ہندوستان
ہندوستان اور قطر کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری قائم، تجارت دوگنی ہو جائے گی
نئی دہلی، ہندوستان اور قطر نے آج اپنے دوطرفہ تعلقات کو ‘اسٹریٹجک پارٹنرشپ’ کی سطح پر اپ گریڈ کیا اور باہمی تجارت کو پانچ برسوں میں دوگنا کرنے، ہندوستان میں قطر سرمایہ کاری مرکز کھولنے اور ہندوستان اور قطر کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا وزیر اعظم نریندر مودی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان حیدرآباد ہاؤس میں ہونے والی دو طرفہ چوٹی کانفرنس میں یہ فیصلے کئےگئے۔ دونوں ممالک نے حماس اور اسرائیل کے درمیان تنازع اور افغانستان کے مسئلے سمیت عالمی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی امور پر بھی بات چیت کی۔ امیر قطر کے سرکاری دورے کے دوران دو معاہدوں اور پانچ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن میں سے ایک دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے اور دوسرا دوہرے ٹیکس سے بچنے کے حوالے سے ہے۔
وزارت خارجہ میں سکریٹری (قونصلر، پاسپورٹ، ویزا اور سمندر پار ہندوستانی امور) ارون کمار چٹرجی نے میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری میں توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور سیکورٹی کے شعبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، جہاز سازی، فوڈ پارکس، قابل تجدید توانائی، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے آخری بار مارچ 2015 میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ جب وزیر اعظم مودی نے فروری 2024 میں اپنا دوسرا دورہ کیا تو انہوں نے قطر کے امیر کو ہندوستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ قطر کے امیر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی آیا ہے جس میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، سینئر حکام اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔
قطر کے امیر کا آج صبح راشٹرپتی بھون میں صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ایک رسمی استقبال کیا گیا۔قطر کے امیر آج شام در جمہوریہ سے ملاقات کریں گے اور وفد کے ہمراہ امیر کے اعزاز میں صدر ضیافت بھی دیں گی ۔ حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم مودی اور امیر قطر کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے دوران، دونوں رہنماؤں نے تاریخی تجارتی تعلقات، عوام سے عوام کے گہرے تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دو طرفہ تعلقات کو یاد کیا۔
مسٹر چٹرجی نے کہا کہ اپنے دو طرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی سطح تک بڑھانے کی کوشش میں ہندوستان اور قطر نے آج اس سلسلے میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی دونوں رہنماؤں کے درمیان آج ہونے والی بات چیت کے اہم موضوعات میں شامل تھے۔ آج ہندوستان اور قطر کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 14 بلین ڈالر ہے۔ دونوں فریقوں نے اگلے 5 برسوں میں اسے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے قطر بھی ایک اہم پارٹنر ہے۔ قطر کے خودمختار دولت فنڈ، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے پاس اس وقت ہندوستان میں تقریباً 1.5 بلین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں لیڈروں نے آج کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی ہندوستان میں سرمایہ کاری بڑھا سکتی ہے۔ وزیراعظم نے اس دورے پر قطر کے اعلیٰ کاروباری رہنماؤں کے ایک بڑے وفد کو لانے پر امیر قطر کی ستائش کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ آج ہندوستان اور قطر کے وزرائے صنعت و تجارت کی شریک صدارت میں ایک مشترکہ بزنس فورم کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سرکردہ صنعت کاروں، کمپنیوں اور اداروں نے بہت مفید بات چیت کی۔
مسٹر چٹرجی نے کہا کہ ہندوستان اور قطر کے درمیان توانائی کے میدان میں بہت ہی متحرک ساجھیداری ہے۔ قطر ہندوستان کے لیے توانائی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے آج کہا کہ فروری 2024 میں قطر انرجی اور پیٹرونیٹ ایل این جی لمیٹڈ نے 2028 سے شروع ہونے والے 20 برسوں کے لیے قطر سے ہندوستان کو سالانہ 7.5 ملین میٹرک ٹن ایل این جی کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی سرمایہ کاری کو تلاش کرنے سمیت توانائی کی ساجھیداری کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور قطر کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات تاریخی تجارت اور عوام سے عوام کے تعلقات پر مبنی ہیں۔ وزیر اعظم نے قطر میں مقیم بڑی ہندوستانی برادری کی حمایت کے لیے امیر قطر کا شکریہ ادا کیا، خاص طور پر کووڈ۔ 19 وبائی مرض کے دوران ہندوستانیوں کی مدد کے لئے شکریہ ادا کیا۔
ایک سوال کے جواب میں، مسٹر چٹرجی نے کہا “ہم فی الحال ہندوستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ جہاں تک قطر کا تعلق ہے، دونوں فریق مستقبل میں دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں اور آج کی بات چیت میں اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جہاں تک اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے معاہدے کا تعلق ہے، یہ درحقیقت دو طرفہ تعلقات کی موجودہ حالت کو اسٹریٹجک سطح تک بلند کرتا ہے۔ ہم جس چیز کو دیکھ رہے ہیں وہ تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنا ہے۔
