ہندوستان
یوم جمہوریہ کے موقع پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے ملک سے خطاب کا متن
نئی دہلی، یوم جمہوریہ کے موقع پر آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن پر نشر ہونے والے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے ملک سے خطاب کا متن…
میرے پیارے ہم وطنو،
نمسکار !
1. اس تاریخی موقع پر آپ سب سے خطاب کرتے ہوئے مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ یوم جمہوریہ کی ماقبل شام ، میں آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔آج سے 75برس قبل 26 جنوری کے دن ہی جمہوریہ ہندکی بنیادی کتاب یعنی ہندوستان کا آئین، نافذ ہواتھا۔
2. تقریباً تین سال کے غور و فکر کے بعد، آئین ساز اسمبلی نے 26 نومبر 1949 کے دن آئین کو اپنایا تھا ۔ اس مناسبت سے سال 2015 سے 26 نومبر کو یوم آئین کے طور پر منایا جاتا ہے۔
3. یوم جمہوریہ کا جشن ،تمام ہم وطنوں کے لیے اجتماعی خوشی اور فخر کا باعث ہوتا ہے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی قوم کی تاریخ میں75 سال کا عرصہ پلک جھپکنے کے مترادف ہے۔ لیکن میرے خیال میں ہندوستان کے گذشتہ 75برسوں کے تناظر میں ایسا ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔ یہ وہ دور ہے جس میں ہندوستان کی روح جو ایک طویل عرصے سے سوئی ہوئی تھی، دوبارہ بیدار ہوئی ہے اور ہمارا ملک عالمی برادری میں اپنا صحیح مقام حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھا ہے۔ ہندوستان، جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے، علم و حکمت کا ماخذ سمجھا جاتا تھا،لیکن، ہندوستان کو ایک تاریک دور سے گزرنا پڑا۔ نوآبادیاتی دور میں، غیر انسانی استحصال کی وجہ سے ملک میں انتہائی غربت پھیل گئی۔
4. آج کے دن، سب سے پہلے ہم ان بہادروں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے مادر وطن کو غیر ملکی حکمرانی کی بیڑیوں سے آزاد کرانے کے لیے عظیم ترین قربانیاں دِیں۔ لوگ، اُن میں سے کچھ مجاہدین آزادی کے بارے میں جانتے ہیں، لیکن ان میں سے کئی کے بارے میں ان کے پاس معلومات نہیں تھیں۔ اس سال، ہم بھگوان برسا منڈا کا 150 واں یوم پیدائش منا رہے ہیں۔ اُن کا شمار ایسے سرکردہ مجاہدین آزادی میں ہوتا ہے جن کے کردار کو اب قومی تاریخ کے تناظر میں اہمیت دی جا رہی ہے۔
5. بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں مجاہدین آزادی کی جدوجہد نے ایک منظم ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ یہ ملک کی خوش قسمتی تھی کہ مہاتما گاندھی، رابندر ناتھ ٹیگور اور بابا صاحب امبیڈکر جیسی عظیم ہستیوں نے ہمارے ملک کی جمہوری اقدار کو پھر سے زندہ کیا۔ انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارہ،صرف آئینی تصورات نہیں ہیں جن سے ہم جدید دور میں متعارف ہوئے ہیں بلکہ ،زندگی کی یہ قدریں ہمیشہ ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ رہی ہیں۔ اُن ناقدین کو جنہوں نے نئے آزاد ہندوستان کے آئین اور جمہوریہ کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا، اُنہیں زندگی کے اِن ہی اقدار کی بنیاد پر غلط ثابت کیا جا سکا ۔
