کھیل
کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں انصاف ملنے کی امید ہے؟
کراچی — پہلے نیوزی لینڈ اور اب انگلینڈ، ورلڈ کپ 2019 کے فائنل میں شرکت کرنے والی دونوں ٹیموں نے پاکستان آنے سے معذرت کر لی۔ انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے تو دورے سے تقریباً ایک ماہ قبل خطے کی صورتِ حال اور کھلاڑیوں کی ذہنی تھکاوٹ کو وجہ بنا کر پی سی بی کو پیشگی اطلاع دی، لیکن نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے پہلا ون ڈے میچ شروع ہونے سے محض چند گھنٹے قبل دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیموں کے دورۂ پاکستان کی منسوخی پر جہاں پاکستانی شائقین کرکٹ مایوس ہیں وہیں پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی یہ معاملہ آئی سی سی میں اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹام لیتھم کی قیادت میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان آئی، یہاں سخت سیکیورٹی میں انہوں نے پریکٹس کی اور میچ سے ایک دن پہلے بھی ان کے کھلاڑی اور حکام ہر طرف سے مطمئن تھے کہ اچانک میچ سے قبل کیوی ٹیم نے اسٹیڈیم جانے کے بجائے وطن واپس جانے کو ترجیح دی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نو منتخب چیئرمین اور سابق کپتان رمیز راجا نے جہاں نیوزی لینڈ کے اس فیصلے کو پاکستان کرکٹ کے لیے دھچکہ قرار دیا وہیں اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اس معاملے کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں اٹھائیں گے۔
Crazy day it has been! Feel so sorry for the fans and our players. Walking out of the tour by taking a unilateral approach on a security threat is very frustrating. Especially when it’s not shared!! Which world is NZ living in??NZ will hear us at ICC.
— Ramiz Raja (@iramizraja) September 17, 2021
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کا دورہ ختم ہونا افسوسناک تھا جس کے بعد انگلینڈ سے اسی قسم کے فیصلے کی توقع تھی، کیوں کہ ان حالات میں ویسٹرن بلاک ایک ہو جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیوزی لینڈ کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف پاکستان نے خط و کتابت شروع کر دی ہے اور اس دورے میں ہونے والے مالی نقصان کا ازالہ چاہے گا۔
رمیز راجا کے آئی سی سی میں معاملہ اُٹھانے کے اعلان کے باوجود ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی سے کم ہی ریلیف ملا ہے۔
‘ماضی میں آئی سی سی میں ہمیشہ پاکستان ہی کی وکٹ گری’
یہ پہلا موقع نہیں ہو گا جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ثالثی کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے رجوع کیا ہو، اس سے قبل سن 2006 میں اوول کے مقام پر ہونے والے نامکمل ٹیسٹ میچ کے نتیجے کو پہلے ڈرا اور بعد میں انگلینڈ کی جیت میں بدلا گیا تو پاکستان کے مؤقف کو کسی نے تسلیم نہیں کیا۔
میچ کے دوران جب آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی بالرز پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا کر مخالف ٹیم کو پانچ اضافی رنز دیے تو اس وقت ان کے پاس بال ٹیمپرنگ کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ اس وقت پاکستانی کپتان انضمام الحق نے احتجاجاً ٹیم کو وقفے کے بعد میدان میں اُتارنے سے انکار کر دیا تھا جس پر امپائرز نے میچ میں انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا تھا۔
تحقیقات کے بعد میچ ریفری رنجن مدوگالے نے پاکستانی کپتان انضمام الحق کو بال ٹیمپرنگ کے الزام سے تو بری کر دیا لیکن کرکٹ کی اسپرٹ کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے ان پر چار میچز کی پابندی لگا دی گئی۔
دو سال بعد آئی سی سی نے اس میچ کے نتیجے کو انگلینڈ کے حق میں کرنے کا فیصلہ واپس لے کر اس میچ کو ڈرا قرار دے دیا تھا۔
تاہم کرکٹ کے قوانین بنانے والے میری لیبون کرکٹ کلب نے اس نتیجے کو انگلینڈ کی فتح میں تبدیل کرنے کی سفارش کی اور آئی سی سی نے ایک ایسے میچ کو جس میں انگلش ٹیم شکست کے دہانے پر تھی میچ انگلینڈ کی جھولی میں ڈال دیا۔
دوسری بار معاملہ تھا سات کروڑ ڈالرز کا جو سن 2018 میں پاکستان کرکٹ بورڈ بھارتی کرکٹ بورڈ سے طلب کر رہا تھا، وہ سیریز نہ کھیلنے کے لیے جس کے لیے دونوں ممالک نے 2014 میں سمجھوتہ کیا تھا۔
