دنیا
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی نہیں ہوئے بلکہ وہ مکمل طور پر محفوظ اور صحت مند ہیں
تہران، ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اسرائیلی و امریکی حملے میں زخمی ہونے کی خبروں کی اصل حقیقت سامنے آگئی۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے گردش کرنے والی تشویشناک خبروں پر ایرانی صدر کے بیٹے اور مشیر یوسف پزشکیان نے خاموشی توڑ دی ہے۔
انہوں نے تصدیق کی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای حملے میں زخمی نہیں ہوئے بلکہ وہ مکمل طور پر محفوظ اور صحت مند ہیں۔
یوسف پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ “میں نے خبر سنی تھی کہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوگئے ہیں، جس پر میں نے قریبی دوستوں اور متعلقہ حلقوں سے رابطہ کیا، مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ خیر و عافیت سے ہیں۔”
واضح رہے کہ اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل اور امریکا کے حالیہ حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے ہیں۔
اسی دوران امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای تو محفوظ رہے تاہم ان کے چچا جاں بحق ہوگئے ہیں۔
تہران میں ان متضاد خبروں نے شدید ہیجان پیدا کر دیا تھا، تاہم یوسف پزشکیان کے بیان کے بعد اب صورتحال واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔
ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دوران ایران پر تین حملوں کے باوجود تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کی کوشش جاری رکھے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق کاروباری شخصیات سے ملاقات میں پیزشکیان نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے، اگرچہ امریکہ نے ہمارے ملک کو تین بار نشانہ بنایا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری شعبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کررہی ہے اور ایرانی قیادت معاشی مشکلات سے نمٹنے کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کررہی ہے۔
پیزشکیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے پیش نظر ایران پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت پڑوسی ممالک کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل میں جاری رکاوٹوں پر عالمی سطح پر توانائی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل اور آبنائے ہرمز ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریرا دا سلوا نے یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ بحران عالمی توانائی اور غذائی تحفظ کو متاثر کررہا ہے، جبکہ خلیج سے کھاد کی درآمد پر انحصار کرنے والے ترقی پذیر ممالک خاص طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے سوڈان، صومالیہ، موزمبیق اور تنزانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی کھاد کی 50 سے 60 فیصد ضروریات خلیجی خطے سے پوری ہوتی ہیں۔
دا سلوا کے مطابق بحران کے باعث کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور اس کے استعمال میں کمی آئی ہے، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے اور غذائی عدم تحفظ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے کھاد کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے ایک مجوزہ طریقہ کار تیار کیا ہے۔ اس کے تحت شپنگ ایجنٹس کھاد کی ترسیل کے لیے درخواستیں رجسٹر کریں گے اور منظوری کے بعد اقوام متحدہ متعلقہ فریقوں اور ریاستوں کے ساتھ رابطہ کرکے بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
فلائی دبئی کاک پٹ حملے میں ایران کے ملوث ہونے کا کہنا قبل از وقت: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے زخمی ہندوستانی کمرشل پائلٹ کیپٹن سمیت مچھر کو 174 مسافروں کی جانیں بچانے پر ’’ہیرو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی تل ابیب جانے والی پرواز پر دورانِ پرواز ہونے والے حملے میں ایران کے ملوث ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔
فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ پرواز ایف زیڈ 1073 پر حملہ کرنے کے مشتبہ معاون پائلٹ سے سعودی عرب میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور بعد میں اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل تحقیقات پر گہری نظر رکھے گا اور ممکنہ طور پر اس میں حصہ بھی لے سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے شواہد کے بغیر اس واقعے کو تہران سے جوڑنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے ایران سے لاحق وسیع تر خطرے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ کوئی راز نہیں کہ ایران بیرون ملک اسرائیلیوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایسے شواہد کا پتہ لگایا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ، خصوصاً حماس اور حزب اللہ، انتخابات سے قبل حملے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم فلائی دبئی کے واقعے کا اس کوشش سے کوئی تعلق تھا یا نہیں، یہ ابھی معلوم نہیں ہے۔ نیتن یاہو نے کہا، ’’میرے خیال میں ہمیں بہت جلد اس کا پتہ چل جائے گا۔‘‘
