Connect with us

تجزیہ

عالمی یوم خواتین:خواتین کے تئیں نظریہ بدلنے کی ضرورت

Published

on

عالمی یوم خواتین پر خاص:عابد انور

پوری دنیا میں آٹھ مارچ کو بین الاقوامی یوم خواتین دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، سیمینار، مباحثے، مذاکرے، ورکشاپ دیگر پروگراموں کے ذریعہ خواتین کی صورت حال پیش کی جاتی ہے، خواتین کے حقوق کی باتیں زور و شور کی جاتی ہیں، ان کے وقار، ان کی عزت و آبرو اور احترام پر زور دیا جاتاہے،اس کے بعد پھرایک برس تک خواتین کے ساتھ نہ صرف نازیبا سلوک ہوتا ہے بلکہ ان کے تن سے کپڑے بھی اتارے جاتے ہیں، برہنہ پریڈ کرایاجاتا ہے اورعزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کیلئے طرح طرح کے بدترین سلوک کئے جاتے ہیں۔اس کے باوجود کہلانے والا مہذب معاشرہ خواتین کے تئیں حساس نہیں ہوتا۔ خواتین کے عالمی دن منانے کے ساتھ جب تک ہم اپنے نظریے میں تبدیلی نہیں لاتے یا اپنی ذہنیت نہیں بدلتے اس وقت تک اس سیمینار اور مباحثے اورمذاکرے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں تمام سطحوں پر خواتین کی عزت و آبرو اور وقار کی ضمانت دی جائے وہیں خواتین پر زور دیا جائے کہ وہ تہذیب کے دامن اور خواتین کے وقار کے خلاف ایسا کوئی کام نہ کریں جس کی سزا دوسروں کوبھگتنی پڑے۔جب سے دنیا قائم ہے مرد کے ساتھ زن نے بھی اس دنیا کو سجانے سنوارنے میں یکساں کردار ادا کیا ہے۔ وہ تمام شعبہائے حیات میں اپنا کردار ادا کرتی آرہیں خواہ وہ پتھر کا زمانہ ہو یا لوہے کا یا مہذب دنیا۔آج خواتین نہ صرف حکمراں ہیں بلکہ سائنس، تکنالوجی، صنعت وتجارت اورسیاست ہر میدان میں اپنا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ 8مارچ دنیا میں خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی علامت بن چکاہے۔ یہ1914سے اس دن کے منانے کی شروعات ہوئی۔ آٹھ مارچ 1907کو نیویارک کے ملبوسات کی صنعت سے وابستہ چندخواتین نے تنخواہوں میں اضافہ اوربہترحالات کیلئے یہ جدوجہدشروع کی تھی۔نیویارک کی ان خواتین نے مطالبہ کیاتھاکہ دس گھنٹے کے کام کے عوض انہیں اس کے مطابق زیادہ تنخواہیں دی جائیں۔ان عورتوں پرگھوڑسوارپولیس نے لاٹھی چارج کیااورا ن زخمی عورتوں کوگھوڑوں کے پیچھے باندکر گھسیٹاگیا۔اس کے بعدسوئی سازی کی صنعت سے وابستہ عورتوں نے اپنے ووٹ کے حق اوربچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف1908 میں مظاہرہ کیا۔ایک سماجی کارکن کلارازٹیکسن نے1910ء میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں سفارش کی کہ1907 اور1908میں اپنے حقوق کیلئے جدوجہدکرنیوالی عورتوں کی آوازمیں دنیابھرکی عورتوں کی آوازکوشامل کرنے کیلئے8مارچ کوعورتوں کاعالمی دن قراردیاجائے اوریہ دن ہرسال دنیابھرمیں منایاجائے۔ 1956ء میں سیاہ فام مزدوروں پرپابندی کے خلاف جنوبی افریقہ کی20ہزارعورتوں نے پیری کوریامیں زبردست مظاہرہ کیاجسکے بعدعورتوں کی آوازمیں کچھ طاقت پیدا ہوئی۔جس کااثریہ ہواکہ8مارچ کو اقوام متحدہ نے بھی خواتیں کے عالمی دن کے طورپرتسلیم کرلیا۔

اقوام متحدہ کے فنڈبرائے آبادی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر15سیکنڈبعدایک عورت تشددکانشانہ بنتی ہے۔برطانیہ میں یہ شرح8.7فیصدفی لاکھ اورجنوبی افریقہ میں 129عورتیں فی لاکھ ہے جودنیابھرمیں سب سے زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیابھرمیں 20فیصدخواتین مردوں کے تشددوزیادتی کا شکار ہیں امریکہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ کی عورتیں بدترین تشددمیں مبتلاہیں۔ہندوستان میں سالانہ6500سے7000خواتین کومحض اس لئے قتل کردیاجاتاہے کہ ان کے سسرال ان کو ملنے والے جہیزکوناکافی تصورکرتے ہیں۔ اس وقت دنیابھرمیں تقریباً4کروڑنوجوان خواتین کوفیملی پلاننگ کے محفوظ ذرائع دستیاب نہیں۔ ہرسال15سے 49 سال تک کی عمرکی تقریباً6لاکھ خواتین زچگی کے دوران مرجاتی ہیں۔ہرسال پانچ کروڑعورتوں میں سے اسقاط حمل کے مرحلے سے گزرتے ہوئے 78ہزارعورتیں انتقال کرجاتی ہیں۔جبکہ 40لاکھ خواتین اورلڑکیوں کوہرسال دنیابھرمیں عصمت فروشی کے دھندے میں دھکیل دیاجاتاہے۔ دنیابھرمیں عورتوں کوکام کرنے کامعاوضہ بہت کم دیاجاتاہے۔

