تجزیہ
عالمی یوم خواتین:خواتین کے تئیں نظریہ بدلنے کی ضرورت
عالمی یوم خواتین پر خاص:عابد انور
پوری دنیا میں آٹھ مارچ کو بین الاقوامی یوم خواتین دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، سیمینار، مباحثے، مذاکرے، ورکشاپ دیگر پروگراموں کے ذریعہ خواتین کی صورت حال پیش کی جاتی ہے، خواتین کے حقوق کی باتیں زور و شور کی جاتی ہیں، ان کے وقار، ان کی عزت و آبرو اور احترام پر زور دیا جاتاہے،اس کے بعد پھرایک برس تک خواتین کے ساتھ نہ صرف نازیبا سلوک ہوتا ہے بلکہ ان کے تن سے کپڑے بھی اتارے جاتے ہیں، برہنہ پریڈ کرایاجاتا ہے اورعزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کیلئے طرح طرح کے بدترین سلوک کئے جاتے ہیں۔اس کے باوجود کہلانے والا مہذب معاشرہ خواتین کے تئیں حساس نہیں ہوتا۔ خواتین کے عالمی دن منانے کے ساتھ جب تک ہم اپنے نظریے میں تبدیلی نہیں لاتے یا اپنی ذہنیت نہیں بدلتے اس وقت تک اس سیمینار اور مباحثے اورمذاکرے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں تمام سطحوں پر خواتین کی عزت و آبرو اور وقار کی ضمانت دی جائے وہیں خواتین پر زور دیا جائے کہ وہ تہذیب کے دامن اور خواتین کے وقار کے خلاف ایسا کوئی کام نہ کریں جس کی سزا دوسروں کوبھگتنی پڑے۔جب سے دنیا قائم ہے مرد کے ساتھ زن نے بھی اس دنیا کو سجانے سنوارنے میں یکساں کردار ادا کیا ہے۔ وہ تمام شعبہائے حیات میں اپنا کردار ادا کرتی آرہیں خواہ وہ پتھر کا زمانہ ہو یا لوہے کا یا مہذب دنیا۔آج خواتین نہ صرف حکمراں ہیں بلکہ سائنس، تکنالوجی، صنعت وتجارت اورسیاست ہر میدان میں اپنا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ 8مارچ دنیا میں خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی علامت بن چکاہے۔ یہ1914سے اس دن کے منانے کی شروعات ہوئی۔ آٹھ مارچ 1907کو نیویارک کے ملبوسات کی صنعت سے وابستہ چندخواتین نے تنخواہوں میں اضافہ اوربہترحالات کیلئے یہ جدوجہدشروع کی تھی۔نیویارک کی ان خواتین نے مطالبہ کیاتھاکہ دس گھنٹے کے کام کے عوض انہیں اس کے مطابق زیادہ تنخواہیں دی جائیں۔ان عورتوں پرگھوڑسوارپولیس نے لاٹھی چارج کیااورا ن زخمی عورتوں کوگھوڑوں کے پیچھے باندکر گھسیٹاگیا۔اس کے بعدسوئی سازی کی صنعت سے وابستہ عورتوں نے اپنے ووٹ کے حق اوربچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف1908 میں مظاہرہ کیا۔ایک سماجی کارکن کلارازٹیکسن نے1910ء میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں سفارش کی کہ1907 اور1908میں اپنے حقوق کیلئے جدوجہدکرنیوالی عورتوں کی آوازمیں دنیابھرکی عورتوں کی آوازکوشامل کرنے کیلئے8مارچ کوعورتوں کاعالمی دن قراردیاجائے اوریہ دن ہرسال دنیابھرمیں منایاجائے۔ 1956ء میں سیاہ فام مزدوروں پرپابندی کے خلاف جنوبی افریقہ کی20ہزارعورتوں نے پیری کوریامیں زبردست مظاہرہ کیاجسکے بعدعورتوں کی آوازمیں کچھ طاقت پیدا ہوئی۔جس کااثریہ ہواکہ8مارچ کو اقوام متحدہ نے بھی خواتیں کے عالمی دن کے طورپرتسلیم کرلیا۔