6. ہندوستان کی جمہوری اقدار کا عکس ہمارے آئین ساز اسمبلی کے ڈھانچے میں بھی نظر آتا ہے۔ اُس اسمبلی میں ملک کے تمام حصوں اور تمام برادریوں کی نمائندگی تھی۔ سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ آئین ساز اسمبلی میں سروجنی نائیڈو، راج کماری امرت کور، سوچیتا کرپلانی، ہنسابین مہتا اور مالتی چودھری جیسی15 غیر معمولی خواتین بھی شامل تھیں۔ جہاں دنیا کے کئی حصوں میں خواتین کی برابری کو ایک دُور کا آئیڈیل سمجھا جاتا تھا، وہیں ہندوستان میں، خواتین ملک کی تقدیر کی تشکیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھیں۔
7. ہمارا آئین ایک زندہ دستاویز بن گیا ہے کیونکہ شہریوں کی وفاداری صدیوں سے ہمارے اخلاقی نظریے کا کلیدی عنصر رہی ہے۔ ہمارا آئین ہندوستانیوں کے طور پر ہماری اجتماعی شناخت کی بنیاد ہے، جو ہمیں ایک خاندان کی طرح متحد کرتا ہے۔ گذشتہ75 برسوں سے آئین نے ہماری ترقی کی راہ ہموار کی ہے۔ آج کے دن، ہم آئین ساز اسمبلی کی ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، اسمبلی کے دیگر معزز اراکین، آئین سازی سے وابستہ مختلف عہدیداروں اور دیگر کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی محنت کے نتیجے میں ہمیں آئین کا شاندار تحفہ حاصل ہوا ہے۔
پیارے ہم وطنو،
8. آئین کے نفاذ کے بعد سے یہ 75 سال ہماری نوجوان جمہوریت کی ہمہ گیر ترقی کے گواہ ہیں۔ آزادی کے وقت اور اُس کے بعد بھی ملک کے بڑے حصوں میں انتہائی غربت اور بُھکمری کے حالات برقرار تھے۔ لیکن، ہماری خود اعتمادی کبھی متزلزل نہیں ہوئی۔ ہم نے ایسا سازگار ماحول پیدا کرنے کا عزم کیا جس میں ہر کسی کو ترقی کا موقع ملے۔ ہمارے کسان بھائی-بہنوں نے سخت محنت کی اور ہمارے ملک کو اناج کی پیداوار میں خود کفیل بنایا۔ ہمارے مزدور بھائی-بہنوں نے انتھک محنت کی اور ہمارے انفرااسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کی قسمت بدل دی۔ اُن کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے آج ہندوستانی معیشت، عالمی اقتصادی منظرنامے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ آج کا ہندوستان بین الاقوامی فورم پر قائدانہ مقام حاصل کر رہا ہے۔یہ زبردست تبدیلی ،آئین میں طے شدہ فریم ورک کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
9. حالیہ برسوں میں معاشی ترقی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے ہمارے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ، کسانوں اور مزدوروں کے ہاتھ زیادہ پیسہ آیا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو غربت سے نکالاجا سکا ۔دور اندیشی پر مبنی جرأت مندانہ معاشی اصلاحات کی بدولت آنے والے برسوں میں ترقی کی یہ رفتار جاری رہے گی۔ شمولیت پر مبنی پیش قدمی ہماری ترقی کی بنیاد ہے، جس سے کہ ترقی کے ثمرات زیادہ سے زیادہ ہم وطنوں تک پہنچتے ہیں ۔
10. حکومت کی طرف سے مالی شمولیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، اس لیے پردھان منتری جن دھن یوجنا، پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا، پردھان منتری سُرکشا بیمہ یوجنا، مدرا یوجنا، اسٹینڈ اپ انڈیا اور اٹل پنشن یوجنا جیسی مالی معاونت کی اسکیمیں وضع کی گئی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مختلف قسم کی مالی امداد فراہم کی جا سکے۔