دنیابھرمیں 7کروڑ سے زائدخواتین روزانہ بھوکی سوتی ہیں جن میں صرف انتہائی پسماندہ ممالک شامل نہیں ہیں۔ہرسال 80 لاکھ سے زائد عورتیں انسانوں کی خریدوفروخت کاشکارہوتی ہیں ان میں سے زیادہ ترکوکاروبار کے لئے عصمت فروشی کے لئے مجبورکیاجاتاہے۔

کسی بھی ملک نے مرد اور عورت کے درمیان قانونی خلا کو پر نہیں کیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں مردوں کو حاصل قانونی حقوق کا صرف 64 فیصد خواتین کو حاصل ہے۔ زندگی کے بنیادی شعبوں میں، بشمول کام، پیسہ، حفاظت، خاندان، جائیداد، نقل و حرکت، کاروبار اور ریٹائرمنٹ – قانون منظم طریقے سے خواتین کو نقصان پہنچاتا ہے۔2026 کے خواتین کا عالمی دن، تھیم کے تحت، ‘حقوق، انصاف، کارروائی ہے۔ یہ تھیم تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے’، مساوی انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ امتیازی قوانین، کمزور قانونی تحفظات اور نقصان دہ طرز عمل اور معاشرتی اصول جو خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں ۔

تنازعات اور بحران کی وجہ سے رجعت پسندی کے خطرات کے ساتھ۔ نصف آبادی ہونے کے باوجود، خواتین کو مسلسل عدم مساوات کا سامنا ہے، جس میں مردوں کے لیے 80 فیصد کے مقابلے میں 53 فیصد افرادی قوت کی شرکت کی شرح، تشدد کی اعلیٰ سطح (3 میں سے 1) اور بہت سے ملکوں میں محدود قانونی حقوق شامل ہیں۔

عالمی سطح پر صنفی مساوات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو اس قت کم کرنے کی رفتار ہے اور یہی صورت حال رہی تو مکمل صنفی مساوات حاصل کرنے میں تقریباً 123 سال لگ سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں دو ارب خواتین اور لڑکیوں کو کسی بھی قسم کی سماجی تحفظ (Social Protection) کی سہولت حاصل نہیں۔اندازہ ہے کہ 2030 تک 351 ملین (35 کروڑ) خواتین اور لڑکیاں شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہوں گی۔خواتین عالمی آمدنی کا صرف تقریباً 28 فیصد حصہ حاصل کرتی ہیں۔دنیا بھر میں پارلیمنٹ میں خواتین کی اوسط نمائندگی تقریباً 27.2فیصد ہے۔بہت سے ممالک میں ابھی تک کبھی بھی خاتون سربراہِ مملکت یا خواتین کی حکومت نہیں بنی۔اس کے علاوہ خواتین کے تئیں جرائم پر نظر ڈالیں تو دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔230 ملین سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں Female (خواتین کا ختنہ)Genital Mutilation جیسے نقصان دہ رواج کا شکار ہو چکی ہیں۔ تنازعات کے علاقوں میں خواتین غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں، 5 میں سے 1 خاتون پناہ گزین کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی کے ساتھ دنیا میں کم عمری کی شادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں تقریباً 19فیصد لڑکیاں 18 سال سے پہلے شادی کر لیتی ہیں۔دنیا میں امن کا دعوی کے باوجود دنیا میں 676 ملین خواتین اور لڑکیاں جنگی علاقوں کے قریب رہ رہی ہیں۔دنیا میں 2024 میں مردوں کے مقابلے میں 64 ملین زیادہ خواتین خوراک کی کمی کا شکار تھیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث 2050 تک 158 ملین مزید خواتین شدید غربت میں جا سکتی ہیں۔

کچھ پیشرفت کے باوجود، بہت سے شعبوں میں پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی 25فیصد سے کم ہے اور کابینہ میں خواتین وزیر صرف 22فیصدہیں۔

