تازہ ترین
لیہہ اور گرکل میں انتظامی اُمور کو ففٹی ففٹی بنیادوں پرچلانے کے لیے کمیٹی تشکیل: گورنر
خبراردو:
لداخ کو صوبے کا درجہ دئے جانے کے بعد وہاں صوبائی ہیڈکوارٹر کے قیام سے متعلق اُٹھے تنازعے کا سد باب کرنے کی خاطر ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے کرگل کے عوام کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی حتمی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کرے گی۔ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے ریاسی کے کٹرہ علاقے میں ایک تقریب کے موقعے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لداخ کو صوبہ بنائے جانے کی مانگ کافی برسوں میں جاری تھی۔ اس سلسلے میں ہم نے کمیٹی آف سیکرٹریز تشکیل دی ہے جو وہاں کے عوام کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
خیال رہے لداخ کو صوبہ بنائے جانے کے بعد لیہہ اور کرگل کے درمیان ایک نیا محاذ قائم ہوا جس کے مطابق دونوں اضلاع کے عوام نے جموں اور کشمیر کے طرز پر چھ چھ ماہ کے لیے دفاتروں کی منتقلی کی مانگ کی ہے۔ادھر جموں میں قیام پذیر لداخی عوام نے سوموار کو جموں میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالتے ہوئے ریاستی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ نو تشکیل شدہ صوبے کے عوام کی مانگوں پر کان دھرے۔ معلوم ہوا ہے کہ سوموار کو جموں میں قیام پذیر کرگل کے رہائشی جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی نے احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے کرگل اور لیہہ کے لیے مساویانہ طرز پر انتظامی اُمور کو چلانے کا مطالبہ کیا ۔ معلوم ہو اکہ احتجاج میں شامل لوگوں نے اس موقعے پر اپنی جائز مانگوں کو پورا کرنے کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔احتجاجی لوگوں کا کہنا تھا کہ ریاستی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لیہہ اور کرگل میں صوبائی ہیڈکوارٹروں کو مساویانہ بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت کریں۔خیال رہے کہ8جنوری کو ریاستی انتظامیہ نے لداخ کو صوبے کا درجہ دیا تھا۔
اس حوالے سے ایک حکم نامہ بھی جاری کیا گیا جس میں صوبے کے انتظامی و مالیاتی اُمور سے متعلق ہیڈکوارٹر لییہ میں قائم کیا جائے گا تاہم کرگل کے عوام اور ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے اسے کرگل عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ۔پارٹی وابستگیوں سے پرے ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں بشمول نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس نے ایک ہی صفحے پر جمع ہوکر عوامی ایجی ٹیشن شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔ادھرلیہہ کو ہیڈکوارٹر بنائے جانے پر اتوار کو کرگل میں عوام نے متعدد احتجاجی ریلیاں نکالتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کرگل کو اس حوالے سے ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔
ادھر ریاسی میں تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے گورنر ستیہ پال ملک نے ایک سوال کہ ’کیا کسی دوسرے خطے کو بھی صوبے کا درجہ دیا جارہا ہے‘ پر نفی میں جواب دیا۔خیال رہے علاقائی مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں بشمول نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے گورنر انتظامیہ کی جانب سے لداخ کو صوبے کا درجہ دینے کے بعد خطہ پیر پنچال اور چناب کو بھی صوبائیت میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر سوموار کو جموں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جن میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ لیڈران شامل تھے نے کربلا کمپلکس میں جمع ہوکر احتجاجی ریلی نکالی جو وزارت روڑ سے ہوتے ہوئے پریس کلب جموں میں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی ۔
احتجاج میں شامل لوگوں کا مطالبہ تھا کہ لیہہ اور کرگل میں انتظامی اُمور کو مساویانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جانا چاہیے۔ریلی میں چیرمین قانون ساز کونسل حاجی عنایت علی، چیف ایکزکیوٹیو کونسلر لداخ خودمختار ہل ترقیاتی کونسل کرگل فیروز خان، سابق وزیر قمر علی آخون، اصغر کربلائی، نثار علی اور سابق ممبر پارلیمان حسن خان شامل تھے۔ اس موقعے پر ریلی میں شامل لیڈران نے پریس کلب جموں میں مارچ سے خطابات کئے اور اس بات کا عہد کیا کہ جب تک نہ ریاستی حکومت کرگل کے عوام کی جائز مانگوں کو پورا کرتی ہے تب تک متحدہ جدوجہد کو جاری و ساری رکھا جائے گا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