11. یہ بھی ایک بہت اہم تبدیلی ہے کہ حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کی تعریف ہی بدل دی ہے جس کے مطابق بنیادی ضروریات کی چیزوں مثلاً رہائش اور پینے کے پانی کو بنیادی حقوق تصور کیا گیا ہے۔ پسماندہ طبقات خصوصاً درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کی مدد کے لیے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ درج فہرست ذات کے نوجوانوں کے لیے پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ، نیشنل فیلو شپ، غیر ملکی اسکالرشپ، ہاسٹل اور کوچنگ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ پردھان منتری انوسوچت جاتی ابھیو دے یوجنا کے ذریعے روزگار اور آمدنی کے مواقع پیدا کرکے درج فہرست ذات کے لوگوں کی غریبی کو تیزی سے کم کیا جا رہا ہے۔ درج فہرست قبائل کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے خصوصی اسکیمیں تیار کی گئی ہیں، جن میں دھرتی آبا جنجاتیہ گرام اُتکرش ابھیان اورپردھان منتری جنجاتیہ آدیواسی نیا ئےمہا ابھیان – پی ایم-جن من شامل ہیں۔ آزاد، خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش برادریوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ایک بور ڈ تشکیل دیا گیا ہے۔
12. گذشتہ ایک دہائی کے دوران، فزیکل انفرااسٹرکچر کی ترقی پر زور دیا گیا ہے،جن میں سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں اور لاجسٹک ہب شامل ہیں۔اِس سے ایک ایسی مضبوط بنیادبن گئی ہے جو آنے والی دہائیوں میں ہماری ترقی کومضبوطی فراہم کرے گی ۔
13. حکومت نے مالی شعبے میں ٹیکنالوجی کا جس طرح استعمال کیا ہے وہ ایک مثال ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگی کے مختلف متبادل کے ساتھ ساتھ فائدے کی براہ راست منتقلی کے نظام نے شمولیت کو فروغ دیا ہے، جس سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو باقاعدہ نظام کے تحت شامل کیا جا سکا ہے۔ جس کی وجہ سے نظام میں غیر معمولی شفافیت بھی آئی ہے۔ اس عمل میں چند برسوں میں ہم نے ایک ایسا مضبوط ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر تیار کیا ہے جو دنیا کے بہترین انفرااسٹرکچر میں شامل ہے۔
14. انسول وینسی اینڈبینک کرپسی کوڈ جیسے جرات مندانہ اقدامات کے نتیجے میں، بینکنگ سسٹم اب اچھی حالت میں آگیا ہے۔ اس سے شیڈولڈ کمرشل بینکوں کے نَن پرفارمنگ ایسیٹس میں نمایاں کمی آئی ہے۔
پیارے ہم وطنو،
15. ہم نے 1947میں ہی آزادی حاصل کر لی تھی ، لیکن نوآبادیاتی ذہنیت کے بہت سے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہے ۔ حالیہ دنوں میں، ہم اس ذہنیت کو تبدیل کرنے کی کارگر کوششوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ایسی کوششوں میں انڈین پینل کوڈ، کریمنل پروسیجر کوڈ اور انڈین ایویڈنس ایکٹ کی جگہ انڈین جوڈیشل کوڈ، انڈین سول ڈیفنس کوڈ اور انڈین ایویڈینس ایکٹ کو نافذ کرنے کا فیصلہ قابل ذکر ہے۔انصاف کی ہندوستانی روایات پر مبنی فوجداری نظام کے اِن نئے ایکٹ کے مرکز میں سزا کے بجائے انصاف کی روح کو برقرار رکھا گیا ہے۔ مزیدیہ کہ اِن نئے قوانین میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
16. اِس قدر وسیع پیمانے پر اصلاحات کے لیے جرات مندانہ وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک میں بیک وقت انتخابات کرانے کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جانے والا بل ایسی ہی ایک اور کوشش ہے جس کے ذریعے گڈ گورننس کو ایک نئی جہت دی جا سکتی ہے۔ ’ون نیشن ون الیکشن‘ نظام سے گورننس میں تسلسل کو فروغ مل سکتا ہے، پالیسی سازی سے متعلق جمودکو ختم کیا جا سکتا ہے، وسائل کے بے دریغ استعمال کا امکان کم کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی مالی بوجھ کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ اِن کے علاوہ اِن سے مفاد عامہ کے پیش نظر اور بھی بہت سے فائدے ہوسکتے ہیں۔