عالمی اور علاقائی مسائل پر بات چیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسٹر چٹرجی نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات کی اور قدرتی طور پر مغربی ایشیا کی صورتحال اور وہاں ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں فریقین نے اسرائیل اور حماس کے معاملے پر اپنے باہمی موقف کا تبادلہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھا اور ان کی تعریف کی۔
قطر کی جیلوں میں بند ہندوستانیوں کی حالت کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر چٹرجی نے کہا ‘ہمارے کچھ لوگ جیل میں ہیں، اس وقت ان کی تعداد 600 کے قریب ہے۔ وقتاً فوقتاً قطری قیادت نے انہیں معاف کیا اور اپنی شرائط سے رہائی دلائی۔ 2024 میں تقریباً 85 ہندوستانیوں کو معاف کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس قیدیوں کی سزا کی منتقلی کا معاہدہ ہے جو ابھی تک قطری فریق کی منظوری کا منتظر ہے۔
ہندوستانی بحریہ کے سابق افسروں کی رہائی کے بارے میں مسٹر چٹرجی نے کہا “بحریہ کے سابق افسر کے بارے میں جو اب بھی قطر کی جیل میں ہے، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان کا مقدمہ قطر کی مقامی عدالتوں میں ابھی بھی زیر التوا ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور بہبود کے لیے قطر کے امیر اور ان کی حکومت کی کوششوں کی تعریف کی۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
الیکشن کمیشن تنازع کے درمیان کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کل، کھرگے نے کی چیف انتخابی کمشنر کے استعفے کی مانگ
نئی دہلی، الیکشن کمیشن آف انڈیا سے جڑے بڑھتے ہوئے تنازع پر منگل کے روز کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ منعقد ہوگی۔ کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے اس معاملے کو “سنجیدگی سے لڑنے” کا عزم ظاہر کرتے ہوئے چیف انتخابی کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے بتایا کہ الیکشن کمیشن سے متعلق ابھرتے ہوئے حالات پر بحث کرنے اور پارٹی کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز اکائی سے مشورے حاصل کرنے کے لیے سی ڈبلیو سی کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، “میں نے کل کے لیے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلائی ہے، جہاں ہم اس مسئلے پر بات چیت کریں گے اور تمام اراکین اپنی رائے پیش کریں گے۔”
مسٹر کھرگے نے اس معاملے کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا، “یہ معاملہ پورے ملک، ہماری جمہوریت کی بقا اور ہمارے ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہیں۔”
یہ میٹنگ ووٹرفہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری نیز اس کے کام کاج پر اپوزیشن کے الزامات کے بعد کانگریس اور الیکشن کمیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ کانگریس نظرِ ثانی کے عمل پر مسلسل تنقید کر رہی ہے اور کمیشن سے زیادہ جواب دہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن کے ان الزامات کا حوالہ دیا، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گیانیش کمار نے انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں پتنمتٹا سے بی جے پی کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کی ترغیب دی تھی—جسے تھامسن نے مبینہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے اور مسٹر کمار نے اس پر اعلانیہ کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
کانگریس صدر نے الزام لگایا، “خود الیکشن کمیشن کے لوگوں نے ان کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ کیرالہ کے ایک سابق چیف سکریٹری نے کہا ہے کہ خود سی ای سی نے ان سے الیکشن لڑنے کو کہا تھا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بی جے پی کے نظریہ کو فروغ دیتے ہیں اور ان کے کارکن کے طور پر کام کرتے ہیں۔”
انہوں نے مسٹر کمار کے استعفے کی مانگ کی اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی کارروائی جاری رہے گی۔ مسٹر کھرگے نے کہا، “گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہم ان کے استعفے کے بعد بھی ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔”
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایس آئی آر کے عمل کے دوران ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج اور ووٹروں کی اہلیت میں الیکشن کمیشن کے کردار پر اپوزیشن کی تشویش کے باعث تنازع شدید ہو گیا ہے۔ دوسری طرف، الیکشن کمیشن نظرِ ثانی کو ایک آئینی ذمہ داری قرار دے کر اس کا دفاع کر رہا ہے اور کسی بھی سیاسی جانب داری سے انکار کر رہا ہے۔ اس دوران، بی جے پی اور حکومت نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئینی اداروں کو سیاسی حملوں سے دور رکھا جانا چاہیے۔
توقع ہے کہ سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کرنے کے لیے کانگریس کی حکمتِ عملی طے کی جائے گی، جس میں مسٹر کھرگے نے ملک کی انتخابی جمہوریت کی حفاظت کے لیے ایک طویل سیاسی اور ادارہ جاتی مہم چلانے کا اشارہ دیا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
