اور شعبۂ امراضِ چشم، آرمی ہاسپٹل آر اینڈ آر کے سربراہ؛ بریگیڈیئر بی وی راؤ، کمانڈنٹ، 92 بیس ہاسپٹل، اور سینئر سول و دفاعی افسران نے اختتامی تقریب میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
دنیا
ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
تہران، — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مہاجرانی نے واشنگٹن کے جواب کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تہران اب کیا اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراقچی نے کابینہ کو یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط بھی شامل تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچائی گئی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران عراقچی نے امریکی تجویز صدر مسعود پزشکیان کے سامنے پیش کی۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر کامیاب عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بات کہی۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے فوائد اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کو ایران کے مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی شق میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
پزشکیان نے معاہدے کو ’’باعثِ فخر‘‘ اور ایران سے متعلق پیش رفت کے دوران ’’فیصلہ کن اور انتہائی مؤثر دستاویز‘‘ قرار دیا۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی شرائط میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ، منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کی رہائی اور محفوظ بحری راستے پر اتفاق شامل ہے۔ تہران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے دو گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی تھیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور واشنگٹن سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندری علاقوں میں ایران کی مضبوط موجودگی نے ملک کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو متاثر ہونے سے بچایا۔
عالمی یومِ بحری جہازرانی کے موقع پر بدھ کو پزشکیان نے سمندر کو ایران کے لیے محض پانی کا ذخیرہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک الٰہی نعمت اور ملک کی تاریخ، شناخت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایران کے حال اور مستقبل کے لیے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بھی قرار دیا۔
صدر نے کہا، ’’آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت میں خصوصی مقام رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے ممالک کی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔‘‘
پزشکیان نے زور دیا کہ ’’خلیج فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کا انحصار سب سے بڑھ کر خطے کے ممالک کے تعاون، ذمہ داری اور فعال کردار پر ہے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو برقرار رکھنے میں ملک کی بحری برادری کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
