تازہ ترین
کنول اور سیب ایک ہی سکے کے دو رخ: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوموار کو شمالی کشمیر کے ہندوارہ علاقے میں چناوی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھاجپا کے منشور میں جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے وعدے پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میں مودی اور امت شاہ کو چیلنج کرتا ہوں کہ آپ دفعہ370اور35اے نہیں ہٹا پاؤ گے، اس ریاست کے لوگ اس کی کبھی بھی اجازت نہیں دیں گے، صرف کشمیر کے لوگ نہیں بلکہ لداخ اور جموں کے لوگ بھی برابر ان دفعات کے دفاع کیلئے متحد اور پُراعظم ہیں۔ ‘‘
این سی نائب صدر نے کہا کہ بھاجپا نے آج اپنا منشور منظر عام پر لایا ہے جس میں کہیں مسجد گرانے کی بات کی گئی ہے توکہیں مندر بنانے کی بات کی گئی ہے اور کہیں شرعی قانون کو ختم کر کے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی بات کہی گئی ہے لیکن سب سے زیادہ زور دفعہ35اے اور 370کو ختم کرنے کیلئے دیا گیا ہے۔میں سمجھ نہیں پاتا ہوں کہ بھاجپا والوں کو جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن ہضم کیوں نہیں ہوتی۔ یہ فرقہ پرست جماعتیں اس بات کو اندیکھا کیوں کررہی ہیں کہ جموں وکشمیر کے مہاراجہ نے ملک کیساتھ مشروط الحاق کیا ، ہماری ریاست دوسری ریاستوں کی طرح ملک میں ضم نہیں ہوئی اور ان شرائط کو ملک کے آئین میں تحفظ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مودی اور امت شاہ ریاست کی خصوصی پوزیشن نہیں ہٹا پائیں گے کیونکہ ریاست کے تینوں خطوں کے لوگ اس کی اجازت نہیں دیں گے، آپ(مودی،امت شاہ) بھلے ہی اُن لوگوں کیساتھ دوستی کیجئے جنہوں نے ریاست کے مفادات کیخلاف ہمیشہ کام کیا ہے، لیکن اُن کی دوستی بھی آپ کے کام نہیں آئے گی‘‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ آج ایسے خودساختہ لیڈر سرگرم ہیں جو مختلف لباس پہن کر ریاست کو تباہ اور بربادی کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ آر ایس ایس اور بھاجپا کے آلہ کار جموں وکشمیر کی شناخت، پہنچا، تشخص اور ہم آہنگی کو تہس نہس کرنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ لیکن نیشنل کانفرنس آج بھی ریاست کیخلاف ہرسازش کا مقابلہ کرنے کیلئے چٹان کی طرح کھڑی ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات اور آنے والے اسمبلی انتخابات میں لوگوں کو ایسے اُمیدوار چننے ہونگے جو یہاں کے لوگوں کی آواز بن سکے اور ریاستی کے تشخص کی حفاظت کرسکیں اور ایسے عناصر کو رد کرنا ہے جو جیت کی صورت میں سیدھے مودی کی گودھ میں جاکر بیٹھ جائیں گے۔
عوام کو اپنے ووٹ کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دفعہ35اے اور 370کو ختم ہٹانے، مسجد کو گرا کر مندر بنانے اور شرعیہ کو ختم کرکے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے والوں کی مدد کرنی ہے یا پھر اُن کو تعاون دینا ہے جو ان سب سازشوں کیخلاف جدوجہد کرینگے۔ اگر آپ کو مودی اور امت شاہ کو اپنے عزائم پورے کرنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں تو آپ سیب کو ووٹ دیجئے کیونکہ وہ ووٹ سیدھے مودی اور امت شاہ کو جائیگا۔ان کا رشتہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، پی سی صدر 2ایم ایل اے لیکر بھاجپا کی مدد سے وزیر اعلیٰ بننے نکلے تھے، وہی بھاجپا جو جموں وکشمیر کو ہر لحاظ سے تہس نہس کرنا چاہتی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’میں نہیں کہتا کہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بننے کا حق صرف ایک شخص کو ہے، میں نہیں کہتا کہ ریاست پر حکومت کرنے کا حق صرف ایک تنظیم کو ہے لیکن میں ہندوارہ سے ریاستی عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں کبھی بھی بھاجپا کے کندھوں پر بیٹھ کر ریاست کا وزیر اعلیٰ نہیں بنوں گا، کیا سجاد لون عوام سے ایسا ہی وعدہ کرنے کیلئے تیار ہیں؟ لوگوں کو بھی تو پتہ چلے کہ کنول کے پھول اور سیب میں رشتہ ہے کہ نہیں۔‘‘کشمیرنیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’میں نے گذشتہ ماہ پلوامہ میں جلسے کے دوران پبلک سیفٹی ایکٹ ختم کرنے کا اعلان کیا، مجھے اُمید تھی کہ مرکز، سیکورٹی فورسز یا دیگر ایجنسیاں اس اعلان کی مخالفت کریں گے لیکن وہاں سے مخالف نہیںآئی، مجھے افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اعلان کی مخالفت ریاست کے اندر ہی پی ڈی پی اور پی سی والوں نے کی اور اس کے علاوہ پی سی صدر سجاد لون سے مجھ سے ایک سوال کیا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کو ریاست میں کسی نے متعارف کیا؟سجاد لون کے سوال کا جواب یہ ہے کہ پی ایس اے کا قانون شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے ریاست میں متعارف کیا اوریہ قانون صرف اور صرف جنگل سمگلروں کیلئے لایا گیا تھا۔
اس وقت ریاست میں کوئی ملی ٹنسی تھی، نہ کوئی علیحدگی پسند اور نہ ہی امن و قانون کی خراب صورتحال ۔‘‘ پی سی صدر کو چیلنج کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’اب میں سجاد لون کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ہندوارہ میں ہونے والے پی سی کے جلسے کے خطاب کے دوران اُس شخص کا نام بتادیں جس نے بمبئی میں کہا تھا کہ میں دفعہ370کو سمندر بدرکرنے آیا ہوں؟‘‘۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو بھی پتہ چلنا چاہئے کہ یہ لوگ کب سے اور کہاں کہاں سے دفعہ370کو مٹانے کی کوششیں کررہے ہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