17. اپنے ثقافتی ورثے کے ساتھ ہمارا رشتہ مزید گہرا ہوا ہے۔ اس وقت جاری پریاگ راج مہا کمبھ کو اپنے بھرپور ورثے کے موثر اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ثقافت کے میدان میں ہماری روایات اور رسم و رواج کو برقرار رکھنے اور ان میں نئی توانائی پیدا کرنے کے لیے بہت سی حوصلہ افزا کوششیں کی جا رہی ہیں۔
18. ہندوستان کی سرزمین عظیم لسانی تنوع سے آراستہ ہے۔ اسے برقرار رکھنے اور اس روایت کو آگے بڑھانے کے لیے، حکومت نے اسمیا ، بنگلا ، مراٹھی، پالی اور پراکرت کو کلاسیکی زبانوں کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ تمل، سنسکرت، تیلگو، کنڑ، ملیالم اور اوڑیا زبانیں پہلے سے ہی کلاسیکی زبانوں میں شامل ہیں۔حکومت اب اِن 11 کلاسیکی زبانوں میں تحقیقی عمل کو فروغ دے رہی ہے۔
19. مجھے خوشی ہے کہ گجرات کے وڈنگر میں ہندوستان کے پہلےآرکیالوجیکل ایکسپریمنٹ میوزیم کا کام مکمل ہونے والا ہے۔ یہ میوزیم آثار قدیمہ کی سائٹ سے منسلک ہے ۔ اِس مقام پر تقریباً 800 قبل مسیح کے انسانی رہائش کے شواہد ملے ہیں۔ اس میوزیم میں مختلف ادوار کے مختلف اقسام کے فن، دستکاری اور ثقافتی فن پاروں کی نمائش کی جائے گی ۔
پیارے ہم وطنو،
20. ہماری آج کی نوجوان نسل کل کے ہندوستان کی تعمیر کرے گی۔ ہماری نوجوان نسل کی صلاحیتیں تعلیم کے ذریعے ہی نکھرتی ہیں۔ اس لیے حکومت نے تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے اور تعلیم سے متعلق ہر معیار کو بہتر بنانے کے لیے جامع کوششیں کی ہیں۔ اب تک کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔ گذشتہ دہائی کے دوران، تعلیم کے معیار، فزیکل انفرااسٹرکچر اور ڈیجیٹل شمولیت کے شعبے میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔ تعلیم کی مختلف سطحوں پر علاقائی زبانوں کو، ذریعۂ تعلیم کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ توقع کے مطابق طلباء کی کارکردگی میں نمایاں بہتری بھی آئی ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ خواتین ٹیچروں نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران نئے اساتذہ میں خواتین کا تناسب 60 فیصد سے زیادہ ہے۔
21. پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنر کا فروغ اور اُنہیں مرکزی دھارے میں شامل کیا جانا ایک خوش آئند حصولیابی ہے۔ اِس عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے اب ہمارے نوجوانوں کو منصوبہ بند طریقے سے کارپوریٹ سیکٹر میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
22. اسکول کی سطح پر تعلیم کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں تعلیم کے حصول کے مختلف شعبوں ، خاص طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی بلندیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔ انٹلیکچوئل پراپرٹی فائلنگ کے معاملے میں ہندوستان دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔ گلوبل انوویشن انڈیکس میں ہندوستان کی درجہ بندی میں مسلسل بہتری آئی ہے۔ سال 2020 میں ہندوستان 48 ویں نمبر پر تھا۔اپنی پوزیشن بہتر کرتے ہوئے سال 2024 میں ہندوستان 39ویں نمبر پر آگیا ہے۔