ڈبلیو پی ایس انڈیکس 2025/26 ڈنمارک، آئس لینڈ اور ناروے کو خواتین کے لیے بہترین ممالک کے طور پر درجہ بندی کرتا ہے، جبکہ دیگر خطوں کو حقوق کے حوالے سے سخت رکاوٹوں کا سامنا ہے۔خواتین کے تعلق سے افغانستان کو بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ویمن پیس اینڈ سیکیورٹی انڈیکس (WPS انڈیکس) خواتین کی فلاح و بہبود پر 181 ممالک کا اسکور اور درجہ بندی کرتا ہے۔ یہ 13 اشارے استعمال کرتا ہے جو 0 (بدترین) سے 1 (بہترین) تک اسکور بنانے کے لیے خواتین کی شمولیت، انصاف اور سلامتی پر محیط ہے۔ رینکنگ میں ڈنمارک بدستور سرفہرست ہے جب کہ افغانستان کی کارکردگی بدترین ہے۔ڈبلیو پی ایس انڈیکس کے پانچویں ایڈیشن سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی سطح پر خواتین کی حیثیت پر پیش رفت رک رہی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ تنازعات سے متاثرہ مقامات سے بہتری آسکتی ہے۔

اگرچہ خواتین اور لڑکیوں نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں بڑی پیش رفت کی ہے، لیکن یہ کامیابیاں مکمل طور پر معاشی مواقع میں تبدیل نہیں ہوئیں۔ خواتین کے انسانی سرمائے کو کم استعمال کیا جا رہا ہے، کیونکہ نگہداشت کی بلا معاوضہ ذمہ داریاں، پابندی والے سماجی اصول اور فنانس اور ڈیجیٹل ٹولز تک محدود رسائی جیسی رکاوٹیں افرادی قوت اور وسیع تر معیشت میں ان کی شرکت کو روکتی رہتی ہیں۔ عالمی سطح پر، خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 1990 سے اب تک 53 فیصد پر جمود کا شکار ہے۔ مردوں کے لیے 80 افیصد کے مقابلے۔ 710 ملین سے زیادہ خواتین کو خاندانی نگہداشت کے فرائض کی وجہ سے لیبر مارکیٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔

پورے ہندوستان میں صنفی عدم مساوات کے نتیجے میں غیر مساوی مواقع پیدا ہوتے ہیں اور جب کہ اس کا اثر دونوں جنسوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے، اعداد و شمار کے مطابق لڑکیاں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔

عالمی سطح پر لڑکیوں کی پیدائش کے وقت زندہ رہنے کی شرح زیادہ ہے، ترقی کے راستے پر چلنے کے امکانات زیادہ ہیں اور بالکل اسی طرح پری اسکول میں حصہ لینے کا امکان ہے، لیکن ہندوستان واحد بڑا ملک ہے جہاں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ مرتی ہیں۔ لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا بھی زیادہ خدشہ ہے۔

ہندوستان میں لڑکیاں اور لڑکے نوجوانی کا تجربہ مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔ جبکہ لڑکے زیادہ آزادی کا تجربہ کرتے ہیں، لڑکیوں کو آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے اور ان کے کام، تعلیم، شادی اور سماجی تعلقات کو متاثر کرنے والے فیصلے کرنے کی صلاحیت پر وسیع پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح جیسے جیسے لڑکیوں اور لڑکوں کی عمر بڑھتی جاتی ہے صنفی رکاوٹیں بڑھتی رہتی ہیں اور جوانی تک جاری رہتی ہیں جہاں ہم صرف ایک چوتھائی خواتین کو رسمی کام کی جگہ پر دیکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کی خواندگی کی شرح تقریباً 70.3 فیصدجبکہ مردوں کی 84.7فیصد ہے۔اس طرح مرد و خواتین کی خواندگی میں تقریباً 14–17 فیصد کا فرق موجود ہے۔خواتین کی اوسط عمر تقریباً 76 سال جبکہ مردوں کی 73 سال ہے۔زچگی کے دوران اموات کی شرح 122 (2015-17) سے کم ہو کر 97 (2018-20) ہوگئی۔خواتین میں خون کی کمی (Anaemia) تقریباً 50فیصدکے قریب ہے۔ہندوستانی پارلیمنٹ میں خواتین کا تناسب تقریباً 13–14فیصد ہے۔وزارتی عہدوں میں خواتین کی شرح صرف 5–6 فیصد کے قریب ہے۔عالمی صنفی مساوات کے اشاریہ میں ہندوستان کا درجہ 131واں ہے۔

ہندوستان میں معاشی معاملے میں بھی خواتین کافی پسماندہ ہیں۔ خواتین کی لیبر فورس پارٹیسپیشن 2017-18 میں 23.3فیصد تھی جو بڑھ کر 41.7فیصد (2023-24) ہوگئی۔اس کے باوجود عالمی سطح پر خواتین کی معاشی شرکت میں ہندوستان کا درجہ بہت کم ہے (142/146)۔اکثر خواتین غیر رسمی یا کم تنخواہ والی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں اور مرد کے مقابلے خواتین کو 22-25فیصد کم اجرت ملتی ہے۔ گھریلو تشدد قوانین کے باوجود خواتین کے ساتھ گھریلو تشدد میں بہت کمی نہیں آئی ہے۔ تقریباً 31–32فیصد شادی شدہ خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔2022 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4,45,000 سے زیادہ کیسز درج ہوئے۔اوسطاً روزانہ 80 سے زیادہ آبروریزی کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔خواتین تقریباً 78فیصدغیر محفوظ یا کم معیار کی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں۔جو خواتین ملازمت نہیں کرتیں ان میں سے تقریباً 53 فیصدگھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے کام نہیں کر پاتیں۔ جب کہ مردوں میں یہ شرح صرف 1فیصد کے قریب ہے۔

