تازہ ترین
تازہ برف باری سے شاہراہ پر 2ہزار گاڑیاں اور 20ہزار مسافر درماندہ
خبراردو:
تازہ برف باری اور بارشوں کے بعد سرینگر جموں شاہراہ مختلف مقامات پر ڈھہ جانے کی بعد گاڑیوں کے آمدورفت کے لیے پھر سے 25ویں مرتبہ بند کردی گئی جس دوران قاضی گنڈ،جواہرٹنل کے آرپار،بانہال اوردیگرمقامات پرلگ بھگ 2ہزارچھوٹی مسافرگاڑیاں ،ٹرکیں ،تیل ٹینکراورفورسزکی گاڑیاوں میں 20ہزار سے زائد مسافر درماندہ ہوکر رہ گئے ہیں۔ادھر سرکاری ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ تازہ برف باری اوربارشیں ہونے کے بعدرام بن ،رام سو،انوکھی فال ،بیٹری چشمہ اوردیگرکچھ مقامات پرپسیاں ،مٹی کے تودے اورپتھرگرآنے کے بعدسڑک کوجگہ جگہ نقصان پہنچاہے جس کے نتیجے میں شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل ناممکن بن گئی۔ادھر سرینگر انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر گہری دھند اور کم روشنی کی وجہ سے کم از کم 8پروازوں کوملتوی کرنا پڑا۔
قاضی گنڈ،جواہرٹنل کے آرپار،بانہال اوردیگرمقامات پرلگ بھگ 2ہزارچھوٹی مسافرگاڑیاں ،ٹرکیں ،تیل ٹینکراورفورسزکی گاڑیاں بدھ کی شام سے سرراہ پڑی ہوئی ہیں ،اوران گاڑیوں میں لگ بھگ20ہزارعام شہری ،مقامی وغیرمقامی ڈرائیور،کنڈیکٹراورفورسزاہلکاردرماندہ پڑے ہوئے ہیں ۔ٹریفک پولیس کے ذرائع نے بتایاکہ بدھ کی صبح چونکہ یک طرفہ ٹریفک کے تحت گاڑیوں کوسرینگرسے جموں روانہ ہونے کی اجازت دی گئی توکشمیروادی کے مختلف علاقوں سے 2200چھوٹی مسافربردارونجی گاڑیاں،700مال بردارٹرک وتیل ٹینکراورمختلف فورسزایجنسیوں کی 300چھوٹی بڑی گاڑیاں جموں کیلئے روانہ ہوگئیں جبکہ پہلے ہی لاتعدادمسافرومال بردار گاڑیاں شاہراہ پردرماندہ پڑی ہوئی تھیں ۔ آئی جی پی ٹریفک آلوک کمارنے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ لگ بھگ 3ہزارگاڑیوں نے بدھ کی شا م جواہرٹنل عبورکرلی ۔جواہرٹنل پرتعینات ٹریفک افسروں اوراس ٹنل کی دیکھ ریکھ کرنے والی ایجنسی کے ذرائع ے بتایاکہ مخالف سمت سے آنے والی درماندہ پڑی گاڑیوں کے آنے کی وجہ سے ٹنل کے آرپار ٹریفک جام کی بدترین صورتحال پیداہوئی۔انہوں نے بتایاکہ بدھ کی صبح سے سہ پہر تک لگ بھگ ایسی1500گاڑیوں کوٹنل کے اسپارآنے کی اجازت دی گئی ،جن میں ایک ہزارکے لگ بھگ وہ مال برداربڑی گاڑیاں بھی شامل ہیں جوبانہال کے نزدیک درماندہ پری ہوئی تھیں۔انہوں نے بتایاکہ اس دوران سری نگرسے آنے والی اتنی ہی تعدادمیں چھوٹی بڑی گاڑیوں نے ٹنل کوعبورکیا۔
سری نگرسے بدھ کی صبح روانہ ہونے والی گاڑیوں میں سوارمسافروں نے بتایاکہ اُنھیں قاضی گنڈسے بانہال پہنچنے میں لگ بھگ12گھنٹے لگے ۔انہوں نے کہاکہ جواہرٹنل کے آرپاربدترین ٹریفک جام کی وجہ سے چھوٹی مسافرگاڑیاں بدھ کوشام کے تقریباً8بجے بانہال پہنچیں ۔اُدھرٹریفک پولیس کے ذرائع نے یہ حیرت انگیزانکشاف کیاکہ جب بدھ کی صبح گاڑیوں کوسری نگراوروادی کے دوسرے مقامات سے جموں کی جانب سفرکرنے کی اجازت دی گئی تواُسوقت رام بن اوردیگرمقامات پردرماندہ پری لگ بھگ4000چھوٹی بڑی گاڑیاں جواہرٹنل کی جانب اپناسفرشروع کرچکی تھیں اورجب دونوں اطراف سے آنے والی ہزاروں گاڑیوں کاجواہرٹنل کے آرپارسامناہواتوبدترین قسم کے ٹریفک جام کی صورتحال پیداہونایقینی تھا،اورایساہی ہوگیا۔