اقوام متحدہ کے فنڈبرائے آبادی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر15سیکنڈبعدایک عورت تشددکانشانہ بنتی ہے۔برطانیہ میں یہ شرح8.7فیصدفی لاکھ اورجنوبی افریقہ میں 129عورتیں فی لاکھ ہے جودنیابھرمیں سب سے زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیابھرمیں 20فیصدخواتین مردوں کے تشددوزیادتی کا شکار ہیں امریکہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ کی عورتیں بدترین تشددمیں مبتلاہیں۔ہندوستان میں سالانہ6500سے7000خواتین کومحض اس لئے قتل کردیاجاتاہے کہ ان کے سسرال ان کو ملنے والے جہیزکوناکافی تصورکرتے ہیں۔ اس وقت دنیابھرمیں تقریباً4کروڑنوجوان خواتین کوفیملی پلاننگ کے محفوظ ذرائع دستیاب نہیں۔ ہرسال15سے 49 سال تک کی عمرکی تقریباً6لاکھ خواتین زچگی کے دوران مرجاتی ہیں۔ہرسال پانچ کروڑعورتوں میں سے اسقاط حمل کے مرحلے سے گزرتے ہوئے 78ہزارعورتیں انتقال کرجاتی ہیں۔جبکہ 40لاکھ خواتین اورلڑکیوں کوہرسال دنیابھرمیں عصمت فروشی کے دھندے میں دھکیل دیاجاتاہے۔ دنیابھرمیں عورتوں کوکام کرنے کامعاوضہ بہت کم دیاجاتاہے۔
دنیابھرمیں 7کروڑ سے زائدخواتین روزانہ بھوکی سوتی ہیں جن میں صرف انتہائی پسماندہ ممالک شامل نہیں ہیں۔ہرسال 80 لاکھ سے زائد عورتیں انسانوں کی خریدوفروخت کاشکارہوتی ہیں ان میں سے زیادہ ترکوکاروبار کے لئے عصمت فروشی کے لئے مجبورکیاجاتاہے۔
کسی بھی ملک نے مرد اور عورت کے درمیان قانونی خلا کو پر نہیں کیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں مردوں کو حاصل قانونی حقوق کا صرف 64 فیصد خواتین کو حاصل ہے۔ زندگی کے بنیادی شعبوں میں، بشمول کام، پیسہ، حفاظت، خاندان، جائیداد، نقل و حرکت، کاروبار اور ریٹائرمنٹ – قانون منظم طریقے سے خواتین کو نقصان پہنچاتا ہے۔2026 کے خواتین کا عالمی دن، تھیم کے تحت، ‘حقوق، انصاف، کارروائی ہے۔ یہ تھیم تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے’، مساوی انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ امتیازی قوانین، کمزور قانونی تحفظات اور نقصان دہ طرز عمل اور معاشرتی اصول جو خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں ۔
تنازعات اور بحران کی وجہ سے رجعت پسندی کے خطرات کے ساتھ۔ نصف آبادی ہونے کے باوجود، خواتین کو مسلسل عدم مساوات کا سامنا ہے، جس میں مردوں کے لیے 80 فیصد کے مقابلے میں 53 فیصد افرادی قوت کی شرکت کی شرح، تشدد کی اعلیٰ سطح (3 میں سے 1) اور بہت سے ملکوں میں محدود قانونی حقوق شامل ہیں۔
عالمی سطح پر صنفی مساوات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو اس قت کم کرنے کی رفتار ہے اور یہی صورت حال رہی تو مکمل صنفی مساوات حاصل کرنے میں تقریباً 123 سال لگ سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں دو ارب خواتین اور لڑکیوں کو کسی بھی قسم کی سماجی تحفظ (Social Protection) کی سہولت حاصل نہیں۔اندازہ ہے کہ 2030 تک 351 ملین (35 کروڑ) خواتین اور لڑکیاں شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہوں گی۔خواتین عالمی آمدنی کا صرف تقریباً 28 فیصد حصہ حاصل کرتی ہیں۔دنیا بھر میں پارلیمنٹ میں خواتین کی اوسط نمائندگی تقریباً 27.2فیصد ہے۔بہت سے ممالک میں ابھی تک کبھی بھی خاتون سربراہِ مملکت یا خواتین کی حکومت نہیں بنی۔اس کے علاوہ خواتین کے تئیں جرائم پر نظر ڈالیں تو دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔230 ملین سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں Female (خواتین کا ختنہ)Genital Mutilation جیسے نقصان دہ رواج کا شکار ہو چکی ہیں۔ تنازعات کے علاقوں میں خواتین غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں، 5 میں سے 1 خاتون پناہ گزین کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی کے ساتھ دنیا میں کم عمری کی شادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں تقریباً 19فیصد لڑکیاں 18 سال سے پہلے شادی کر لیتی ہیں۔دنیا میں امن کا دعوی کے باوجود دنیا میں 676 ملین خواتین اور لڑکیاں جنگی علاقوں کے قریب رہ رہی ہیں۔دنیا میں 2024 میں مردوں کے مقابلے میں 64 ملین زیادہ خواتین خوراک کی کمی کا شکار تھیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث 2050 تک 158 ملین مزید خواتین شدید غربت میں جا سکتی ہیں۔
کچھ پیشرفت کے باوجود، بہت سے شعبوں میں پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی 25فیصد سے کم ہے اور کابینہ میں خواتین وزیر صرف 22فیصدہیں۔
ڈبلیو پی ایس انڈیکس 2025/26 ڈنمارک، آئس لینڈ اور ناروے کو خواتین کے لیے بہترین ممالک کے طور پر درجہ بندی کرتا ہے، جبکہ دیگر خطوں کو حقوق کے حوالے سے سخت رکاوٹوں کا سامنا ہے۔خواتین کے تعلق سے افغانستان کو بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ویمن پیس اینڈ سیکیورٹی انڈیکس (WPS انڈیکس) خواتین کی فلاح و بہبود پر 181 ممالک کا اسکور اور درجہ بندی کرتا ہے۔ یہ 13 اشارے استعمال کرتا ہے جو 0 (بدترین) سے 1 (بہترین) تک اسکور بنانے کے لیے خواتین کی شمولیت، انصاف اور سلامتی پر محیط ہے۔ رینکنگ میں ڈنمارک بدستور سرفہرست ہے جب کہ افغانستان کی کارکردگی بدترین ہے۔ڈبلیو پی ایس انڈیکس کے پانچویں ایڈیشن سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی سطح پر خواتین کی حیثیت پر پیش رفت رک رہی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ تنازعات سے متاثرہ مقامات سے بہتری آسکتی ہے۔
اگرچہ خواتین اور لڑکیوں نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں بڑی پیش رفت کی ہے، لیکن یہ کامیابیاں مکمل طور پر معاشی مواقع میں تبدیل نہیں ہوئیں۔ خواتین کے انسانی سرمائے کو کم استعمال کیا جا رہا ہے، کیونکہ نگہداشت کی بلا معاوضہ ذمہ داریاں، پابندی والے سماجی اصول اور فنانس اور ڈیجیٹل ٹولز تک محدود رسائی جیسی رکاوٹیں افرادی قوت اور وسیع تر معیشت میں ان کی شرکت کو روکتی رہتی ہیں۔ عالمی سطح پر، خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 1990 سے اب تک 53 فیصد پر جمود کا شکار ہے۔ مردوں کے لیے 80 افیصد کے مقابلے۔ 710 ملین سے زیادہ خواتین کو خاندانی نگہداشت کے فرائض کی وجہ سے لیبر مارکیٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔
پورے ہندوستان میں صنفی عدم مساوات کے نتیجے میں غیر مساوی مواقع پیدا ہوتے ہیں اور جب کہ اس کا اثر دونوں جنسوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے، اعداد و شمار کے مطابق لڑکیاں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔
عالمی سطح پر لڑکیوں کی پیدائش کے وقت زندہ رہنے کی شرح زیادہ ہے، ترقی کے راستے پر چلنے کے امکانات زیادہ ہیں اور بالکل اسی طرح پری اسکول میں حصہ لینے کا امکان ہے، لیکن ہندوستان واحد بڑا ملک ہے جہاں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ مرتی ہیں۔ لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا بھی زیادہ خدشہ ہے۔
