ہندوستان
ہم نے غریبوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا، گزشتہ دس برسوں میں کوئی گھوٹالہ نہيں ہوا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ وہ غربت کو جانتے ہیں اور غریبوں کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں، اس لیے ان کی حکومت نے غربت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے متعدد منصوبے بنائے ہیں اور غریبوں کو فائدہ پہنچانے کا کام شفاف طریقے سے کیا ہے لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر دو روزہ بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ حکومت نہ صرف غریبوں کی بہبود کے لئے کام کر رہی ہے بلکہ شفاف طریقے سے عوام کے پیسے کی بچت بھی کر رہی ہے اور اس کا استعمال ترقی کے لیے کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ہیلتھ کارڈ، بیت الخلاء، ہر گھر میں نل کا پانی، سوائل ہیلتھ کارڈ سے نہ صرف غریبوں کی زندگی آسان ہو گئی ہے بلکہ ہزاروں کروڑ روپے کی بچت بھی ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل ٹکنالوجی کا استعمال کرکے، لوگوں کو فلاحی اسکیموں کا پورا فائدہ ان کے کھاتوں میں براہ راست جمع کروایا گیا ہے اور کروڑوں فرضی مستحقین کو چھانٹا گیا ہے۔
مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ پہلے دیہات میں عورتیں طلوع آفتاب کے وقت کھلے میں رفع حاجت کے لیے جاتی تھیں اور ان کی حکومت نے ان لوگوں کے مسائل کو قریب سے سمجھا ہے اور ان کے لیے 12 کروڑ سے زیادہ بیت الخلاء تعمیر کر کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ رہنما اپنے گھروں میں اسٹائلش شاور وغیرہ پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، لیکن ہماری توجہ ہر گھر تک پانی پہنچانے پر مرکوز رہی ہے۔ ہماری حکومت نے پانچ سالوں میں 12 کروڑ گھروں کو نل کا پانی پہنچانے کا کام کیا ہے اور یہ کام تیزی سے جاری ہے۔ ہم نے غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا ہے اور اسی لیے صدر جمہوریہ نے اپنی تقریر میں اس کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا نام لیے بغیر ان پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ غریبوں کے گھروں پر فوٹو سیشن کروا کر اپنا دل بہلاتے ہیں اس لیے انہیں پارلیمنٹ میں غریبوں کے بارے میں بات کرنا بورنگ لگتا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں ان کی حکومت کی کوشش رہی ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ وہ لگن سے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سابق وزیر اعظم نے ملک میں بدعنوانی کے مسئلے کو پہچانا، اس لیے انہوں نے کہا کہ اگر دہلی سے ایک روپیہ جاتا ہے تو گاؤں میں صرف 15 پیسے پہنچتے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک ماڈل تیار کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک ڈیجیٹل نظام بنایا گیا ہے کہ عوام کا پیسہ عوام کے لیے ہو، غریبوں کو براہ راست فائدہ ملے اور غریبوں کو جو پیسہ مرکز سے ملتا ہے وہ براہ راست ان کے پاس جاتا ہے۔ جس کے تحت ملک کے غریبوں کے کھاتوں میں لاکھوں کروڑوں روپے براہ راست پہنچ چکے ہیں۔ غریبوں کو براہ راست فائدہ دینے کے ساتھ، حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے غریبوں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے بھی کام کیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے سوچھ بھارت ابھیان کا مذاق اڑایا گیا، لیکن آج صورتحال ایسی ہے کہ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت سرکاری دفاتر کا ردی بیچ کر 2300 کروڑ روپے حکومت کے کھاتے میں آچکے ہیں۔ یہ آمدنی اسی صفائی مہم سے ہوئی ہے جس کا پہلے کچھ لوگ مذاق اڑاتے تھے۔ اسی طرح ایتھانول کے ذریعے کسانوں کو فائدہ ہو رہا ہے اور کسانوں کو ایتھانول سے ایک لاکھ کروڑ روپے ملے ہیں اور یہ رقم براہ راست کسانوں کی جیبوں میں گئی ہے۔ پہلے اخباروں کی سرخیاں گھوٹالوں کے بارے میں ہوا کرتی تھیں، لیکن پچھلے دس سالوں میں کوئی گھوٹالہ نہیں ہوا اور اس رقم کو بچایا گیا اور ملک کے عوام کے مفاد میں استعمال کیا گیا۔ ان کی حکومت کو پیسہ ملا لیکن وہ شیشے کا محل بنانے میں نہیں بلکہ ملک بنانے میں استعمال ہوا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مینوفیکچرنگ بجٹ بڑھ کر 11 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے جو 2014 سے پہلے 2 لاکھ کروڑ روپے سے کم تھا۔ ان کی حکومت نے ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی ہے اور سرکاری خزانے میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے ایسی اسکیمیں تیار کیں جن سے عوام کو فائدہ پہنچے۔ آیوشمان یوجنا کے تحت عوام کے 1.20 لاکھ کروڑ روپے بچائے گئے ہیں۔ جن اوشدھی کی وجہ سے غریبوں کے لیے تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے نل سے پینے کے پانی سے متعلق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صاف پانی کی وجہ سے اوسطاً ایک خاندان پانی سے ہونے والی بیماریوں سے 40 روپے بچاتا ہے۔ مفت اناج اور مفت بجلی کی اسکیم سے بھی غریبوں کو ایک سال میں 25 سے 30 ہزار روپے کی بچت ہوئی ہے اور اگر زیادہ بجلی ہے تو اسے اس سے اضافی فائدہ بھی مل رہا ہے۔ ایل ای ڈی بلب سے بجلی کی بچت، بلب سستے اور اہل وطن کے ہزاروں روپے بچ گئے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں انکم ٹیکس میں کمی کرکے متوسط طبقے کا بجٹ کم کیا گیا ہے۔ 2014 سے پہلے انکم ٹیکس کی ‘بندوق کی گولیوں’ سے اہل وطن کی زندگی چھلنی ہوتی تھی لیکن ان کی حکومت نے آہستہ آہستہ لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا۔ سال 2013-14 میں انکم ٹیکس کی چھوٹ 2 لاکھ روپے تھی جو اب بڑھ کر 12 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کو یکم اپریل سے چھوٹ کے بعد 13.75 لاکھ روپے تک کی آمدنی پر انکم ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔
مسٹر مودی نے کارٹونسٹ آر کے لکشمنن کے ایک کارٹون کا حوالہ دیا اور کہا کہ آج یہ درست ثابت ہو رہا ہے۔ اس نے ایک کارٹ پر ہوائی جہاز رکھنے کا کارٹون بنایا تھا جو آج سچ ثابت ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت کے وزیر اعظم نے صرف بڑی باتیں کیں اور زمین سے منقطع ہو کر 21ویں صدی کی بات کی لیکن وہ 20ویں صدی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہے، یہ اس پر طنز تھا۔
یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
الیکشن کمیشن تنازع کے درمیان کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کل، کھرگے نے کی چیف انتخابی کمشنر کے استعفے کی مانگ
نئی دہلی، الیکشن کمیشن آف انڈیا سے جڑے بڑھتے ہوئے تنازع پر منگل کے روز کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ منعقد ہوگی۔ کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے اس معاملے کو “سنجیدگی سے لڑنے” کا عزم ظاہر کرتے ہوئے چیف انتخابی کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے بتایا کہ الیکشن کمیشن سے متعلق ابھرتے ہوئے حالات پر بحث کرنے اور پارٹی کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز اکائی سے مشورے حاصل کرنے کے لیے سی ڈبلیو سی کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، “میں نے کل کے لیے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلائی ہے، جہاں ہم اس مسئلے پر بات چیت کریں گے اور تمام اراکین اپنی رائے پیش کریں گے۔”
مسٹر کھرگے نے اس معاملے کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا، “یہ معاملہ پورے ملک، ہماری جمہوریت کی بقا اور ہمارے ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہیں۔”
یہ میٹنگ ووٹرفہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری نیز اس کے کام کاج پر اپوزیشن کے الزامات کے بعد کانگریس اور الیکشن کمیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ کانگریس نظرِ ثانی کے عمل پر مسلسل تنقید کر رہی ہے اور کمیشن سے زیادہ جواب دہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن کے ان الزامات کا حوالہ دیا، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گیانیش کمار نے انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں پتنمتٹا سے بی جے پی کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کی ترغیب دی تھی—جسے تھامسن نے مبینہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے اور مسٹر کمار نے اس پر اعلانیہ کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
کانگریس صدر نے الزام لگایا، “خود الیکشن کمیشن کے لوگوں نے ان کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ کیرالہ کے ایک سابق چیف سکریٹری نے کہا ہے کہ خود سی ای سی نے ان سے الیکشن لڑنے کو کہا تھا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بی جے پی کے نظریہ کو فروغ دیتے ہیں اور ان کے کارکن کے طور پر کام کرتے ہیں۔”
انہوں نے مسٹر کمار کے استعفے کی مانگ کی اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی کارروائی جاری رہے گی۔ مسٹر کھرگے نے کہا، “گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہم ان کے استعفے کے بعد بھی ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔”
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایس آئی آر کے عمل کے دوران ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج اور ووٹروں کی اہلیت میں الیکشن کمیشن کے کردار پر اپوزیشن کی تشویش کے باعث تنازع شدید ہو گیا ہے۔ دوسری طرف، الیکشن کمیشن نظرِ ثانی کو ایک آئینی ذمہ داری قرار دے کر اس کا دفاع کر رہا ہے اور کسی بھی سیاسی جانب داری سے انکار کر رہا ہے۔ اس دوران، بی جے پی اور حکومت نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئینی اداروں کو سیاسی حملوں سے دور رکھا جانا چاہیے۔
توقع ہے کہ سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کرنے کے لیے کانگریس کی حکمتِ عملی طے کی جائے گی، جس میں مسٹر کھرگے نے ملک کی انتخابی جمہوریت کی حفاظت کے لیے ایک طویل سیاسی اور ادارہ جاتی مہم چلانے کا اشارہ دیا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
