تازہ ترین
حملہ منصوبہ بند پروگرام؛ بی جے پی اور آر ایس ایس کے حمایت یافتہ لوگوں کی کارستانی: شیخ عمران
خبراردو:
سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر شیخ عمران پر اُس وقت میٹنگ میں موجود کونسلر نے حملہ کیا جب وہ کونسلروں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈپٹی میئر کو حملے کے فوراً بعد پولیس کنٹرول روم ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُنہیں ابتدائی مرہم پٹی کرکے گھر روانہ کردیا گیا۔ ادھر ڈپٹی میئر نے اپنے بیان میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے حمایت یافتہ کارپوریٹروں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اُن کاآج کا حملہ ایک منصوبہ بند پروگرام تھا۔ ڈپٹی مینر کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ سے بی جے پی اور ہندوتوا سیاست کے خلاف بولتا ہوں اسی لیے مجھ پر اس طرح کا بزدلانہ حملہ کروایا گیا۔ک
سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر شیخ عمران پر سوموار کو اُس وقت کونسلروں کی منعقدہ میٹنگ کے دوران حملہ کیا گیا جب وہ سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ معلوم ہو اہے کہ ڈپٹی میئر پر میٹنگ میں موجود کسی کونسلر نے اُن کے چہرے پر کوئی ٹھوس چیز ماردی جس کے نتیجے میں موصوف خون میں لت پت ہوکر گر پڑے۔ اس دوران یہاں موجود لوگوں نے ڈپٹی میئر شیخ عمران کو ہسپتال منتقل کیا جہاں اُن کی ابتدائی مرہم پٹی کرکے گھر روانہ کردیا گیا۔ہسپتال ذرائع نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ ڈپٹی میئر کی ناک میں گہری چوٹ آئی تھی جس کے نتیجے میں اُن کے جسم سے کافی خون بہہ چکا تھا جس کے بعد ان کی ناک پر ایک ٹانکہ بھی لگایا گیا۔
ادھر پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی میئر پر میٹنگ کے دوران حملہ کیا گیا جس کا پولیس نے سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے کیس درج کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس واقعے کی گہرائی سے چھان بین کرے گی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ کے دوران کونسلروں اور ڈپٹی میئر کے مابین تیز کلامی ہوئی جس کے بعد میٹنگ میں موجود ایک کونسلر نے ڈپٹی میئر کے سر پر ایک ٹھوس چیز ماردی جس کے نتیجے میں موصوف موقعے پر ہی گر پڑے۔ادھر ڈپٹی میئر نے اپنے بیان میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے حمایت یافتہ کارپوریٹروں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اُن کاآج کا حملہ ایک منصوبہ بند پروگرام تھا۔ ڈپٹی مینر کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ سے بی جے پی اور ہندوتوا سیاست کے خلاف بولتا ہوں اسی لیے مجھ پر اس طرح کا بزدلانہ حملہ کروایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ جب تک میں کرسی پر براجمان ہوں تب تک کشمیر میں بی جے پی کے پیر ٹکنے نہیں دوں گا۔ہسپتال سے طبی امداد کے فوراً بعد ڈپٹی میئر نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر حملہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے حمایت یافتہ کونسلروں کی کارستانی ہے۔انہوں نے بی جے پی کے حمایت یافتہ کارپوریٹروں پر برستے ہوئے کہا کہ میں ایسے عناصر کے سامنے کبھی بھی نہیں جھکوں گا اور ہمیشہ کرپشن اور ناانصافی کے خلاف آوا زاٹھاتا رہوں گا۔شیخ عمران کے مطابق مجھ پر حملہ صرف اور صرف بی جے پی اور ہندوتوا کے خلاف بولنے کا شاخسانہ ہے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوارن شیخ عمران نے یہاں موجود کارپوریٹروں پر زور دیا کہ وہ ایسے عناصر کی کارستانیوں پر کوئی کان نہ دھریں اور اپنے کام کاج پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور وہ حملہ آور لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائے گی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈپٹی میئر کسی بھی شخص پر حملہ کرنے کا روادار نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ جونہی میں کونسلروں کے سوالات کا جواب دینے کے لیے کھڑا ہوا تو میٹنگ میں موجود 2کارپوریٹر کھڑے ہوئے اور مجھ پر حملہ بولا۔ میں وعدہ بند ہوں کہ کشمیر سے بی جے پی کا انخلا یقینی بناؤں گا۔
انہوں نے بتایا کہ جن دو کارپوریٹروں نے مجھ پر حملہ کیا انہیں سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئر جنید متو کی حمایت حاصل ہے لیکن میں ان پر واضح کردیناچاہتا ہوں کہ شیخ عمران کشمیر میں بی جے پی کو ٹکنے نہیں دے گا اور ہندوتوا پالیسی کشمیریوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔اس دوران شیخ عمران نے گورنر ستیہ پال ملک سے معاملے کے تئیں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ڈپٹی میئر نے بتایا کہ میں نے اول روز سے ہی ریاستی انتظامیہ کو بی جے پی جیسے عناصر سے متعلق آگاہ کیا تھا تاہم انہوں نے میری اپیلوں پر کوئی کان نہیں دھرا۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ایس ایم سی کمشنر نے بھی میری گزارشات پر آنکھیں موندھ لیں ۔انہوں نے میئر جنید متو پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ میں بیٹھنے کا بھی اس طرح انتظام کیا گیا تھا تاکہ مجھ پر حملہ ممکن ہوسکے اور میں اپنے دفاع میں کچھ بھی نہ کرپاؤں۔انہوں نے بتایا سوموار کو جونہی میں میٹنگ ہال میں داخل ہوا تو یہاں موجود ایس ایم سی میئر جنید متو اور اُن کے ساتھی مجھ پر حملہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے تاہم جونہی میں نے کرپشن مخالف نعرے لگائے تو مجھ پر حملہ کیا گیا۔ شیخ عمران کے مطابق جونہی میں دفتر واپس جوائن کروں گا میں ایسے کرپٹ عناصر کے خلاف پھر سے آواز اُٹھاتا رہوں گے اور لوگوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی اور زیادتی کو اجاگر کرتا رہوں گا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر3 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا7 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا7 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا6 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان5 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