کچھ ہندوستانی خواتین عالمی رہنما ہیں اور متنوع شعبوں میں طاقتور آوازیں ہیں لیکن ہندوستان میں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں پدرانہ نظریات، اصولوں، روایات اور ڈھانچے کی وجہ سے اپنے بہت سے حقوق سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوتی ہیں۔

یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تجزیہ

کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا

Published

on

جینت رائے چودھری
نئی دہلی، جیسے جیسے برکس سربراہ اجلاس قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑیوں سے لے کر طاقتور مرکزی بینکوں کے سربراہوں تک سبھی کی نظریں ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سامنے آنے والے کسی بھی ایسے اقدام پر ہوں گی جن سے عالمی تجارت اور مالی لین دین میں امریکی ڈالر کی برتری کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

ڈی ڈالرائزیشن کا عمل اپنی سست رفتاری کے باوجود اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے برکس ممالک کے گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے عالمی تجارت میں ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ماسکو، نئی دہلی یا بیجنگ کے رقم اور تجارتی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے والے تمام متعلقہ وزراء اور حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس ممالک میں سے کوئی بھی ڈالر کے خلاف کسی قسم کی نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ تاہم، جغرافیائی اورسیاسی خطرات سے تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی پالیسیوں کا عملی اثر یقیناً اس مالیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رہا ہے۔

اگرچہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں ڈی ڈالرائزیشن پر واضح طور پر گفتگو نہ ہو، لیکن کانفرنس کے حاشیے پر ملک بہ ملک مذاکرات میں کرنسی کی منتقلی اور تجارتی نظام کے چھائے رہنے کا قوی امکان ہے۔ اصل رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے رہنماؤں کی اپنے درمیان اور حال ہی میں برکس میں شامل ہونے والے متعدد دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ کئی اہم دوطرفہ بات چیت کی توقع ہے۔

برکس کے اندرونی ارکان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 1.17 کھرب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ تھا اور اس میں 13 فیصد کے سالانہ اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کل برآمدات کے لحاظ سے دنیا میں برکس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ قومیت کی بنیاد پر قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کو طے کرنے کے لیے برکس ممالک کی مختلف کوششیں، جیسے ہندوستان اور روس کے درمیان روپیہ-روبل معاہدہ، یا چین کی جانب سے ڈالر کے بجائے یوآن میں خرید و فروخت کی کوششیں، اب تک بین الاقوامی تجارتی لین دین میں کسی بڑے ڈی ڈالرائزیشن کو تیز کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2026 تک، عالمی سطح پر تجارت کی انوائسنگ اور تصفیے کا تقریباً 54 فیصد حصہ ڈالر میں ہی ہوتا ہے اور یہ صورتحال کئی سال سے برقرار ہے۔ درحقیقت یہ سال 2000 کے تقریباً 50 فیصد سے بڑھ کر یہاں تک پہنچا ہے۔

تاہم، تجارتی انوائسنگ اور تصفیے مستحکم رہنے کے باوجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے حصے میں تدریجی لیکن یقینی کمی واقع ہو رہی ہے۔ سال 2000 میں تمام ممالک کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 71 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں تھا۔ 2026 تک یہ کم ہو کر تقریباً 57 فیصد پر آ گیا ہے، جو ایک صدی کے چوتھائی حصے میں 14 فیصد کی کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی بنانے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ متعدد ممالک کے مرکزی بینکرز ڈالر کا بڑا ذخیرہ رکھنے میں جیو پولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیگر کرنسیوں یا محفوظ ترین راستے یعنی سونے کی خریداری کے ذریعے اس خطرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔”

عدم اعتماد کا یہ سلسلہ اب خود امریکہ میں مرکزی بینکوں کے ذریعے سونے کا بلین رکھنے تک پھیل چکا ہے۔ ڈچ سینٹرل بینک نے اس سال مارچ اور اگست کے درمیان شمالی امریکہ سے لندن میں 10 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا تقریباً 86 ٹن سونا منتقل کیا۔ اس سے قبل، جنوری 2026 میں فرانس نے امریکہ میں موجود اپنے 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا، جو کہ اس کے ذخائر کا تقریباً 5 فیصد تھا۔ اس فروخت سے ملنے والی رقم سے فرانس نے یورپ میں بلین خریدا اور اسے اپنے مرکزی بینک کے والٹس میں محفوظ کر لیا۔ یہ عمل صدارت کے پہلے دور میں اٹھائے گئے اس قدم کی عکاسی کرتا ہے جب جرمنی کے بنڈس بینک نے 300 ٹن سونا فرینکفرٹ میں واقع اپنے والٹس میں منتقل کر دیا تھا.

