تازہ ترین
ہنرمندی فراہم کرے گی ‘آتم نربھربھارت’کو نئی شناخت
مہندرناتھ پانڈے
کسی بھی ملک کی اقتصادی وسماجی ترقی میں ہنرمندی کا بہت اہم تعاون تسلیم کیا جاتا ہے۔ہنرمندی ایک ایسی سادھنا ہے، جس کے ذریعہ نوجوانوں کو بااختیار اور خودکفیلبنایا جاسکتا ہے اور صنعتوں کی مانگ کے مطابق ہنر مند مین پاور تیار کرکے اسکل گیپ کو آسانی سے پر کیا جاسکتا ہے۔ہنر مندی صرف ایک شخص کو نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سماج اور قوم کو بھی آگے بڑھاتی ہے۔
صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو مستقبل میں ہنرمندی ہی وہ ذریعہ ہوگا جو نوجوان طاقت کو خودکفیل بنانے میں اس کی مدد کرے گا اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت دلائی گی۔صلاحیت سازی اورصنعت کاری کی وزارت ریاستی سرکاروں ،تربیت یافتہ شراکت داروں اور متعدد کثیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو ہنر مندی کی تربیت فراہم کررہی ہے۔
آج اسی کا نتیجہ ہے کہ مختلف ہنر مندی کے اداروں میں تربیت حاصل کررہے نوجوانوں نے اپنی صلاحیت اور ہنرمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اختراعات کے شعبہ میں متعدد نئی ایجادات کیں جو مستقبل میں دوسرے طلبا کے لیے تحریک کا باعث ثابت ہوں گی۔صلاحیت سازی اور صنعت کاری کی وزارت نوجوانوں کو 21ویں صدی کے متعلق زبردست تکنیکی اور معیاری تربیت بھی مہیا کرارہی ہے تاکہ ملک کی مجموعی ترقی میں نوجوان اپنی حصہ داری نبھاکر ‘آتم نربھر بھارت’کے وژن کو نئی سمت دے سکیں۔
ہمارے نوجوانوں میں وہ صلاحیت اور ہنر ہے جس کے بل پر بھارت کو عالمی سطح کی ہنر مندی کا مرکزبنایا جاسکتا ہےاور عالمی سطح پر بھارت کا نام سنہرے حروف میں درج کرواسکتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق سال2030تک بھارت کے پاس دنیا کی سب سے بڑی ورک فورس ہونے کی امید ہے ۔
اس میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوگی،اس نوجوان ورک فورس کو ہنرمندی کی تربیت دے کر انہیں مستقبل کے لئے تیار کیا جاسکتا ہےتاکہ روزگار کے نئے مواقع میں تیزی سے اضافہ کیا جاسکے۔ہنرمندی کے ذریعہ ہی ہم 21ویں صدی کے نئے بھارت کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ہنر مندی ہمیں روزگار کے متعدد مواقع فراہم کرتی ہے۔ساتھ ہی خود روزگار کے لئے بھی متحرک کرتی ہے۔
ہنر مندی میں وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ ہم بھارت کو نئی بلندیوں تک پہنچاسکتے ہیں ۔ ہنر مندی کے ذریعے نوجوان اپنے خوابوں کو تعبیر آشنا کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوانوں کو وقت کے عین مطابق رہنے کے لئے ‘اسکل ،اپ اسکل اور ری اسکل ’ کا منتر دیا تھا ۔اس منتر کا استعمال کرکے نوجوان دوسروں سے الگ ہٹ کر اپنی ایک الگ پہچان بنا سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو نئی نئی ٹیکنالوجی میں ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنے اور ضلعی سطح پر خود کفیل بنانے کے مقصد سے‘پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 3.0 ’کو اکتوبر؍نومبر 2020میں کچھ اہم اصول وضوابط کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔اس منصوبے کاہدف مالی سال 2020-21کے دوران8لاکھ امیدواروں کو تربیت فراہم کرنا ہے۔
یہ طلب اور صنعتوں پر مبنی ایک ایسا منصوبہ ہوگا جو نیو ایج اسکلس پر کام کرےگی اور ضلعی سطح پر نوجوانوں کو مضبوط بنائے گی۔اس منصوبے کے تحت ضلعی سطح پر صنعتوں اور دوسرے شعبوں کی طلب کی بنیاد پر جاب رولس کی پہچان کی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ ڈجیٹل ٹیکنالوجی ،ڈجیٹل تعمیر،طلب پر مبنی صلاحیت سازی اور صنعت 4.0 سے متعلق ہنر مندی کے فروغ پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔
‘پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 3.0 ’کے تحت ضلعی سطح پر ‘ضلع ہنرمندی کمیٹیاں’ (ڈی ایم سی) تشکیل دی جائیں گی۔ ضلع ہنرمندی کمیٹیاں صنعتوں کی مانگ کے مطابق مقامی سطح پر اسکل کی شناخت کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس کی علاوہ ڈی ایم سی مختلف مقامات پر ہنرمندی میلوں کا بھی انعقاد کریں گی، جس میں نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت اور نصاب کے بارے میں واقف کروایا جائے گا۔