مہنگائی، بڑھتے گھریلو اخراجات پر جے رام رمیش کا حکومت پر شدید حملہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر نریندر مودی حکومت کے خلاف اپنے حملے کو تیز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بالخصوص تہواروں کے موسم میں عام خاندانوں پر مہنگائی کے بڑھتے بوجھ پر کب براہ راست بات کریں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ مسلسل گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہا ہے اور کہا کہ مہنگائی اب صرف کھانے پینے کی اشیاء اور باورچی خانے کے ضروری سامان تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے کہا، ”تہواروں کے موسم میں عوام کی جیبیں لوٹنے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے،“ انہوں نے مزید کہا کہ ”مہنگائی کا درد اب باورچی خانے تک محدود نہیں رہا، لیکن وزیر اعظم بے حسی کے ساتھ ڈھول بجا رہے ہیں۔“
مسٹر رمیش نے حکومت کے خلاف اپنا موقف پیش کرتے ہوئے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیا اور اگست کے مہینے میں پیاز کی قیمتوں میں ہونے والے زبردست اضافے کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پیاز کی مہنگائی اگست میں بڑھ کر 48.27 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ جولائی میں یہ 22.54 فیصد تھی۔
مسٹر رمیش نے کہا، ”سبزیاں مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں، اور پیاز کی مہنگائی اگست میں 48.27 فیصد تک پہنچ گئی،“ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گھریلو استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایئر کنڈیشنر، ٹیلی ویژن اور ریفریجریٹر جیسی مصنوعات مزید مہنگی ہونے والی ہیں اور اس صورتحال کو گھریلو بچت میں کمی اور خاندانوں کے بڑھتے ہوئے قرضوں سے جوڑا۔
انہوں نے سوال کیا، ”ایسے حالات میں ایک عام خاندان اپنی ضروریات کیسے پوری کر سکتا ہے؟“
مسٹر رمیش نے مودی کے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ وزیر اعظم باقاعدگی سے مختلف مسائل پر بات کرتے ہیں لیکن مہنگائی اور خاندانوں کو درپیش مالی دباؤ پر اس طرح کی توجہ کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے پوچھا، ”وزیر اعظم ’من کی بات‘ لڑی میں مختلف مسائل پر نیحتیں کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ ملک کے سب سے اہم مسئلے مہنگائی پر کب بولیں گے؟ وہ عوام کے لیے تشویش کا اظہار کب کریں گے؟“
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ عام لوگ پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ حکومت مناسب ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا، ”ایک عام خاندان اپنا بجٹ کیسے سنبھالے؟ متوسط طبقہ اور غریب کب تک پستے رہیں گے؟“
کھانے پینے کی مختلف اشیاء پر مہنگائی کا دباؤ نمایاں طور پر مختلف رہا ہے۔ جہاں پیاز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ درج کیا گیا، وہیں اگست میں لہسن کی مہنگائی 43.60 فیصد اور ادرک کی مہنگائی 73.82 فیصد رہی۔ اس کے برعکس، ٹماٹر کی قیمتوں میں سال بہ سال 31.09 فیصد اور آلو کی قیمتوں میں 13.14 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
مسٹر رمیش کے یہ تبصرے تہواروں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں، گھریلو بچت، مقروضیت اور صارفین پر مہنگائی کے وسیع تر اثرات پر نئے سرے سے جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت سوال پوچھنے پر اپوزیشن پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ-سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ای ڈی-سی بی آئی) اور عوام پر تھپڑ، لاٹھی نیز گولی کا استعمال کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی لوگوں کے سوالوں سے اس قدر گھبرا گئی ہے کہ ‘ناراض پھوپھا’، ‘دماغی نکسل’ اور ‘آندولن جیوی’ جیسے نازیبا الفاظ بھی اب پھیکے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی-راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) براہ راست تشدد پر اتر آئے ہیں۔ دہلی کے وزیر نوجوان کو تھپڑ مار رہے ہیں اور وزیر داخلہ امت شاہ کی نگرانی میں جنتر منتر پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج ہوا ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ اس سے پہلے کسانوں کو بی جے پی حکومت میں ایک وزیر کے بیٹے نے گاڑی سے کچلا، ایک مرکزی وزیر نے ‘گولی مارو…’ کہا، کسان تحریک میں ربر کی گولیاں چلیں اور 750 کسانوں کی جان گئی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے اونا میں دلتوں پر کوڑے برسائے گئے، لیکن اب تک انصاف نہیں ملا۔ اقتدار کا غرور جب عروج پر ہوتا ہے، تو لوگوں کا عوامی سطح پر استحصال اور تذلیل عادت بن جاتی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی-آر ایس ایس صرف پالیسیوں سے ہی جمہوریت نہیں کچل رہے ہیں، بلکہ اب لاٹھی ڈنڈے تان کر عوام پر براہ راست حملہ کر رہے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا7 days agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا1 week agoواپس آنے کی خواہش ہے، لیکن بنگلہ دیش حکومت رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے: شیخ حسینہ
-
جموں و کشمیر6 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