معاملہ جب آئی سی سی کی ڈسپیوٹس ریزولوشن کمیٹی (تنازعات کے حل کی کمیٹی) کے پاس پہنچا تو پاکستان کا مؤقف تھا کہ اس کا نقصان ہوا جس کا بھارت ازالہ کرے۔
دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ بضد تھا کہ اس کی حکومت نے پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے وہ کوئی جرمانہ نہیں دے گا۔
پاکستان آئی سی سی میں یہ کیس بھی ہار گیا اور اس کیس پر آنے والے اخراجات کی مد میں اسے بھارتی کرکٹ بورڈ کو کروڑوں روپے ادا کرنا پڑے۔
معاملہ کیس جیتنے یا ہارنے کا نہیں، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا ہے، ہارون رشید
پاکستان کرکٹ بورڈ سے کئی برس منسلک رہنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور سابق کوچ ہارون رشید نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں پاکستان کا جانا اچھا قدم تو ہے، لیکن معاملہ اب کیس ہارنے یا جیتنے سے آگے نکل چکا ہے۔
اُن کے بقول “لگتا تو یہی ہے کہ نیوزی لینڈ کا یکطرفہ فیصلہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کرکٹ کو تنہا کرنے کی ایک سازش ہے، معاملہ اب ہار جیت کا نہیں بلکہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا ہے۔ اگر مہمان ٹیم کو ‘فائیو آئیز’ نے سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا تو ان کا فرض تھا کہ میزبان بورڈ کو بھی اس بات سے آگاہ کرتے، ایسا نہ کرنے سے یہی لگتا ہے کہ ان کے خدشات درست نہیں تھے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی سی بی کو چاہیے کہ جب آئی سی سی کے سامنے اپنا کیس رکھے، تو اس میں یہ بات واضح کرے کہ اُنہیں مالی نقصان ہوا ہے جس کا ازالہ ہونا چاہیے۔ اس کا فیصلہ ایسا ہونا چاہیے کہ آئندہ کوئی دوسری ٹیم اس طرح کا رویہ دہرانے کی ہمت نہ کرے۔
ہارون رشید کے بقول “اگر پاکستان آئی سی سی سے ثالثی کے لیے رجوع کرتا ہے تو یہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل دونوں کے لیے امتحان ہو گا۔ پاکستان کو اپنا مؤقف بہترین انداز میں پیش کرنا ہو گا اور آئی سی سی کو دنیا کو بتانا ہو گا کہ وہ تمام کرکٹ بورڈز کو برابر سمجھتی ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کے یکطرفہ فیصلے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ان کوششوں کو ضرور دھچکہ لگا ہے جن سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوئی، لیکن اب بورڈ کی کوشش ہونی چاہیے کہ دوسری ٹیموں کو راضی کرے کہ وہ پاکستان آئیں اور دنیا کو بتائے کہ یہ ایک محفوظ ملک ہے اور نیوزی لینڈ کا یکطرفہ فیصلہ غلط تھا۔
بقول ہارون رشید، آئی سی سی کے دوسرے ممبران کو بھی پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے اور ایک ایسی قرارداد منظور کرنی چاہیے جس میں تمام کرکٹ بورڈ کو پابند کیا جائے کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوشش ہونی چاہیے کہ دیگر ٹیموں کو پاکستان لائے، نجم سیٹھی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کا بھی یہی کہنا تھا کہ اگر نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈ کے پاس مصدقہ اطلاعات تھیں سیکیورٹی کے حوالے سے تو انہیں چاہیے تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کرتے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کو ملنے والا مبینہ تھریٹ الرٹ اتنا کمزور تھا کہ اب وہ شرمندگی کے مارے خاموش بیٹھے ہیں۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ “نیوزی لینڈ کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف پاکستان نے آئی سی سی میں جانے کا اعلان تو کر دیا، لیکن اس سے بڑا اعلان نیوٹرل وینیو پر نہ کھیلنے کا ہے جو حالات کے مطابق درست فیصلہ ہے۔”
اُن کا کہنا تھا کہ بورڈ کو چاہیے کہ آئی سی سی کے دیگر ممبران کے سامنے اپنا کیس پیش کر کے حمایت حاصل کرے تاکہ وہ نیوزی لینڈ کے فیصلے پر تنقید کریں، اس سے زیادہ آئی سی سی میں کچھ نہیں ہو سکتا۔
نجم سیٹھی سمجھتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کے فیصلے کو بھلا کر اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو دیگر کرکٹ بورڈز سے رابطہ کر کے ان کی ٹیموں کو پاکستان بلانا چاہیے تاکہ ہم دنیا کو یہ بتا سکیں کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے۔
اُن کے بقول اگر آسٹریلیا آئندہ برس پاکستان آ جاتی ہے تو اس سے پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہو گا۔