مہنگائی، بڑھتے گھریلو اخراجات پر جے رام رمیش کا حکومت پر شدید حملہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر نریندر مودی حکومت کے خلاف اپنے حملے کو تیز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بالخصوص تہواروں کے موسم میں عام خاندانوں پر مہنگائی کے بڑھتے بوجھ پر کب براہ راست بات کریں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ مسلسل گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہا ہے اور کہا کہ مہنگائی اب صرف کھانے پینے کی اشیاء اور باورچی خانے کے ضروری سامان تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے کہا، ”تہواروں کے موسم میں عوام کی جیبیں لوٹنے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے،“ انہوں نے مزید کہا کہ ”مہنگائی کا درد اب باورچی خانے تک محدود نہیں رہا، لیکن وزیر اعظم بے حسی کے ساتھ ڈھول بجا رہے ہیں۔“
مسٹر رمیش نے حکومت کے خلاف اپنا موقف پیش کرتے ہوئے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیا اور اگست کے مہینے میں پیاز کی قیمتوں میں ہونے والے زبردست اضافے کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پیاز کی مہنگائی اگست میں بڑھ کر 48.27 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ جولائی میں یہ 22.54 فیصد تھی۔
مسٹر رمیش نے کہا، ”سبزیاں مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں، اور پیاز کی مہنگائی اگست میں 48.27 فیصد تک پہنچ گئی،“ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گھریلو استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایئر کنڈیشنر، ٹیلی ویژن اور ریفریجریٹر جیسی مصنوعات مزید مہنگی ہونے والی ہیں اور اس صورتحال کو گھریلو بچت میں کمی اور خاندانوں کے بڑھتے ہوئے قرضوں سے جوڑا۔
انہوں نے سوال کیا، ”ایسے حالات میں ایک عام خاندان اپنی ضروریات کیسے پوری کر سکتا ہے؟“
مسٹر رمیش نے مودی کے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ وزیر اعظم باقاعدگی سے مختلف مسائل پر بات کرتے ہیں لیکن مہنگائی اور خاندانوں کو درپیش مالی دباؤ پر اس طرح کی توجہ کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے پوچھا، ”وزیر اعظم ’من کی بات‘ لڑی میں مختلف مسائل پر نیحتیں کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ ملک کے سب سے اہم مسئلے مہنگائی پر کب بولیں گے؟ وہ عوام کے لیے تشویش کا اظہار کب کریں گے؟“
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ عام لوگ پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ حکومت مناسب ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا، ”ایک عام خاندان اپنا بجٹ کیسے سنبھالے؟ متوسط طبقہ اور غریب کب تک پستے رہیں گے؟“
کھانے پینے کی مختلف اشیاء پر مہنگائی کا دباؤ نمایاں طور پر مختلف رہا ہے۔ جہاں پیاز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ درج کیا گیا، وہیں اگست میں لہسن کی مہنگائی 43.60 فیصد اور ادرک کی مہنگائی 73.82 فیصد رہی۔ اس کے برعکس، ٹماٹر کی قیمتوں میں سال بہ سال 31.09 فیصد اور آلو کی قیمتوں میں 13.14 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
مسٹر رمیش کے یہ تبصرے تہواروں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں، گھریلو بچت، مقروضیت اور صارفین پر مہنگائی کے وسیع تر اثرات پر نئے سرے سے جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت سوال پوچھنے پر اپوزیشن پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ-سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ای ڈی-سی بی آئی) اور عوام پر تھپڑ، لاٹھی نیز گولی کا استعمال کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی لوگوں کے سوالوں سے اس قدر گھبرا گئی ہے کہ ‘ناراض پھوپھا’، ‘دماغی نکسل’ اور ‘آندولن جیوی’ جیسے نازیبا الفاظ بھی اب پھیکے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی-راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) براہ راست تشدد پر اتر آئے ہیں۔ دہلی کے وزیر نوجوان کو تھپڑ مار رہے ہیں اور وزیر داخلہ امت شاہ کی نگرانی میں جنتر منتر پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج ہوا ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ اس سے پہلے کسانوں کو بی جے پی حکومت میں ایک وزیر کے بیٹے نے گاڑی سے کچلا، ایک مرکزی وزیر نے ‘گولی مارو…’ کہا، کسان تحریک میں ربر کی گولیاں چلیں اور 750 کسانوں کی جان گئی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے اونا میں دلتوں پر کوڑے برسائے گئے، لیکن اب تک انصاف نہیں ملا۔ اقتدار کا غرور جب عروج پر ہوتا ہے، تو لوگوں کا عوامی سطح پر استحصال اور تذلیل عادت بن جاتی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی-آر ایس ایس صرف پالیسیوں سے ہی جمہوریت نہیں کچل رہے ہیں، بلکہ اب لاٹھی ڈنڈے تان کر عوام پر براہ راست حملہ کر رہے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
جموں و کشمیر6 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان5 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
