تازہ ترین
13 جولائی یوم شہداء کشمیر: کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو
تحریرمشتاق شمیم، بڈگام
13۔جولائی 1931ء کو جو خونین واقع سرینگر سینٹرل جیل کے باہر پیش آیا اس بارے میں قارئین کرام کو جانکاری فراہم کرنا وقت کی خاص ضرورت ہے تاکہ ریاست کی نوجوان پیڑی اپنے اسلافوں کی طرف سے پیش کی گئیں بیش قیمتی قربانیوں پر فخر محسوس کرتے رہیں۔جی ہاں دوستوعبدالقدیر خان نامی ایک غیر ملکی ٹورسٹ گائیڈکسی سیاح کے ساتھ کئی برسوں سے متواتر طور پر وادی کی سیر و تفریح کے سلسلے میں یہاں آیا کرتے تھے۔آپ ایک دیندار مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک قابل اور بہادر نوجوان بھی تھے۔ ڈوگرہ حکمرانوں کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جارہے ظلم و تشدد کو دیکھتے ہوئے اُن کو بڑی تکلیف ہوا کرتی تھی۔وادی کی سیر و تفریح کے دوران خان صاحب نے یہاں کے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی سے وابسطہ رہنماؤں سے ملنا اوراُن کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا اپنا معمول بناکے رکھا ہوا تھا۔ ایک اجنبی ہونے کے باوصف قدیر خان صاحب تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے لیڈران قوم کے ساتھ گفت و شنید کرنے میں بڑی دلچسپی ظاہر کیاکرتے تھے۔آپ آزادی کے متوالوں کی طرف سے بلائے گئے جلسے جلوسوں میں شرکت کرنا اپنے لئے باعث رحمت سمجھا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ اپنی بات رکھنے میں بھی کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا کرتے تھے۔ایک روز خانصاحب کو تحریک آزادی کے حوالے سے ایک بہت بڑے عوامی جلسے میں تقریر کرنے کا نادرموقع ملا۔ اپنے شعلہ بیان تقریر میں انہوں نے ڈوگرہ حکمرانوں کی جانب سے بے قصور ریاستی عوام پر ڈھائے جارہے ظلم و قہر کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا۔آپ نے مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف کھری کھری سُنانے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔اُن کے پُر اثر اور پُر مغز تقریر نے مظلوم اور کمزور کشمیری قوم میں ڈوگرہ متعلق العنان حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کی ہمت اور حوصلہ بڑھا دیا۔ اس ولولہ انگیز تقریر کی وجہ سے قدیر صاحب اہلیان وادی میں ایک ہر دل عزیز شخصیت کی حثیت سے ابھر کر سامنے آگئے۔حکومت وقت کو خان صاحب کے تیور اور عوامی مقبولیت دیکھ کر خوف محسوس ہونے لگااسلئے مہاراجہ نے قدیر صاحب کو بغاوت کو ہوا دینے کے الزام میں گرفتار کروادیا اور ان کے خلاف ایک خصوصی عدالت میں باضابطہ مقدمہ چلانے کا فرمان بھی جاری کردیا۔
13 جولائی 1931ء کی تاریخ کو سینڑل جیل سرینگرکے اندر قائم خصوصی عدالت میں اس تاریخی مقدمہ کو لیکرحتمی فیصلہ سُناناطے تھا۔اس روزلوگ اطراف و اکناف سے جوق در جوق آتے گئے اور جیل خانے کے باہر جمع ہوتے گئے۔ لوگوں کو خدشہ لاحق تھا کہ مہاراجہ کی نام نہاد عدالت قدیر خان کیلئے پھانسی کے سوا کوئی دوسری سزا تجویز نہیں کرلیگی اسلئے وہ جیل کے باہرقدیر خان کی رہائی کو لیکر پُر زوراحتجاج کرتے رہے۔جیل کے اندر عدالتی کا روائی جاری تھی اورجیل کے باہر ہزاروں لوگوں پر مشتمل مجموعہ قدیر خان کی رہائی کے حق میں نعرہ بازی کرنے میں مشغول تھے۔مظاہرین زور دار طریقے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ قدیر خان کو باعزت بری کیا جانا چاہئے۔ جج صاحبان بھی عوام کا جم غفیر اور ان کاغصہ دیکھ کر گھبراہٹ میں مبتلا ہوچکے تھے۔حالانکہ عدالت نے قدیر خان کو حکومت وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا طے کر رکھی ہوئی تھی لیکن اپنا فیصلہ سنانے سے جج صاحبان گھبراہٹ محسوس کررہے تھے۔
