تازہ ترین
کیامغرب ایرانی نظام کی عصمت ریزی،اغوااور قتل کے لیےحوصلہ افزائی کرتا ہے؟
مریم معمارصادقی
امریکا نے 2021 میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے بروکلین، نیویارک سے ایرانی نظام مخالف صحافیہ مسیح علی نژاد کواغوا کرنے کی سازش کوناکام بنادیا تھا۔اس کے بعد سے ایرانی حکومت امریکی سرزمین پراس ایرانی نژاد امریکی شہری کے قتل کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
27جنوری کوامریکی محکمہ انصاف نے علی نژاد کے قتل کی سازش کے دوسرے منصوبے میں ملوّث تین افراد کے خلاف کرائے پرقتل اورمنی لانڈرنگ کے الزامات عاید کیے تھے۔ان میں سے ایک مشتبہ شخص رفعت امیروف ایران میں مقیم تھا اورمحکمہ انصاف کے اعلان سے صرف ایک روز قبل امریکا گیا تھا۔ امیروف اور دیگرافراد پرالزام ہے کہ وہ مشرقی یورپ میں جرائم کے نیٹ ورک ’چور ان لا‘کا حصہ ہیں۔یہ نیٹ ورک تہران کے لیے آلہ کارکے طور پر کام کرتا ہے۔
مسیح علی نژاد دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی ریاست کے لیے ایک کانٹا ہے، جس نے سوشل میڈیا پراپنے 80 لاکھ فالوورز کو حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خاص طور پرخواتین کے جسمانی خودمختاری اور لباس کے انتخاب کے بنیادی حق سے انکارکی غیرمتزلزل مذمت کی ہے۔اس دوران میں، سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے زیرقیادت نظام کوایک بے مثال، ملک گیر بغاوت کا سامنا ہے اور یہ احتجاجی تحریک 1979ء میں برپاشدہ انقلاب کے بعد سے اس نظام کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔عوامی طاقت کی تحریک کا ایک محرک ایرانیوں کی ان کے احتجاج، ہڑتالوں اور سول نافرمانی کی دیگر کارروائیوں کی ویڈیوز ہیں، خاص طور پرخواتین مقتولہ مہساامینی کے ساتھ اظہاریک جہتی کے لیے احتجاج کررہی ہیں۔انھیں ایرانی حکومت کی نام نہاد اخلاقی پولیس نے حجاب کے نیچے سے بالوں کے ٹکڑے دکھانے پرحراست میں لیا تھا اور پھربے دردی سے قتل کردیا تھا۔
علی نژاد ایرانی نظام مخالف مظاہرین کی مسلسل ترجمان بنی ہوئی ہیں اور وہ برسوں سے باقاعدگی سے ایسی ویڈیوز پوسٹ کررہی ہیں جن میں خواتین اپنے جسموں پرحکومت کے ظالمانہ کنٹرول کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔یہ ان کی ’’سفید بدھ مہم‘‘کا حصہ ہے۔ یہ نہ صرف حکومت کے سرڈھانپنے کے ضابطے کی انقلابی نافرمانی کا پیش خیمہ ہے بلکہ اس کے غیرانسانی اسلامی نظریے کی مخالفت کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
علی نژاد کوختم کرنے کا ایرانی نظام کا مقصد واضح ہے۔ اس سے ایک مسلسل بلند آواز بنداورانتھک کارکن سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا جو آزادی اورانصاف کی تلاش میں بہادرایرانیوں کی آوازوں کو بلند آہنگ کرتی ہے۔ان میں اس وقت ایران میں قید 18,000 سے زیادہ افراد کی آوازیں بھی شامل ہیں۔ان کے قتل سے ملک کے اندران لوگوں کی ناقابل تسخیریت کی ایک تصویرسامنے آئے گی، جو پہلے ہی قرونِ وسطیٰ کی سفاکیت کا مظاہرہ کررہے ہیں،جس میں تھیوکریسی کی تہ خانوں میں لڑکیوں اور عورتوں کی منظم عصمت ریزی کے واقعات بھی شامل ہیں۔ان کاقتل ایرانی نظام کو گرانے کے لیے کام کرنے والے دیگرتارکین وطن کارکنوں کو بھی دہشت زدہ کرے گا۔
لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کی امریکی سرزمین پر قتل وغارت گری کی خواہش محض اس کا تختہ الٹنے کی جدوجہد کے جبرکی توسیع نہیں ہے،محکمہ انصاف کے مطابق، یہ’’قومی سلامتی کے لیے ایک خطرناک خطرہ‘‘بھی ہے۔ایرانی حکومت شروع سے ہی امریکی سرزمین پر قتل وغارت گری کی کوشش کر رہی ہے۔
سنہ 1980 میں ایرانی حکومت نے علی اکبرطباطبائی کو بیتھیسڈا، میری لینڈ میں واقع ان کے گھر میں قتل کرادیا تھا۔ طباطبائی کو ایک امریکی مسلمان نے قتل کیا تھا جس نے تہران میں اسلام پسندوں کے کہنے پریہ کام کیا تھا اورطباطبائی کے قتل کے بعد وہاں سے فرارہوگیا تھا۔اس وقت تہران میں درجنوں امریکی سفارت کاروں اور شہریوں کو یرغمال بنایا گیا تھا اورخمینی کے انقلابی ساتھی شاہِ ایران کی حکومت کے عہدے داروں کو پھانسی دینے کی دوڑ میں مصروف تھے۔
ایران میں برپاشدہ اس خمینی انقلاب کی عالمی دہشت کبھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے اندازوں کے مطابق صرف 1979 سے 2000 تک ایرانی حکومت نے دنیا بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے 360 واقعات کیے۔ان میں ایران کے سب سے زیادہ قابل تعریف جمہوری مخالفین بھی شامل تھے۔ سابق وزیراعظم شاہ پور بختیارکو، جو ایک پرجوش لبرل اور اسلامی بنیاد پرستی کے دشمن تھے،1991 میں پیرس میں چاقو کے وار کر کے قتل کردیا گیا تھا۔ مشہوراداکار فریدون فرخ زاد کو بھی 1992 میں بون میں چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ان کے قتل کے ایک ماہ بعد ایرانی حکومت نے برلن میں میکونوس یونانی ریستوراں میں ایک اجلاس میں شریک ایرانی کرد حزب اختلاف کے تین رہ نماؤں اور ان کے مترجم کو قتل کر دیا تھا۔ سنہ 1994 میں حکومت نے بیونس آئرس میں یہودی کمیونٹی مرکز میں ارجنٹائن اسرائیل میوچل ایسوسی ایشن (اے ایم آئی اے) پر بم حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 85 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
اگرچہ “میکونوس” حملے اور “اے ایم آئی اے بم باری” نے مغربی حکومتوں اور میڈیا کی توجہ حاصل کی تھی، لیکن حکومت کی طرف سے عام کارکنوں کے اغوا اور قتل ، خاص طورپرہمسایہ ملک ترکی میں ، جہاں بہت سے لوگوں نے پناہ کی درخواست کی ہے ، شاذونادر ہی مقدمہ چلایا جاتا ہے یا ان کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کا کہنا ہے کہ صرف برطانیہ میں 2022 میں تہران نے کم از کم 10 افراد کے قتل یا اغوا کی کوشش کی۔ کینیڈا میں، جہاں حکومت کے اہلکاراور ان کے اہل خانہ بھی منی لانڈرنگ کرتے ہیں اوران کے گھراور کاروبار ہیں، پولیس نے ایرانی صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو قتل کی سرگرم سازشوں کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔
اگرچہ مغربی پولیس اور استغاثہ تہران کے بین الاقوامی جبر کے خلاف چوکس ہیں، لیکن برطانوی وزارت خارجہ نے ایرانی حکومت کے عالمی دہشت گردی کے نظام کے خلاف سخت ردعمل کو اپنی ایران پالیسیوں کا حصہ بنانے سے انکارکیا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اور برطانوی حکومت انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں بیان بازی اور پابندیوں کے باوجود ایرانی نظام کے ساتھ کھلے عام سفارت کاری کے لیے پُرعزم ہیں۔اس کا نتیجہ ایک عجیب وغریب چکر ہے جس میں مغربی حکومتیں اپنی سرزمین پر قتل کی سازشوں کو نظرانداز کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں جبکہ ایساطرزِعمل’’اعتدال پسندی‘‘ کے جھوٹے احاطے کے منافی ہوگا جس پر مشترکہ جامع ایکشن پلان (جے سی پی او اے) جیسے مذاکرات مبنی ہیں۔ برطانوی دفترخارجہ نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے منصوبے کو روک دیا ہے تاکہ ایرانی حکومت کے ساتھ کھلی بات چیت کی جاسکے۔امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے درحقیقت اندرون ملک ایرانی حکومت کی بربریت کو ایک اورمعاہدے میں داخل ہونے کی ضرورت سے جوڑا ہے، جسے انسانی حقوق کے بہت سے کارکن ایران کو خوش کرنے کی پالیسی کے لیے مضحکہ خیزجواز کے طورپردیکھتے ہیں۔
باائیڈن انتظامیہ نہ صرف جمہوری مستقبل کے لیے ایرانی جدوجہد کے ساتھ غداری کررہی ہے بلکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کی زندگیوں کوبھی خطرے میں ڈال رہی ہے، یہاں تک کہ خودامریکی سرزمین پر بھی۔سابق ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کے کھلے عام قتل کے احکامات موجود ہیں۔ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے امریکا کے قومی سلامتی کے سابق مشیرجان بولٹن کے قتل کے لیے ایک قاتل کو تین لاکھ ڈالر اور سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو قتل کرنے کے لیے دس لاکھ ڈالردینے کی پیش کش کی تھی اور یہ سب ریکارڈ پرہے۔
سنہ 2022 میں امریکی سرزمین پر سلمان رشدی پر ہونے والا حملہ کو بائیڈن انتظامیہ نے بمشکل ہی تسلیم کیا تھا حالانکہ یہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی جانب سے معروف مصنف کو قتل کرنے کے فتوے ہی پرعمل درآمد تھا۔یہاں پھربائیڈن انتظامیہ کا طرزِعمل تہران کے لیے ایک اشارہ ہے کہ اس کی دہشت گردی کی کارروائیوں کو نظرانداز کیا جاتا رہے گا۔
جب سے ایران میں جمہوریت کے لیے بغاوت کا آغاز ہوا ہے،امریکا اور دیگرمغربی حکومتوں نے حکومت کے عہدے داروں پرتوپابندیاں عایدکی ہیں مگرایران اور اس کے نظام کے ساتھ تعلقات جاری رکھنے کا مجموعی مؤقف برقراررکھا ہے۔حتیٰ کہ یوکرین میں شہریوں پرحملوں میں استعمال ہونے والے مہلک ڈرونز کے ذریعے روس کو مسلح کرنے کے باوجود بھی ان مغربیوں کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، جیسا کہ بہت سے ممالک نے پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے میں ہچکچاہٹ کامظاہرہ کیا ہے۔خامنہ ای کو مایوس کرنے میں ہچکچاہٹ صرف ان کی ننگی جارحیت کوتقویت دیتی ہے اور یہ جمہوری ممالک کے قومی مفاد اوروسیع ترعالمی امن وسلامتی کے بھی منافی ہے۔
حال ہی میں دنیاکے 450 سے زیادہ ممتاز سیاسی رہ نماؤں، مصنفین، دانش وروں، مشہورشخصیات اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت میں ایک بیان جاری کیاہے۔اس میں ان کی فتح کو’’جمہوریت کی عالمی لہرکی تجدید کے لیے گہری صلاحیت کے طورپرتسلیم کیا گیا ہے جو بیسویں صدی کے آخر میں بہت مضبوط تھی لیکن آمرانہ جوابی حملوں کے سامنے گرگئی ہے‘‘۔
مغربی پالیسی سازوں کو ان کی سفارشات پرتوجہ دینی چاہیے، جن میں پاسداران انقلاب کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شمولیت اور خود سپریم لیڈر پر پابندیوں کا نفاذشامل ہے۔ایک ایسا نظام جو مغربی ممالک کے شہریوں کوان کی سرزمین پر فعال طور پر نشانہ بنا رہا ہے، یوکرین کے بے گناہ شہریوں کے قتل میں مادی مدد دے رہا ہے،ایران کی ہزاروں عظیم ترین روحوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اوران کی عصمت ریزی کررہا ہے،اس پر کسی بھی سفارت کاری یا معاہدے کے لیے بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔اسے شکست دی جانی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریم معمارصادقی سائرس فورم کی بانی ڈائریکٹر ہیں۔ وہ میکڈونلڈ-لوریرانسٹی ٹیوٹ کی سینیر فیلو اور جمہوری ایران کی معروف وکیل ہیں۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اچن میں 361 کروڑ روپے کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ ٹینڈر کے مرحلے میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ سری نگر کے اچن میں مجوزہ 800 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (آئی ایس ڈبلیو ایم) پروجیکٹ، جس کی تخمینی لاگت 361 کروڑ روپے ہے، فی الحال ٹینڈر کے مرحلے میں ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کا قلمدان بھی سنبھالتے ہیں، نے جاری خزاں اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں رکن اسمبلی مبارک گل کے سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ابھی تک کسی ایجنسی یا ٹھیکیدار کو یہ پروجیکٹ الاٹ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ فی الحال ٹینڈر کے عمل سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پروجیکٹ میں روزانہ 800 ٹن کچرے کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہوگی اور اس کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں تعمیراتی کام کے لیے 24 ماہ شامل ہیں۔
مجوزہ مربوط پروجیکٹ میں کمپوسٹنگ سہولیات، بایو-سی بی جی پلانٹ، میٹریل ریکوری فیسیلٹیز (ایم آر ایف)، ریفیوز ڈیریوڈ فیول (آر ڈی ایف) سہولت، سائنسی سینیٹری لینڈ فل، ٹرانسفر اسٹیشنز، لیچیٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر اور دیگر ماحولیاتی بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔
دریں اثنا، ایوان کو بتایا گیا کہ نئے مربوط پروجیکٹ کے شروع ہونے تک سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی جانب سے اچن میں میونسپل کچرے کے سائنسی انتظام، ماحولیات کے تحفظ اور پرانے جمع شدہ کچرے کی صفائی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یواین آئی۔ طا۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں اسکارپیو کھائی میں جا گری، پانچ افراد ہلاک، سات زخمی
سری نگر، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ٹنگڈھر علاقے میں پیر کو ایک اسکارپیو گاڑی سڑک سے پھسل کر دریا میں جا گری، جس کے نتیجے میں نو ماہ کے شیر خوار بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ حادثہ لائن آف کنٹرول کے قریب اس وقت پیش آیا جب اسکارپیو گاڑی ٹیٹوال سے سمیری کی جانب جارہی تھی۔ راستے میں گاڑی سڑک سے پھسل گئی اور نیچے جا کر کشن گنگا دریا میں جا گری۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد ادریس (30)، حمزہ (نو ماہ)، سعیدہ بیگم (28)، شبیر احمد (50)، سمیری کے تمام رہائشی، اور ٹیٹوال کے رہائشی راجہ ارشد (30) کے طور پر ہوئی ہے۔
حادثے میں ڈرائیور سمیت چھ دیگر مسافر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال (ایس ڈی ایچ) ٹنگڈھر منتقل کیا گیا، جہاں سے پانچ زخمیوں کو مزید بہتر علاج کے لیے اعلیٰ طبی مرکز منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔
پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 281 اور 125(a) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ حادثے میں لوگوں کی جان جانے سے ’’شدید رنجیدہ‘‘ ہیں اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور ضلعی انتظامیہ کو انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے کرناہ-ٹنگڈھر علاقے میں پیش آنے والا ایک المناک واقعہ قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحومین کی روح کے سکون اور غم زدہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی قوت عطا ہونے کے لیے دعا کی۔
عمر عبداللہ نے ضلعی انتظامیہ اور طبی حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے حکام سے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو بھی کہا۔
جیل میں قید رکن پارلیمنٹ اور عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے رہنما انجینئر رشید نے بھی اس المناک سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
پارٹی کے ترجمان انعام النبی نے حکام سے اپیل کی کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو ہر ضروری مدد فراہم کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حادثے کے بعد کسی بھی متاثرہ خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان5 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ جنرل موہت سیٹھ جموں میں وائٹ نائٹ کور کے نئے جی او سی ہوں گے
