ہندوستان
جی ایس ٹی: متوسط گھرانوں کے لئے دیوالی سے قبل مودی حکومت کا بڑا تحفہ
نئی دہلی، مودی ہے تو ممکن ہے اس بات کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے اس بارہندوستان کے متوسط گھرانوں میں دیوالی کی خوشیوں نے پہلے ہی دستک دے دی ہے کیونکہ گڈز اینڈ سروسیز ٹیکس (جی ایس ٹی )کونسل نے عام آدمی کو بڑی راحت دیتے ہوئے ٹیکس سلیب کم کرکے صرف 5 فیصد اور 18 فیصد کر دیے ہیں جن میں کھانے پینے کی اشیاء، روز مرہ استعمال ہونے والی ضروری چیزیں اور پائیدار سامان سستا ہو گیا ہے۔ذاتی نگہداشت کی اشیاء اور چھوٹی گاڑیوں پر بھی ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ نئی شرحیں 22 ستمبر 2025 سے نافذ العمل ہوں گی۔
ہندستان نے یکم جولائی 2017 کو جی ایس ٹی نافذ کرکے اقتصادی اصلاحات کا سب سے بڑا قدم اٹھایا تھا۔ تب سے اب تک یہ نظام ملک کے ٹیکس ڈھانچے کو آسان بنانے اور معیشت کو رسمی شکل دینے میں سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔ آٹھ سال پورے ہونے کے موقع پر مرکزی حکومت اب جی ایس ٹی کی شرحوں میں بڑے بدلاؤ یعنی ریٹ ریشنلائزیشن کی تیاری کر رہی ہے، جس سے نہ صرف تاجروں بلکہ عام صارفین کو بھی راحت ملے گی۔
جی ایس ٹی کونسل نے ٹیکس ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے چار ٹیکس سلیبوں کو گھٹا کر صرف دو کر دیا ہے۔ اب صرف 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو ٹیکس سلیب ہی ہوں گے۔ حکومت نے کھانے پینے کی چیزوں اور روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی ضروری اشیاء کے ساتھ ساتھ گاڑیاں،ٹیلی ویژن، ریفریجریٹر اور ایئر کنڈیشنر جیسی چیزوں پر جی ایس ٹی کم کر دیا ہے۔
نئی دہلی میں 3 ستمبر کو منعقدہ جی ایس ٹی کونسل میٹنگ میں اس بڑے فیصلے کو منظوری دی گئی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی قیادت میں جی ایس ٹی کونسل کے فیصلے نے 2017 میں جی ایس ٹی نافذ ہونے کے بعد سے بالواسطہ ٹیکسوں میں سب سے بڑی تبدیلی کرتے ہوئے صارفین کو بڑا تحفہ دیا ہے۔مودی حکومت کے اس فیصلے سے عام آدمی کے ماہانہ بجٹ میں بڑی بچت کی امید ہے۔
جی ایس ٹی 2.0 میں کھانے پینے اور روز مرہ کی ضروری اشیاء پر ٹیکس کا بوجھ کافی حد تک کم کیا گیا ہے۔ پیکٹ والے سامانوں پر ٹیکس گھٹایا گیا ہے۔جیسے بسکٹ، کیک، نوڈلز، جیم، ساس، کارن فلیکس، چاکلیٹ، گھی اور خشک میوہ جات ان میں شامل ہیں، جن پر اس سے قبل 12فیصد یا 18فیصد جی ایس ٹی لگتا تھا، اب صرف 5فیصد ہی ٹیکس لگے گا۔
اس کے علاوہ ایئر کنڈیشنر، بڑی اسکرین والے ٹی وی، ریفریجریٹر اور واشنگ مشین جیسی چیزیں، جن پر پہلے سب سے زیادہ 28فیصد ٹیکس لگاکرتا تھا، ان پر اب 18فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
آٹوموبائل انشورنس، چھوٹی گاڑیوں، ایمبولینس، 350 سی سی تک کی دو پہیہ گاڑیوں اور ٹائروں پر جی ایس ٹی 28فیصد سے گھٹا کر 18فیصد کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ ہیلتھ انشورنس کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ جی ایس ٹی کونسل کو امید ہے کہ اس قدم سے ہیلتھ انشورنس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
جہاں کئی سامان سستے ہو جائیں گے وہیں پان مسالا اور شراب جیسی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی۔ جبکہ اب 2500 روپے تک کے جوتے اور کپڑوں کی خریداری پر صرف 5فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں سے مڈل کلاس خاندانوں کو راحت ملے گی اور فیسٹیول سیزن میں خریداری آسان ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے۔ایس وائی۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