23. بڑھتے ہوئے اعتماد کے ساتھ، ہم متعدد اقدامات کے ذریعے جدید تحقیق میں اپنی حصہ داری بڑھا رہے ہیں۔ نیشنل کوانٹم مشن کا مقصد ٹیکنالوجی کے اِس نئے شعبے میں ایک متحرک اور جدید ایکو سسٹم تیار کرنا ہے۔ ایک اور قابل ذکر اقدام نیشنل میشن آن انٹر ڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹم سے متعلق ہے۔ اس کے تحت آرٹیفیشل انٹیلی جنس، مشین لرننگ، روبوٹکس اور سائبر سیکیورٹی جیسی کئی جدید ٹیکنالوجیوں پر کام کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز جو کچھ عرصہ پہلے تک مستقبل کی باتیں سمجھی جاتی تھیں، اب تیزی سے ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن رہی ہیں۔
24. جینوم انڈیا پروجیکٹ نہ صرف قدرت کے رازوں کو دریافت کرنے کی ایک دلچسپ مہم ہے، بلکہ یہ ہندوستانی سائنس کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب بھی ہے۔ اِس کے اہم پروگرام کے تحت، اس ماہ 10ہزار ہندوستانیوں کی جیوم سیکوینسنگ کو تحقیق کے لیے دستیاب کرایا گیا ہے۔ یہ منصوبہ،علم کی نئی جہتیں کھولے گا، بائیو ٹیکنالوجی کی تحقیق میں نئی راہیں ہموار کرے گا اور صحت عامہ کے نظام کو بھی مضبوط کرے گا۔
25. انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن نے حالیہ برسوں میں خلائی سائنس کے میدان میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس ماہ، اسرو نے ایک بار پھر اپنے کامیاب خلائی ڈاکنگ تجربے سے ملک کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ ہندوستان اب یہ صلاحیت رکھنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے۔
26. ایک قوم کی حیثیت سے ہمارا بڑھتا ہوا اعتماد، کھیل کے میدان میں بھی نظر آرہا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں نے کامیابی کےروشن باب رقم کیے ہیں۔ گذشتہ سال ہمارے کھلاڑیوں نے اولمپک گیمز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پیرا لمپک گیمز میں، ہم نے اپنا اب تک کا سب سے بڑا دستہ بھیجا، جس نے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ہمارے کھلاڑیوں نے FIDE شطرنج اولمپیاڈ میں اپنی کارکردگی سے عالمی برادری کو متاثر کیا اور مرد اور خواتین کھلاڑیوں نے گولڈ میڈل جیتے۔ سال 2024 میں، ڈی گوکیش نے اب تک کا سب سے کم عمر عالمی چیمپئن بن کر تاریخ رقم کی۔
27. ملک بھر میں زمینی سطح پر تربیتی سہولیات میں کافی بہتری آئی ہے اور اِس کے دم پر ہمارے ایتھلیٹس نے جیت حاصل کر کے ہمیں فخر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے آنے والی نسلوں کو اوربھی اعلیٰ مقاصد حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔
28. بیرون ملک رہنے والے ہمارے بھائی بہنوں نے ہماری ثقافت اور تہذیب کے بہترین پہلوؤں کو دنیا کے مختلف حصوں میں پہنچایا ہے اور بہت سے شعبوں میں اپنی کامیابیوں سے ہمیں فخر کا احساس کرایا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ خود کو ہندوستان کی شاندار تاریخ سے وابستہ رکھا ہے۔ جیسا کہ میں نے اِس ماہ کے شروع میں پرواسی بھارتیہ دیوس کے موقع پر کہا تھا، مجھے سال 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں این آر آئیز کی فعال اور پرجوش شرکت پر پورا بھروسہ ہے۔
پیارے ہم وطنو،