منگل کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برکس کسی ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے رکن ممالک—جن میں سے کئی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر میں لین دین نہیں کر سکتے—”صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ “امریکی اقدامات نے ہی ڈالر پر اعتماد کو مجروح کیا ہے”۔ پیسکوف نے اشارہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے مغربی مالیاتی منڈیوں سے تیزی سے الگ تھلگ کیے جانے کے مسئلے پر روس کا جواب متبادل ادائیگی کے ذرائع تیار کرنا رہا ہے۔

ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف روسی خام تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے تو دوسری طرف وہ مغربی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہیں سے برکس زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے پاس کوئی ایک مشترکہ کرنسی، مرکزی بینک یا یورو زون جیسا ادارہ جاتی اتحاد نہیں ہے، لیکن یہ اپنے ارکان کو قومی کرنسیوں میں تجارت طے کرنے اور قومی کرنسیوں میں طے شدہ کرنسی تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تدریجی تبدیلیاں قومی کرنسیوں کو دوطرفہ اور کچھ کثیر جہتی تجارتی تصفیوں میں زیادہ قابل استعمال بناتی ہیں، اور اس کے ساتھ ادائیگی کا نظام زیادہ متنوع ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ لین دین موجودہ مغربی کنٹرول والے مالیاتی تصفیے کے ڈھانچے کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔

جینت رائے چودھری

یواین آئی ایف اے

Continue Reading

تجزیہ

نیپال کا تباہ کن سیلاب: وجوہات اوراثرات

Published

on

خصوصی مضمون: ظفراقبال

نیپال اپنی جغرافیائی ساخت کے اعتبار سے دنیا کے انتہائی حساس ممالک میں شمار ہوتا ہے، ایک طرف ہمالیہ کی بلند و بالا برف پوش چوٹیاں، گلیشیئرز اور برفانی جھیلیں ہیں تو دوسری طرف گہری اور تنگ وادیاں، تیز بہاؤ والے دریا اور پہاڑی ڈھلوانیں، یہی جغرافیہ نیپال کو قدرتی حسن عطا کرتا ہے، لیکن اسے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور زلزلوں جیسے خطرات سے بھی دوچار رکھتا ہے، حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی نے ان خطرات کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

26 اگست 2026 کو نیپال کے رسووا ضلع اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آنے والے اچانک سیلاب نے اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بھوٹے کوشی اور ترشولی دریائی نظام میں پانی کا ایک انتہائی تیز اور اچانک ریلا آیا، جس سے مکانات، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے، بازار اور سرحدی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق رسووا، نواکوٹ، دھادنگ، چتوان، گورکھا اور تنہون سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے اور تقریباً 10 ہزار گھرانوں کو فوری امداد کی ضرورت پیش آئی۔

اس واقعے کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ یہ روایتی مون سون سیلاب جیسا نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں کسی غیر معمولی شدید بارش کو بنیادی سبب نہیں پایا گیا، بلکہ برفانی تودے، برف اور چٹانوں کے ملبے سے دریا کے عارضی طور پر بند ہونے اور پھر اس بندش کے اچانک ٹوٹنے کو اہم ممکنہ سبب قرار دیا گیا۔

عام سیلاب میں پانی کی سطح بتدریج بلند ہوتی ہے اور لوگوں کو کسی حد تک محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا وقت مل جاتا ہے۔ اس کے برعکس اچانک سیلاب (Flash Flood) چند منٹ یا مختصر مدت میں انتہائی تیزی سے آتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اس کی رفتار اور تباہ کن قوت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے کیونکہ پانی بلندی سے ڈھلوان کی طرف تیزی سے بہتا ہے اور راستے میں مٹی، پتھر، درخت، برف اور دیگر ملبہ بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔

نیپال کی جغرافیائی ساخت ایسے سیلاب کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ یہاں بلند پہاڑوں کے درمیان دریا انتہائی تنگ اور گہری وادیوں سے گزرتے ہیں۔ جب اچانک بڑی مقدار میں پانی ان وادیوں میں داخل ہوتا ہے تو وہ ایک قدرتی “سرنگ” کی طرح پانی کے بہاؤ کو مرتکز کرکے اس کی رفتار اور طاقت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔

26 اگست کے واقعے کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ہمالیہ کے بلند علاقے میں برفانی تودہ یا برف و چٹان کا ملبہ دریائے لہینڈے کھولا میں گرا اور اس نے دریا کے بہاؤ کو عارضی طور پر روک دیا۔ اس رکاوٹ کے نتیجے میں پانی جمع ہوتا گیا۔ بعد ازاں جب عارضی بند ٹوٹا تو پانی، برف، چٹان اور مٹی کا ایک زبردست ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔

نیپال کے محکمہ آب و ہوا و آب پاشی سے متعلق حکام نے سیٹلائٹ تصاویر کی ابتدائی بنیاد پر بتایا کہ دریا سے تقریباً 20 کلومیٹر اوپر ملبے نے پانی کا راستہ روکا، جس سے ایک عارضی جھیل بن گئی اور پھر وہ اچانک ٹوٹ گئی۔ پانی میں بڑی مقدار میں ملبہ شامل ہونے کی وجہ سے سیلاب کی تباہ کن طاقت کہیں زیادہ ہوگئی۔ابتدائی مرحلے میں ایک زلزلے کو بھی ممکنہ محرک سمجھا گیا تھا، لیکن بعد کی امریکی جیولوجیکل سروے کی تحقیقات نے اس مفروضے کو تبدیل کردیا۔ اضافی سیسمک ڈیٹا اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے یہ نتیجہ نکلا کہ جس لرزش کو ابتدا میں زلزلہ سمجھا گیا تھا، وہ دراصل گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بہاؤ سے پیدا ہوئی تھی۔اس واقعے کی یہ خصوصیت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اچانک پہاڑی سیلاب لازماً شدید بارش یا زلزلے کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ کبھی گلیشیئر کے ایک بڑے حصے کا ٹوٹنا بھی ایسا سلسلہ شروع کرسکتا ہے جس کا اختتام ایک تباہ کن سیلاب پر ہوتا ہے۔

نیپال کے حالیہ سیلاب کو صرف ایک مقامی قدرتی حادثہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، برفانی جھیلوں کا حجم بڑھ رہا ہے اور بلند پہاڑوں کی چٹانوں اور برف کے درمیان استحکام متاثر ہو رہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافے سے برف اور گلیشیئر کے اندر پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ یہ پانی دراڑوں کے ذریعے اندر پہنچ کر برف اور چٹان کے درمیان رگڑ کم کرسکتا ہے۔ نتیجتاً وہ برفانی یا چٹانی ڈھانچے جو طویل عرصے تک مستحکم رہے ہوں، اچانک حرکت کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہمالیہ کے گرم ہوتے ماحول میں گلیشیئرز کے عدم استحکام، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا باہمی تعلق مستقبل میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سیلاب براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ کسی مخصوص واقعے کے لیے محرک برفانی تودہ، جھیل کا پھٹنا، شدید بارش یا دوسری جغرافیائی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی ان پہاڑی نظاموں کے بنیادی استحکام کو متاثر کرکے ایسے واقعات کے لیے سازگار حالات پیدا کرسکتی ہے۔

نیپال کی ایک بڑی کمزوری اس کی انتہائی پیچیدہ جغرافیائی ساخت ہے۔ ملک کے شمال میں بلند ہمالیہ، درمیان میں پہاڑی علاقے اور جنوب میں نسبتاً ہموار ترائی کا خطہ ہے۔ بہت سے دریا بلند پہاڑوں سے نکل کر انتہائی تنگ وادیوں سے گزرتے ہیں۔اس صورتحال میں اگر اوپر کہیں پانی کا اچانک ذخیرہ بن جائے اور پھر وہ ٹوٹ جائے تو نیچے آباد علاقوں تک پانی پہنچنے میں بہت کم وقت لگ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی سیلابی انتباہی نظام ایسے واقعات میں ناکافی ثابت ہوسکتا ہے۔عام طور پر سیلاب کی نگرانی بارش اور دریا کی سطح کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ لیکن اگر آسمان صاف ہو، بارش نہ ہورہی ہو اور اچانک کسی گلیشیئر یا ملبے کی رکاوٹ ٹوٹ جائے تو بارش پر مبنی نظام خطرے کی پیشگی اطلاع نہیں دے پاتا۔ حالیہ نیپالی سیلاب نے اسی کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔اچانک سیلاب کا سب سے نمایاں اثر بنیادی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ حالیہ واقعے میں سڑکیں، پل، گھر، بازار، سرحدی تنصیبات اور پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطے اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔

نیپال کے لیے پن بجلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ملک کے پہاڑی دریا بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور متعدد منصوبے دریاؤں کے قریب تعمیر کیے گئے ہیں۔ لیکن یہی منصوبے اچانک آنے والے برفانی سیلاب، ملبے اور چٹانوں کے بہاؤ کی زد میں آسکتے ہیں۔ 2025 میں بھی اسی دریائی نظام میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے متعدد پن بجلی منصوبوں کو متاثر کیا تھا۔

قدرتی آفت کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ اچانک آنے والے سیلاب میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ پانی کے ساتھ آنے والا ملبہ مکانات کو تباہ کرتا، گاڑیوں کو بہا لے جاتا اور سڑکوں کو ناقابل استعمال بنا دیتا ہے۔سیلاب کے بعد خطرات ختم نہیں ہوتے۔ صاف پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے ہیضہ، اسہال اور دیگر آبی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تباہ شدہ صحت مراکز کے باعث زخمیوں اور بیماروں کو علاج کی سہولت ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے حالیہ سیلاب کے بعد غیر محفوظ پانی و خوراک، متعدی بیماریوں، مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں اور ذہنی دباؤ جیسے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔

نیپال کی معیشت میں سیاحت، تجارت، زراعت، پن بجلی اور سرحدی تجارت اہم شعبے ہیں۔ جب سڑکیں اور پل تباہ ہوتے ہیں تو نہ صرف مقامی آبادی متاثر ہوتی ہے بلکہ اشیا کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں بھی رک جاتی ہیں۔سرحدی راستوں کی بندش کا اثر دونوں جانب پڑتا ہے۔ سیاح، زائرین، تاجر اور مقامی مزدور راستوں کے بند ہونے سے پھنس سکتے ہیں۔ پن بجلی منصوبوں کو نقصان پہنچنے سے بجلی کی پیداوار اور قومی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔ یوں ایک مختصر دورانیے کا سیلاب طویل مدت تک اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب کے اثرات صرف نیپال تک محدود نہیں رہتے۔ نیپال سے نکلنے والے کئی دریا ہندوستان میں داخل ہوتے ہیں اور گنگا کے وسیع دریائی نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ بھوٹے کوشی، ترشولی اور ناراینی سمیت دریائی نظاموں میں اچانک بڑے پیمانے پر پانی اور ملبے کا اخراج ہندوستان کے بہار، اتر پردیش اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ حالیہ واقعے کے بعد ہندوستان کے بعض نشیبی علاقوں میں بھی سیلابی انتباہ جاری کیے گئے۔یہ صورتحال ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحد پار آبی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سیلاب، گلیشیئر اور دریائی پانی سیاسی سرحدوں کا احترام نہیں کرتے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان حقیقی وقت میں موسمیاتی، سیٹلائٹ اور دریائی معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔

سب سے اہم ضرورت جدید ابتدائی انتباہی نظام کی ہے۔ صرف بارش اور دریا کی سطح کی نگرانی کافی نہیں۔ گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور ممکنہ برفانی تودوں کی بھی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔مصنوعی سیاروں، ڈرونز، سیسمک آلات، ریموٹ سینسنگ اور خودکار پانی ماپنے والے آلات کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ایسے مقامات کی نشاندہی کی جانی چاہیے جہاں برفانی جھیل کے پھٹنے یا گلیشیائی انہدام کا امکان زیادہ ہے۔دوسری طرف ہمالیائی علاقوں میں تعمیرات کی منصوبہ بندی بھی نئے سرے سے کرنا ہوگی۔

دریاؤں کے قدرتی راستوں، سیلابی میدانوں اور انتہائی خطرناک وادیوں میں بے ہنگم تعمیرات مستقبل کی تباہ کاریوں کو کئی گنا بڑھا سکتی ہیں۔ سیلابی خطرے کے نقشے تیار کرکے نئی آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ضروری ہے۔

نیپال کا حالیہ اچانک سیلاب اس بات کا واضح انتباہ ہے کہ ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے۔ یہ محض مون سون کی بارش سے پیدا ہونے والا روایتی سیلاب نہیں تھا بلکہ برفانی انہدام، ملبے کے بہاؤ، عارضی دریائی بندش اور اچانک پانی کے اخراج جیسے عوامل نے اسے انتہائی تباہ کن بنا دیا۔اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمالیہ کو صرف سیلاب کے نہیں بلکہ “اچانک اور غیر متوقع” سیلابوں کے خطرے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا عدم استحکام اور پہاڑی علاقوں میں بڑھتی انسانی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑ کر نئے خطرات پیدا کررہی ہیں۔

نیپال کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید سائنسی نگرانی، مؤثر ابتدائی انتباہ، محفوظ تعمیرات اور مقامی آبادی کی تربیت پر سرمایہ کاری کرے۔ ہندوستان، چین اور نیپال کو بھی مشترکہ ہمالیائی خطرات کے لیے باقاعدہ معلوماتی اور امدادی نظام قائم کرنا چاہیے۔ اگر پیشگی انتباہ، سائنسی تحقیق اور علاقائی تعاون کو ترجیح دی جائے تو قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہونے کے باوجود ان سے ہونے والی انسانی اور معاشی تباہی کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تازہ ترین

یوم آزادی اور مسلمان

Published

on

یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔

مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔

ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔

یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔

اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔

تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔

سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔

سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔

یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

 آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔

محمد حفیظ الدین

سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی

hafiznoori1987@gmail.com

Continue Reading
Advertisement
دنیا1 day ago

روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت

جموں و کشمیر1 day ago

ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ

ہندوستان1 day ago

مودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے

دنیا1 day ago

یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ

جموں و کشمیر1 day ago

راجوری میں لائن آف کنٹرول پار کرکے ہندوستانی حدود میں داخل ہونے والی 17 سالہ لڑکی کو فوج نے حراست میں لے لیا

جموں و کشمیر1 day ago

مرکزی وزیر وی سومنا نے ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے آبی تحفظ سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا

کھیل1 day ago

پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا

دنیا1 day ago

ایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ

دنیا1 day ago

امریکہ اور جاپان نے سائنس و ٹیکنالوجی معاہدے میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی

ہندوستان1 day ago

دنیا میں اگلے مالیاتی بحران کا سبب غیر مالیاتی عوامل بھی ہو سکتے ہیں: آر بی آئی گورنر