علاوہ ازیں ڈی ایم سی تمام امیدواروں کو پلیسمنٹ، خودروزگار اور تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے میں بھی اپنا حصہ ادا کرے گی۔ ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت کا مقصد ملک کی مختلف ریاستوں میں ضلعی سطح پر ضلع ہنرمندی کمیٹیوں کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے، تاکہ نوجوانوں کی مانگ کے مطابق انہیں ہنرمند بنایا جاسکے۔
پی ایم کے وی وائی3.0 اسکیم کے تحت عزم بستہ پروجیکٹ کے ذریعہ مقامی سطح پر کارکنوں کو صنعت دی جائے گی اور بڑی سطح پر انہیں مقامی گزربسر کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ پی ایم کے وی وائی3.0 اسکیم میں ریاستی ہنرمندی فروغ مشن (ایس ایس ڈی ایس) کابھی اہم کردار ہوگا۔ ایسی کئی ریاستیں ہیں، جہاں ایس ایس ڈی ایس کے ذریعے ہنرمندی کے فروغ کے علاوہ ضلعی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ امیدواروں کے ہنرکو ترقی دی جاسکے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے سال 2015 میں ‘اسکل انڈیا مشن’ کی شروعات کی تھی۔ اس مشن کا مقصد نوجوانوں کی ہنرمندی کو فروغ کرکے روزگار کے مستقل مواقع مہیا کرنا تھا۔ آج اس مشن کے ذریعے ہر سال ایک کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کے ہنر کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری فلیگ شپ اسکیم ‘پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 3.0 ’کے ذریعے نوجوانوں کو جدید تکنیکوں پر مبنی ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ پی ایم کے وی وائی کے تحت اب تک ایک کروڑ سے زیادہ نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت دی جاچکی ہے اور لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جاچکے ہیں۔
ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت لگاتار تربیتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ آج ملک بھر میں 700 سے زیادہ ضلعوں میں 26 ہزار سے زیادہ مراکز کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے، جہاں پر نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت دیے جانے کےساتھ ساتھ انہیں خودکفیل بنایا جارہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق بھارت میں 487 ملین کارکن ہیں۔ آج بھی ہمارے ملک میں ایسے کارکنوں کی تعداد زیادہ ہے، جو اپنے کام میں ماہر تو ہوتے ہیں لیکن سند یافتہ نہیں ہوتے۔ اسی لیے ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت کے ذریعے ‘اسکل انڈیا مشن’ کے تحت عزم بستہ پروجیکٹ کے ذریعے ایسے کارکنوں کو سند دی جاری ہے، تاکہ انہیں مستقبل میں بہتر روزگار کے مواقع مل سکیں۔
اس کے علاوہ مستقبل کے ہنرمندی کی تشکیل کے لیے بھی کارکنوں کو تیار کیا جارہا ہے، تاکہ انہیں خودکفیل بنایا جاسکے۔ ہماری اہم پہل میں سے ایک آرپی ایل (ریکوگنائزیشن آف پرائر لرننگ) کے ذریعے بھی کارکنوں کے ہنر کو ایک الگ شناخت مل رہی ہے۔ حال ہی میں این ایس ڈی کے ذریعے کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق آر پی ایل سند کاری کے بعد تقریبا 47 فیصد لوگوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
اتنا ہی نہیں نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق جن امیدواروں نے آر پی ایل میں تربیت حاصل کی ہے، ان میں سے 59 فیصد امیدواروں نے اعتراف کیا ہے کہ آرپی ایل ان کے ہنر کو تقویت دیتا ہے اور بازار میں انہیں روزگار کے بہتر مواقع دلانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔
ہنرمندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت کا مقصد ضلعی سطح پر زیادہ سے زیادہ امیدواروں کو پی ایم کے وی وائی3.0 اسکیم سے مربوط کرنا ہے، تاکہ نوجوانوں کے ہنر کی ترقی کرکے انہیں روزگار کے مستقل مواقع فراہم کیے جاسکیں۔
ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی رفتار کو بڑھانے کے لیے ہم عہد بستہ ہیں۔ ہم ایک ایسے نئے بھارت کی تعمیر کی سمت پیش رفت کررہے ہیں،جس کی شناخت ‘آتم نربھر بھارت’ کے طور پر کی جائے گی۔
ہندوستان
گیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی کے تحت ہٹائے گئے 13.3 کروڑ ووٹروں کے نام اور انہیں ووٹ دینے سے محروم کرنے کی وجہ عام کی جانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے بدھ کے روز یہاں اپوزیشن پارٹیوں کے انڈیا اتحاد کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حقیقی ہندوستانی شہری کو غیر شفاف، من مانی یا نا کافی نگرانی والی کارروائی کے ذریعے ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر نام ہٹائے گئے ہیں، تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس کا نام ہٹایا گیا اور کیوں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کی روح کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر قابلِ اعتماد انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے دو ساتھی الیکشن کمشنروں نے 10 مہینے میں 14 بار اس کارروائی پر اعتراضات درج کیے ہیں لیکن ان کے اعتراضات پر توجہ نہیں دی گئی، اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے یا انہیں خود استعفیٰ دینا چاہیے۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سلیکشن کمیٹی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹا کر مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنروں کو ان کے سرکاری کاموں کے سلسلے میں دی گئی قانونی تحفظ کا بھی معاملہ اٹھایا اور سپریم کورٹ کے اس تبصرے کا ذکر بھی کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا آزاد ہونا ہی نہیں، بلکہ اس کا آزاد دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے پہلی بار ووٹنگ کرنے والے نوجوانوں کے لیے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ نوجوانوں کے لیے ووٹر رجسٹریشن کی کارروائی آسان اور قابلِ رسائی ہونی چاہیے نیز تمام غیر ضروری رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ ای وی ایم کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ووٹنگ بیلٹ پیپر سے کرائی جانی چاہیے، تاکہ انتخابی نظام میں لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال ہو سکے۔
انہوں نے پری-ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو مستقبل کے انتخابات میں استعمال کرنے، ووٹر لسٹ میں اسمبلی اور بوتھ کی سطح پر نام جوڑنے، ہٹانے اور سدھار کی پوری جانکاری دینے نیز کسی جائز ووٹر کا نام ہٹانے سے پہلے نوٹس، وجہ اور مؤثر اپیل کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ انتظامی خامیوں، نا کافی دستاویزات یا بیداری کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اعتماد قائم کرنے والے نظام کو ضروری بتایا اور کہا کہ انتخابات میں شفافیت سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ جنرلوں اور ایڈمرلوں کے لیے مختص فوجی عہدوں کی تعداد میں 20 فیصد کمی کرنے کا اعلان کریں گے۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس فیصلے سے امریکی بری، بحری اور فضائی افواج کی اعلیٰ قیادت متاثر ہوگی۔
عہدیدار کے مطابق ہیگستھ بدھ کو ورجینیا میں میرین کور بیس کوانٹیکو کے دورے کے دوران اپنے ’’اسٹیٹ آف دی فورس‘‘ خطاب میں اس فیصلے کا اعلان کریں گے۔ وہ یہ خطاب جونیئر افسران اور فوجی اہلکاروں کے سامنے کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے پینٹاگون کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ہیگستھ تمام فوجی شعبوں کو تقریباً 800 جنرل اور فلیگ افسران کے عہدوں میں گزشتہ سال کی گئی 10 فیصد کمی کو دوگنا کرنے کی ہدایت دیں گے۔ اس طرح مجموعی کمی 20 فیصد ہوجائے گی اور اسے یکم جنوری 2027 تک مکمل کیا جانا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق نئی کٹوتیوں میں ایک اسٹار جنرل یا اس سے اوپر کے عہدے کے افسران، یا بحریہ میں مساوی رینک رکھنے والے افسران شامل ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ان کٹوتیوں سے موجودہ اور ترقی کے منتظر ’’سینکڑوں فوجی رہنماؤں‘‘ کے کیریئر متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ہیگستھ نے جنوری 2025 میں حکومت سنبھالنے کے بعد دو درجن سے زائد اعلیٰ فوجی رہنماؤں کو برطرف کیا یا ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا ہے۔
