جموں و کشمیر
جنوبی کشمیر کے منصوبوں کی معطلی کے بعد شمالی کشمیر میں ریلوے الائنمنٹ پر آوازیں بلند
سری نگر، جنوبی کشمیر میں ریلوے توسیعی منصوبوں کو سیب کے باغات کو ممکنہ نقصان کے خدشے کے پیش نظر روکنے کے بعد اب شمالی کشمیر میں مجوزہ ریلوے الائنمنٹ کے خلاف تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہ رواں کے اوائل میں مرکزی وزیر ریولے اشونی ویشنو نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی کشمیر میں مجوزہ ریلوے لائنوں کو عوامی نمائندوں کے اعتراضات اور اراضی کے حصول سے سیب باغات کو نقصان پہنچنے کے خدشات کے باعث معطل کر دیا گیا تھا گرچہ متعدد راستوں پر سروے کا عمل شروع ہوچکا تھا تاہم مزید جائزے تک منصوبوں کو روک دیا گیا ہے۔
اب یہ معاملہ شمالی کشمیر کی طرف منتقل ہوگیا ہے جہاں بارہمولہ – اوڑی ریلوے الائنمنٹ پر مقامی لوگوں اور سیاسی رہنمائوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ممکنہ بے دخلی اور اہم رہائشی و تاریخی علاقوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن غلام علی کھٹانہ نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں وزیر ریلوے سے ملاقات کی اور بارہمولہ کے شیروانی کالونی، جیٹی اور فتح پور کے رہائشیوں کے خدشات ان کے گوش گذار کئے۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ مجوزہ الائنمنٹ گنجان آبادی والی بستیوں بشمول شیروانی کالونی ( جو 1961 میں شہید محمد مقبول شیروانی کی یاد میں قائم کی گئی تھی) سے گذر رہی ہے۔ شہید شیروانی 1947 میں کشمیر کے دفاع میں اہم کر دار ادا کرنے والے ایک معروف مجاہد آزادی تھے۔
خط میں کہا گیا: ‘اگر اس الائنمنٹ پر عمل در آمد کیا گیا تو بڑے پیمانے پر خاندانوں کی بے دخلی، برسوں سے آباد گھروں کی مسماری اور سماجی، ثقافتی و تاریخی شناخت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے’۔
انہوں نے مزید لکھا: ‘درخواست میں واضح کیا گیا ہے کہ گھر محض ایک ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک خاندان کی روح ہوتا ہے، جو عمر بھر کی جمع پونجی اور یادوں سے تعمیر ہوتا ہے، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لئے اس کا نقصان مالی معاوضے سے پورا نہیں کیا جا سکتا ہے’۔
رہائشیوں نے اپیل کی ہے کہ الائنمنٹ پر نظر ثانی کی جائے اور کم آبادی یا خالی علاقوں سے متبادل راستوں پر غور کیا جائے۔
انہوں نے وزیر ریلوے سے گذارش کی کہ قومی مفاد میں رابطہ کاری کو مد نظر رکھتے ہوئے اور آئینی اقدار انصاف و انسانی حکمرانی کے تحت اس معاملے کا ہمدردانہ اور فوری جائزہ لیا جائے۔
وزیر ریلوے کے ساتھ ملاقات کے بعد غلام علی کھٹانہ نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘وزیر نے مجھے یقین دلایا کہ ریلوے سروے کو متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد دوبارہ دیکھا جائے گا اور متبادل الائنمنٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا’۔
بارہمولہ کے رکن پارلیمان عبد الرشید شیخ المعروف انجینئر رشید نے بھی یہ معاملہ وزیر ریلوے کے ساتھ اٹھایا تھا، یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ موجودہ الائنمنٹ رہائشی علاقوں کو متاثر کرتی ہے اور اس سے خاندانوں کی بی دخلی اور کمیونٹی ڈھانچے میں خلل پیدا ہوسکتا ہے۔
عوامی اتحاد پارٹی کے ترجمان انعام النبی کے مطابق مرکزی وزارت ریلوے نے انجینئر رشید کی نمائندگی کو متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کو ضروری کارروائی کے لئے بھیج دیا ہے۔
وزارت کی جانب سے موصولہ جواب ، جو وزیر مملکت برائے ریلوے رونیت سنگھ بٹو نے پہنچایا، میں کہا گیا ہے کہ اٹھائے گئے خدشات کو جانچ کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔
شیروانی کالونی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ ریلوے لائن کو بارہمولہ کے گنجان آبادی والے علاقوں سے گذارا گیا تو یہ نہ صرف تباہ کن بلکہ سنگین نتائج کا باعث بھی ہوسکتا ہے جس سے بڑے پیمانے پر بے دخلی اور سماجی زندگی میں شدید خلل پڑ سکتا ہے۔
یو این آئی ایم افضل۔ایف اے
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کی حمایت میں دیے گئے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت توجہ آئینی اقدار کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔
سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’میری نظر میں آج کا دن ریزرویشن سے کہیں زیادہ بڑے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے ہمیں جو آزادی حاصل ہوئی، اس کے لیے قربانیاں دی ہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان وزیرِ اعظم مودی کی یومِ آزادی کی تقریر کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسے رہنماؤں نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جہاں لوگ آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اپنی مرضی سے طرزِ زندگی اختیار کر سکیں اور مساوی حقوق سے لطف اندوز ہوں۔
انہوں نے مرکز کی بی جے پی حکومت سے غور کرنے کی اپیل کی کہ آیا ہندوستان واقعی آئین میں بیان کردہ اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کی قیادت میں اور اُس وقت کی کانگریس قیادت کی حمایت سے تیار کیے گئے آئین نے تمام شہریوں کے لیے انصاف اور مساوات کی ضمانت دی ہے اور مذہب و ذات کی بنیاد پر امتیاز کو مسترد کیا ہے۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ آئین مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’تو میں محسوس کرتی ہوں کہ 80 سال بعد کیا ہمیں پیچھے کی جانب لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ہمیں 1947 کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جب ہندو مسلم تنازعات تھے، برطانوی حکومت تھی، ہمارے پاس کوئی حقوق نہیں تھے اور آمریت تھی؟‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ وقت میں آئینی اقدار کا تحفظ زیادہ اہم اور فوری مسئلہ ہے۔
خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی اس اقدام کی حمایت کرتی ہے اور نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ پہلے ہی 2023 میں متعلقہ قانون منظور کر چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’جہاں تک ریزرویشن کا تعلق ہے، ہم ریزرویشن چاہتے ہیں اور اس کے لیے 2023 میں قانون پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے۔ اب صرف اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو اپوزیشن کو اس پر کیا اعتراض ہے؟‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
سری نگر، ملک کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز سری نگر میں واقع بلیدان استمبھ پر پھول چڑھا کر شہیدوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ نے شہر کے مرکزی علاقے میں واقع یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
اس موقع پر جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نلن پربھات، اے ڈی جی پی ہیڈکوارٹرز، کشمیر کے ڈویژنل کمشنر، اعلیٰ افسران، سکیورٹی اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ایس یو وی نالے میں جاگری، پانچ افراد ہلاک
جموں، جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع کے دچھن علاقے میں ایک ایس یو وی کے حادثے کا شکار ہوکر نالے میں جا گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ ایس یو وی کشتواڑ سے دچھن کی جانب جارہی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی پر قابو کھو دیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مدوسر نالہ میں جاگری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فوج کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کردی۔
حکام نے بتایاکہ ’’پانچ لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ امدادی کارروائی جاری ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoحوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