29. مختلف شعبوں میں نمایاں اور قابل ذکر پیشرفت کے ساتھ، ہم اپنے سروں کو بلندرکھ کر مستقبل کی جانب گامزن ہیں۔ہمارے نوجوان خصوصاً ہماری بیٹیاں ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر کریں گی ۔ جب ہم اپنی آزادی کا صد سالہ جشن منا رہے ہوں گے ،تب ہندوستان کا مستقبل اپنے نوجوانوں کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر رہا ہوگا اور جب آج کے بچے 26 جنوری 2050 کو قومی پرچم کو سلامی دے رہے ہوں گے تو وہ اپنی آنے والی نسلوں کو بتا رہے ہوں گے کہ ہمارے ملک کی شان و شوکت کا سفر ہمارے لاجواب آئین کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔
30. ہماری آئندہ نسلیں عالمی سطح پر آزاد ہندوستان کے نظریات کو حقیقت کی شکل دیں گی۔ میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے پیغام کا ذکر کرنا چاہوں گی۔ باپو نے کہا تھا :
’’اگر سوراج کا مطلب ہمیں مہذب بنانا اور ہماری تہذیب کو خالص اور مستقل بنانا نہیں ہے، تو اِس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ہماری تہذیب کا نچوڑ یہ ہے کہ ہم اپنے تمام معاملات میں اخلاقیات کو اعلیٰ مقام دیں، خواہ وہ سیاسی ہوں یا ذاتی۔‘‘
30. آئیے آج کے دن گاندھی جی کے خوابوں کو پورا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔ اُن کے سچائی اور عدم تشدد کے اصول عالمی برادری کے لیےہمیشہ اہمیت کے حامل رہیں گے ۔ انہوں نے ہمیں یہ بھی بتایا تھا کہ اختیارات اور ذمہ داریاں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اختیارات کا اصل ذریعہ ذمہ داریاں ہیں۔آئیے ہم سب کے ساتھ ہمدردی کرنے کے سلسلے میں بھی اُن کی تعلیمات کو یاد کریں ۔ وہ کہتے تھے کہ ہمیں صرف انسانوں سے ہی نہیں بلکہ اپنے اطراف کے جانوروں، پرندوں، درختوں، پودوں، دریاؤں اور پہاڑوں سے بھی ہمدردی کرنی چاہیے۔
31. یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کے عالمی بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں اپنا تعاون پیش کریں ۔ اِس تناظر میں دو مثالی کوششیں کی گئی ہیں۔ عالمی سطح پر، بھارت ،مشن لائف اسٹائل فار انوائرنمنٹ نامی ایک عوامی تحریک کی قیادت کر رہا ہے۔ اِس کا مقصد افراد اور کمیونٹیز کو ماحول کے تحفظ کے لیے مزیدسرگرم ہونے کی ترغیب دینا ہے۔ گذشتہ سال، عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر، ہم نے ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ کے پیغام کے ساتھ ایک منفرد مہم شروع کی تھی، جس کے ذریعے اپنی مادری طاقت کے ساتھ ساتھ قدرت کی ہماری پرورش کرنے کی صلاحیت کو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔ اس مہم کے تحت 80 کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقررہ تاریخ سے پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔ عالمی برادری ایسی اختراعی کوششوں سے سبق حاصل کر سکتی ہے۔ لوگ ایسی کوششوں کو اپنے لئے باعث تحریک بنا سکتے ہیں۔
پیارے ہم وطنو،
32. میں، ایک بار پھر، آپ سب کو یوم جمہوریہ کی مبارکباد دیتی ہوں۔ میں ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اپنے فوجیوں کے ساتھ ساتھ سرحدوں کے اندر ملک کی حفاظت کرنے والے پولیس اور نیم فوجی دستوں کو بھی مبارکباد دیتی ہوں ۔ عدلیہ، سول سروسز اور بیرون ملک ہمارے مشنوں کے ممبروں کو بھی میری مبارکباد!میری دعا ہے کہ آپ سب اپنی کوششوں میں کامیابی حاصل کریں!
شکریہ!
جئے ہند!
جئے بھارت !
