ہندوستان
ہندوستان اور قطر کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری قائم، تجارت دوگنی ہو جائے گی
نئی دہلی، ہندوستان اور قطر نے آج اپنے دوطرفہ تعلقات کو ‘اسٹریٹجک پارٹنرشپ’ کی سطح پر اپ گریڈ کیا اور باہمی تجارت کو پانچ برسوں میں دوگنا کرنے، ہندوستان میں قطر سرمایہ کاری مرکز کھولنے اور ہندوستان اور قطر کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی دو طرفہ چوٹی کانفرنس میں یہ فیصلے کئےگئے۔ دونوں ممالک نے حماس اور اسرائیل کے درمیان تنازع اور افغانستان کے مسئلے سمیت عالمی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی امور پر بھی بات چیت کی۔ امیر قطر کے سرکاری دورے کے دوران دو معاہدوں اور پانچ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن میں سے ایک دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے اور دوسرا دوہرے ٹیکس سے بچنے کے حوالے سے ہے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (قونصلر، پاسپورٹ، ویزا اور سمندر پار ہندوستانی امور) ارون کمار چٹرجی نے میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری میں توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور سیکورٹی کے شعبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، جہاز سازی، فوڈ پارکس، قابل تجدید توانائی، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے آخری بار مارچ 2015 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ جب وزیر اعظم مودی نے فروری 2024 میں اپنا دوسرا دورہ کیا تو انہوں نے قطر کے امیر کو ہندوستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ قطر کے امیر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی آیا ہے جس میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، سینئر حکام اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔
قطر کے امیر کا آج صبح راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ایک رسمی استقبال کیا گیا۔قطر کے امیر آج شام در جمہوریہ سے ملاقات کریں گے اور وفد کے ہمراہ امیر کے اعزاز میں صدر ضیافت بھی دیں گی ۔ حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم مودی اور امیر قطر کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے تاریخی تجارتی تعلقات، عوام سے عوام کے گہرے تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دو طرفہ تعلقات کو یاد کیا۔
مسٹر چٹرجی نے کہا کہ اپنے دو طرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے کی کوشش میں ہندوستان اور قطر نے آج اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ہونے والی بات چیت کے اہم موضوعات میں شامل تھے۔ آج ہندوستان اور قطر کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 14 بلین ڈالر ہے۔ دونوں فریقوں نے اگلے 5 برسوں میں اسے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے قطر بھی ایک اہم پارٹنر ہے۔ قطر کے خودمختار دولت فنڈ، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے پاس اس وقت ہندوستان میں تقریباً 1.5 بلین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں لیڈروں نے آج کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی ہندوستان میں سرمایہ کاری بڑھا سکتی ہے۔ وزیراعظم نے اس دورے پر قطر کے اعلیٰ کاروباری رہنماؤں کے ایک بڑے وفد کو لانے پر امیر قطر کی ستائش کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ آج ہندوستان اور قطر کے وزرائے صنعت و تجارت کی شریک صدارت میں ایک مشترکہ بزنس فورم کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سرکردہ صنعت کاروں، کمپنیوں اور اداروں نے بہت مفید بات چیت کی۔
مسٹر چٹرجی نے کہا کہ ہندوستان اور قطر کے درمیان توانائی کے میدان میں بہت ہی متحرک ساجھیداری ہے۔ قطر ہندوستان کے لیے توانائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے آج کہا کہ فروری 2024 میں قطر انرجی اور پیٹرونیٹ ایل این جی لمیٹڈ نے 2028 سے شروع ہونے والے 20 برسوں کے لیے قطر سے ہندوستان کو سالانہ 7.5 ملین میٹرک ٹن ایل این جی کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی سرمایہ کاری کو تلاش کرنے سمیت توانائی کی ساجھیداری کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور قطر کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات تاریخی تجارت اور عوام سے عوام کے تعلقات پر مبنی ہیں۔ وزیر اعظم نے قطر میں مقیم بڑی ہندوستانی برادری کی حمایت کے لیے امیر قطر کا شکریہ ادا کیا، خاص طور پر کووڈ۔ 19 وبائی مرض کے دوران ہندوستانیوں کی مدد کے لئے شکریہ ادا کیا۔