نجم سیٹھی نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کچھ نہیں کر سکتا سوائے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کو دباؤ میں لانے کے معاملہ دونوں کرکٹ بورڈز کو ہی مل بیٹھ کر حل کرنا ہو گا۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ “نیوزی لینڈ نے جو بھی کیا، اچھا نہیں کیا لیکن اس معاملے کا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے کوئی لینا دینا نہیں، اس معاملے کا حل پاکستان اور نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈز کو آپس میں ہی مل بیٹھ کر ہی نکالنا ہو گا۔”
اُن کے بقول اگر پاکستان نے اگر آئی سی سی کو قائل کر لیا کہ نیوزی لینڈ کا فیصلہ یکطرفہ تھا اور سیکیورٹی خدشات غیر مصدقہ تھے تو یہی پاکستان کی جیت ہو گی کوئی اور ٹیم مستقبل میں اس قسم کے یکطرفہ فیصلے کرنے سے پہلے سوچے۔
کھیل
پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
نشین، (جاپان) ابھیشیک شرما (61)، تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) اور شیوم دوبے (27 رن/2 وکٹ) کی شاندار کارکردگی کی بدولت ہندوستان نے ہفتہ کو ایشیائی کھیل 2026 کی کرکٹ مقابلے کے فائنل میں روایتی حریف پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کر لیا۔
212 رن کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستان کی ٹیم کے لیے کپتان صاحبزادہ فرحان اور ماجد صاداقت کی افتتاحی جوڑی نے پہلی وکٹ کے لیے 33 رن جوڑے۔ چوتھے اوور میں واشنگٹن سندر نے صاحبزادہ فرحان (10) کو آؤٹ کرکے ہندوستان کو پہلی کامیابی دلائی۔ اگلے ہی اوور میں اکشر پٹیل نے عثمان خان (3) کو آؤٹ کردیا۔ پاکستان کی تیسری وکٹ ساتویں اوور میں ماجد صاداقت (23) کے طور پر گری۔ اس کے بعد حسن نواز اور صائم ایوب کی جوڑی نے پاکستان کی اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 87 رن جوڑ کر پاکستان کی میچ میں واپسی کرائی۔ 15ویں اوور میں شیوم دوبے نے صائم ایوب (29) کو آؤٹ کرکے اس شراکت داری کا خاتمہ کیا۔ 18ویں اوور میں واشنگٹن سندر نے عبدالصمد (9) کو آؤٹ کرکے پاکستان کو پانچواں جھٹکا دیا۔ اس دوران حسن نواز نے ایک سرا سنبھالے رکھتے ہوئے تیزی سے رن بنائے۔
شیوم دوبے نے انہیں میچ کی آخری گیند پر وکٹ کیپر سنجو سیمسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا۔ انہوں نے 51 گیندوں میں 5 چوکے اور 7 چھکوں کی مدد سے 96 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی ٹیم مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 192 رن ہی بنا سکی اور مقابلہ 19 رن سے ہار گئی۔ہندوستان کی جانب سے شیوم دوبے، واشنگٹن سندر اور اکشر پٹیل نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے پہلے آج یہاں ابھیشیک شرما (61) اور تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) کی جارحانہ نصف سنچری اننگز کی بدولت ہندوستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 212 رن کا ہدف دیا تھا۔ ہندوستانی کپتان شریئس ایئر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلے بازی کے لیے اتری ہندوستانی ٹیم کو تیسرے اوور کی پہلی گیند پر وائبھو سوریہ ونشی (15) کے طور پر پہلا جھٹکا لگا۔ اگلے ہی اوور میں سنجو سیمسن (2) رن بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد کپتان شریئس ایئر نے ابھیشیک شرما کے ساتھ اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 42 رن کی شراکت داری ہوئی۔ آٹھویں اوور میں عرفات منہاس نے ابھیشیک شرما کو اسٹمپ آؤٹ کرکے اس شراکت داری کو توڑا۔ ابھیشیک نے 28 گیندوں میں 3 چوکے اور 7 چھکے لگاتے ہوئے 61 رن کی اننگز کھیلی۔
13ویں اوور میں ایشان کشن (20) رن اور اگلے اوور میں شریئس ایئر (21) رن بناکر آؤٹ ہوئے۔ شیوم دوبے نے 15 گیندوں میں 2 چوکے اور 2 چھکوں کی مدد سے 27 رن بنائے۔ ہندوستان نے مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 211 رن کا چیلنجنگ اسکور کھڑا کیا۔ تلک ورما نے 22 گیندوں میں 3 چوکے اور 4 چھکے لگاتے ہوئے ناٹ آؤٹ 51 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔ صائم ایوب اور ابرار احمد نے ایک ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
ڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
سری نگر، موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن جموں و کشمیر نے سری نگر میں ایرانی کپ کے دوسرے دن زبردست حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مشکل حالات سے نکل کر ’ریسٹ آف انڈیا‘ کے خلاف پہلی اننگز میں 41 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
