تازہ ترین
ہیف شوپیان خونریز جھڑپ: 3حزب جنگجو جاں بحق، چار فوٹو جرنلسٹ زخمی ،مکمل رپورٹ
خبراردو:
پہاڑی ضلع شوپیان کے ہیف شرمال علاقے میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین گھماسان کی لڑائی میںآئی پی ایس آفیسر کے بھائی سمیت 3مقامی جنگجو جاں بحق جبکہ فوج کا ایک اہلکار طرفین کی فائرنگ میں زخمی ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ جھڑپ کے آغاز کے ساتھ ہی ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں اور خواتین کی مختلف ٹولیوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے فوج و فورسز پر سنگ باری کرنے کے علاوہ جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تاہم فورسز نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں آنسو گیس کے گولے اور پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ ادھر ضلع بھر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شام دیر گئے تک فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں۔ اس دوران امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے انتظامیہ نے علی الصبح ہی شوپیان کے مضافات میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردئے جبکہ جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ضلع بھر میں ہڑتال کیفیت کا مشاہدہ کیا گیا جسکے نتیجے میں عوامی، کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ادھر حزب المجاہدین نے معرکے میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔

شوپیان کے ہیف شرمال علاقے میں منگلوار کی علی الصبح اُس وقت افرا تفری کا عالم بپا ہوا جب یہاں فوج و فورسز کی بھاری جمعیت نے ایک مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی۔معلوم ہوا ہے کہ فوج کی44آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری جمعیت نے منگل صبح کو ضلع کے ہیف شرمال نامی گاؤں میں موجود وسیع رقبے پر پھیلے میوہ باغ کا محاصرہ کیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فوج اور فورسز کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ یہاں میوہ باغ میں 2سے 3جنگجوؤں نے پناہ لے رکھی ہے جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے علی الصبح گاؤں کا کڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے تمام راستوں پر فورسز کی اضافی ٹکڑیوں کو تعینات کردیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ محاصرہ اس قدر سخت کیا گیا تھا کہ گاؤں کے اندرون و بیرون راستوں پر فورسز اہلکاروں کے دستوں کو الرٹ رکھا گیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ کے ساتھ بروقت نپٹا جاسکے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہیف شرمال کے اندرونی اور بیرونی راستوں پر فوج اور ٹاسک فورس کے اہلکاروں کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ تیاری کی حالت میں رکھا گیا تھا جبکہ گاؤں کی تمام گلی کوچوں اور نکڑوں پر کیسپر گاڑیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ ادھر فورسز نے جونہی گاؤں میں موجود وسیع رقبہ اراضی پر پھیلے میوہ باغات کا تنگ کیا اور یہاں تلاشی آپریشن کے لیے داخل ہوگئے تو اسی اثنا میں باغ میں موجود جنگجوؤں کی جمعیت نے فورسز پر جدید ہتھیاروں سے سخت فائرنگ کی جس کے بعد فورسز نے بھی جنگجوؤں کی فائرنگ کا جواب دیا۔ معلوم ہوا کہ منگل کی 12بجے تک گاؤں میں وقفے وقفے سے فائرنگ جاری تھی جس دوران جنگجوؤں کی فائرنگ سے ایک اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا جسے یہاں موجود دیگر فورسز اہلکاروں نے ہٹاکر ہسپتال منتقل کردیا جہاں اُس کا علاج و معالجہ جاری ہے۔