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
الیکشن کمیشن تنازع کے درمیان کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کل، کھرگے نے کی چیف انتخابی کمشنر کے استعفے کی مانگ
نئی دہلی، الیکشن کمیشن آف انڈیا سے جڑے بڑھتے ہوئے تنازع پر منگل کے روز کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ منعقد ہوگی۔ کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے اس معاملے کو “سنجیدگی سے لڑنے” کا عزم ظاہر کرتے ہوئے چیف انتخابی کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے بتایا کہ الیکشن کمیشن سے متعلق ابھرتے ہوئے حالات پر بحث کرنے اور پارٹی کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز اکائی سے مشورے حاصل کرنے کے لیے سی ڈبلیو سی کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، “میں نے کل کے لیے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلائی ہے، جہاں ہم اس مسئلے پر بات چیت کریں گے اور تمام اراکین اپنی رائے پیش کریں گے۔”
مسٹر کھرگے نے اس معاملے کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا، “یہ معاملہ پورے ملک، ہماری جمہوریت کی بقا اور ہمارے ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہیں۔”
یہ میٹنگ ووٹرفہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری نیز اس کے کام کاج پر اپوزیشن کے الزامات کے بعد کانگریس اور الیکشن کمیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ کانگریس نظرِ ثانی کے عمل پر مسلسل تنقید کر رہی ہے اور کمیشن سے زیادہ جواب دہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن کے ان الزامات کا حوالہ دیا، جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گیانیش کمار نے انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں پتنمتٹا سے بی جے پی کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کی ترغیب دی تھی—جسے تھامسن نے مبینہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے اور مسٹر کمار نے اس پر اعلانیہ کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
کانگریس صدر نے الزام لگایا، “خود الیکشن کمیشن کے لوگوں نے ان کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ کیرالہ کے ایک سابق چیف سکریٹری نے کہا ہے کہ خود سی ای سی نے ان سے الیکشن لڑنے کو کہا تھا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بی جے پی کے نظریہ کو فروغ دیتے ہیں اور ان کے کارکن کے طور پر کام کرتے ہیں۔”
انہوں نے مسٹر کمار کے استعفے کی مانگ کی اور کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی کارروائی جاری رہے گی۔ مسٹر کھرگے نے کہا، “گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہم ان کے استعفے کے بعد بھی ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔”
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایس آئی آر کے عمل کے دوران ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج اور ووٹروں کی اہلیت میں الیکشن کمیشن کے کردار پر اپوزیشن کی تشویش کے باعث تنازع شدید ہو گیا ہے۔ دوسری طرف، الیکشن کمیشن نظرِ ثانی کو ایک آئینی ذمہ داری قرار دے کر اس کا دفاع کر رہا ہے اور کسی بھی سیاسی جانب داری سے انکار کر رہا ہے۔ اس دوران، بی جے پی اور حکومت نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئینی اداروں کو سیاسی حملوں سے دور رکھا جانا چاہیے۔
توقع ہے کہ سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کرنے کے لیے کانگریس کی حکمتِ عملی طے کی جائے گی، جس میں مسٹر کھرگے نے ملک کی انتخابی جمہوریت کی حفاظت کے لیے ایک طویل سیاسی اور ادارہ جاتی مہم چلانے کا اشارہ دیا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
مہنگائی، بڑھتے گھریلو اخراجات پر جے رام رمیش کا حکومت پر شدید حملہ
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر نریندر مودی حکومت کے خلاف اپنے حملے کو تیز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بالخصوص تہواروں کے موسم میں عام خاندانوں پر مہنگائی کے بڑھتے بوجھ پر کب براہ راست بات کریں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ مسلسل گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہا ہے اور کہا کہ مہنگائی اب صرف کھانے پینے کی اشیاء اور باورچی خانے کے ضروری سامان تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے کہا، ”تہواروں کے موسم میں عوام کی جیبیں لوٹنے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے،“ انہوں نے مزید کہا کہ ”مہنگائی کا درد اب باورچی خانے تک محدود نہیں رہا، لیکن وزیر اعظم بے حسی کے ساتھ ڈھول بجا رہے ہیں۔“
