تازہ ترین
شوپیان تصام آرائی میں 2جنگجو اور شہری جاں بحق: مکمل رپورٹ
خبراردو: جنوبی کشمیر کے شوپیان اور ترال علاقوں میں سرگرم جنگجوﺅں کےخلاف فیصلہ کن آپریشن جاری رکھتے ہوئے فوج، فورسز اور پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کی طرف سے کی گئی کارروائی میں 2حزب جنگجو اور ایک عام شہری جاں بحق ہوئے۔
جنوبی کشمیرمیں سرگرم جنگجوﺅں کیخلاف فیصلہ کن آپریشن جاری رکھتے ہوئے فوج ،فورسزاورپولیس کے اسپیشل آپریشن گرﺅپ سے وابستہ اہلکاروں نے علی الصبح ضلع شوپیان کے زینہ پورہ علاقے میں موجودجنگجوﺅں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی ۔علاقے کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لینے کے بعدجب سیکورٹی اہلکاروں نے یہاں تلاشی کارروائی شروع کی توایک میوہ باغ میں مبینہ طورپرقائم کردہ خفیہ کمین گاہ میں موجودجنگجوﺅں نے محاصرہ توڑکرفرارہونے کی کوشش میں اندھادھندفائرنگ شروع کردی تاہم الرٹ فورسزنے فوری جوابی کارروائی عمل میں لائی ،جسکے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ 2مقامی جنگجواورایک مقامی شہری جاں بحق ہوگیاتاہم پولیس نے دعویٰ کیاکہ جھڑپ کے دوران ماراگیاشہری جنگجوﺅں کاساتھی یااعانت کارتھا۔اس دوران یہاں مشتعل نوجوانوں اورپولیس وفورسزاہلکاروں کے درمیان ٹکراﺅ کے واقعات بھی پیش آئے ۔
اُدھرزینہ پورہ شوپیان میں جنگجومخالف آپریشن کے چلتے فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے ضلع پلوامہ کے نانرمندورہ اونتی پورہ علاقہ کابعددوپہراچانک محاصرہ کرکے جب یہاں جنگجومخالف آپریشن شروع کیاتومحاصرے میں پھنسے جنگجوﺅں نے فائرنگ شروع کردی جسکے بعدیہاں بھی طرفین کے درمیان شدیدنوعیت کی گولی باری کاتبادلہ ہوا،جوتادم تحریرجاری تھا۔اطلاعات کے مطابق جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق پختہ اطلاع ملتے ہی فوج کی44آرآر،سی آرپی ایف اورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے جمعہ کوعلی الصبح ضلع شوپیان کے درگڈسوگن زینہ پورہ علاقہ کومحاصرے میں لیا۔پولیس ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ محاصرے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعدجب سیکورٹی دستوں نے علاقہ میں تلاشی کارروائی شروع کی تومحاصرے میں پھنسے کچھ جنگجوﺅں نے فرارہونے کی کوشش کے تحت اندھادھندفائرنگ شروع کردی ۔انہوں نے کہاکہ ایک میوہ باغ میں بنائی گئی خفیہ کمین گاہ یاہائیڈآﺅٹ میں موجودجنگجوﺅں کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے بعدفوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال کرجوابی کارروائی شروع کردی ،جسکے بعدطرفین کے درمیان شدیدگولی باری کاتبادلہ ہوا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ کچھ وقت تک شدیدفائرنگ کاسلسلہ جاری رہنے کے بعدگولی باری رُ ک گئی لیکن جنگجوﺅں کی جانب سے پھرفائرنگ کاسلسلہ شروع کیاگیا۔انہوں نے بتایاکہ اضافی کمک طلب رکے جنگجوﺅں کیخلاف سیکورٹی اہلکاروں نے اس مرتبہ فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی ،اورپھرشدیدگولی باری کے بعدیہ سلسلہ تھم گیا۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایاگیاکہ فائرنگ کاسلسلہ تھم جانے کے بعدجب سیکورٹی دستوں نے جائے جھڑپ کی تلاشی کارروائی عمل میں لائی تویہاں سے 2نعشیں اورکچھ اسلحہ وگولی بارودبھی برآمدکیاگیا۔بیان کے مطابق دونوں نعشوں اورہتھیارکویہاں سے برآمدکرنے کے بعدبھی سیکورٹی اہلکاروں نے محاصرہ جاری رکھاکیونکہ اسبات کااندیشہ تھاکہ ابھی کچھ جنگجوﺅں یہاں موجودہوسکتے ہیں ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ لگ بھگ پانچ گھنٹے تک علاقہ میں مکمل خاموشی یاسکوت جاری رہنے کے بعداچانک فائرنگ کاسلسلہ پھرسے شروع ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ پھرایک مرتبہ فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروںنے اپنی اپنی پوزیشن سنبھال کرجوابی کارروائی عمل میں لائی،جسکے بعدیہاں معرکہ آرائی کادوسراسلسلہ شروع ہوگیاجوشدیدفائرنگ کے بیچ کچھ وقت تک جاری رہا۔