تازہ ترین
100دنوں میں ان سیاسی لیڈران پر کیا کیا گزری!
خبراردو:
۵ اگست سے حکومت کی جانب سے مختلف جگہوں پر سابق وزرائے اعلیٰ سے لے سابق ایم ایل ایزاور معتبر سیاسی لیڈران تک دو سو سے زائد افراد حکومت کی جانب سے نظر بند رکھے گئے ہیں ۔ ان ۱۰۰ سو سے زائد دنوں میں ان لیڈران کے متعلق میڈیا کی آنکھ سے دور رہنے کے باوجود بھی بہت کچھ باہر آیا ۔ جبکہ دوسری جانب ان لیڈران کی رہائی کا فی الحال کوئی بھی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ادھر بھاجپا کے کار گزار صدر جے پی نڈا نے ایک بیان میں این سی ، پی ڈی پی اور کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے کشمیر کو لوٹا انہیں اب جیل بھیج دیا جائے گا۔
خیر گزشتہ روز پولیس کی جانب سے دو روز قبل ہی سنتور ہوٹل سے ایم ایل اے ہوسٹل منتقل کئے گئے ۳۴ سیاسی مین سٹریم لیڈران کے کمروں کی تلاشی لی گی،جہاں پولیس کے ایک خصوصی دستے نے چھاپے کے دوران ۳۴ میں سے بعض کے زیر استعمال ۱۱ موبائل فون ضبط کئے ۔ پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے ، جن سے یہ فون ضبط کئے گئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ،سیکورٹی و لائاینڈ آرڈر منیر احمد خان کا کہنا تھا کہ انہیں شبہ ہوا تھا، جب کچھ نظر بندوں نے منتقلی کے دوران تلاشیوں کی اجازت نہیں دی اور بعد میں ان کے رشتہ داروں نے احتجاج کیا ۔
واضح رہے منتقلی کے دوران ان نظر بند سیاسی لیڈران کے رشتہ داروں نے پویس پر ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کیا تھا ۔ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی جو آج انہی کا ٹوئٹر اکاونٹ استعمال کر رہی ہیں نے ایک ٹوئٹ کے زریعے کہا کہ منتقلی کے دوران سجاد لون ، وحید رحمان پرہ اور شاہ فیصل کے ساتھ پولیس کی جانب سے بر ا سلوک کیا گیا ،انہوں نے وزیر اعظم مودی سے ذاتی طور اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ۔
ادھر ایس ایس پی (سیکورٹی) امتیاز حسین نے ان تمام الزامات کو مستر د کر دیا ہے ۔ قبل ازیں بڑھتی سردی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے گزشتہ اتوار کو ایس کے آئی سی سی اور سنتورہوٹل میں نظر بند سیاسی لیڈران کو ایم ایل اے ہوسٹل منتقل کیا تھا ۔
اس سے پہلے قومی اخبار کی ایک رپورٹ نے بھی نظر بند لیڈران میں کھلبلی مچا دی تھی ۔ ٹیلی گراف نامی اخبار میں سیاسی لیڈران کے ساتھ ہوئے کچھ واقعات کا انکشاف کیا گیا ہے ۔
پہلی یہ کہ ایک غیر مقامی شخص کی جانب سے پیپلز کانفرنس چیئر مین سجاد لون کے ساتھ برا برتاﺅ کرنا جب سجا د لون ہوٹل کے کاریڈور میں چہل قدمی کر رہے تھے ۔
وہیں اخبار نے سجادلون کے ساتھ پیش آئے ایک اور واقعے کا ذکر کیا ہے جس میں سجاد لون ایک پولیس افسر کا موبائل فون استعمال کرتے ہیں اور مبینہ طور پر وزیر داخلہ امیت شاہ سے بات کرتے ہیں ، اخبار کے مطابق لون انہیں ایک بچے کی طرح اپنے خاندان کی جانب سے ملک اور بھاجپا کےلئے سابقہ ریاست میں دی گئی قربانیاں یاد کراتے ہیں ۔ اسکے بعد پولیس چیف کو جانکاری ملنے کے بعد پولیس افسر کو معطل کیا گیا ۔
ادھر محبوبہ مفتی کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک بار خاتون پویس کانسٹیبل سے لر پڑی تھیں ، اور جھگڑے کے دوران ان کے سر اور چہرے پر تھپڑ رسید کئے گئے ۔ وہیں بشیر ویری ، نظام الدین بٹ اور شاہ فیصل کو ایک بار چوہوں نے بھی کاٹا ۔
دوسری جانب سجاد لون نے ان خبروں کو پوری طرح سے مسترد کر دیا ہے وہیں التجا مفتی نے ایک ٹوئٹ میں ان خبروں کو جھوٹ قرار دے کر کہا کہ اس سے محبوبہ مفتی کی ساکھ نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ۔
اس بیچ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اپنے گھر میں نظر بند این صدر اور رکن پارلیمان فاروق عبداللہ کے لئے ایک اچھی خبر آئی ہے۔ مرکزی سرکار کی جانب سے انہیں مشاورتی دفاعی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے اور ان کا نام سر فہرست ہے ۔ اکیس ممبران پر مشتمل اس کمیٹی میں بھاجپا کی متنازعہ ایم پی پرگیہ سنگھ ٹھاکر بھی ہیں ، جس کی کانگریس نے شدید مذمت کی ہے ۔
آپکو بتادیں انتظامیہ کی جانب سے ان لیڈارن بانڈ لیا جا تا ہے جو رہا ہونا چاہتے ہیں اس شرط کےساتھ کہ وہ باہر آکر خاموش رہیں گے ۔ اب تک اطلاعات کے مطابق پی سی کے عمران رضا نصاری ، پی ڈی پی کے رفیع احمد میر اور این سی خالد نجیب سہروردی کے علاوہ کچھ دیگر لیڈران نے بانڈ پر دستخط کرتے ہوئے رہائی حاصل کی ہے ۔
ادھر سنیچر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں التجا مفتی نے انتظامیہ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایڈیشنل ڈی جی پی نے حال ہی میں ایس کے آئی سی سی سے ایک سابق ایم ایل اے کو انکی رہائی میں سہولیت فراہم کی ، اور نظر بندوں کی رہائی کی شرط یہ بتائی کہ اگر وہ جموں کشمیر میں نئے سیاسی محاز میں شامل ہونے میں حامی بھر لیں۔
اب یہ اگلے ماہ میں ہی پتہ چل پائے گا کہ ان سیاسی لیڈران کی نظر بندی کتنی لمبی ہوتی ہے۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