اس دوران دوپہر کے ساتھ ہی فورسز اہلکاروں نے حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ لیتے ہوئے میوہ باغ کے ارد گرد گھیرا تنگ کردیا اور جنگجوؤں کے مشتبہ ٹھکانے پر شدید گولہ باری کی۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ اس دوران گاؤں میں گولیوں کی گن گرج اور گولوں کی آوازیں کافی دیرتک سنائی دیں جس کے نتیجے میں علاقہ سہم گیا۔ادھر طرفین کی گولہ باری میں ٹھہراؤ آنے کے بعد فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ ٹھکانے کے ارد گرد تلاشی کارروائی شروع کی تو یہاں 3جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جونہی مشتبہ ٹھکانے کے ارد گرد فورسز اہلکاروں نے تلاشی لی تو یہاں 3جنگجوؤں کی لاشیں برآمد کی گئیں جن کی شناخت عامر احمد بٹ عرف ابو حنظلہ ساکن چڑی پورہ شوپیان، ڈاکٹر شمس الحق منگنو عرف برہان ثانی ولد محمد رفیق منگنو ساکن دراگڈ شوپیان اور شعیب شاہ ولد غلام رسول شاہ ساکن شرمال شوپیان کے بطور ہوئی۔پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوؤں کی تحویل سے اسلحہ و گولہ باروداور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ میں جاں بحق جنگجو ڈاکٹر شمس الحق جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے سے پہلے گورنمنٹ کالج زکورہ سرینگر سے بی یو ایم ایس کی ڈگری حاصل کررہا تھا۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کا بھائی انعام الحق 2012بیچ کے آئی پی ایس آفیسر ہیں جو فی الوقت شمالی ہندوستان میں تعینات ہیں۔
ادھر جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی علاقے اور مضافات میں نوجوانوں اور خواتین کی مشترکہ ٹولیوں نے فورسز اہلکاروں پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ مظاہرین نے فورسز اہلکاورں پر شدید سنگ باری کرنے کے علاوہ اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں زور دار نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنا چاہی۔ علاقے میں پیدا شدہ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کی خاطر آنسو گیس کے درجنوں گولے داغنے کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں علاقہ بھر میں سراسیمگی کی کیفیت رونما ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے والے 4فوٹو جرنلسٹ زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوٹو جرنلسٹوں کے چہروں پر اُسوقت پیلٹ چھروں کی بارش ہوئی جب وہ جائے جھڑپ کے نزدیک فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی عکس بندی میں مشغول تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے وسیم اندرابی، روزنامہ رائزنگ کشمیر کے نثار الحق، کشمیر ایسنس کے جنید گلزار اور خبررساں ادارے اے این این کے برہان میر شامل ہیں۔
ادھر جھڑپ میں مارئے گئے آئی پی ایس آفیسر انعام الحق کے بھائی ڈاکٹر شمس الحق سے متعلق سابق پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ’’شمس الحق کو مین اسٹریم میں واپس لانے کے لیے اُسکے بھائی ، اہل خانہ اور پولیس کی طرف سے کافی سنجیدہ کوششیں کی گئیں تاہم آج وہ اپنے برے انجام کو پہنچ گیا‘‘۔ادھر جھڑپ کے اختتام پذیر ہونے کے بعد ہی علاقے بھر میں شام دیر گئے تک مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں جاری تھیں ۔ ادھر امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور افواہ بازی پر لگام کسنے کے لیے انتظامیہ نے منگل کی صبح سے ہی ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ اس دوران جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی ہیف شرمال اور مضافات میں مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ معلوم ہوا ہے کہ احتجاجی ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بھی بری طرح سے متاثر رہی۔
ادھر حزب المجاہدین نے جھڑپ میں جاں بحق جنگجوؤں کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمس الحق سمیت تین عسکریت پسندوں نے ظلم وجبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء اپنے گرم گرم خون سے تحریک آزادی کی آبیاری کر رہے ہیں اور شہداء کا یہ مقدس لہو ان شااللہ رنگ لائے گا اور دشمن کشمیر نے عنقریب نکلنے پر مجبور ہوجائے گا۔ حزب سربراہ سید صلاح الدین نے اپنے پیغام میں بتایا کہ شہداء کشمیری قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی ہیں جن کی قربانیوں کے ساتھ نہ سودابازی ہوگی اور نہ کسی کو سودا بازی کرنے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے ،یہ قوم صدیوں سے قربانیاں پیش کر رہی ہے اور کشمیر میں آج چوتھی نسل ہے جو بے سروسامانی کے عالم میں ایک بڑی طاقت کا مقابلہ کر کے دشمن کے دانت کھٹے کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں سے آزادی کی منزل قریب ہوگی۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