صبح 37 رنز پر چار وکٹ اور لنچ کے بعد 166 رنز پر آٹھ وکٹ کے مشکل مرحلے سے گزرنے والی موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن ٹیم کو تجربہ کار پارس ڈوگرا (75 رنز) اور نمبر 10 پر کھیلنے والے لون ناصر مظفر (58 گیندوں پر جارحانہ 64 رنز) نے سنبھالا اور ٹیم کو 278 رنز تک پہنچا دیا۔
’ریسٹ آف انڈیا‘ کی ٹیم پہلے دن 237 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ جموں و کشمیر کی برتری حاصل کرنے کی امیدوں کو اس وقت ابتدائی دھچکا لگا جب مکیش چودھری نے اوور نائٹ بلے باز شبھم کھجوریہ اور کامران اقبال کو پہلے ہی پانچ اووروں میں آؤٹ کر دیا۔
اس کے بعد ڈوگرا اور عبدالصمد نے 97 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا اور لنچ تک جموں و کشمیر کا اسکور 134 رنز پر چار وکٹ تک پہنچا دیا۔ صمد (57 رنز) اس جوڑی میں زیادہ جارحانہ رہے اور وقفے سے عین قبل انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 12ویں نصف سنچری مکمل کی۔
تاہم لنچ کے بعد ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے واپسی کرتے ہوئے صمد کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد کنہیا ودھاون، عابد مشتاق اور ساحل لوٹرا بھی 11 اوور کے دوران آؤٹ ہوگئے۔ 166 رنز پر آٹھ وکٹ گرنے کے بعد بھی جموں و کشمیر 71 رنز پیچھے تھی۔
اس کے بعد ڈوگرا اور مظفر نے نویں وکٹ کے لیے 64 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کا رخ بدل دیا۔
ڈوگرا 75 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جس کے ساتھ ہی چودھری نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ حاصل کی، لیکن مظفر نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور آخری وکٹ کے لیے سنیل کمار کے ساتھ 48 رنز جوڑ کر جموں و کشمیر کو برتری دلا دی۔ مظفر بالآخر 64 رنز پر آؤٹ ہوئے اور جموں و کشمیر کی پوری ٹیم 278 رنز پر سمٹ گئی۔ چودھری نے 78 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کیے، جبکہ آکاش دیپ نے 43 رنز دے کر تین وکٹ لیے۔
جواب میں ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے اسٹمپس تک ایک وکٹ پر 24 رنز بنا لیے تھے اور وہ اب بھی 17 رنز پیچھے تھی۔ سودیپ گھرامی اور سَنَت سانگوان ناٹ آؤٹ تھے، جبکہ سست اوور ریٹ کے باعث 15 اوورز کا کھیل نہیں ہو سکا۔
مختصر اسکور:
ریسٹ آف انڈیا: 237 اور 1/24 (سنیل کمار 1/9)، جموں و کشمیر: 278 (پارس ڈوگرا 75، لون ناصر مظفر 64، عبدالصمد 57؛ مکیش چودھری 5/78، آکاش دیپ 3/43) — 17 رنز پیچھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
رضوان کو این سی سی آئی اے کا پراسس فالو کرنا چاہیے: یونس خان
کراچی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ وہ بطور کرکٹر محمد رضوان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم رضوان سے متعلق جاری معاملے پر بات کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق یونس خان نے ایک پروگرام میں کہا کہ کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے بڑے نہیں ہوسکتے اور اس معاملے میں محتاط انداز میں گفتگو کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ایک معتبر ادارہ ہے اور محمد رضوان کو متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ہم کسی کے وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کیس سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔”
یونس خان نے کہا کہ محمد رضوان سے متعلق معاملہ ایک سرکاری دورے کے دوران پیش آیا ہے، اس لیے کیس کا نتیجہ سامنے آنے تک اس پر گفتگو میں احتیاط ضروری ہے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ ماضی میں انہیں بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے معاملات تقریباً چار ماہ تک جاری رہے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق این سی سی آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
-
دنیا5 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
دنیا5 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
ہندوستان1 week agoترون تیجپال نے 10 سال کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ سے روجوع کیا؛ گوا کو نوٹس جاری
