ہندوستان
ساورکر قومی ایکتا، سب کے یکساں حقوق کے حامی اورتقسیم ہند کے سخت خلاف تھے: ارجن رام میگھوال
نئی دہلی، وینائک دامودر ساورکر کو مجاہد آزادی، سماجی مصلح اور دانشور قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارجن رام میگھوال نے کہاکہ وہ چاہتے تھے کہ ہندو مسلمان اپنے تاریخی اختلافات کو فراموش کرکے وہ ہندوستان بنائیں جہاں سب کو یکساں حقوق حاصل ہوں۔ یہ بات انہوں نے قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو (این سی پی یو ایل) کے زیر اہتمام شائع کتاب’ویر ساورکر اور تقسیم ہند کا المیہ‘کے رسم اجرا کے موقع پر کہی
انہوں نے کہاکہ وینائک دامودر ساورکے بارے میں بہت ساری غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں اور اصل حقائق چھپائے گئے ہیں۔ یہ کتاب ان غلط فہیموں کا ازالہ کرے گی اور ان کے بارے میں نئی سمجھ پیدا کرنے میں مدد کرے گی۔ انہوں نے کوٹیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بابا بھیم راؤ امبیڈکر اور ساور کے بارے میں بھی غلط باتیں پھیلائی گئی ہیں جب کہ دونوں کے تعلقات بہت اچھے تھے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ وینائک دامودر ساورکر نے ہندوؤں میں پھیلی بہت سی برائیوں کے خلاف بھی لڑائی لڑی اور لوگوں میں اس کے خلاف بیداری پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے کہاکہ سماجی مصلح کے طور پر انہوں نے 1931میں ایسا مندر قائم کیا تھا جہاں سب لوگ پوجا کرسکیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ وہ قومی ایکتا کے زبردست حامی اور تقسیم ہند کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ویر ساورکر قومی ایکتا و اکھنڈتا کے تئیں نہایت حساس تھے اور اسی وجہ سے وہ تقسیمِ ہند کے شدید مخالف تھے،اگر ان کے وژن اور منصوبے پر عمل کیا جاتا تو ملک کو ٹوٹنے سے بچایا جاسکتا تھا۔انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ایک خاص مقصد کے تحت ویر ساورکر کو بدنام کرنے کی کوششیں کی گئیں، ان کے افکار و نظریات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیاجوکہ نہایت افسوسناک تھا۔
انہوں نے نئی تعلیمی پالیسی کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں اردو کے فروغ کی بات بھی بات کہی گئی ہے اور آٹھویں شیڈول کے تحت زبانوں کی ترقی پر زور دیا گیا ہے جس میں اردو بھی شامل ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر اور کتاب کے مترجم مظہر آصف نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب ہزار سالہ تہذیب ہے اور دنیا میں بہت ساری تہذیبیں پیدا ہوئیں۔ وہ یا تو مٹ گئیں یا دوسرے نام سے موسوم ہوگئیں یا لیکن ہندوستانی تہذیب اپنی آن بان اور شان کے ساتھ اپنا جلوہ بکھیر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دوسری تہذیبوں ا ور سناتنی سنسکار میں بہت فرق ہے کیوں کہ سناتنی سنسکار ندیوں، پہاڑوں اور درختوں سے منسلک ہیں جو ہمارے لئے اور ہم ان کے لئے ضروری ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ کتاب تحریک آزادی اور تقسیم ہند کے المیہ پر مشتمل ہے اور حقائق کو جاننے کے لئے اس کتاب کو پڑھنا ضروری ہے۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہاکہ وینائک دامودر ساورکرپر لکھی اس کتاب میں تحریک آزادی میں ان کا کردار اور ملک کے لئے ان کی خدمات کا بھرپور احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کتاب میں بہت ہی معروضی انداز میں ان کی زندگی پر بات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اردو کونسل مختلف اہم شخصیات پر اب تک دو ہزار سے زائد کتابیں شائع کرچکی ہے۔ جن میں داراہ شکوہ، مہاتما گاندھی، مولانا آزاد اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ یہ نہ صرف کونسل کے لیے بلکہ پوری اردو دنیا کے لیے ایک اہم موقع ہے، کیوں کہ اب تک اردو زبان میں ویرساورکر پر مستند اور غیرجانبدارانہ حقائق پر مبنی کتاب کی شدید کمی محسوس کی جارہی تھی،جسے قومی اردو کونسل نے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اردو آبادی اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرے گی اور آزاد ہندوستان کے غیر جانبدارانہ تاریخی بیانیے اور تحقیق و تفتیش پر مبنی جہت سے آگاہی حاصل کرے گی۔