ذرائع کاکہناتھاکہ فائرنگ کاسلسلہ تھم جانے کے بعدیہاں پھرسے تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی توایک اورنعش کیساتھ ساتھ کچھ اسلحہ وگولی بارودبرآمدکیاگیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ مارے گئے تینوں افرادکی نعشوں کویہاں سے پولیس تھانہ زینہ پورہ شوپیان منتقل کیاگیاتاکہ ان کی شناخت اورتنظیمی وابستگی کے بارے میں تحقیقات عمل میں لائی جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ تحقیقات کے دوران مارے گئے تینوں افرادکی شناخت ہوگئی ،جن میں سے 2حزب المجاہدین سے وابستہ جنگجواورایک اُنکااعانت کارہے ۔پولیس ذرائع نے زینہ پورہ میں جاں بحق ہوئے تینوں نوجوانوں کی شناخت ظاہرکرتے ہوئے بتایاکہ مارے جانے والوں میں حزب کمانڈرعابدمنظورماگرے عرف سجوٹائیگرولدمنظوراحمدساکنہ نوپورہ پائین پلوامہ ،حز ب جنگجوہلال احمدساکنہ ارمولہ پلوامہ اوراُن کااعانت کارجاسم احمدشاہ ساکنہ مالندسگن شوپیان شامل ہیں ۔تاہم مقامی لوگوں نے بتایاکہ جھڑپ کے دوران ماراگیاہلال نامی نوجوان ایک معصوم شہری تھا۔
اُدھرمعلوم ہواکہ درگڈسوگن زینہ پورہ شوپیان میں جنگجومخالف آپریشن کے دوران مشتعل نوجوانوں نے سنگباری شروع کردی ،اوراُن کومنتشرکرنے کیلئے پولیس وفورسزاہلکاروں نے فوری کارروائی عمل میں لائی ۔دریں اثناءپولیس ذرائع نے بتایاکہ شناخت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعددیگرلوازمات کوبھی عمل میں لایاجائیگا،جسکے بعدزینہ پورہ شوپیان میں مارے گئے دونوں مقامی جنگجوﺅں اوراُن کے اعانت کارکی نعشوں کولواحقین کے سپردکیاجائیگا۔اس دوران زینہ پورہ شوپیان میں جنگجومخالف آپریشن کے چلتے فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے ضلع پلوامہ کے نانرمڈورہ اونتی پورہ علاقہ کابعددوپہراچانک محاصرہ کرکے جب یہاں جنگجومخالف آپریشن شروع کیاتومحاصرے میں پھنسے جنگجوﺅں نے فائرنگ شروع کردی جسکے بعدیہاں بھی طرفین کے درمیان شدیدنوعیت کی گولی باری کاتبادلہ ہوا،جوتادم تحریرجاری تھا۔معلوم ہواکہ جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق پختہ اطلاع ملتے ہی فوج کی42آرآر،سی آرپی ایف اورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے جمعہ کوبعددوپہر ضلع پلومہ کے نانرمندورہ اونتی پورہ علاقہ کومحاصرے میں لیکرجب جنگجومخالف کارروائی عمل میں لائی تویہاں موجودجنگجوﺅں نے فرارہونے کی کوشش کے تحت اندھادھندفائرنگ کردی ،جسکے بعدیہاں جھڑپ شروع ہوئی جوآخری اطلاعات موصوہل ہونے تک جاری تھی۔
پولیس ذرائع کے بقول علاقے میں 2سے 3جنگجوﺅں کے چھپے ہونے کی اطلاع ہے۔اس دوران علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کےساتھ ہی بس اسٹینڈ ترال میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز گاڑیوں پر شدید پتھراﺅ کیا جس کے نتیجے میں یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس کے نتیجے میںیہاں دوکانداروں اور دیگر تجارتی مراکز نے اپنی دکانوں کے شٹر گراتے ہوئے محفوظ مقامات کی راہ لی۔ معلوم ہوا کہ جائے جھڑپ اور بٹہ گنڈ میں بھی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شام دیر گئے تک جاری تھا۔ علاقے میں جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی یہاں معمول کی زندگی متاثر ہوئی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی روانی بھی ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ انتظامیہ نے یہاں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شرپسندوں کی جانب سے بے لگام افواہ بازی پر بریک لگانے کےلئے پولیس ضلع اونتی پورہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