دنیا1 day ago

گروسی نے اقوام متحدہ کا سکریٹری جنرل منتخب ہونے پر آزادانہ طور پر کام کرنے کا وعدہ کیا

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر میں سڑک حادثہ، مغربی بنگال کی ایک خاتون ہلاک، 37 زخمی

ہندوستان1 day ago

راہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا

ہندوستان1 day ago

کھرگے نے کرناٹک میں خشک سالی پر مودی کو خط لکھ کر مداخلت کا مطالبہ کیا

دنیا1 day ago

خمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ

دنیا1 day ago

عراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز

ہندوستان2 days ago

ووٹ چوری کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی راہل نے حمایت کی

کھیل2 days ago

ڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا

دنیا2 days ago

یمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے

دنیا2 days ago

امریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل

دنیا2 days ago

فلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ

دنیا2 days ago

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا اتحاد رائے شماری میں آگے، مگر اکثریت سے بدستور دور

جموں و کشمیر2 days ago

گاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر

دنیا2 days ago

فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، تقریباً 400 اسکول بند، پولیس سے جھڑپیں

ہندوستان2 days ago

مودی حکومت کمر توڑ مہنگائی سے عوام کو کب نجات دلائے گی: کانگریس

کھیل2 days ago

رضوان کو این سی سی آئی اے کا پراسس فالو کرنا چاہیے: یونس خان

دنیا2 days ago

پوتن کا عالمی عدم استحکام طویل ہونے کا انتباہ، کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

ہندوستان2 days ago

وندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا

ہندوستان2 days ago

کھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا

ہندوستان2 days ago

لداخ کے نقشے پر نشان زد 28 مقامات اور جغرافیائی خصوصیات

دنیا2 days ago

روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن

ہندوستان2 days ago

الیکشن کمیشن نے فہرست سے رہ جانے والے ووٹروں کے اندراج کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی

ہندوستان2 days ago

کھڑگے اور راہل گاندھی نے گاندھی جینتی پر باپو کو خراج عقیدت پیش کیا

دنیا3 days ago

معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ

دنیا3 days ago

ایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان

ہندوستان3 days ago

ڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ

دنیا3 days ago

فلائی دبئی کاک پٹ حملے میں ایران کے ملوث ہونے کا کہنا قبل از وقت: نیتن یاہو

دنیا3 days ago

متحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم

دنیا3 days ago

ہیگستھ کا امریکی فوج میں تبدیلی کے لیے چھ بڑے اقدامات کا اعلان

دنیا3 days ago

جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

جموں و کشمیر3 days ago

سری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار

جموں و کشمیر3 days ago

کشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا

دنیا3 days ago

پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، 22 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ، کابل کے مطابق 9 شہری جاں بحق

جموں و کشمیر3 days ago

اے سی بی نے سری نگر میں 50000 روپے رشوت کے الزام میں ایگریکلچر کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور معاون کو گرفتار کیا

ہندوستان3 days ago

راہل نے آن لائن فارم-6 میں تبدیلی پر الیکشن کمیشن، ٹی سی ایس سے پوچھے سوالات

جموں و کشمیر3 days ago

جے اینڈ کے: لیفٹیننٹ جنرل سیٹھ نے جموں میں قائم وائٹ نائٹ کور کے جی او سی کا عہدہ سنبھالا

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر: لیفٹیننٹ گورنر کے جعلی لیٹر ہیڈ اور دستخط استعمال کرنے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف فردِ جرم داخل

ہندوستان3 days ago

کمرشیل ایل پی جی گیس سلنڈر مہنگا ہوا

دنیا3 days ago

نیتن یاہو کا فلائی دبئی کے طیارے میں سیکڑوں جانیں بچانے پر ہندوستانی پائلٹ کا شکریہ

جموں و کشمیر4 days ago

پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان6 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

ہندوستان5 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

جموں و کشمیر7 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین7 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

تازہ ترین8 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

جموں و کشمیر6 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

پاکستان5 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

اہم خبریں8 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تازہ ترین8 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تجزیہ10 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل8 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین8 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین8 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین8 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

اہم خبریں8 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

ہندوستان8 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

دنیا8 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تازہ ترین8 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تازہ ترین8 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین11 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

دنیا7 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

جموں و کشمیر2 months ago

اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی

تجزیہ11 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین9 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

جموں و کشمیر8 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین8 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

جموں و کشمیر8 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

اداریہ5 years ago

اردو شعر و ادب کا ’تحریک آزادی‘ میں ناقابل فراموش کردار رہا ہے: پروفیسر نجمہ اختر

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

جموں و کشمیر11 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر5 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر6 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر7 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین8 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں8 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں8 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین8 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر11 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر3 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین4 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر4 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین4 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین4 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین4 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر4 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر4 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین4 years ago

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر4 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین4 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین4 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر4 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین4 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین4 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending