ہندوستان
ایران پالیسی پر تنقید کرنے والے چار معروف صحافیوں پر ٹرمپ کا شدید حملہ
نئی دہلی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایران پالیسی پر تنقید کرنے والی میڈیا کی چار معروف کنزریوٹیو شخصیات پر شدید حملہ کرتے ہوئے انہیں “پاگل اور کم آئی کیو والے ہارے ہوئے لوگ” قرار دیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر 482 الفاظ کے ایک تندوتیز پیغام میں، ٹرمپ نے انہیں ایسے “فسادی” قرار دیا جو “مفت اور سستی شہرت کے لیے کچھ بھی کہنے کو تیار رہتے ہیں۔” ٹرمپ نے کہا کہ یہ صحافی—ٹکر کارلسن، میگن کیلی، کینڈس اوونز، اور ایلکس جونز—برسوں سے ان کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایران کے لیے یہ بہت اچھا ہے۔
ایران کو “دہشت گردی کا سب سے بڑا ریاستی سرپرست” قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ (صحافی) سمجھتے ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونا بہت اچھی بات ہے۔ “کیونکہ ان سب میں ایک چیز مشترک ہے، اور وہ ہے کم آئی کیو۔ یہ بیوقوف لوگ ہیں، یہ خود بھی جانتے ہیں، ان کے خاندان بھی جانتے ہیں، اور باقی سب بھی یہ جانتے ہیں۔” ٹرمپ نے کہا کہ ماگا کا مقصد جیتنا اور طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکا جا سکے۔ ماگا کا مقصد امریکہ کو پھر سے عظیم بنانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، “ماگا مجھ سے اتفاق کرتا ہے، اور اس نے ابھی سی این این پر ٹرمپ کو 100 فیصد ریٹنگ دی ہے، نہ کہ ہاتھ لہرانے والے بے وقوفوں جیسے ٹکر کارلسن یا میگن کیلی کو، جنہوں نے مجھ سے وہ مشہور ‘ اونلی روزی او ڈونل’ والا بدتمیزی سے سوال پوچھا تھا۔ یا ‘پاگل’ کینڈس اوونز، جو فرانس کی انتہائی معزز خاتونِ اول پر مرد ہونے کا الزام لگاتی ہیں، جبکہ وہ ایسی نہیں ہیں۔ یا ‘دیوالیہ’ ایلکس جونز، جو انتہائی احمقانہ باتیں کرتے ہیں۔”
ٹرمپ نے کہا، “یہ نام نہاد پنڈت ‘ہارے ہوئے’ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔” سی این این، نیویارک ٹائمز اور دیگر تمام “انتہا پسند بائیں بازو” کے خبررساں اداروں پر دوبارہ حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں پہلی بار ان صحافیوں کی “واہ واہ” کر رہے ہیں اور انہیں “مثبت” کوریج دے رہے ہیں۔ “وہ ماگا نہیں ہیں، وہ ہارے ہوئے لوگ ہیں جو صرف ماگا کا سہارا لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ صدر کی حیثیت سے وہ جب چاہیں انہیں اپنی طرف کر سکتے ہیں، لیکن وہ ان کی کالز کا جواب نہیں دیتے، اور چند بار کے بعد وہ “بدتمیزی” پر اتر آتے ہیں۔ حالیہ اشتعال انگیزی ان صحافیوں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے ایران پر فوجی حملوں کے فیصلے پر عوامی تنقید کے بعد سامنے آئی ہے۔
ٹکر کارلسن، جو فاکس نیوز کے سابق میزبان اور بااثر پوڈ کاسٹر ہیں، نے ایران آپریشن کو “انتہائی گھناؤنا اور شرمناک” قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے جواب میں انہیں ایک “شکستہ حال شخص” کہا جسے “کسی اچھے ماہرِ نفسیات کو دکھانا چاہیے۔”
میگن کیلی نے حال ہی میں یہ تجویز دی تھی کہ ایرانی تہذیب کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیاں “عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی کے حوالے سے لاپروائی ” پر مبنی تھیں۔ کینڈس اوونز نے تو 25 ویں ترمیم کے ذریعے ٹرمپ کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا اور انہیں ایران جنگ پر “نسل کش دیوانہ” قرار دیا۔ ایلکس جونز، جو طویل عرصے تک ٹرمپ کے حامی رہے، وہ بھی اس تنازع پر ان کے خلاف ہو گئے ہیں۔
یہ دراڑ ‘ماگا تحریک’ کے اندر ایک بڑی تقسیم کی نشاندہی کرتی ہے۔ جہاں کبھی یہ شخصیات حلیف سمجھی جاتی تھیں، اب خارجہ پالیسی—خاص طور پر ایران جنگ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات—پر اختلاف نے ٹرمپ کو انہیں “تیسرے درجے کے پوڈ کاسٹرز” قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا6 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا10 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان11 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا13 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر4 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر4 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا3 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
