کھیل
کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں انصاف ملنے کی امید ہے؟
کراچی — پہلے نیوزی لینڈ اور اب انگلینڈ، ورلڈ کپ 2019 کے فائنل میں شرکت کرنے والی دونوں ٹیموں نے پاکستان آنے سے معذرت کر لی۔ انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے تو دورے سے تقریباً ایک ماہ قبل خطے کی صورتِ حال اور کھلاڑیوں کی ذہنی تھکاوٹ کو وجہ بنا کر پی سی بی کو پیشگی اطلاع دی، لیکن نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے پہلا ون ڈے میچ شروع ہونے سے محض چند گھنٹے قبل دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیموں کے دورۂ پاکستان کی منسوخی پر جہاں پاکستانی شائقین کرکٹ مایوس ہیں وہیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی یہ معاملہ آئی سی سی میں اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹام لیتھم کی قیادت میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان آئی، یہاں سخت سیکیورٹی میں انہوں نے پریکٹس کی اور میچ سے ایک دن پہلے بھی ان کے کھلاڑی اور حکام ہر طرف سے مطمئن تھے کہ اچانک میچ سے قبل کیوی ٹیم نے اسٹیڈیم جانے کے بجائے وطن واپس جانے کو ترجیح دی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نو منتخب چیئرمین اور سابق کپتان رمیز راجا نے جہاں نیوزی لینڈ کے اس فیصلے کو پاکستان کرکٹ کے لیے دھچکہ قرار دیا وہیں اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اس معاملے کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں اٹھائیں گے۔
Crazy day it has been! Feel so sorry for the fans and our players. Walking out of the tour by taking a unilateral approach on a security threat is very frustrating. Especially when it’s not shared!! Which world is NZ living in??NZ will hear us at ICC.
— Ramiz Raja (@iramizraja) September 17, 2021
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کا دورہ ختم ہونا افسوسناک تھا جس کے بعد انگلینڈ سے اسی قسم کے فیصلے کی توقع تھی، کیوں کہ ان حالات میں ویسٹرن بلاک ایک ہو جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیوزی لینڈ کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف پاکستان نے خط و کتابت شروع کر دی ہے اور اس دورے میں ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ چاہے گا۔
رمیز راجا کے آئی سی سی میں معاملہ اُٹھانے کے اعلان کے باوجود ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی سے کم ہی ریلیف ملا ہے۔
‘ماضی میں آئی سی سی میں ہمیشہ پاکستان ہی کی وکٹ گری’
یہ پہلا موقع نہیں ہو گا جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ثالثی کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے رجوع کیا ہو، اس سے قبل سن 2006 میں اوول کے مقام پر ہونے والے نامکمل ٹیسٹ میچ کے نتیجے کو پہلے ڈرا اور بعد میں انگلینڈ کی جیت میں بدلا گیا تو پاکستان کے مؤقف کو کسی نے تسلیم نہیں کیا۔
میچ کے دوران جب آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی بالرز پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا کر مخالف ٹیم کو پانچ اضافی رنز دیے تو اس وقت ان کے پاس بال ٹیمپرنگ کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ اس وقت پاکستانی کپتان انضمام الحق نے احتجاجاً ٹیم کو وقفے کے بعد میدان میں اُتارنے سے انکار کر دیا تھا جس پر امپائرز نے میچ میں انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا تھا۔
تحقیقات کے بعد میچ ریفری رنجن مدوگالے نے پاکستانی کپتان انضمام الحق کو بال ٹیمپرنگ کے الزام سے تو بری کر دیا لیکن کرکٹ کی اسپرٹ کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے ان پر چار میچز کی پابندی لگا دی گئی۔
دو سال بعد آئی سی سی نے اس میچ کے نتیجے کو انگلینڈ کے حق میں کرنے کا فیصلہ واپس لے کر اس میچ کو ڈرا قرار دے دیا تھا۔
تاہم کرکٹ کے قوانین بنانے والے میری لیبون کرکٹ کلب نے اس نتیجے کو انگلینڈ کی فتح میں تبدیل کرنے کی سفارش کی اور آئی سی سی نے ایک ایسے میچ کو جس میں انگلش ٹیم شکست کے دہانے پر تھی میچ انگلینڈ کی جھولی میں ڈال دیا۔
