تازہ ترین
گاندربل ضلع میں کورونا وائرس کی وجہ سے پہلی ہلاکت۔ جموں وکشمیر میں کل اموات 125
عرفان رینہ
سرینگر/ مرکزی انتظام والے علاقہ جموں وکشمیر میں ناول کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 125 ہوگئی ہے کیونکہ ہفتے کے روز مزید 4 مریضوں کی موت ہوگئی۔حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے چار مریضوں میں ہندواڑہ کا 65 سالہ شخص ، دیلگام کا 75 سالہ شخص ، ٹنگمرگ بارہمولہ کا 55 سالہ شخص اور آلسٹینگ گاندربل کا 65 سالہ شخص شامل ہیں۔
میڈیکل سپرانٹنڈنٹ جے وی سی ہسپتال ڈاکٹر شفاء دیوا نے کہا کہچوگل ہندواڑہ کا ایک 65 سالہ مرد جسے گذشتہ رات صورہ میڈیکل انسٹچوٹ سے منتقل کیا گیا تھا آج صبح جے وی سی میں فوت ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک مریض دوطرفہ نمونیا ، ذیابیطس ، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں میں مبتلا تھا۔
ادھر میڈیکل سپرانٹنڈنٹ صورہ میڈیکل انسٹچوٹ ڈاکٹر فاروق جان نے کہا کہ دیالگام اننت ناگ کا ایک 75 سالہ شخص آج فوت ہوگیا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مریض کو یکم جولائی کو وارڈ 2 اے میں داخل کرایا گیا تھا اور اسے مثبت جانچ پڑتال کے بعد متعدی بیماری کے بلاک میں منتقل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مریض دو طرفہ نمونیا میں مبتلا تھا اور سانس کی ناکامی کی وجہ سے صبح 7 بجکر 15 منٹ پر اس کی موت واقع ہوگئی۔
دریں اثناء وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں کورونا وائرس سے ضلع میں پہلی موت واقع ہوگئی۔ آلسٹینگ گاندربل کا ایک 65 سالہ شخص سنیچر کو صورہ ہسپتال میں فوت ہوگیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق29 جون 2020 کو مریض کو وارڈ 2A میں داخل کرایا گیا تھا اور اس کا COVID ٹیسٹ مثبت آگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں مزکورہ مریض کو انسیفیلوپیتھی اور یوروسیپس کے ساتھ ٹائپ 1 سانس لینے میں ناکامی کے ساتھ بنیادی ڈیمینیا کے معاملے میں متعدی بیماری بلاک میں منتقل کردیا گیا تھا اور آج صبح اسکی موت واقع ہوگئی۔
ایس ایم ایچ ایس کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ ماگم ٹنگمرگ کا ایک 55 سالہ شخص جو کہ اپینڈیکیولر لمپ اور دو طرفہ نمونیہ میں مبتلا تھا اور اس کے بعد کوویڈ 19 میں مثبت پایا گیا تھا ہفتہ کی شام ایس ایم ایچ ایس میں فوت ہوگیا۔ اس طرح تازہ ترین چار اموات کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 125 ہوگئی ہے جن میں کشمیر کے 111 اور جموں ڈویژن کے 14 شامل ہیں۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
