ہندوستان
کل جماعتی میٹنگ میں حکومت کو غیر مشروط مکمل حمایت ملی
نئی دہلی، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے منگل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے گھناؤنے اور وحشیانہ دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی اور مجرموں کو سزا دینے کے لیے کسی بھی کارروائی کے لیے حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
پارلیمنٹ لائبریری بلڈنگ میں شام کو دو گھنٹے کی میٹنگ کی صدارت لوک سبھا میں ایوان کے ڈپٹی لیڈر اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کی۔ جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن، پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو، بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر اور صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر جگت پرکاش نڈا، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، تیلگو دیشم پارٹی کے لاو سری کرشنا، شیو سینا کے شری کانت شندے، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی سپریا سولے، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے پرفل پٹیل، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی، بیجو جنتا دل کے سسمیت پاترا،راشٹریہ جنتا دل کے پریم چند گپتا، عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ، دراوڑ منیترا کزگم کے تروچی سیوا، ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے اور سماج وادی پارٹی کے پروفیسر۔ رام گوپال یادو شامل ہوئے۔
کل جماعتی میٹنگ کے بعد، مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا، “میٹنگ بہت اچھی رہی اور درحقیقت، تمام سیاسی رہنماؤں نے اتفاق رائے سے کابینہ کمیٹی برائے سلامتی امور (سی سی ایس) کی طرف سے پاکستان کے حوالے سے کی گئی کارروائی کی حمایت کی۔
حکومت نے میٹنگ میں واضح کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور حکومت کی ہمارے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس رہے گی۔ تمام لیڈروں نے حکومتی کی طرف سے کئے جارہے تمام کاموں اور مستقبل میں کئے جانے والے تمام کاموں کے لئے حکومت کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔”
مسٹر رجیجو نے کہا، “وزیر دفاع نے پہلگام کے واقعہ اور سی سی ایس میٹنگ میں حکومت ہند کی طرف سے کی گئی کارروائی کے بارے میں آگاہ کیا۔ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں ہر کوئی پریشان ہے، اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، حکومت ہند نے بھی آج مزید سخت کارروائی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔”
مسٹر رجیجو نے کہا، “سب اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑنا چاہئے۔ ہندوستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کی ہے اور کرتا رہے گا۔ حکومت کی طرف سے کل جماعتی میٹنگ میں اس پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وزارت داخلہ کے عہدیداروں نے اس واقعہ کے بارے میں معلومات فراہم کیں، واقعہ کیسے ہوا اور کہاں کہاں چوک ہوئی۔ تمام جماعتوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں حکومت کے ساتھ ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے یہ پیغام دیا ہے اور تمام جماعتوں کے لیڈران نے ایک آواز میں کہا ہے کہ حکومت جو بھی قدم اٹھائے گی، ہم اس کی حمایت کریں گے۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے نامہ نگاروں کو بتایا، “وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے میٹنگ کی صدارت کی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی وہاں تھے۔ تمام جماعتوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ ہم نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن برقرار رکھنے کے لیے تمام کوششیں کی جانی چاہئیں۔”
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ “سب نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ اپوزیشن نے کسی بھی کارروائی میں حکومت کی مکمل حمایت کی ہے۔”
عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ نے کہا، “پورا ملک غصے میں ہے، غمزدہ ہے اور ملک چاہتا ہے کہ مرکزی حکومت دہشت گردوں کو ان کی زبان میں منہ توڑ جواب دے، جس طرح انہوں نے بے گناہ لوگوں کو مارا ہے، ان کے کیمپوں کو تباہ کیا جائے اور پاکستان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ یہ واقعہ 22 اپریل کو ہوا تھا، اس جگہ کو سیکورٹی ایجنسیوں کی معلومات فراہم کئے بغیر 20 اپریل کو کھولا گیاتھا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ جوابدہی طے کرنے کی ضرورت ہے اورکارروائی کی جانی چاہیے کہ سیکورٹی میں کوتاہی کیوں ہوئی
