جموں و کشمیر
دہلی دھماکے کے قصورواروں کو سخت سزا دی جائے لیکن بے گناہوں کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ نوگام پولیس اسٹیشن میں ہوئے حادثاتی دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس دھماکے کی وجہ سے جو متصل واقع مکانوں کو نقصان ہوا ہے ان کو بھی معاوضہ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا’میں نے وزرائے اعلیٰ کانفرنس میں بھی یہ بات کہی کہ جموں وکشمیر خاص طور پر کشمیر کے ہر مسلمان کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے، جو د ہلی دھماکے کے قصور وار ہیں ان کو سخت سزا دی جائے لیکن بے گناہوں کو اس دائرے میں نہ لایا جائے۔‘
وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار منگل کو یہاں اجالا ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کرنے کے دوران نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔
نوگام دھماکے کے بارے میں انہوں نے کہا’اس کی تحقیقات جاری ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ اس حادثے میں کئی لوگ جاں بحق ہوئے ہیں جن میں پولیس، ایف ایس ایل کے اہلکار،سول انتظامیہ کے اہلکار اور ایک درزی شامل ہیں، یہ حادثہ کیوں ہوا، کیسے ہوا تحقیقات شروع کی گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا، اتنی مقدار میں یہ مواد یہاں لایا گیا، کن حالات میں لایا گیا، کن حالات میں اس کو رکھا گیا، کن حالات میں اس سے نمٹا گیا، آہستہ آہستہ ان تمام سوالوں کے جواب حاصل ہوں گے۔‘
عمر عبداللہ نے اجالا ہسپتال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سب سے پہلے بچاؤ کارروائیاں شروع کیں۔
انہوں نے کہا’ابھی بھی کئی لوگ ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے 4 زخمی آئی سی یو میں ہیں، امید کرتا ہوں کہ سب صحتیاب ہوکر اپنے اپنے گھر جائیں گے۔‘
نوگام دھماکے کے متاثرین کے معاوضے کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’ہم نے پہلے ہی وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ سے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے،جو مکانوں کو نقصان ہوا ہے، اس کا بھی ایک کیس بنایا جا رہا ہے چونکہ دھماکہ پولیس اسٹیشن میں ہوا ہے امید ہے محکمہ داخلہ اور لیفٹیننٹ گورنر کے فنڈ سے بھی مکان مالکوں کو امداد دی جائے گی۔‘
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا ’میں نے وزرائے اعلیٰ کانفرنس میں بھی یہ بات کہی کہ جموں وکشمیر خاص طور پر کشمیر کے ہر مسلمان کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے، جو دلی دھماکے کے قصووار ہیں انہیں سخت سزا دی جائے لیکن بے گناہوں ، جن کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، کو اس دائرے میں نہ لایا جائے، امید ہے کہ میری بات پر عمل کیا جائے گا۔‘
نوگام دھماکے میں جاں بحق ہونے والے درزی کے گھر کے کسی فرد کو سرکاری نوکری دینے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا ’پہلے ایس آر آو ہوتا تھا، اس کا نام بدل دیا گیا لیکن اسکیم ابھی بھی وہی ہے، جو اس طرح کے حادثوں میں جاں بحق ہوجاتے ہیں ان کو معاوضے کے طور پر سرکاری نوکری دی جاتی ہے، اس سلسلے میں بھی کیس پر عمل ہو رہا ہے۔‘
یو این آئی ایم افضل۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
