ہندوستان
دنیا کی سرکردہ ہوابازی کمپنیوں کے لیے ہندوستان سرمایہ کاری عمدہ موقع فراہم کرتا ہے: وزیر اعظم
نئی دہلی، عالمی معیار کا ہوائی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے اور کنیکٹیویٹی میں اضافہ کرنے کے اپنے عزم کے عین مطابق، وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں بین الاقوامی ہوائی نقل و حمل ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کی 81ویں سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) اور عالمی ہوائی نقل و حمل سربراہ اجلاس(ڈبلیو اے ٹی اس) کے مکمل اجلاس سے خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور چار دہائیوں کے بعد ہندوستان میں اس تقریب کی واپسی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اس مدت کے دوران ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کا ہندوستان پہلے سے زیادہ پر اعتماد ہے۔ انہوں نے عالمی ہوابازی ایکو نظام میں ہندوستان کے کردار پر ، نہ صرف ایک وسیع مارکیٹ کے طور پر بلکہ پالیسی قیادت، اختراع اور جامع ترقی کی علامت کے طور پر بھی زور دیا ۔ وزیر اعظم نے یہ اظہار خیال کرتے ہوئے کہ شہری ہوا بازی کے شعبے نے گذشتہ دہائی کے دوران تاریخی ترقی ملاحظہ کی ہے، جسے اچھی طرح تسلیم کیا جاتا ہے، کہا کہ “آج، ہندوستان خلائی ہوا بازی کے شعبے میں ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے”۔
اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ یہ سربراہ اجلاس اور مکالمہ نہ صرف ہوا بازی کے لیے بلکہ عالمی تعاون، آب و ہوا کے وعدوں اور مساوی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔جناب مودی نے روشنی ڈالی کہ سربراہ اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے عالمی ہوا بازی کو نئی سمت ملے گی، اس کے لامحدود امکانات واشگاف ہوں گے اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے انسانیت کی وسیع فاصلوں اور بین البراعظمی سفر کو محض گھنٹوں میں طے کرنے کی صلاحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ 21ویں صدی کی امنگیں اور آرزوئیں روایتی سفر سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے اختراعات اور تکنیکی ترقی کی تیز رفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے رفتار بڑھ رہی ہے، دور دراز منزلیں ہمارا مقدر بن رہی ہیں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سفر اب صرف شہروں تک محدود نہیں ہے، خلائی پروازوں اور بین سیارہ سفر کو تجارتی بنانے کی امنگوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور انہیں شہری ہوا بازی شعبے سے مربوط کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے، جناب مودی نے تسلیم کیا کہ اگرچہ اس طرح کی پیشرفت میں وقت لگے گا، تاہم یہ چیزیں ہوابازی کے مستقبل کو تبدیلی اور اختراع کے مرکز کے طور پر اجاگر کرتی ہیں، جس کے لیے ہندوستان پوری طرح تیار ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کے ہوابازی کے شعبے کو چلانے والے تین بنیادی ستونوں کا خاکہ پیش کیا، پہلا، ایک وسیع بازار – نہ صرف صارفین کا مجموعہ بلکہ ہندوستان کے پرامید معاشرے کا عکاس۔ دوسرا، ایک مضبوط آبادیاتی اور ٹیلنٹ پول — جہاں نوجوان اختراع کار مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، اور صاف ستھری توانائی میں پیش رفت کر رہے ہیں۔ تیسرا، ایک کھلا اور معاون پالیسی ماحولیاتی نظام—جو صنعتی ترقی کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔ جناب مودی نے اس امر پر زور دیا کہ ان قوتوں کے ساتھ، ہندوستان اپنے ہوابازی کے شعبے کو بے مثال بلندیوں سے ہمکنار کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیر اعظم نے گزشتہ برسوں کے دوران شہری ہوا بازی میں ہندوستان کی نمایاں تبدیلی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مزید کہا، “ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو ہوابازی منڈی بن گیا ہے”۔ اُڈان اسکیم کی کامیابی پر زور دیتے ہوئے اور اسے ہندوستانی شہری ہوابازی کی تاریخ کا ایک سنہرا باب قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس پہل قدمی کے تحت، 15 ملین سے زیادہ مسافرین قابل استطاعت ہوائی سفر سے مستفید ہوئے ہیں، جس سے متعدد شہریوں کو پہلی مرتبہ پرواز کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی ایئر لائنز دوہرے ہندسے کی ترقی کو جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں سالانہ 240 ملین مسافرین سفر کرتے ہیں — جو دنیا بھر کے بیشتر ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ 2030 تک یہ تعداد 500 ملین مسافروں تک پہنچنے کی امید ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان میں سالانہ 3.5 ملین میٹرک ٹن کارگو ہوائی راستے سے منتقل کیا جاتا ہے اور اس دہائی کے آخر تک یہ حجم بڑھ کر 10 ملین میٹرک ٹن ہو جائے گا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ اعداد و شمار صرف اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ ہندوستان کی بے پناہ صلاحیت کی عکاسی کرتے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اس صلاحیت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کے لیے ایک مستقبل کے روڈ میپ پر سرگرمی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی معیار کے ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے میں ہندوستان کی سرمایہ کاری پر زور دیا، اور کہا کہ 2014 میں، ملک میں 74 آپریشنل ہوائی اڈے تھے، جو اب بڑھ کر 162 ہو گئے ہیں۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ ہندوستانی ایئر لائنوں نے 2,000 سے زیادہ نئے طیاروں کے آرڈر دیے ہیں، جو اس شعبے میں تیزی سے ترقی کا اشارہ دیتے ہیں۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ صرف شروعات ہے، کیونکہ ہندوستان کی ہوابازی کی صنعت ایک اہم پرواز کے لیے تیار کھڑی ہے، جو بے مثال بلندیوں کو حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، انہوں نے روشنی ڈالی کہ یہ تبدیلی نہ صرف جغرافیائی حدود سے تجاوز کرے گی بلکہ عالمی سطح پر پائیداری، سبز نقل و حرکت اور مساوی رسائی کو بھی فروغ دے گی۔
یہ بتاتے ہوئے کہ حفاظت، اثر انگیزی اور پائیداری کو مساوی طور پر ترجیح دی جا رہی ہے، وزیر اعظم نے کہا، ’’ ہندوستان کے ہوائی اڈوں میں اب 500 ملین مسافروں کی سالانہ ہینڈلنگ کی گنجائش ہے اور تکنالوجی کے ذریعے صارف کے تجربے میں نئے معیارات قائم کرنے والے چند ممالک میں شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے پائیدار ہوا بازی کے ایندھن، سبز تکنالوجیوں میں سرمایہ کاری، اور کاربن اثرات کو کم کرنے کی کوششوں کی طرف ہندوستان کی منتقلی پر مزید زور دیا۔ جناب مودی نے ریمارک کیا کہ ہندوستان ترقی اور ماحولیاتی تحفظ دونوں کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے، ترقی کے لیے متوازن نقطہ نظر کو تقویت فراہم کرتا ہے۔
بین الاقوامی مہمانوں سے ڈیجی یاترا ایپ کو سمجھنے کی اپیل کرتے ہوئے ، اور اسے ڈیجیٹل ہوا بازی کی ایک اہم مثال کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجی یاترا چہرے کی تصدیق کی تکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک مکمل، ہموار سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے، جس سے مسافروں کو ہوائی اڈے میں داخل ہونے سے بورڈنگ گیٹس تک کاغذی دستاویزات اور شناختی کارڈ کے بغیر جانے میں آسانی ہوتی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ بڑی آبادی کی خدمت میں ہندوستان کی اختراعات اور تجربہ متعدد ممالک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “ڈیجی یاترا ایک محفوظ اور اسمارٹ حل کے طور پر نمایاں ہے، جو گلوبل ساؤتھ کے لیے تحریک کے نمونے کے طور پر کام کرتی ہے”۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مسلسل اصلاحات ہندوستان کے تیزی سے پھیلتے ہوا بازی کے شعبے کا ایک اہم محرک رہا ہے، وزیر اعظم نے اس وژن کی حمایت کرنے والے اہم اقدامات کے ساتھ، عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکز بننے کے لیے ہندوستان کے عزم پر زور دیا۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس سال کے بجٹ میں مشن مینوفیکچرنگ کا اعلان کیا گیا تھا، جس سے صنعتی ترقی پر ہندوستان کی توجہ کو تقویت حاصل ہوئی، جناب مودی نے اس سال پارلیمنٹ میں پاس ہونے والے ایئر کرافٹ آبجیکٹ بل میں مفادات کے تحفظ کو مزید اجاگر کیا، جو ہندوستان میں کیپ ٹاؤن کنونشن کو قانونی اختیار دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قانون ہندوستان میں گلوبل ایئر کرافٹ لیزنگ کمپنیوں کے لیے نئے مواقع کھولتا ہے۔ انہوں نے گفٹ سٹی میں پیش کی جانے والی مراعات کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ہندوستان کو ایئرکرافٹ لیزنگ کے لیے ایک پرکشش مقام بنا دیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ “نیا انڈین ایر کرافٹ ایکٹ ہوابازی کے قوانین کو عالمی بہترین طریقوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، ایک ہموار ضابطہ جاتی فریم ورک، تعمیل میں آسانی، اور ایک آسان ٹیکس ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جو بڑی بین الاقوامی ہوابازی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک اہم موقع پیش کرتا ہے”۔ اس امر کا ذکر کرتے ہوئے کہ صنعت پائلٹس، عملے کے ارکان، انجینئرز اور زمینی عملے کے لیے وسیع مواقع پیدا کر رہی ہے، انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہوا بازی کے شعبے میں ترقی نئی پروازوں، نئی ملازمتوں اور نئے امکانات کی ترجمانی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے دیکھ بھال، مرمت اور اوور ہال (ایم آر او) کو ایک ابھرتے ہوا شعبے کے طور پر اجاگر کیا اور کہا کہ ہندوستان ہوائی جہاز کی دیکھ بھال کا عالمی مرکز بننے کی کوششوں کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2014 میں، ہندوستان کے پاس 96 ایم آر او سہولیات تھیں، جو اب بڑھ کر 154 ہو گئی ہیں جبکہ خودکار راستے کے تحت 100فیصد ایف ڈی آئی ، جی ایس ٹی میں تخفیف، اور ٹیکس کو معقول بنانے کے اقدامات نے ہندوستان کے ایم آر او شعبے کو نئی رفتار دی ہے۔ جناب مودی نے ملک کی ہوابازی کی ترقی کی حکمت عملی کو تقویت بہم پہنچاتے ہوئے 2030 تک 4 بلین امریکی ڈالر کے بقدر ایم آر او مراکز قائم کرنے کے ہندوستان کے ہدف کا خاکہ پیش کیا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہندوستان کو محض ہوابازی منڈی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ویلیو چین لیڈر کے طور پر دیکھا جانا چاہئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ڈیزائن سے لے کر بہم رسانی تک، ہندوستان عالمی ہوابازی سپلائی چین کا ایک جزو لاینفک بن رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کی سمت اور رفتار درست راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے ملک کی مسلسل تیز رفتار ترقی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ جناب مودی نے ہوابازی کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ نہ صرف ‘میک ان انڈیا’ بلکہ ‘ڈیزائن ان انڈیا’ کو بھی اپنائیں، جس سے ہوا بازی کی عالمی جدت طرازی میں ہندوستان کی قیادت کے وژن کو تقویت حاصل ہوگی۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا ہوا بازی کا شعبہ اس کے جامع ماڈل سے مضبوط ہوا ہے، ہندوستان میں 15فیصد سے زیادہ پائلٹ خواتین ہیں، یہ تعداد عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں کیبن عملے میں خواتین کی عالمی اوسط تقریباً 70 فیصد ہے، وہیں ہندوستان میں یہ تعداد 86 فیصد ہے۔ جناب مودی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے ایم آر او شعبے میں خواتین انجینئرز عالمی اوسط سے زیادہ ہیں، جو صنعت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ڈرون ٹکنالوجی ہوا بازی کے مستقبل کا ایک اہم جز ہے، اور ہندوستان تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ مالی اور سماجی شمولیت کے لیے اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے، وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈرون کا استعمال خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کو بااختیار بنانے، زراعت، خدمات بہم رسانی اور دیگر مختلف شعبوں میں ان کی شراکت کو بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہندوستان کے عزم کو تقویت دیتے ہوئے کہا، “ہوابازی سے متعلق سلامتی ہمیشہ سے ہندوستان کی اولین ترجیح رہی ہے۔ ہندوستان نے اپنے ضابطوں کو آئی سی اے او کے عالمی معیارات کے ساتھ جوڑ دیا ہے”۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ آئی سی اے او کے حالیہ سیفٹی آڈٹ میں ہوا بازی کی حفاظت کو مضبوط بنانے میں ہندوستان کی کوششوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور ایشیا پیسفک وزارتی کانفرنس میں دہلی اعلامیہ کو اپنانا عالمی ہوا بازی کی عمدہ کارکردگی کے لئے ہندوستان کے عزم کا مزید ثبوت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کھلے آسمانوں اور عالمی رابطے کی مسلسل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شکاگو کنونشن کے اصولوں کی ہندوستان کی توثیق کا بھی ذکر کیا، اور مزید مربوط اور قابل رسائی ہوابازی نیٹ ورک کی وکالت کی۔ جناب مودی نے متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسا مستقبل بنانے کے لیے مل کر کام کریں جہاں ہوائی سفر سب کے لیے قابل رسائی، قابل استطاعت اور محفوظ ہو۔ انہوں نے ہوا بازی کو مزید بلندیوں سے ہمکنار کرنے کے لیے نئے حل تیار کرنے کے شعبے کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بات مکمل کی اور تمام تر متعلقہ فریقوں کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
جناب کنجاراپو رام موہن نائیڈو، جناب مرلی دھر موہول جیسے مرکزی وزراء، آئی اے ٹی اے کے بورڈ آف گونرس جناب پیٹر ایلبرس، آئی اے ٹی اے کے ڈائرکٹر جنرل جناب وِلی والش، انڈیگو کے منیجنگ ڈائرکٹر جناب راہل بھاٹیہ دیگر معززین کے ساتھ اس تقریب میں موجود تھے۔
یواین آئی، م ش-م ا
ہندوستان
وزیراعظم نے تقسیم کے المیے کو یاد کیا، بچ جانے والوں کی ہمت اور لچک کی ستائش کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن تقسیم کے متاثرین اور بچ جانے والوں کو یاد کیا اور ملک کی تقسیم سے پیدا ہوئے عظیم انسانی دکھوں کو یاد کرتے ہوئے ان لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس صدمے پر قابو پایا اور اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کیا۔
تقسیم کے مظالم کے یادگاری دن کے موقع پر مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم نے “کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا”، خاندانوں کو بے گھر کر دیا، اپنوں کو جدا کر دیا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بے پناہ تکلیف پہنچائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم #PartitionHorrorsRemembranceDay منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ “یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا… خاندان بے گھر ہوئے، اپنے پیارے کھو دیاگیا اور بے پناہ تکلیفیں برداشت کی گئیں۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تباہی کے باوجود تقسیم کے بعد بچ جانے والوں کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس پر قابو پاتے ہوئے، لوگوں نے صفر سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کیا، مصیبت کو کامیابی میں بدلا اور ہمارے ملک کی ترقی میں بے پناہ تعاون دیا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم کا سامنا کرنے والوں کے سفر انسانی استحکام کے ثبوت کے طور پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی جذبے کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں۔”
وزیراعظم نے اس موقع پر ملک کی باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور اجتماعی طور پر ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید گہرا کرے۔”
تقسیم کے مظالم کا یادگاری دن 14 اگست کو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم سے جڑے دکھ، نقل مکانی اور جانی نقصان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی ہوئی، کیونکہ شدید فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی کھینچی گئی سرحدوں کو پار کیا۔
مودی حکومت نے 2021 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد تقسیم کے دوران لوگوں کی برداشت کردہ تکلیفوں کو یاد کرنا اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت اور تقسیم اور نفرت کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
یو این آئی۔این یو۔
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