کتاب کے مصنف اور سابق انفارمیشن کمشنر ادے ما ہولکر نے کہاکہ وینائک دامودر ساورکر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ اس کتاب میں کس لئے لڑے تھے اور ان کا نظریہ کیا تھا اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کا نظریہ یکساں حقوق، آزاد ہندوستان میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی کے بار ے میں ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اقلیتوں کو مذہبی آزادی تو ہوگی لیکن انہیں اپنی مذہبی ریاست بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ا س کتاب میں آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ویرساورکر کے حوالے سے سچی اور غیر جانبدارانہ معلومات پیش کی گئی ہیں اور ان تمام غلط فہمیوں کو تاریخی حقائق کی روشنی میں دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جومخصوص سیاسی نظریے کے تحت پھیلائی گئی ہیں
کتاب کے شریک مصنف شری چرایو پنڈت اور شریک مترجم ڈاکٹر مسعود عالم نے بھی اظہار خیال کیا اور اس موقعے پر تمام مہمانوں کا شال، مومنٹو اور کتابیں پیش کرکے استقبال کیا گیا۔
پروگرام میں کثیر تعداد میں دانشوران،جامعات کے اساتذہ،میڈیا اہلکار، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
راج ناتھ نے دولت مشترکہ کھیلوں میں تمغے جیتنے والے جوانوں کے ساتھ بات چیت کی
نئی دہلی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل دھیرج سیٹھ نے اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو میں حال ہی میں اختتام پذیرہوئے دولت مشترکہ کھیلوں میں 16 تمغے (08 سونا، 07 چاندی اور ایک کانسہ) جیتنے والی فوج کی ٹیم کے اراکین کے ساتھ بات چیت کیوزارتِ دفاع نے جمعہ کے روز بتایا کہ ان کھیلوں میں ہندستان نے کل 39 تمغے جیتے ہیں جن میں سے 18 تمغے (16 فوج اور دو بحریہ) ہندستانی دفاعی افواج کے جوانوں نے جیتے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے جسمانی اور ذہنی دباؤ سے ابھر کر بین الاقوامی کھیل کی تقریب میں ملک کا وقار بڑھانے کے لیے ہندستانی دفاعی افواج کے مضبوط عزم اور پختہ ارادے کی تعریف کی۔ اس کامیابی کو “غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کھلاڑی لوگوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے باعثِ تقلید ہیں، کیونکہ وہ “ایک سپاہی اور ایک چیمپئن کا بہترین امتزاج” ہیں۔
مکے بازی (باکسنگ) میں چھ سونے کے تمغوں میں سے چار خاتون باکسروں کے ذریعہ جیتے جانے پر مسٹر سنگھ نے کہا کہ یہ کامیابی ہندستان کی بڑھتی ہوئی ‘ناری شکتی’ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی مزید لڑکیوں کو کھیلوں میں حصہ لینے اور دفاعی افواج میں شامل ہونے کے لیے ترغیب دے گی۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ملک کے ہر کونے سے ہندستانی چیمپئن ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے ایشیائی کھیلوں اور اولمپکس جیسے آنے والے مقابلوں کے لیے ایتھلیٹوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں۔
جنرل سیٹھ نے بھی جوانوں کو ان کی شاندار کارکردگی نیز کامیابی کے لیے مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ذریعے گشت روکنے کا دعویٰ تشویش ناک، مودی حکومت کی خاموشی اور زیادہ خطرناک: راہل گاندھی
