تازہ ترین
ہم انسان ہیں، مسلمان ہیں پھر بھی بیحیائی پر آمادہ ہیں!
جاوید اختر بھارتی
ان دنوں سوشل میڈیا پر فرضی آئی ڈی کی بھر مار ہے اور اس میں خواتین کے نام سے لوگ آئی ڈی بناکر سیدھے سادھے بھولے بھالے یا پھر کسی عزت دار کو ریکویسٹ بھیجھکر میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں مزے کی بات تو یہ ہیکہ اس گھناؤنی حرکت میں مسلمان بھی بہت بڑھ چڑھکر دلچسپی لے رہے ہیں۔
اورپہلے دوستی کرتے ہیں پھر دھیرے دھیرے اسے فحش کلمات تک لاتے ہیں پھر تصویر کا لین دین کرتے ہیں پھر جب اور بات آگے بڑھتی ہے تو نیم عریاں تصاویر مانگتے بھیجتے ہیں اس کے بعد جب یہ سب اکٹھا کرلیتے ہیں تو اس کا اسکرین شارٹ انہیں بھیجتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق انہیں بلیک میل کی کوشش کرتے ہیں اور اسے دھمکی دیتے ہیں کہ اگر مانگ پوری نہیں کی گئی تو اسے فیسبک پر اپلوڈ کردینگے ساری دنیا کے سامنے آپکو بے نقاب کرینگے ۔
دوسری جانب آئی ڈی ہیک کے بارے میں تو سب کو معلوم ہےکہ جب بنک ہیک ہوجاتاہے اکاؤنٹ ہیک ہوجاتاہے تو ایک فیسبک آئی ڈی کو ہیک کرنا کون سی بڑی بات ہے ایسا کرنے والوں کو نہ اپنی عزت کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی معاشرے کی کوئی پرواہ ہوتی ہے بلکہ صرف مفاد پرستی ہوتی ہے، ہوس پرستی ہوتی ہے ابھی چند دنوں قبل کی بات ہے کہ واٹس ایپ سے متعلق کچھ پالیسی تبدیل کرنے کی خبریں ارہی تھیں تو سب کے ہوش اڑ گئے تھے، چہرے مرجھائے ہوئے تھے کہ اب ہماری ساری باتیں، سارے پیغامات کسی کے پاس محفوظ رہیں گے انسانوں اور مسلمانوں کے ایک معزز طبقے کے اندر بھی زبردست بے چینی تھی مگر جیسے ہی معاملہ ٹھنڈا ہوا تو فیس بک اور واٹس ایپ پر فرضی تصاویر لگنا شروع ہو گئیں، فرضی نام سے آئی ڈی بھی بننا شروع ہوگئی، ریکویسٹ بھیجنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا اب نہ تو کسی مذہبی ایپ اور فولڈر کی یاد ارہی ہے اور نہ ہی کوئی گھبراہٹ ہے لگتا ہے کہ اب پوری طرح یقین ہوگیا ہے کہ اب ہم جو چاہیں کریں ہماری کسی بھی حرکت کی کسی دوسرے کو خبر نہیں ہوگی نادان ہیں ایسے لوگ جو یہ بات سوچتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور جب سے انٹر نیٹ ایجاد ہوا ہے تو ہر ایک کا ڈاٹا کہیں نہ کہیں محفوظ ہوتا ہے جب ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو اس کی زندگی کے ایک ایک لمحات کو کھنگا لا جاتا ہے اور سب کچھ سامنے اجاتا ہے اب سائنس کا زمانہ ہے اور سائنس نے اسلام کی تعلیمات کا سہارا لیا ہے اس نے قرآن کا سہارا لیا ہے اور جو قوم اپنے آپ کو قرآن والی کہتی ہے اس قوم کی حالت یہ ہے کہ بڑوں کی تعظیم و توقیر بھولتی جارہی ہے، چھوٹوں سے پیار شفقت و محبت بھولتی جارہی ہے بس صرف اس بات کا گھمنڈ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اس لیے کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں بے شرمی اور بے حیائی کی حدیں آج انسان پار کرتا جارہا ہے، اور صرف دوسروں کی برائی پر نظر دوڑاتا ہے خود اپنی آئی ڈی پر عورتوں کی تصویر لگاتا ہے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم جس عورت کی تصویر اپنی آئی ڈی پر، اپنی پروفائل پر لگا رہے ہیں وہ بھی کسی کی بیٹی اور کسی کی بہن ہے،، آج ہم کسی کی بہن بیٹی کی تصویر واٹس ایپ اور فیس بک پر لگاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کل ہماری بہن بیٹی کی تصویر بھی کوئی اپنی آئی ڈی اپنی پروفائل پر لگا سکتا ہے تو جب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو ہمیں کیسا لگے گا حقیقت یہ ہے کہ آ:بیل مجھے مار،، والا کام تو ہم خود کررہے ہیں –
مگر افسوس صد افسوس کہ انسان تو انسان خود مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ کب کس کی عزت سے کھیل جائے گا، کب کس کے اوپر کیسی تہمت لگا دے گا، کب کہاں کس کو بے عزت کردے گا کوئی بھروسہ نہیں اور کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا غیرت تو اتنی مرچکی ہے مسلمانوں کی کہ چوراہے پر کھڑا رہتا ہے تو نقاب میں گذرنے والی خواتین کو دیکھ کر ایسے بدحواس ہوجاتا ہے کہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ کہیں یہ نقاب پوش خاتون اپنے ہی گھر کی نہ ہو،، کل تک مسلمانوں کے دشمن اور اسلام کے دشمن بھی اپنا گھر چھوڑ کر کہیں دوسری جگہ کسی کام سے جاتے تھے تو اپنی لڑکیوں کو مسلمانوں کے گھر رکھ کر جاتے تھے کیونکہ انہیں لاکھ دشمنی کے باوجود بھی یہ یقین رہتا تھا کہ مسلمانوں کے گھر ہماری لڑکیاں محفوظ رہیں گی اور آج نتیجہ یہ ہے کہ پڑوس کی بہن بیٹیوں کی عزت کو خطرہ خود پڑوسیوں سے ہے، رشتہ دار کی بہن بیٹیوں کی عزت کو خطرہ خود رشتہ دار کے بھائی بھتیجوں اور بیٹوں سے ہے آئے دن اس طرح کے معاملات کا انکشاف بھی ہوتا رہتا ہے،، گھر کے تمام افراد موجود ہوتے ہیں پھر بھی بیٹے کے کان میں موبائل لگی ہوئی گھنٹوں گھنٹوں بیٹا بات کررہا ہے گھر سے باہر نکلتا ہے پھر گھر آتا ہے کان میں موبائل لگی ہوئی ہے بات چیت ہورہی ہے باپ ایک بار بھی نہیں پوچھتا کہ کہاں بات کر رہے ہو، کس سے بات کر رہے ہو، کیا بات کر رہے ہو، کیوں بات کر رہے ہو،، جب اتنی چھوٹ ہوگی تو بیٹے کا حوصلہ اور بڑھے گا آج جس سے بات ہورہی ہے کل اس سے ملاقات بھی ہوسکتی ہے ، آگ اور پیٹرول اکٹھا بھی ہوسکتے ہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ ناجائز تعلقات کا پردہ فاش ہوگا –
سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ موبائل میں ایک میموری لگی ہوئی ہے اسی میں ہم نعت رسول بھی رکھے ہوئے ہیں اور اسی میں فلموں کے گانے بھی رکھے ہوئے ہیں، اسی میں علماء کرام کی تقریریں بھی رکھے ہوئے ہیں اور اسی میں فلموں کی اسٹوری بھی رکھے ہوئے ہیں، اسی میں ہم قرآن بھی لوڈ کئے ہوئے ہیں اور اسی میں نیم عریاں تصاویر بھی لوڈ کئے ہوئے ہیں آخر کیا مطلب،، شائد مطلب اور مقصد یہی ہوگا کہ راضی رہے رحمن بھی اور خوش رہے شیطان بھی، جہیز میں ایک طرف بیٹی کو ریحل اور قرآن بھ دے رہے ہیں اور دوسری طرف ٹی وی بھی دے رہے ہیں آخر کیا مطلب،، شائد مطلب اور مقصد یہی ہوگا کہ بیٹی ٹی وی کے ذریعے گانے سن کر فلمیں دیکھ کر گناہ کرتی جا اور قرآن پڑھ پڑھ کر گناہ معاف کراتی جا،، حد ہو گئی بے حیائی کی اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ ہر گھر کا سرپرست خود اپنے گھر کی اصلاح کی ذمہ داری نبھائے یعنی اب اصلاح معاشرہ مہم نہیں بلکہ اصلاحِ کنبہ، اصلاحِ مکان اور اصلاحِ اولاد کی ضرورت ہے اور بہترین تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے تبھی معاشرہ پاکیزہ ہو سکتا ہے ورنہ نمائش و ریڈیمیڈ طریقوں سے کچھ بھی ہونے والا نہیں اس لئے کہ غیرت تو یہاں تک ختم ہو گئی کہ جلسے اور بزرگانِ دین کے آستانے کو بھی ہم سیر و تفریح کا ذریعہ سمجھ بیٹھے، بزرگانِ دین کے آستانوں اور خانقاہوں میں بیٹھ کر گانجہ اور چیلم خوری کرنے لگے، گاڑیاں اور ٹکٹ کی بکنگ میں کمیشن خوری کرنے لگے وہاں پہنچ کر بھی ہمیں احساس نہیں ہوتا کہ فنا ہونا اور فنا فی اللہ ہونے میں کیا فرق ہے –
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یوپی
رابطہ 8299579972، javedbharti508@gmail.com
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
فوج نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی ایک طاقت کے طور پر ابھری ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ وہ ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ خدمت، ہمدردی، حوصلے اور عزم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سری نگر کے کیمپ میں 144 کامیاب آپریشن کیے گئے، جبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگدھر کیمپ نے سرحد پر منعقد ہونے والے پہلے میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگ میل قائم کیا۔
مشکل جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف 2 دن میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے ٹنگدھر کے جغرافیائی حالات دیکھے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں مدد لے کر پہنچنا بھی ایک چیلنج ہے۔ پہاڑوں کو عبور کرنا، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرے کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسی مشکل اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے امید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جدید جراحی آلات کو فضائی راستے سے ٹنگدھر پہنچایا گیا، جس سے ایسے علاقے میں آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے اس طرح کی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔
کھیورپورہ، تنگدھر، باگ بیلا اور آس پاس کے گاؤں کے مریضوں نے اس کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہی حقیقی حوصلہ، فرض کے تئیں لگن اور خدمت کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات بلا شبہ ثابت کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو، وہ ہندوستانی فوج کی انسانی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر اور ٹنگدھر میں کیے گئے 364 آپریشن محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ بدلی ہوئی زندگیوں کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر آپریشن عزتِ نفس کی بحالی اور امید کے دوبارہ جاگنے کی ایک داستان بن گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت 10 شہروں میں اب تک 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے اور 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ نے فوج اور مقامی برادریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نہ صرف دفاعی طاقت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے معاون عملے، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی بہادری کو سلام پیش کیا جنہوں نے آلات پہنچانے، زیر زمین آپریشن تھیٹر تیار کرنے اور نامساعد حالات میں پیچیدہ آپریشنوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی طاقت ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ بینائی بحال کرکے فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا نظریہ دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا ایک تسلسل ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’آپریشن درشٹی‘ ملک بھر کے مزید گاؤں اور قصبوں تک پہنچے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹنگدھر کیمپ ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپریشن درشٹی کے تجربے سے ہمیں اعتماد ملتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طب کو ملک کے ہر کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا عزم ہے اور معزز وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران قابل قدر خدمات انجام دینے والے دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اعزاز سے نوازا۔
انہوں نے مستفید ہونے والوں کو آپریشن کے بعد استعمال ہونے والی طبی کٹس بھی حوالے کیں۔
لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)، چنار کور؛ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، سینئر کنسلٹنٹ اور شعبۂ امراضِ چشم، آرمی ہاسپٹل آر اینڈ آر کے سربراہ؛ بریگیڈیئر بی وی راؤ، کمانڈنٹ، 92 بیس ہاسپٹل، اور سینئر سول و دفاعی افسران نے اختتامی تقریب میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
دنیا
ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
تہران، — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مہاجرانی نے واشنگٹن کے جواب کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تہران اب کیا اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراقچی نے کابینہ کو یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط بھی شامل تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچائی گئی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران عراقچی نے امریکی تجویز صدر مسعود پزشکیان کے سامنے پیش کی۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر کامیاب عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بات کہی۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے فوائد اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کو ایران کے مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی شق میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
پزشکیان نے معاہدے کو ’’باعثِ فخر‘‘ اور ایران سے متعلق پیش رفت کے دوران ’’فیصلہ کن اور انتہائی مؤثر دستاویز‘‘ قرار دیا۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی شرائط میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ، منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کی رہائی اور محفوظ بحری راستے پر اتفاق شامل ہے۔ تہران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے دو گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی تھیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور واشنگٹن سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندری علاقوں میں ایران کی مضبوط موجودگی نے ملک کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو متاثر ہونے سے بچایا۔
عالمی یومِ بحری جہازرانی کے موقع پر بدھ کو پزشکیان نے سمندر کو ایران کے لیے محض پانی کا ذخیرہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک الٰہی نعمت اور ملک کی تاریخ، شناخت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایران کے حال اور مستقبل کے لیے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بھی قرار دیا۔
صدر نے کہا، ’’آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت میں خصوصی مقام رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے ممالک کی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔‘‘
پزشکیان نے زور دیا کہ ’’خلیج فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کا انحصار سب سے بڑھ کر خطے کے ممالک کے تعاون، ذمہ داری اور فعال کردار پر ہے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو برقرار رکھنے میں ملک کی بحری برادری کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