مسٹر رمیش نے حکومت کے خلاف اپنا موقف پیش کرتے ہوئے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیا اور اگست کے مہینے میں پیاز کی قیمتوں میں ہونے والے زبردست اضافے کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پیاز کی مہنگائی اگست میں بڑھ کر 48.27 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ جولائی میں یہ 22.54 فیصد تھی۔
مسٹر رمیش نے کہا، ”سبزیاں مسلسل مہنگی ہو رہی ہیں، اور پیاز کی مہنگائی اگست میں 48.27 فیصد تک پہنچ گئی،“ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گھریلو استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایئر کنڈیشنر، ٹیلی ویژن اور ریفریجریٹر جیسی مصنوعات مزید مہنگی ہونے والی ہیں اور اس صورتحال کو گھریلو بچت میں کمی اور خاندانوں کے بڑھتے ہوئے قرضوں سے جوڑا۔
انہوں نے سوال کیا، ”ایسے حالات میں ایک عام خاندان اپنی ضروریات کیسے پوری کر سکتا ہے؟“
مسٹر رمیش نے مودی کے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ وزیر اعظم باقاعدگی سے مختلف مسائل پر بات کرتے ہیں لیکن مہنگائی اور خاندانوں کو درپیش مالی دباؤ پر اس طرح کی توجہ کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے پوچھا، ”وزیر اعظم ’من کی بات‘ لڑی میں مختلف مسائل پر نیحتیں کرتے رہتے ہیں، لیکن وہ ملک کے سب سے اہم مسئلے مہنگائی پر کب بولیں گے؟ وہ عوام کے لیے تشویش کا اظہار کب کریں گے؟“
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ عام لوگ پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ حکومت مناسب ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے پوچھا، ”ایک عام خاندان اپنا بجٹ کیسے سنبھالے؟ متوسط طبقہ اور غریب کب تک پستے رہیں گے؟“
کھانے پینے کی مختلف اشیاء پر مہنگائی کا دباؤ نمایاں طور پر مختلف رہا ہے۔ جہاں پیاز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ درج کیا گیا، وہیں اگست میں لہسن کی مہنگائی 43.60 فیصد اور ادرک کی مہنگائی 73.82 فیصد رہی۔ اس کے برعکس، ٹماٹر کی قیمتوں میں سال بہ سال 31.09 فیصد اور آلو کی قیمتوں میں 13.14 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
مسٹر رمیش کے یہ تبصرے تہواروں کے موسم کے آغاز کے ساتھ ہی کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں، گھریلو بچت، مقروضیت اور صارفین پر مہنگائی کے وسیع تر اثرات پر نئے سرے سے جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
اپوزیشن پر ای ڈی-سی بی آئی، عوام پر تھپڑ-لاٹھی-گولی: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت سوال پوچھنے پر اپوزیشن پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ-سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ای ڈی-سی بی آئی) اور عوام پر تھپڑ، لاٹھی نیز گولی کا استعمال کر رہی ہے۔
مسٹر کھرگے نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی لوگوں کے سوالوں سے اس قدر گھبرا گئی ہے کہ ‘ناراض پھوپھا’، ‘دماغی نکسل’ اور ‘آندولن جیوی’ جیسے نازیبا الفاظ بھی اب پھیکے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی-راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) براہ راست تشدد پر اتر آئے ہیں۔ دہلی کے وزیر نوجوان کو تھپڑ مار رہے ہیں اور وزیر داخلہ امت شاہ کی نگرانی میں جنتر منتر پر نوجوانوں پر لاٹھی چارج ہوا ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ اس سے پہلے کسانوں کو بی جے پی حکومت میں ایک وزیر کے بیٹے نے گاڑی سے کچلا، ایک مرکزی وزیر نے ‘گولی مارو…’ کہا، کسان تحریک میں ربر کی گولیاں چلیں اور 750 کسانوں کی جان گئی۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے اونا میں دلتوں پر کوڑے برسائے گئے، لیکن اب تک انصاف نہیں ملا۔ اقتدار کا غرور جب عروج پر ہوتا ہے، تو لوگوں کا عوامی سطح پر استحصال اور تذلیل عادت بن جاتی ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ بی جے پی-آر ایس ایس صرف پالیسیوں سے ہی جمہوریت نہیں کچل رہے ہیں، بلکہ اب لاٹھی ڈنڈے تان کر عوام پر براہ راست حملہ کر رہے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا7 days agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