کیا کیا جائے کیسے کیا جائے عدالت کافی دیر تک اسی مخمصے میں مبتلارہی۔ اس دوران نماز ظہر ادا کرنے کا وقت آن پہنچا۔لوگ با جماعت نماز ادا کرنے کی تیاری کرنے لگے اور جزبہ آزادی سے سرشار ایک جوشیلا نوجوان جیل کی دیوار پر چڑھ کر اذان دینے لگا۔اس نوجوان نے جب اذان کا پہلا کلمہ ”اللہ اکبر“ اپنی خوبصورت اور ولولہ انگیز آوازمیں بلند کیا تو اس با برکت کلمے کی گونج نے مہاراجہ ہری سنگھ کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کردیا۔مردمجاہد کی اس اذان نے حکومت کے اعلیٰ فوجی و سیول افسروں اور سپاہیوں کے رونگٹھے کھڑا کردئے۔اُن کے دلوں میں ایسا خوف طاری ہوگیا کہ وہ مارے خوف کے ادھر اُدھر بھاگم بھاگ کرنے لگے۔مہاراجہ کے سالے ٹھاکر نچنت سنگھ نے جب سیٹرل جیل میں تعینات اعلیٰ سرکاری ادیکاریوں اور سپاہیوں کے اندر خوف و ہراس اور افرا تفری کا ماحول دیکھ لیا تو انہوں نے موذن کو گولی کا نشانہ بنانے کا حکم جاری کردیا تاکہ سپاہیوں کے اندر خود اعتمادی کی کیفیت بحال ہوسکے۔چوتھا تکبیر ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ موذن کے سینے پر کسی فوجی اہلکار نے گولی ماردی اور وہ خون میں لت پت ہوکر دیوار سے گر پڑا اور جام شہادت نوش کرگیا۔تنگ آمد بہ جنگ آمد۔جذبہ اسلام اور جزبہ آزادی کا حال دیکھئے۔ایسی کون سی حرارت تھی ہمارے اسلافوں کے خون میں کہ جہاں لوگوں کو اس الم ناک اور غیر متوقعہ حادثے کی وجہ سے خوف زدہ ہونا اور منتشر ہوجاناچاہئے تھا وہاں سب کچھ توقع کے عین برعکس مشاہدے میں آگیا۔پہلا نوجوان ابھی سینے میں گولیاں لگنے کی وجہ سے نیچے گر ہی رہا تھا کہ دوسرا سرفروش جلدی سے دیوار پر چڑھ گیا اور اذان کو جاری رکھنے کی کامیاب کوشش کی۔اس دوسرے سرفروش کو بھی کسی سفاک سپاہی نے اپنی گولی کا نشانہ بنادیا۔وہ بھی ابھی نیچے گر ہی رہا تھا کہ تیسرا مرد مومن اذان کو آگے بڑھانے کیلئے دیوار پر کھڑا ہوگیا۔ اس کو بھی ظام فوجیوں نے شہید کردیا۔مہاراجہ کے نامرد سپاہی یکے بعد دیگرے ایک ایک بہادر حریت پسند موذن کو شہید کرتے گئے اور ایک ایک مرد آہن اذان کو مکمل کرنے کیلئے دیوار پر سینہ تان کر چڑھتا گیا۔ اس طرح سے13 جولائی 1931ء کی تاریخی اذان (ظہر) 23۔سرفرشوں نے جام شہادت نوش کرتے کرتے مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔تاریخ اسلام میں یہ واحد اذان ہے جس کو23۔ شہیدوں نے اپنے لال لال خون سے رنگ کر خو ب سے خوبصورت بنادیا۔ افرا تفری کے عالم میں سینکڑوں نوجوان اس دوران گولیاں لگنے اور بھاگم بھاگ کرنے سے مضروب بھی ہوگئے۔حریت رہنماؤں کی ایماء پر ان سبھی شہدا ء کو خانقاہ مولیٰ خواجہ نقشبندصاحب ؒ کے صحن واقع خانیار میں دفن کیا گیا۔ اس مزار کو مزار شہدا ء کے نام سے منسوب کر رکھا گیا ہے۔
بہر حال13 جولائی 1931ء کا خونین واقع رونما ہونے سے عوام کے دلوں میں مہاراجہ کے خلاف غم و غصہ کا لاوہ اس قدر ابھلنے لگا کہ یہی لاوہ آتش فشان پہاڑ کی صورت میں اُس وقت پھوٹ پڑا جب یہاں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے وابسطہ افراد ڈوگرہ شاہی نظام سے مکمل آزادی کے حصول کیلئے عملی میدان میں بے خطر کود پڑے۔ریڈنگ روم جماعت سے وابستہ یہ تعلیم یافتہ نوجوان تحریک آزادی کو منطقی انجام تک لے جانے کیلئے میدان کار زار میں جنون کے ساتھ اُتر گئے۔ اس خونین واقع کے سولہ برس بعد ہی بلآخر مہاراجہ کو اپنا بوریا بسترہ باندھ کر یہاں سے رفو چکر ہونا پرا۔1931ء سے لیکر آج تک 13 جولائی کی تاریخ کو کشمیر میں یوم شہدا کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن سرکاری تعطیل بھی ہواکرتی ہے۔ ریاست کی جملہ سیاسی پارٹیوں سماجی جاعتوں کے نمائندے 13 ء کے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مزار شہدا ء جاتے ہیں وہاں پر قوم کے سپوتوں کی قبروں پرگلباری کرتے ہیں اوران شہیداء وطن کے ایصالِ ثواب کیلئے دعائیہ مجلسوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 31ء کے شہیدوں کو ریاست کی مین اسٹریم پارٹیوں کے ساتھ ساتھ علیحد گی پسند جماعتیں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ قوم ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آیا ان شہیدوں کے اصلی وارث کون ہیں۔
یہاں میں اُن 23۔شہدا ء کے اسمائے گرامی تحریر میں لانے کی سعادت حاصل کرتا چلوں جو اس خونین دلدوزواقع میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔1۔ اسر جو جندہ گرو گوجوارہ۔2۔اکبر ڈار اوُنتہ بھون۔3۔محمد تیلی اُونتہ بھون۔4۔ محمد سبحان راتھر اوُنتہ بھون۔5۔ عبداللہ راتھرمختمہ پکھری۔6۔عبداللہ لون نالہ بل نوشہرہ۔7۔ محمد عثمان مسگر نالہ بل نوشہرہ۔8۔خالق شودہ ہنزیمر خانیار۔9۔محمد رمضان چولہ آرم مسجد خانیار۔10۔ احد بٹ فتح کدل۔11۔ محمد سلطان خان بسنت باغ۔12۔ نصیر الدین چینکرال محلہ۔13۔عبدالسلام حجام گُذربل۔14۔محمد اکبر زالڈگر۔15. غلام نبی کلوال پاندان۔16۔عبداللہ نجار اومپورہ۔ 17۔غلام محمد صو فی ذری بل۔18۔ محمدسبحان خان نواب بازار۔19۔غلام محمد نقاش کاریکدل۔20۔ عبدالغنی مکائی نوا کدل۔21۔غلام محمد حلوائی جامع مسجد۔22۔ غلام رسول دورہ قطب الدین پورہ۔23۔ غلام قادر بٹ بہاؤ الدین صاحب۔شہیدوں کی یہ فہرست شہیدمزار پر لگائی گئی اُس تختی سے من و عن نقل کی گئی ہے جو تختی 13۔جولائی1949ء کو جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی طرف سے مزار شہداء پر لگائی جاچکی ہے۔
یاد رہے 1949 میں نیشنل کانفرنس کے صدر مرحوم شیخ محمد عبداللہ ریاست کے نامزدوزیر اعظم تھے۔یہاں میں بلا خوف و تردید یہ بتاتا چلوں کہ شیخ صاحب کو وزارت عظمیٰ کا اعلیٰ منصب ان ہی شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری کرنے کے عوض مل چکا تھا۔ہمارے ان صٖفہ اول کے شہیدوں نے اپنی بیش قیمتی جانوں کا نظرانہ اسلئے پیش نہیں کیا تھا کہ قوم کے رہنماء اس مظلوم قوم کو جہنم کی ایک وادی سے نکال کر جہنم کی دوسری وادی میں دھکیل دیں نہ ہی انہوں نے اپنا پاک لہو اسلئے بہادیا تھا کہ قوم کے لیڈران کرام ایک آزاد ملک کو معمولی کرسی کی خاطر کسی دوسرے ملک کی غلامی میں دے بیٹھیں۔یہاں یہ بات دکھ سے کہنی پڑتی ہے کہ۳۲۔شہیدوں کی طرف سے بہائے گئے پاک لہوکے سیلاب میں ڈوگرہ راجے مہاراجے ہمیشہ کیلئے ڈوب تو گئے لیکن ایک لاکھ 23ہزار شہیدوں کا لہو غاصب حکمرانوں کو ابھی تک بہا کر لیجانے میں کامیاب نہیں ہوپایا۔شاید یہ ہمارے خلوص نیت میں فقدان کی وجہ ہے کہ ہمارا خون رنگ نہیں لارہا ہے۔
نوٹ: مضمون نگار کی رائےسے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں :
دنیا
غزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
غزہ، تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 43 سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو ’’خطرے کو ختم کرنے‘‘ کے لیے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل ’’اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں ’’شہید‘‘ کیا گیا۔
حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے وحشیانہ جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ کی پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ’’ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں‘‘ کا حصہ ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل جنوبی غزہ کے خان یونس میں دو افراد کو لے جانے والی ایک موٹر سائیکل کو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا، تاہم اس دعوے کے لیے بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں 3 اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غزہ میں فضائی حملے روک رکھے تھے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں ’’اہم پیش رفت‘‘ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے 15 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔
حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے لیے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو ’’حقیقی طور پر غیر مسلح‘‘ نہیں کردیا جاتا۔ اس اعلان کے تین روز بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں میں 1,250 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
وزارت نے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیراعظم نے تقسیم کے المیے کو یاد کیا، بچ جانے والوں کی ہمت اور لچک کی ستائش کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن تقسیم کے متاثرین اور بچ جانے والوں کو یاد کیا اور ملک کی تقسیم سے پیدا ہوئے عظیم انسانی دکھوں کو یاد کرتے ہوئے ان لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس صدمے پر قابو پایا اور اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کیا۔
تقسیم کے مظالم کے یادگاری دن کے موقع پر مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم نے “کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا”، خاندانوں کو بے گھر کر دیا، اپنوں کو جدا کر دیا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بے پناہ تکلیف پہنچائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم #PartitionHorrorsRemembranceDay منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ “یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا… خاندان بے گھر ہوئے، اپنے پیارے کھو دیاگیا اور بے پناہ تکلیفیں برداشت کی گئیں۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تباہی کے باوجود تقسیم کے بعد بچ جانے والوں کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس پر قابو پاتے ہوئے، لوگوں نے صفر سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کیا، مصیبت کو کامیابی میں بدلا اور ہمارے ملک کی ترقی میں بے پناہ تعاون دیا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم کا سامنا کرنے والوں کے سفر انسانی استحکام کے ثبوت کے طور پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی جذبے کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں۔”
وزیراعظم نے اس موقع پر ملک کی باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور اجتماعی طور پر ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید گہرا کرے۔”
تقسیم کے مظالم کا یادگاری دن 14 اگست کو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم سے جڑے دکھ، نقل مکانی اور جانی نقصان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی ہوئی، کیونکہ شدید فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی کھینچی گئی سرحدوں کو پار کیا۔
مودی حکومت نے 2021 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد تقسیم کے دوران لوگوں کی برداشت کردہ تکلیفوں کو یاد کرنا اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت اور تقسیم اور نفرت کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
یو این آئی۔این یو۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