ان میں فوج کے اعلیٰ وردی پوش افسر جنرل رینڈی جارج بھی شامل ہیں، جنہیں اپریل میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے چار اسٹار رینک رکھنے والی دونوں خواتین افسران کو بھی برطرف کیا، جبکہ متعدد دیگر اعلیٰ عہدے دار ریٹائرمنٹ یا استعفوں کے ذریعے عہدے چھوڑ چکے ہیں۔ فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے بھی ہیگستھ کے ساتھ بار بار اختلافات کے بعد رواں ماہ استعفیٰ دیا۔
ہیگستھ نے گزشتہ سال اعلیٰ فوجی عہدوں میں کمی کی کوشش کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ’’قیادت کو بہتر اور منظم بنانے کے لیے غیر ضروری فوجی ڈھانچے‘‘ کو ختم کرنا ہے۔ مئی 2025 میں جاری ایک یادداشت میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ فوج کو ’’غیر ضروری افسر شاہی کی تہوں‘‘ سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔
گزشتہ سال اسی عرصے میں ہیگستھ نے ’’ووک‘‘ ثقافت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فوجیوں کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی تھیں، جن میں جسمانی فٹنس کے لیے ’’صنفی غیر جانب دار‘‘ یا ’’مردانہ معیار‘‘ مقرر کرنا شامل تھا۔
سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رینکنگ رکن اور رہوڈ آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جیک ریڈ نے اس تازہ اقدام پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ قیادت کے عہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کانگریس سے مشاورت کے بعد ہونا چاہیے اور متوقع کٹوتیوں کو ’’ہر امریکی کے لیے باعث تشویش‘‘ قرار دیا۔
ریڈ نے کہا، ’’کانگریس وزیر دفاع پر واضح کر چکی ہے کہ انہیں اس ادارے سے مشاورت کرنی ہوگی اور اعلیٰ افسران کو ہٹانے اور ترقیوں کو روکنے کی وجوہات بتانی ہوں گی۔ اب تک ہمیں تسلی بخش جوابات نہیں ملے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہماری فوج دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہے اور افواج پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔‘‘
امریکی قانون کے تحت جنرل افسران کے عہدوں کی تعداد مقرر کی جاتی ہے، تاہم اگر انتظامیہ کانگریس کو نامزدگیاں پیش نہ کرے تو یہ عہدے خالی رکھے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے کی اجازت دے دی
واشنگٹن، امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو نچلی عدالت کے اس حکم کو عارضی طور پر روک دیا جس نے امریکی حکام کو تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے علاوہ تیسرے ممالک میں ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا تھا، جس سے انتظامیہ کو ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے 25 فروری 2026 کے حکم اور میساچوسٹس کی وفاقی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی، جس نے پہلے امریکہ سے تارکین وطن کی دوسرے ممالک میں ملک بدری پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔
امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ محکمہ انصاف میساچوسٹس کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے گا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تیسرے ممالک میں تارکین وطن کو تیزی سے ملک بدر کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کی قانونی حیثیت پر دسمبر میں سماعت کرے گی۔ سونیا سوٹومائیر، ایلینا کاگن اور کیتنجی براؤن جیکسن نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے جنرل کونسلر جیمز پرسیول نے اس فیصلے کو محکمے کی ایک اور “فتح” قرار دیا اور تارکین وطن سے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ تیسرے ممالک کو ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی دوبارہ نافذ ہو گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے دن ہی غیر قانونی امیگریشن کو روکنے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے امریکی سرحد پر بحران سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان بھی کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