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سدیپ بندوپادھیائے نے کہا، “سیکیورٹی لیپس پر بات ہوئی، ہم نے حکومت کو یقین دلایا کہ وہ ملک کے مفاد میں جو بھی فیصلہ کرے گی تمام سیاسی پارٹیاں اس کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔”
بی جے ڈی ایم پی سسمیت پاترا نے کہا، “بی جے ڈی نے اس آل پارٹی میٹنگ میں اپنے خیالات کی نمائندگی کی۔ ہم حکومت سے اس بہیمانہ حملے کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ بیجو جنتا پارٹی نے ملک کی قومی سلامتی سے متعلق تمام کوششوں میں حکومت کے ساتھ اپنے مکمل تعاون اور حمایت کا اعادہ کیا۔۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا، “مرکزی حکومت اس ملک کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے جو دہشت گرد گروپوں کو پناہ دیتا ہے۔ بین الاقوامی قانون بھی ہمیں اپنے دفاع میں پاکستان کے خلاف فضائی اور بحری ناکہ بندی کرنے اور ہتھیاروں کی فروخت پر پاکستان پرپابندی لگانے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ بیسرن گھاس کے میدان میں سی آر پی ایف کو کیوں تعینات نہیں کیا گیا؟ فوری ردعمل کی ٹیم کو وہاں پہنچنے میں کیوں ایک گھنٹہ لگا اور انہوں نے لوگوں کو ان کا مذہب پوچھ کر گولی مار دی۔”
مسٹر اویسی نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں اور کشمیری طلباء کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے جس طرح لوگوں سے ان کا مذہب پوچھ کر قتل کیا میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ سندھ طاس معاہدہ معطل ہوا لیکن ہم پانی کہاں رکھیں گے ہم مرکزی حکومت کے فیصلے کی حمایت کریں گے۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے۔
سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو نے بھی حکومت کے کسی بھی اقدام کی حمایت کا اعلان کیا اور سوشل میڈیا پر تفرقہ انگیز پیغامات اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے خلاف پروپیگنڈے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
وزیراعظم نے تقسیم کے المیے کو یاد کیا، بچ جانے والوں کی ہمت اور لچک کی ستائش کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن تقسیم کے متاثرین اور بچ جانے والوں کو یاد کیا اور ملک کی تقسیم سے پیدا ہوئے عظیم انسانی دکھوں کو یاد کرتے ہوئے ان لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس صدمے پر قابو پایا اور اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کیا۔
تقسیم کے مظالم کے یادگاری دن کے موقع پر مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم نے “کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا”، خاندانوں کو بے گھر کر دیا، اپنوں کو جدا کر دیا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بے پناہ تکلیف پہنچائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم #PartitionHorrorsRemembranceDay منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ “یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا… خاندان بے گھر ہوئے، اپنے پیارے کھو دیاگیا اور بے پناہ تکلیفیں برداشت کی گئیں۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تباہی کے باوجود تقسیم کے بعد بچ جانے والوں کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس پر قابو پاتے ہوئے، لوگوں نے صفر سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کیا، مصیبت کو کامیابی میں بدلا اور ہمارے ملک کی ترقی میں بے پناہ تعاون دیا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم کا سامنا کرنے والوں کے سفر انسانی استحکام کے ثبوت کے طور پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی جذبے کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں۔”
وزیراعظم نے اس موقع پر ملک کی باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور اجتماعی طور پر ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید گہرا کرے۔”
تقسیم کے مظالم کا یادگاری دن 14 اگست کو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم سے جڑے دکھ، نقل مکانی اور جانی نقصان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی ہوئی، کیونکہ شدید فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی کھینچی گئی سرحدوں کو پار کیا۔
مودی حکومت نے 2021 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد تقسیم کے دوران لوگوں کی برداشت کردہ تکلیفوں کو یاد کرنا اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت اور تقسیم اور نفرت کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
یو این آئی۔این یو۔
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
