تازہ ترین
کیا انڈین پیاز اور ٹماٹر ہی پاکستان میں سیلاب کے بعد قیمتیں کم کرنے کا واحد حل ہے؟
پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے ہونے والے نقصان میں زراعت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں کپاس اور چاول کی فصل کو پہنچنے والے نقصانات کے ساتھ پھل و سبزیوں کے کاشت کے علاقے زیرِ آب آنے سے ان کی پیداوار شدید متاثر ہوئی ہے۔
پاکستان کے چاروں صوبوں میں سیلاب کے بعد ایک جانب مختلف فصلوں کو نقصان پہنچا تو اس کے ساتھ سیلاب کی وجہ سے راستوں کی بندش کے باعث سبزیوں اور پھلوں کی سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تمام سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم سب سے زیادہ اضافہ پیاز اور ٹماٹر کی قیمت میں دیکھا گیا جن کہ قیمتیں دو سو سے چار سو فیصد تک بڑھی ہیں۔ پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک میں پھلوں اور سبزیوں کے درآمد کنندگان اور تاجروں کی جانب سے انڈیا سے ان کی درآمد کی تجویز سامنے آئی ہے۔
اس سلسلے میں تاجروں کی نمائندہ تنظیم نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ دو مہینے کے لیے انڈیا سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کی اجازت دی جائے تاکہ اس کی رسد کو بڑھا کر قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔
انڈیا سے ٹماٹر و پیاز کی درآمد کی تجویز کیوں دی گئی؟
ہمسایہ ملک سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کی تجویز وفاقی وزارت تجارت کے اجلاس میں دی گئی جس میں حالیہ بارشوں سے سبزیوں کی پیداوار متاثر ہونے اور مارکیٹ میں قلت کی صورتحال پر غور کیا گیا تھا۔
پاکستان میں جاری سیلابی صورتحال سے آپ کیسے متاثر ہو رہے ہیں، ہمیں بتانے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
اجلاس میں پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل امپورٹرز ایکسپورٹرز مرچنٹس ایسوسی ایشن نے مارکیٹ میں استحکام کے لیے فوری طور پر پیاز اور ٹماٹر کی درآمد پر تین ماہ کی مدت کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی چھوٹ کے علاوہ انڈیا سے بھی ان دونوں سبزیوں کی درآمد کی اجازت کی تجویز دی۔
ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف وحید احمد کا کہنا ہے کہ ’سیلاب سے سندھ میں پیاز کی 80 فیصد سے زائد فصل برباد ہو گئی جبکہ ٹماٹر کی فصل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی پیاز کے سیزن کے دوران طوفانی بارش اور سیلاب سے فصل تباہ ہوئی ہے۔‘
پاکستان میں سیلاب سے سندھ میں سبزیوں کی پیداوار دینے والا بہت بڑا علاقہ زیرِ آب آیا ہوا ہے
انھوں نے کہا ملک میں پیاز اور ٹماٹر کی طلب پوری کرنے کے لیے یہ سبزیاں انڈیا سے بھی درآمد کرنا ہوں گی۔
انھوں نے کہا آلو کی فصل تیار ہو کر پہلے ہی گوداموں میں پہنچ چکی ہے اس لیے اس کی درآمد کی ضرورت نہیں جبکہ دوسری سبزیاں جیسے کہ بینگن، توری ، بھنڈی وغیرہ کی درآمد کی ضرورت اس لیے نہیں کیونکہ ایک تو ان کے خراب ہونے کا خطرہ ہے دوسری جانب پاکستان میں ان کی پیداوار متاثر ہوئی ہے لیکن ختم نہیں ہوئی جبکہ اس کے برعکس پیاز اور ٹماٹر کی پوری فصل ہی متاثر ہوئی ہے۔
وحید احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دیگر ملکوں سے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد کے لیے منگل سے سودے طے کرنا شروع کر دیے جائیں گے تاہم انڈیا سے درآمد کی اجازت ابھی نہیں ملی۔
پاکستان میں تجارت کے لیے وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل کا کہنا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق ابھی تک کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہوا اور وہی فیصلہ کیا جائے گا جو ملک کے فائدے میں ہو گا۔‘
وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو نے بھی منگل کو سیلاب زدگان کے لیے حکومتِ پاکستان اور اقوامِ متحدہ کی ہنگامی اپیل کے اجرا کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال انڈیا سے تجارت کی بحالی پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو ایک ٹویٹ میں پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر دکھ کا اظہار کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی پاکستان میں جلد ہی حالات معمول پر آ جائیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق وزیر اعظم مودی کے اظہار ہمدردی کے بعد انڈیا میں بعض حلقوں میں یہ بات ہو رہی ہے کہ کیا انڈیا کو ان مشکل حالات میں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔
معروف انڈین تجزیہ کار نروپما سبرا منین نے ٹوئٹر پر اس بارے میں لکھا کہ 2010 میں پاکستان میں سیلاب کے دوران انڈیا نے اقوام متحدہ کے پاکستان ایمرجنسی فنڈ میں دو کروڑ ڈالر اور عالمی فوڈ پروگرام کے ذریعے بھی پچاس لاکھ ڈالر دیے تھے تو کیا انڈیا اس بار بھی مشکل کی گھڑی میں پاکستان کی مدد کے لیے آگے آئے گا؟
خیال رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت کا سلسلہ اگست 2019 سے بند ہے جب پاکستان نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی پر ردعمل دیتے ہوئے انڈیا سے تجارت پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی جو تاحال برقرار ہے۔
کیا درآمدی ٹماٹر و پیاز سے قیمتیں کم ہو سکتی ہیں؟
پاکستان میں ٹماٹر و پیاز کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سیلاب کی وجہ سے ان کی متاثر ہونے والی پیداوار ہے جس کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں پیاز کی ماہانہ کھپت 150000 ٹن اور ٹماٹر کہ ماہانہ کھپت 50000 ٹن ہے جبکہ سیلاب کے بعد ہول سیل مارکیٹ میں پیاز کی قیمت میں 100 سے 150روپے اور ٹماٹر کی قیمت میں 200 سے 250 روپے کا اضافہ دیکھا گیا
وحید احمد کا کہنا ہے کہ اگر درآمدی پیاز اور ٹماٹر نہیں آیا تو ان قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ انھوں نے کہا پنجاب اور سندھ میں ٹماٹر اور پیاز کی فصل نقصان ہوا اور اگر محدود مدت کے لیے انڈیا سے درآمد کھول دی جائے تو اس کا فائدہ قیمت میں کمی کی صورت میں ہو گا۔
انھوں نے بتایا کہ انڈیا سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق اس وقت وہاں ٹماٹر و پیاز کی پیداوار اضافہ ہے اور ایک کلو ٹماٹر 15 روپے میں دستیاب پے جو درآمد اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کے بعد بھی پاکستان میں بہت سستا ملے گا۔
پھلوں و سبزیوں کے تاجر سلیمان خواجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا سے درآمد کے بعد ٹماٹر اور پیاز کی قیمت میں زیادہ بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ ایران سے پیاز آنے کے بعد قیمت میں کچھ کمی آئی ہے اور اگر انڈیا سے بھی پیاز اور ٹماٹر آتے ہیں تو قیمت مزید کم ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں ٹماٹر و پیاز کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سیلاب کی وجہ سے ان کی متاثر ہونے والی پیداوار ہے
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں سیلاب کا پانی اترنے کے 50 سے 90 دن کے بعد زمین خشک ہوتی ہے اور پھر قابل کاشت بن سکتی ہے۔ اس وقت تک ٹماٹر و پیاز کی فصل کی بوائی نہیں ہو سکتی اور اس دوران صارفین کو قیمت میں کمی کا فائدہ صرف سبزیوں کی درآمد سے ہی مل سکتا ہے۔
اس صورتحال میں ایک سوال یہ بھی گردش کر رہا کہ کیا سبزیوں کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی وجہ کیا صرف رسد میں کمی ہے یا اس میں ذخیرہ اندوزی کا بھی عمل دخل ہے۔
اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کراچی سبزی منڈی میں ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین زاہد اعوان کا کہنا تھا کہ سبزی اور پھل کی قیمت میں بڑے اضافے کی اصل وجہ تو سیلاب کی وجہ سے فصلوں کی تباہی ہی ہے کیونکہ جن علاقوں میں سبزیاں اور فصلیں بچ بھی گئیں وہاں سے ان کی ترسیل میں اس وقت بڑی مشکلات حائل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس صورتحال میں ریٹیلرز کی جانب سے بھی ناجائز منافع کمایا جا رہا ہے تاہم بلیک مارکیٹ کا کام سبزی اور فروٹ میں بہت کم ہو سکتا ہے کیونکہ سوائے آلو اور سیب کے کسی سبزی اور پھل کو زیادہ عرصہ گوداموں میں نہیں رکھا جا سکتا۔
( BBC)
دنیا
معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔
ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوران ایران پر تین حملوں کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کوشش جاری رکھے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق کاروباری شخصیات سے ملاقات میں پیزشکیان نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے، اگرچہ امریکہ نے ہمارے ملک کو تین بار نشانہ بنایا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری شعبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے اور ایرانی قیادت معاشی مشکلات سے نمٹنے کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کررہی ہے۔
پیزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے پیش نظر ایران پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت پڑوسی ممالک کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں جاری رکاوٹوں پر عالمی سطح پر توانائی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل اور آبنائے ہرمز ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریرا دا سلوا نے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ بحران عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کو متاثر کررہا ہے، جبکہ خلیج سے کھاد کی درآمد پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک خاص طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے سوڈان، صومالیہ، موزمبیق اور تنزانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی کھاد کی 50 سے 60 فیصد ضروریات خلیجی خطے سے پوری ہوتی ہیں۔
دا سلوا کے مطابق بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور اس کے استعمال میں کمی آئی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے اور غذائی عدم تحفظ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے۔ اس کے تحت شپنگ ایجنٹس کھاد کی ترسیل کے لیے درخواستیں رجسٹر کریں گے اور منظوری کے بعد اقوام متحدہ متعلقہ فریقوں اور ریاستوں کے ساتھ رابطہ کرکے بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
ہندوستان
ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام میں زیادہ سے زیادہ انضمام، ڈیجیٹل کاری اور شفافیت پر زور دیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے جمعرات کے روز یہاں ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی 279ویں سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے مالیاتی نظام کو زیادہ سے زیادہ مربوط کرنے نیز مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے اعداد و شمار کو حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے کہا کہ روایت سے ہٹ کر بجٹ کا ‘سالانہ جائزہ’ لینے کے بجائے کسی بھی وقت جائزہ لینے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کو ملک کی دفاعی تیاریوں کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس کے تقریباً تین صدیوں کے تعاون کی ستائش کی۔
وزیرِ دفاع نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے ڈیجیٹل نیز مربوط اکاؤنٹنگ اور ادائیگی کے نظام ‘سکشم’ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنے سے بجٹ، منظوری اور بلوں سے متعلق معلومات کا ڈیجیٹل تبادلہ ممکن ہوا ہے اور بلوں کا عمل مکمل طور پر بغیر کاغذ ہو گیا ہے۔
انہوں نے سال 26-2025 میں بجٹ کے 100 فیصد اخراجات پر شعبے اور تینوں افواج کی مشترکہ کوششوں کی ستائش کی۔ پنشن سے متعلق شکایتوں کے ازالے کے لیے بات چیت پر مبنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نظام تیار کرنے کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے شکایتوں اور عدالتی معاملات کے جلد تصفیے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع میں زندگی وقف کرنے والوں کے جائز بقایا جات اور سروس حقوق کے معاملات میں نظام مضبوط، غیر جانبدار، حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے مکمل طور پر خودکار محصولات کی خریداری کے نظام ‘سمپورن’ کو جلد نافذ کرنے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر انہوں نے دفاعی مالیاتی معلومات کے نظاموں کے انضمام، دفاعی اخراجات کی نگرانی اور وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کے نظام سے جڑی تین اہم پہل قدمیوں کا بھی آغاز کیا۔
ان میں ‘سکشم’ کو ہندوستانی فوج کے مالیاتی معلومات کے نظام سے جوڑنا، وزارتِ دفاع میں فنڈز کے سنگل اکاؤنٹ کا نظام اور دفاع کے لیے نیا قومی کمپائلیشن سسٹم شامل ہیں۔ نئے کمپائلیشن سسٹم سے بجٹ اور اخراجات کی مزید دقیق نگرانی نیز وزارتِ مالیات، وزارتِ دفاع اور متعلقہ حکام کے لیے تفصیلی رپورٹنگ میں مدد ملے گی۔
تقریب میں ڈیفنس منسٹرز ایکسیلنس ایوارڈز-2026) بھی دیے گئے۔ یہ ایوارڈز دفاعی مالیاتی انتظام میں سدھار، جدت، اہلیت اور شفافیت کے لیے دیے گئے۔ انہوں نے ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کی تین مطبوعات کا بھی اجراکیا۔ ان میں دفاعی اخراجات پر جامع اعداد و شمار کے کتابچہ-2026، رکشا لیکھا بھارتی اور مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ 25-2026 شامل ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا7 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا7 days agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
ہندوستان1 week agoترقی پذیر ممالک کو فیصلہ ساز اداروں میں جگہ دی جانی چاہیے: جے شنکر
