تازہ ترین
ہاپت نار بڈگام جھڑپ : ایک عسکریت پسند جاںبحق ، جھڑپ جاری ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
وادی کشمیر میں آپریشن آل آؤٹ کو جاری رکھتے ہوئے فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے وسطی ضلع بڈگام کے ہاپت نار علاقے کو علی الصبح مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد محاصرے میں لیا جس کے بعد یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک کسی بھی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ڈی آئی جی وسطی کشمیر وی کے بھردی کا کہنا تھا کہ علاقے پہاڑی ہونے اور یہاں بھاری برف جمع ہونے کے نتیجے میں جنگجوؤں کی ہلاکتوں سے متعلق کچھ بھی کہا نہیں جاسکتا۔ ادھر جھڑپ شروع ہوتے ہی انتظامیہ نے ضلع بڈگام میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا۔ادھر پلوامہ میں جھڑپ میں مقامی نوجوانوں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کے خلاف احتجاج کیا جس کے بعد پولیس و فورسز نے احتجاجی مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغے۔
فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے آپریشن آل آؤٹ کو جاری رکھتے ہوئے سوموار کی علی الصبح وسطی ضلع بڈگام کے ہاپت نار علاقے کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں موجود جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا باضابطہ آغاز کیا۔ تفصیلات کے مطابق سوموار صبح کو فوج کی 53آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری نے جنگجوؤں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد زنپاچال ہاپت نار نامی علاقے کا سخت محاصرے عمل میں لاتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز اہلکاروں کو رتعینات کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اہلکاروں نے جنگجوؤں کی نقل و حمل کو محدود کرنے اور فرار کے ممکنہ راستوں پر فورسز اہلکاروں اور موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بناتے ہوئے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن کا آغاز کیا۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز کی تلاشی پارٹی نے جونہی مشتبہ مقام کی جانب پیش قدمی شروع کی تو یہاں موجود 2سے 3جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کرتے ہوئے یہاں سے فرار ہونے کے کوشش کی تاہم فورسز اہلکاروں نے جنگجوؤں کی اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے علاقے کے ارد گرد کڑ امحاصرہ عمل میں لایا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ سوموار کی سہ پہر کو طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ تھم گیا جس دوران پہاڑی علاقے میں موجود جنگجوؤں کی کمین گاہ کو فورسز نے بارودی مواد سے زمین بوس کردیا۔
پولیس ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سوموار کو جاری آپریشن میں طرفین کی گولہ باری سہ پہر کو بند ہوئی جس دوران فورسز اہلکاروں نے پہاڑی علاقے میں موجود جنگجوؤں کی کمین گاہ کو تباہ کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے تلاشی آپریشن کے دوران جنگجوؤں کی ایک کمین گاہ کا پتہ لگایا جسے بعد میں بارود مواد سے زمین بوس کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکار پہاڑی علاقے میں ہنوزجنگجوؤں کی تلاش کے لیے موجود ہے جس دوران وہ تلاشی کارروائی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس دوران پولیس کے ڈی آئی جی برائے وسطی کشمیروی کے بھردی نے جھڑپ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ہاپت نار علاقے میں ہوئی جھڑپ سے متعلق ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ طرفین کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے تاہم علاقے میں بھاری برف موجود ہونے اور پہاڑی راستے کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ بھی کہا نہیں جاسکتا۔انہوں نے بتایا کہ علاقے میں برف کی موٹی تہہ جمع ہونے کے بعد فورسز اہلکاروں کو آگے بڑھنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور جھڑپ سے متعلق پوری تصویر پر تبصرہ کرنا قبل از وقت کہلائے گا۔انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کی ہلاکت سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم فورسز اہلکاروں علاقے میں تلاشی آپریشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں ابھی تک ایک جنگجو جاںبحق ہوا ہے . جس کی لاش کو لینے کے لئے جب فورسز کی پارٹی کمین گاہ کی طرف بڑھی تو جنگجوئوں نے فورسز پر فائرنگ کر دی .
ادھر علاقے میں جھڑپ شروع ہوتے ہی علی الصبح انتظامیہ نے ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ سہولیات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے اور امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلع بھر کے حدود میں اگلے احکامات تک موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا۔ ادھر پلوامہ کے راجپورہ، مورن اور کاکہ پورہ علاقوں میں سوموار کی دو پہر کو اُس وقت پرتشدد احتجاج بھڑک اُٹھا جب یہاں یہ خبر پھیل گئی کہ وسطی ضلع بڈگام کے ہاپت نار علاقے میں ہوئی جھڑپ کے دوران پلوامہ سے تعلق رکھنے والے 2مقامی نوجوان جاں بحق ہوگئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ پلوامہ کے راجپورہ ، مورن اور کاکہ پورہ میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں زور دار نعرے لگاتے ہوئے یہاں موجود فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔عینی شاہدین کے مطابق ضلع میں جونہی نوجوانوں کی ہلاکت سے متعلق خبر پھیل گئی تو یہاں مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران دوکانات اور تجارتی اداروں نے اپنے دوکانات کے شٹر گراکر گھروں کی راہ لی۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت پر بھی اثر پڑا ۔ اس دوران فورسز نے احتجاج کررہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جبکہ مظاہرین نے بھی چہار سو فورسز پر کچھ دیر کے لیے پتھراؤ کو جاری رکھا تاہم شام دیر گئے حالات معمول پر آگئے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