دوسری بار معاملہ تھا سات کروڑ ڈالرز کا جو سن 2018 میں پاکستان کرکٹ بورڈ بھارتی کرکٹ بورڈ سے طلب کر رہا تھا، وہ سیریز نہ کھیلنے کے لیے جس کے لیے دونوں ممالک نے 2014 میں سمجھوتہ کیا تھا۔
معاملہ جب آئی سی سی کی ڈسپیوٹس ریزولوشن کمیٹی (تنازعات کے حل کی کمیٹی) کے پاس پہنچا تو پاکستان کا مؤقف تھا کہ اس کا نقصان ہوا جس کا بھارت ازالہ کرے۔
دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ بضد تھا کہ اس کی حکومت نے پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے وہ کوئی جرمانہ نہیں دے گا۔
پاکستان آئی سی سی میں یہ کیس بھی ہار گیا اور اس کیس پر آنے والے اخراجات کی مد میں اسے بھارتی کرکٹ بورڈ کو کروڑوں روپے ادا کرنا پڑے۔
معاملہ کیس جیتنے یا ہارنے کا نہیں، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا ہے، ہارون رشید
پاکستان کرکٹ بورڈ سے کئی برس منسلک رہنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور سابق کوچ ہارون رشید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں پاکستان کا جانا اچھا قدم تو ہے، لیکن معاملہ اب کیس ہارنے یا جیتنے سے آگے نکل چکا ہے۔
اُن کے بقول “لگتا تو یہی ہے کہ نیوزی لینڈ کا یکطرفہ فیصلہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ کو تنہا کرنے کی ایک سازش ہے، معاملہ اب ہار جیت کا نہیں بلکہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا ہے۔ اگر مہمان ٹیم کو ‘فائیو آئیز’ نے سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا تو ان کا فرض تھا کہ میزبان بورڈ کو بھی اس بات سے آگاہ کرتے، ایسا نہ کرنے سے یہی لگتا ہے کہ ان کے خدشات درست نہیں تھے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی سی بی کو چاہیے کہ جب آئی سی سی کے سامنے اپنا کیس رکھے، تو اس میں یہ بات واضح کرے کہ اُنہیں مالی نقصان ہوا ہے جس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ اس کا فیصلہ ایسا ہونا چاہیے کہ آئندہ کوئی دوسری ٹیم اس طرح کا رویہ دہرانے کی ہمت نہ کرے۔
ہارون رشید کے بقول “اگر پاکستان آئی سی سی سے ثالثی کے لیے رجوع کرتا ہے تو یہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل دونوں کے لیے امتحان ہو گا۔ پاکستان کو اپنا مؤقف بہترین انداز میں پیش کرنا ہو گا اور آئی سی سی کو دنیا کو بتانا ہو گا کہ وہ تمام کرکٹ بورڈز کو برابر سمجھتی ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کے یکطرفہ فیصلے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ان کوششوں کو ضرور دھچکہ لگا ہے جن سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوئی، لیکن اب بورڈ کی کوشش ہونی چاہیے کہ دوسری ٹیموں کو راضی کرے کہ وہ پاکستان آئیں اور دنیا کو بتائے کہ یہ ایک محفوظ ملک ہے اور نیوزی لینڈ کا یکطرفہ فیصلہ غلط تھا۔
بقول ہارون رشید، آئی سی سی کے دوسرے ممبران کو بھی پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے اور ایک ایسی قرارداد منظور کرنی چاہیے جس میں تمام کرکٹ بورڈ کو پابند کیا جائے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوشش ہونی چاہیے کہ دیگر ٹیموں کو پاکستان لائے، نجم سیٹھی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کا بھی یہی کہنا تھا کہ اگر نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈ کے پاس مصدقہ اطلاعات تھیں سیکیورٹی کے حوالے سے تو انہیں چاہیے تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کرتے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کو ملنے والا مبینہ تھریٹ الرٹ اتنا کمزور تھا کہ اب وہ شرمندگی کے مارے خاموش بیٹھے ہیں۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ “نیوزی لینڈ کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف پاکستان نے آئی سی سی میں جانے کا اعلان تو کر دیا، لیکن اس سے بڑا اعلان نیوٹرل وینیو پر نہ کھیلنے کا ہے جو حالات کے مطابق درست فیصلہ ہے۔”
اُن کا کہنا تھا کہ بورڈ کو چاہیے کہ آئی سی سی کے دیگر ممبران کے سامنے اپنا کیس پیش کر کے حمایت حاصل کرے تاکہ وہ نیوزی لینڈ کے فیصلے پر تنقید کریں، اس سے زیادہ آئی سی سی میں کچھ نہیں ہو سکتا۔
نجم سیٹھی سمجھتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کے فیصلے کو بھلا کر اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو دیگر کرکٹ بورڈز سے رابطہ کر کے ان کی ٹیموں کو پاکستان بلانا چاہیے تاکہ ہم دنیا کو یہ بتا سکیں کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے۔
