جموں و کشمیر
جگہ جگہ خستہ حال سری نگرجموں قومی شاہراہ 3ہفتوں کے بعدبھاری گاڑیوں کیلئے دوبارہ کھل گئی
قاضی گنڈ سے کئی مقامات پردرماندہ سیب سے لدے ٹر کوں کو کشمیر سے جموں جانے کی اجازت
پھل کاشتکاروں کو ملی راحت،کرایوں میں اضافہ باعث تشویش
ٹرانسپورٹ کمشنرسے کہاکہ وہ ، ٹرانسپورٹ یونینوں سے بات کر کے کرایہ جات کو منظم کریں:جاویداحمدڈار
سری نگر :جے کے این ایس : 3ہفتے سے سرینگر جموں قومی شاہراہ پرقاضی گنڈ سے جگہ جگہ درماندہ سیب سے لدے ٹرکوں کو بالآخربدھ کے روزکشمیر سے جموں کی جانب روانہ ہونے کی اجازت دے دی گئی ہے، جس کے بعدکشمیر وادی کے ہزاروں پھل کاشتکاروں اور تاجروں نے راحت کی سانس لی۔حکام کی جانب سے یہ فیصلہ مرکزی وزیر برائے روڈز اینڈ ہائی ویز نیتن گڈکری کی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو شاہراہ پر ٹرکوں کی باقاعدہ نقل و حرکت کی یقین دہانی کرائے جانے کے ایک روز بعد سامنے آیا۔اسے پہلے انسپکٹر جنرل آف پولیس (ٹریفک) ایم سلیمان چودھری نے کہاکہ پھلوں سے لدے ٹرکوں کو بدھ کو صبح 11 بجے سری نگر جموں شاہراہ پر جموں کی طرف جانے کی اجازت دی جائے گی۔جے کے این ایس کے مطابق ٹریفک حکام کے مطابق قاضی گنڈ ٹول پلازہ پر صبح ساڑھے 11بجے سے سیب سے لدے ٹرکوں کو جموں کی سمت روانگی کی اجازت دی گئی۔ ایک ٹریفک اہلکار نے بتایا کہ تقریباً 6 ہزار سے زائد بڑی اور بھاری موٹر گاڑیاں، جن میں اکثریت سیب سے لدے ٹرکوں کی تھی، تین ہفتوں سے وادی میں پھنسی ہوئی تھیں۔میوہ تاجروں کی انجمن کے صدر بشیر احمد بشیر کے مطابق اگست 26 سے8 ہزار سے زیادہ سیب سے لدے ٹرک شاہراہ پر رُکے ہوئے تھے، جس کے باعث سیب گلنے سڑنے لگے۔
ٹریفک پولیس کے ایس ایس پی رویندر پال سنگھ نے کہا کہ کشمیر سے سیب سے لدے ٹرکوں اوردوسری بڑی گاڑیوں کی روانگی شام تک جاری رہے گی اور ڈرائیوروں کو اپیل کی گئی کہ وہ ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں تاکہ مزید رکاوٹ پیدا نہ ہو۔سری نگرجموں قومی شاہراہ اگست کے آخر میں ادھمپور کے تھارڑ علاقے میں متعدد لینڈ سلائیڈز کے باعث بند ہو گئی تھی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے مطابق علاقے میں بڑے پتھروں اور کیچڑ نے بحالی کے کام میں مشکلات حائل کیں۔ تاہم ڈیول لین کا ایک عارضی ڈائیورڑن بنایا گیا ہے جس پر ٹریفک بحال ہو چکا ہے۔مرکزی وزیر نیتن گڈکری نے منگل کو وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور جموں وکشمیرکے اعلیٰ حکام کیساتھ ایک ورچیول میٹنگ کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے عملے کو ’بے لوث محنت‘ پر سراہا تھا۔نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کو موجودہ ہائی وے کے ملبے تلے دب جانے کے بعد، ضلع ادھم پور کے تہارڈ میں تعمیر کی گئی300 میٹر طویل سڑک کو چوڑا اور برابر کرنے میں ناکامی پر مختلف حلقوں سے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حکام کے مطابق اس سڑک کی خراب حالت ہائی وے پر ٹریفک کی ہموار نقل و حرکت میں نمایاں رکاوٹوں کا باعث بن رہی ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ 2ہفتے شاہراہ کھلی رہی تو وہ اپنے میوہ جات کو منڈیوں تک پہنچا سکیں گے۔سوپور فروٹ منڈی ایسوسی ایش کے صدرفیاض احمد ملک عرف کاکہ جی نے قومی شاہراہ کھلنے پراطمینان کااظہار کیاتاہم کہاکہ مسلسل کئی ہفتوں تک شاہراہ کی بندش سے میوہ صنعت سے جڑے کاشتکاروں ،تاجروں اوردوسرے طبقوںکو کروڑوں کا نقصان اور خسارہ اُٹھاناپڑا ہے۔ انہوںنے حکومت سے کرایوں کومنظم کرکے ان میں توازن رکھنے کیلئے ضروری اقدامات پر زوردیا۔شوپیاں کے پھل کاشتکار عبدالباری نے کہا”میری پوری فصل باغ میں پڑی ہے۔ اگر راستہ کھلا رہا تو ہم سب کچھ وقت پر بیچ سکیں گے“۔ادھر تاجروں کا کہنا ہے کہ شاہراہ کی بندش کے باعث کرایوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ایپل فارمرز فیڈریشن کے صدر ظہور احمد راتھر نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز فی باکس وزن کے حساب سے کرایہ وصول کر رہے ہیں، جبکہ قانون کے مطابق فی باکس الگ الگ درجہ بندی پر کرایہ مقرر ہونا چاہئے۔محکمہ باغبانی کے وزیر جاوید احمد ڈار نے کہا کہ انہوں نے ٹرانسپورٹ کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے پر ٹرانسپورٹ یونینوں سے بات کر کے کرایہ جات کومنظم کیا جائے۔ایس ایس پ ٹریفک نیشنل ہائی وئے رویندرپال سنگھ نے کہاکہ ہماری کوشش اورترجیح ہے کہ پہلے سیب سے لدے ہوئے درماندہ ٹرکوں کو روانہ کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ ہم نے ڈرائیوروں سے اپیل کی کہ وہ لین ڈرائیوینگ کی پابندی کریں اور کوئی خلاف ورزی نہ کریں تاکہ کوئی مشکل پیش نہ آئے اور سبھی گاڑیاںاپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
