جموں و کشمیر
وادی میں تیز آندھی کا قہر: کمسن بچی جاں بحق، والد زخمی، متعدد رہائشی مکانوں کی چھتیں اڑ گئیں، بجلی نظام درہم برہم
سری نگر، وادی کشمیر میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب تیز رفتار آندھی کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔شوپیاں میں راجوری سے تعلق رکھنے والی ایک کمسن بچی جاں بحق جبکہ اس کا والد شدید زخمی ہوگیا۔ متعدد علاقوں میں درجنوں گھروں کی چھتیں اڑ گئیں، درخت اور بجلی کے کھمبے زمین بوس ہوگئے، اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔
حکام نے جاں بحق ہونے والی بچی کی شناخت صوبی ریاض دختر ریاض احمد ساکنہ ڈالودی، راجوری کے طور پر کی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے بہک گڈر علاقے میں پیش آیا، جہاں شدید آندھی کے دوران ایک درخت اچانک بچی پر آ گرا۔ اس حادثے میں اس کا والد ریاض احمد بھی زخمی ہوا جنہیں فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔
وادی کے دیگر اضلاع سے بھی تیز ہواؤں سے ہونے والے نقصانات کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ سرینگر کے صورہ علاقے میں ایک موبائل ٹاور زمین بوس ہوگیا، جبکہ کئی رہائشی گھروں کی چھتیں جزوی یا مکمل طور پر اڑ گئیں۔
بڈگام ضلع کے چاڈورہ علاقے میں واقع معروف جامع مسجد بٹہ پورہ کا مینار تیز ہوا کے باعث متاثر ہوا، جبکہ ٹنگمرگ میں ایک مسجد کی چھت کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں کئی درخت اور بجلی کے کھمبے گرنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس کے باعث بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی۔
محکمہ موسمیات نے پہلے ہی وادی میں تیز ہواؤں اور غیر متوقع موسمی حالات کے بارے میں پیش گوئی کی تھی۔ ماہرین کے مطابق ہواؤں کی رفتار بعض علاقوں میں 50 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی، جو درختوں، ہورڈنگز، اور کمزور ڈھانچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوئی۔
دریں اثنا تیز آندھی کے بعد بجلی کے نظام کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ضلع ترقیاتی کمشنر (ڈی سی) سرینگر ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے پیر کی صبح ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) سرینگر کے ہمراہ بمنہ میں واقع پاور گرڈ اسٹیشن کا معائنہ کیا۔
ڈاکٹر بلال نے موقع پر موجود افسران اور فیلڈ اسٹاف سے بجلی کی بحالی کے عمل اور درپیش مسائل پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ بجلی کی مکمل بحالی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کم ہو سکیں۔
ضلع انتظامیہ کے مطابق، اب تک 93 فیصد بجلی فیڈرز بحال کیے جا چکے ہیں، اور بجلی کی مکمل بحالی کا عمل آج دوپہر 3 بجے تک مکمل کر لیا جائے گا۔
ڈی سی سرینگر نے بحالی کے کام میں مصروف عملے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ہنگامی حالات میں تمام محکموں کے درمیان تعاون اور فوری ردعمل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
خیال رہے کہ تیز ہواؤں کے سبب درجنوں بجلی کے کھمبے اور تاریں زمین بوس ہو گئی تھیں، جس کے نتیجے میں وادی کشمیر میں بجلی کا نظام پوری طرح سے درہم برہم ہو کررہ گیا تھا۔
یو این آئی -ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