نیتن یاہو کے مطابق طیارے کے اسرائیل کے قریب پہنچنے پر صورتحال بگڑی۔ ایک پائلٹ نے دوسرے پر حملہ کیا اور اسے چاقو یا کسی نوکیلی چیز سے زخمی کیا۔ شدید خون بہنے کے باوجود زخمی کپتان سمیت مچھر نے کسی طرح کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جبکہ طیارہ تیزی سے نیچے جا رہا تھا۔
مسافر الموگ اٹالی نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ طیارہ 20 سے 30 سیکنڈ تک انتہائی تیزی سے نیچے گیا، پھر سنبھلا اور دوبارہ نیچے جانے لگا۔ اس کے بعد مسافروں نے طیارے کے اگلے حصے میں افراتفری دیکھی۔
قطار 16 میں بیٹھے اسرائیلی مسافر یانیو حیون کاک پٹ کی طرف دوڑے۔ طیارے کے اچانک جھٹکے سے وہ گر پڑے، تاہم طیارے کے عارضی طور پر متوازن ہونے پر وہ کاک پٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے مطابق حملہ آور طیارے کے کنٹرولز کو جام کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حیون نے پیچھے سے اسے ہٹایا، پائلٹ کی نشست سنبھالی اور کنٹرول اسٹک کو پیچھے کھینچا۔
اس کے بعد دو دیگر افراد نے حملہ آور کو قابو کرلیا، جبکہ مسافروں کے طور پر سفر کرنے والے آف ڈیوٹی عملے کے ارکان نے طیارے کو مستحکم کرنے میں مدد کی۔ طیارے کا رخ موڑ کر سعودی عرب کے تبوک میں بحفاظت اتارا گیا۔ بعد میں مسافروں کو دوسرے طیارے کے ذریعے تل ابیب پہنچایا گیا۔
نیتن یاہو نے بتایا کہ بعد میں انہوں نے حیون سے ملاقات کی اور پوچھا کہ اس وقت ان کے ذہن میں کیا تھا۔ ان کا جواب تھا کہ انہیں کارروائی کرنا ضروری تھا، کیونکہ طیارے میں خاندان اور 174 افراد سوار تھے جنہیں بچانا تھا۔ حیون پیشے کے اعتبار سے پلمبر ہیں۔ نیتن یاہو نے ان سے کہا، ’’اس بار آپ نے یقیناً ایک بہت بڑی رکاوٹ دور کردی۔‘‘
نیتن یاہو نے کہا کہ پرواز میں موجود بچوں نے انہیں بتایا کہ طیارے کے نیچے جانے کے دوران وہ چھت سے جا ٹکرائے تھے اور مسافر پہلے ہی دعائیں مانگ رہے تھے۔ ان کے مطابق سمیت مچھر اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ان کی بہادری کے بغیر ہمیں ناقابل تصور حد تک بڑے سانحے کا سامنا کرنا پڑتا۔‘‘
اس واقعے نے نیتن یاہو کے ذاتی ماضی کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے بڑے بھائی لیفٹیننٹ کرنل یوناتان نیتن یاہو 1976 میں عنتیبے میں یرغمالیوں کو چھڑانے کے آپریشن کے دوران مارے گئے تھے، جبکہ نیتن یاہو خود بھی اس سے قبل ہائی جیک کیے گئے سبینا طیارے کے مسافروں کو آزاد کرانے کی کارروائی میں زخمی ہوئے تھے۔
انہوں نے 11 ستمبر کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈینیئل لیون کا بھی ذکر کیا، جو اکامائی کے بانی اور اسی ایلیٹ یونٹ کے سابق افسر تھے اور ہائی جیکروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کے دوران مارے گئے تھے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اس واقعے پر بات کی ہے۔
حملہ آور کے محرکات کے بارے میں نیتن یاہو نے کوئی حتمی بات نہیں کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس شخص کے پس منظر سے واقف نہیں ہیں، تاہم جو شخص تقریباً 170 اسرائیلیوں کو قتل کرنے اور ان کے ساتھ خود بھی مرنے پر آمادہ ہو، وہ ’’ناقابلِ تصور حد تک شدید‘‘ نفرت سے متاثر ہوگا۔
اسرائیلی حکام اور مسافروں کے بیانات، جنہیں بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے، کے مطابق معاون پائلٹ نے سمت مچھر پر چاقو سے حملہ کیا اور مبینہ طور پر طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس دوران طیارہ تیزی سے نیچے گیا اور تقریباً 37 سیکنڈ میں 14,300 فٹ کی بلندی کھو دی، فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق۔ اس کے بعد ہنگامی سگنل بھیجے گئے اور طیارے کا رخ تبوک کی جانب موڑ دیا گیا۔
شدید زخمی ہونے کے باوجود مچھر نے مبینہ طور پر کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس سے مسافروں، عملے کے ارکان اور مسافروں کے طور پر سفر کرنے والے دو دیگر پائلٹوں کو اندر داخل ہوکر حملہ آور پر قابو پانے میں مدد ملی۔ اس کے بعد طیارے کو دوبارہ قابو میں لایا گیا اور بحفاظت تبوک پہنچایا گیا۔ متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق فلائی دبئی کے دونوں پائلٹ، جو مسافروں کے طور پر سفر کر رہے تھے، نے ہنگامی صورتحال کے دوران طیارہ چلانے میں بھی مدد کی۔
نیتن یاہو نے مچھر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اقدامات نے دورانِ پرواز ایک بڑے سانحے کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سعودی عرب میں لینڈنگ کے بعد مسافروں کی مدد کی گئی اور بعد میں انہیں تل ابیب پہنچانے کے انتظامات کیے گئے۔
ہنگامی لینڈنگ کے بعد مچھر کو تبوک کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔ ریاض میں بھارتی سفارتخانے نے بتایا کہ وہ زیر علاج اور مستحکم حالت میں ہیں۔ سعودی عرب میں ہندوستانی سفارتی مشنز ان کی حالت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا6 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
ہندوستان6 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا6 days agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
ہندوستان1 week agoترقی پذیر ممالک کو فیصلہ ساز اداروں میں جگہ دی جانی چاہیے: جے شنکر