ایک سوال کے جواب میں، مسٹر چٹرجی نے کہا “ہم فی الحال ہندوستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ جہاں تک قطر کا تعلق ہے، دونوں فریق مستقبل میں دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں اور آج کی بات چیت میں اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جہاں تک اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے معاہدے کا تعلق ہے، یہ درحقیقت دو طرفہ تعلقات کی موجودہ حالت کو اسٹریٹجک سطح تک بلند کرتا ہے۔ ہم جس چیز کو دیکھ رہے ہیں وہ تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنا ہے۔
عالمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسٹر چٹرجی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات کی اور قدرتی طور پر مغربی ایشیا کی صورتحال اور وہاں ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں فریقین نے اسرائیل اور حماس کے معاملے پر اپنے باہمی موقف کا تبادلہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھا اور ان کی تعریف کی۔
قطر کی جیلوں میں بند ہندوستانیوں کی حالت کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر چٹرجی نے کہا ‘ہمارے کچھ لوگ جیل میں ہیں، اس وقت ان کی تعداد 600 کے قریب ہے۔ وقتاً فوقتاً قطری قیادت نے انہیں معاف کیا اور اپنی شرائط سے رہائی دلائی۔ 2024 میں تقریباً 85 ہندوستانیوں کو معاف کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس قیدیوں کی سزا کی منتقلی کا معاہدہ ہے جو ابھی تک قطری فریق کی منظوری کا منتظر ہے۔
ہندوستانی بحریہ کے سابق افسروں کی رہائی کے بارے میں مسٹر چٹرجی نے کہا “بحریہ کے سابق افسر کے بارے میں جو اب بھی قطر کی جیل میں ہے، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا مقدمہ قطر کی مقامی عدالتوں میں ابھی بھی زیر التوا ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور بہبود کے لیے قطر کے امیر اور ان کی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
ہندوستان
تبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ ملک میں تبدیلی لانے، اتحاد قائم رکھنے، آزادی کو برقرار رکھنے اور آئین کے تحفظ کے لیے مضبوط سیاسی طاقت کا ہونا ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعرات کے روز یہاں ‘رچناتمک کانگریس’ کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی طاقت کے بغیر وسیع تر تبدیلی لانا اور آئین و جمہوریت کی حفاظت کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی حمایت سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار میں آئی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس کے کچھ رہنماؤں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ بی جے پی اپنے بل بوتے پر حکومت بنا سکتی ہے اور اسے آر ایس ایس کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں، جبکہ لوگوں کو مذہب کے نام پر بانٹتے ہیں اور ایسا کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ ملک میں تعمیری پروگرام ہونے چاہئیں، جن سے ہر شخص معاشی اور سماجی طور پر آگے بڑھ سکے۔ ترقی کا فائدہ صرف کارپوریٹ اور صنعت کاروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ سماج کے ہر طبقے کو اس کا فائدہ ملنا چاہیے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی کے حوالے سے اپوزیشن پر لگائے جانے والے الزامات پر انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ صرف وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر دکھانے کے لیے نہیں ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ عوام کی آواز اٹھانے کے لیے پارلیمنٹ میں آتے ہیں اور وہاں تمام خیالات کو سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی تمام فریقین کے نظریات کو سامنے رکھنے کی توقع ظاہر کی۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ ملک کی آزادی کی جدوجہد اورملک کی تعمیر میں تعاون دینے والے رہنماؤں کے بارے میں بھی عوام کو بتایا جانا چاہیے۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یوز)، اسکولوں اور انجینئرنگ کالجوں سمیت متعدد اداروں کی تعمیر میں کانگریس کا اہم کردار رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ملک میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر، انجینئر، ماہرینِ اقتصادیات اور تاجر موجود ہیں، لیکن ان کی تیاری میں پہلی حکومتوں اور اداروں کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ تاریخ کو سمجھے بغیر ملک کی تعمیر میں تعاون دینے والے رہنماؤں پر تنقید کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی جمہوریت، آئین اور آزادی کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے جدوجہد کریں، کیونکہ اگر آج کی نسل ملک کے لیے نہیں لڑے گی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل متاثر ہوگا۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر22 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