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے اروناچل پردیش کے کچھ سرحدی علاقوں میں ہندستانی فوج کو گشت کرنے سے روک دیا ہے انہوں نے اس صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر شدید سوالات اٹھائے ہیں سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے مسٹر گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اروناچل پردیش میں متعدد مقامات پر چین نے ہندستانی فوج کو پیٹرولنگ کرنے سے روک دیا ہے۔ انہوں نے اسے انتہائی تشویش ناک صورتحال قرار دیا۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ اور مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت چین کو روکنے کے بجائے اس خبر کو دبانے کے لیے میڈیا پر دباؤ بنا رہی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے گلوان وادی کے واقعے کے بعد وزیر اعظم مودی کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چین نے ہندستان کی زمین کے ایک انچ پر بھی قبضہ نہیں کیا۔ مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ اس بیان سے ملک کو بھاری نقصان پہنچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی وزیر اعظم کی شبیہ بچانے کا وہی ‘آپریشن’ جاری ہے۔ مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ ملک کی سلامتی سے اوپر اپنی شبیہ کو ترجیح دینے والا وزیر اعظم ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
وزیراعظم نے تقسیم کے المیے کو یاد کیا، بچ جانے والوں کی ہمت اور لچک کی ستائش کی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کے دن تقسیم کے متاثرین اور بچ جانے والوں کو یاد کیا اور ملک کی تقسیم سے پیدا ہوئے عظیم انسانی دکھوں کو یاد کرتے ہوئے ان لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے اس صدمے پر قابو پایا اور اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کیا۔
تقسیم کے مظالم کے یادگاری دن کے موقع پر مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم نے “کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا”، خاندانوں کو بے گھر کر دیا، اپنوں کو جدا کر دیا اور سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بے پناہ تکلیف پہنچائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ “آج ہم #PartitionHorrorsRemembranceDay منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ “یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے کئی زندگیوں کو تباہ کر دیا… خاندان بے گھر ہوئے، اپنے پیارے کھو دیاگیا اور بے پناہ تکلیفیں برداشت کی گئیں۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے تباہی کے باوجود تقسیم کے بعد بچ جانے والوں کی اپنی زندگیوں کو ازسرنو شروع کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس پر قابو پاتے ہوئے، لوگوں نے صفر سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ شروع کیا، مصیبت کو کامیابی میں بدلا اور ہمارے ملک کی ترقی میں بے پناہ تعاون دیا۔”
مسٹر مودی نے کہا کہ تقسیم کا سامنا کرنے والوں کے سفر انسانی استحکام کے ثبوت کے طور پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی جذبے کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں۔”
وزیراعظم نے اس موقع پر ملک کی باہمی ہم آہنگی، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے عزم کو مزید مضبوط کرنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے اور اجتماعی طور پر ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کے ہمارے عزم کو مزید گہرا کرے۔”
تقسیم کے مظالم کا یادگاری دن 14 اگست کو 1947 میں ہندوستان کی تقسیم سے جڑے دکھ، نقل مکانی اور جانی نقصان کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں جدید تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانی ہوئی، کیونکہ شدید فرقہ وارانہ تشدد کے درمیان لاکھوں لوگوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نئی کھینچی گئی سرحدوں کو پار کیا۔
مودی حکومت نے 2021 میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا مقصد تقسیم کے دوران لوگوں کی برداشت کردہ تکلیفوں کو یاد کرنا اور سماجی ہم آہنگی کی حفاظت اور تقسیم اور نفرت کو دوبارہ پنپنے سے روکنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔
یو این آئی۔این یو۔
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