اُن کے بقول اگر آسٹریلیا آئندہ برس پاکستان آ جاتی ہے تو اس سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہو گا۔
نجم سیٹھی نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کچھ نہیں کر سکتا سوائے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو دباؤ میں لانے کے معاملہ دونوں کرکٹ بورڈز کو ہی مل بیٹھ کر حل کرنا ہو گا۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ “نیوزی لینڈ نے جو بھی کیا، اچھا نہیں کیا لیکن اس معاملے کا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے کوئی لینا دینا نہیں، اس معاملے کا حل پاکستان اور نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈز کو آپس میں ہی مل بیٹھ کر ہی نکالنا ہو گا۔”
اُن کے بقول اگر پاکستان نے اگر آئی سی سی کو قائل کر لیا کہ نیوزی لینڈ کا فیصلہ یکطرفہ تھا اور سیکیورٹی خدشات غیر مصدقہ تھے تو یہی پاکستان کی جیت ہو گی کوئی اور ٹیم مستقبل میں اس قسم کے یکطرفہ فیصلے کرنے سے پہلے سوچے۔
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
کھیل
میسی ورلڈ کپ کی تاریخ کے ٹاپ اسکورر بنے
ڈلاس، کلب اور قومی ٹیم کے لیے 750 سے زائد سینئر گول کر چکے ارجنٹینا کے لیونل میسی فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
میسی فیفا ورلڈ کپ میں 28 میچوں میں 17 گول کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوز (24 میچوں میں 16 گول) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ارجنٹینا کے لئے آسٹریا کے خلاف پہلا ہاف تاریخی ثابت ہوا۔ ابتدا میں گھبراہٹ کے باعث لیونل میسی نے ایک پنالٹی مس کی اور ایک اور موقع گنوا دیا، لیکن ارجنٹینا کے کپتان نے شاندار واپسی کرتے ہوئے میروسلاو کلوزکا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گولوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ میسی کے اس یادگار گول کی بدولت موجودہ چیمپئن ارجنٹینا کو ہاف ٹائم تک 1-0 کی برتری دلائی۔
میسی نے الجیریا کے خلاف ارجنٹینا کی گزشتہ ہفتے 3-0 سے جیت میں ہیٹ ٹرک بھی اسکور کی تھی۔
میسی فٹ بال ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کے لیے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ ان میں سے سات گول قطر میں ہوئے 2022 فیفا ورلڈ کپ میں کئے تھے، جسے ارجنٹینا نے جیتا تھا۔
انہوں نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 201 میچوں میں 121 گول کیے ہیں، جس سے وہ ارجنٹینا کے لئے اب تک کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والوں کی فہرست میں بھی میسی دوسرے نمبر پر ہیں، ان سے آگے صرف ان کے حریف کرسٹیانو رونالڈو ہیں۔
میسی سے پہلے، گیبریل بٹسٹوٹا (12 میچوں میں 10 گول) فیفا ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی تھے۔ ڈیاگو میراڈونا (21 میچز) اور یوراگوئے 1930 کے گولڈن بوٹ کے فاتح گیلرمو سٹیبیل (چار میچز) نے آٹھ آٹھ گول کئے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کوالیفائر میں بھی لیونل میسی کا گول کرنے کا ریکارڈ شاندار رہا ہے، انہوں نے 72 میچوں میں 36 گول کئے ہیں۔
لیونل میسی کا پہلا فیفا ورلڈ کپ گول
لیونل میسی نے 2006 میں جرمنی میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران ہیمبرگ کے ورلڈ کپ اسٹیڈیم میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف ارجنٹینا کے گروپ سی کے دوسرے میچ میں اپنا پہلا ورلڈ کپ گول کیا تھا۔ اپنی ٹیم کو گروپ کے پہلے میچ میں آئیوری کوسٹ کے خلاف 2-1 سے جیتتے ہوئے بنچ سے دیکھنے کے بعد، لیونل میسی نے اگلے میچ میں سربیا اور مونٹی نیگرو کے خلاف 75ویں منٹ میں متبادل کے طور پر میدان پر اتر کر اپنا ورلڈ کپ ڈیبیو کیا۔ اس وقت ارجنٹینا پہلے سے ہی 3-0 سے آگے تھا اور اپنے ڈیبیو کے صرف تین منٹ بعد ہی، لیونل میسی نے ہرنان کریسپو کی مدد سے ارجنٹینا کے لئے میچ کا چوتھا گول کیا۔ 88ویں منٹ میں کارلوس تیویز کے پاس پر میسی نے گول کیا اور مخالف ٹیم کے گول کیپر کو نیئر پوسٹ پر چھکاتے ہوئے 6-0 کی بڑی جیت پکی کی۔
جاری یواین آئی۔الف الف
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