ہندوستان میں لڑکیاں اور لڑکے نوجوانی کا تجربہ مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔ جبکہ لڑکے زیادہ آزادی کا تجربہ کرتے ہیں، لڑکیوں کو آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے اور ان کے کام، تعلیم، شادی اور سماجی تعلقات کو متاثر کرنے والے فیصلے کرنے کی صلاحیت پر وسیع پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح جیسے جیسے لڑکیوں اور لڑکوں کی عمر بڑھتی جاتی ہے صنفی رکاوٹیں بڑھتی رہتی ہیں اور جوانی تک جاری رہتی ہیں جہاں ہم صرف ایک چوتھائی خواتین کو رسمی کام کی جگہ پر دیکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کی خواندگی کی شرح تقریباً 70.3 فیصدجبکہ مردوں کی 84.7فیصد ہے۔اس طرح مرد و خواتین کی خواندگی میں تقریباً 14–17 فیصد کا فرق موجود ہے۔خواتین کی اوسط عمر تقریباً 76 سال جبکہ مردوں کی 73 سال ہے۔زچگی کے دوران اموات کی شرح 122 (2015-17) سے کم ہو کر 97 (2018-20) ہوگئی۔خواتین میں خون کی کمی (Anaemia) تقریباً 50فیصدکے قریب ہے۔ہندوستانی پارلیمنٹ میں خواتین کا تناسب تقریباً 13–14فیصد ہے۔وزارتی عہدوں میں خواتین کی شرح صرف 5–6 فیصد کے قریب ہے۔عالمی صنفی مساوات کے اشاریہ میں ہندوستان کا درجہ 131واں ہے۔
ہندوستان میں معاشی معاملے میں بھی خواتین کافی پسماندہ ہیں۔ خواتین کی لیبر فورس پارٹیسپیشن 2017-18 میں 23.3فیصد تھی جو بڑھ کر 41.7فیصد (2023-24) ہوگئی۔اس کے باوجود عالمی سطح پر خواتین کی معاشی شرکت میں ہندوستان کا درجہ بہت کم ہے (142/146)۔اکثر خواتین غیر رسمی یا کم تنخواہ والی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں اور مرد کے مقابلے خواتین کو 22-25فیصد کم اجرت ملتی ہے۔ گھریلو تشدد قوانین کے باوجود خواتین کے ساتھ گھریلو تشدد میں بہت کمی نہیں آئی ہے۔ تقریباً 31–32فیصد شادی شدہ خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔2022 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4,45,000 سے زیادہ کیسز درج ہوئے۔اوسطاً روزانہ 80 سے زیادہ آبروریزی کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔خواتین تقریباً 78فیصدغیر محفوظ یا کم معیار کی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں۔جو خواتین ملازمت نہیں کرتیں ان میں سے تقریباً 53 فیصدگھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے کام نہیں کر پاتیں۔ جب کہ مردوں میں یہ شرح صرف 1فیصد کے قریب ہے۔
کچھ ہندوستانی خواتین عالمی رہنما ہیں اور متنوع شعبوں میں طاقتور آوازیں ہیں لیکن ہندوستان میں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں پدرانہ نظریات، اصولوں، روایات اور ڈھانچے کی وجہ سے اپنے بہت سے حقوق سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوتی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا10 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان11 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا13 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر4 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر4 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا3 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