اُدھر معلوم ہواکہ بدھ کی شام لگ بھگ 8بجے اوراسکے بعدکشمیرسے بانہال پہنچیں 2ہزارسے زیادہ چھوٹی مسافربرداراورنجی گاڑیوں میں سے کچھ سوکوجمعرات کوعلی الصبح یہاں سے جموں کی جانب روانہ ہونے کی اجازت دی گئی ،اورلگ بھگ200ایسی چھوٹی گاڑیاں جمعرات کی دوپہرجموں پہنچنے میں کامیاب رہیں تاہم بتایاجاتاہے کہ اب بھی سری نگرجموں شاہراہ پرجگہ جگہ لگ بھگ 2ہزارچھوٹی بڑی نجی ،کاروباری اورفورسزکی گاڑیا ں سرراہ پڑی ہوئی ہیں اوران میں لگ بھگ 20ہزارعام شہری اورفورسزاہلکارانتہائی کسمپرسی کی حالت میں درماندہ پڑے ہوئے ہیں ۔
ادھر بدھ اورجمعرات کی درمیانی رات جواہرٹنل کے آرپارتازہ برف باری اوربارشیں ہونے کے بعدسری نگرجموں شاہراہ کوپھررواں موسم سرماکے دوران25ویں مرتبہ ٹریفک کیلئے بندکردیاگیا۔سرکاری ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ تازہ برف باری اوربارشیں ہونے کے بعدرام بن ،رام سو،انوکھی فال ،بیٹری چشمہ اوردیگرکچھ مقامات پرپسیاں ،مٹی کے تودے اورپتھرگرآنے کے بعدسڑک کوجگہ جگہ نقصان پہنچاجبکہ جواہرٹنل سے بانہال تک شاہراہ پرکافی پھسلن پائی جاتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ بیکن حکام نے پسیوں ،مٹی کے تودوں اورپتھروں کوراستے سے ہٹانے کیلئے مشینیں اورمزدورلگادئیے ہیں تاکہ کم سے کم ایسی درماندہ پڑی گاڑیوں کوجموں کی جانب روانہ کیاجاسکے جوسری نگرسے روانہ ہونے کے بعدبانہال اوردیگرمقامات پردرماندہ پڑی ہیں ۔اُدھرمعلوم ہواکہ قاضی گنڈ،جواہرٹنل کے آرپار،بانہال اوررام بن ضلع کی حدودمیں مختلف مقامات پرسینکڑوں مسافراورمال بردارگاڑیاں اورٹینکرپھنسے پڑے ہیں ۔حکام نے بتایاکہ خراب موسمی صورتحال شاہراہ پرجاری بحالی کے کام میں اڑچن کاباعث بن رہی ہے ۔اس دوران خراب موسمی صورتحال ،گہری دھنداورکم روشنی ہونے کے نتیجے میں جمعرات کوسری نگرکاباقی ملک سے فضائی رابطہ کٹ گیا۔
سری نگرہوائی اڈے کے حکام نے بتایاکہ جمعرات کوصبح سے ہی ہوائی اڈے کے گردونواح میں گہری اور روشنی بھی کم رہی ،جسکے نتیجے میں اس ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والی کم سے کم 8پروازوں کوملتوی کیاگیاجن میں ائرایشیاء کی فلائٹ15-716،انڈیگوکی فلائٹس زیرنمبر6E-2554،6E-576،6E-653،گوائرکی فلائٹ128/129 SXR-DEL،ویستارایوکے کی فلائٹ611 SXR-IXJاورسپائس جٹ کی فلائٹSG 161 SXR-IXJبھی شامل ہے۔حکام نے مزیدبتایاکہ اس دوران نئی دہلی ،جموں ،ممبئی یاکسی دوسرے شہرسے کوئی بھی جہازسری نگرکیلئے اُڑان نہیں بھرسکاکیونکہ سری نگرہوائی اڈے کے گردونواح میں اُفق پرروشنی کافی کم ہے ۔ائرپورٹ ذرائع نے بتایاکہ خراب موسمی صورتحال کے چلتے روشنی میں کوئی بہتری نہ آنے کے بعدجمعرات کوسری نگرہوائی اڈے کوپروازوں کی آواجاہی کیلئے بندکیاگیا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoپیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
-
دنیا1 week agoایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
