تازہ ترین
26 جنوری ریاستی عوام کیلئے یوم سیاہ : جے آر ایل
خبراردو:
مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے 26 جنوری بھارتی کی یوم جمہوریہ کو جمو ں وکشمیر کے مظلوم عوام کیلئے ہر لحاظ سے یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن بھارت نے اپنے ملک کو ایک جمہوری مملکت بنانے کا اعلان کیا ، جمہوریت کا مطلب لوگوں کی رائے کا احترام اور انہیں جمہوری حقوق سے سرفراز کرانا ہے اور جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ بھی اسی بھارت کی قیادت نے وعدہ کیا تھا کہ ان کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کرنے کا اختیار کیا جائیگا اور یہ وعدہ انہوں نے اقوام متحدہ ، بھارت کی پارلیمنٹ میں ہی نہیں بلکہ سرینگر کے لالچوک میں آکر بھارت کے پہلے وزیراعظم آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو نے کیا تھا کہ کشمیری عام کو ایک آزادانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا حق دیا جائیگا ۔
قائدین نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ کشمیر کے حدود میں بھارت کی جمہوریت کے معنی یکسر بدل جاتے ہیں اور آج جب بھارتی قیادت سے ان کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو وفا کرنے اور ان کے جمہوری حقوق دلانے کا تقاضا کرتے ہیں تو جواب میں ان کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے ۔ انہیں جیلوں اور تعذیب خانوں کی زینت بنایا جارہا ہے ، ان کے گھروں کو بارود سے اڑایا جارہا ہے، ان کے باغ اور کھیت کھلیان تباہ کردیئے جاتے ہیں ، ان کی پر امن سرگرمیوں کو فوجی قوت کے بل پر دبایا جاتا ہے اور یہاں کی نوجوان نسل کس پشت بہ دیوار کرکے ان کے جینے کے راستے مسدود کر دیئے جاتے ہیں اور ظلم و جبر کی انتہا کرکے انہیں عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ نوجوانوں حتیٰ کہ کمسن بچیوں کو بھی پیلٹ کا نشانہ بنا کر ان سے ان کی آنکھوں کی بینائی چھینی جارہی ہے اور یہ سب ہتھکنڈے اور غیر انسانی حربے یہاں جمہوریت کے نام پر عملائے جارہے ہیں۔قائدین نے کہا کہ کشمیر میں تعینات سات لاکھ سے زائد مسلح افواج کی موجودگی میں ایک مظلوم اور محکوم قوم جس کے تمام سیاسی، انسانی، مذہبی اور سماجی حقوق طاقت کے بل پر سلب کر لئے گئے ہوں اور جن کو روز اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھانے پر مجبور کیا جارہا ہو کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر مہذب دنیا کو اپنے اوپر ہو رہے مظالم سے آگاہ کریں اور اپنے احتجاج کے ذریعے عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کریں۔
قائدین نے جموں وکشمیر کے حریت پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ 26 جنوری سنیچروار کو ایک ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کے ذریعے عالمی برادری پر واضح کریں کہ حق و انصاف سے عبارت جدوجہد میں کشمیری حریت پسند عوام کے جذبہ مزاحمت کو نہ تو توڑا جاسکا ہے اور نہ بھارتی مظالم کیخلاف ان کے صدائے احتجاج کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔قائدین نے ہاپت نار چرار شریف میں گزشتہ روز ایک عسکری معرکے کے دوران شہید کئے گئے عسکریت پسندوں شہید زاہد احمد ولد نذیر احمد، شہید توصیف احمد یتو ولد عبدالعزیز یتو اور شہید ربانی ولد سید حسین شاہ اور شوپیاں میں ایک اور عسکری معرکے کے دوران شہید کئے گئے تین عسکریت پسند وں کو ان کی شہادت پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بلند نصب العین کیلئے دی جارہی قربانیاں قیادت اور قوم سے اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ان شہداء کے مشن کو تکمیل کے مرحلے تک لیجانے کیلئے مبنی برحق جدوجہد کو ہر سطح پر جاری و ساری رکھا جائے ۔قائدین نے کہا کہ اس قوم کے کل پر آج اپنی جانیں نچھاور کرنے والے نوجوان ہماری تحریک کا انمول اثاثہ ہے اور ان قربانیوں کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں ہونے دیا جائیگا کیونکہ ان قربانیوں کی بدولت ہی آج کشمیری عوام کی حق و انصاف سے عبارت جدوجہد عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔
قائدین نے بدنام زمانہ جیل کورٹ بلوال میں سینکڑوں کی تعداد میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کیخلاف پولیس کے چھاپے اور ان قیدیوں کی شدید مارپیٹ اور انہیں پیشہ ور مجرموں کے ساتھ مقید رکھنے کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خود جیل کے حکام جس طرح جیل قوانین کو پس پشت ڈال کر ان قیدیوں کو جیلوں میں حاصل ضروری حقوق سے محروم کررہے ہیں اور ان کو پیشہ ورمجرموں کے ساتھ قید رکھ کر ان کی زندگیوں کو خطرات کی نذر کررہے ہیں وہ نہ صرف مسلمہ حقوق انسانی کی شدید پامالی اور خلاف ورزی ہے بلکہ جیل قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے ۔قائدین نے حقوق بشر کے عالمی اداروں کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل ریڈ کراسICRC سے اپیل کی کہ وہ ان قیدیوں کے ساتھ رکھے جارہے غیر انسانی اور غیر جمہوری سلوک اور ان کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے اپنے وفود روانہ کریں اور ان قیدیوں جیل قوانین کے تحت حاصل سہولیات سے محروم رکھنے کے غیر جمہوری حربوں کا نوٹس لیں۔
کے این ایس
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
