تازہ ترین
چین میں مسلمانوں کی نسل کشی پر گیلانی کا اظہار تشویش
خبراردو: حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے میانمار میں منصوبہ بند مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد اب چین میں ویگھور مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی اداروں خاص کر اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک کے فورم او آئی سی کے ذمہ داروں سے دردمندانہ اپیل کی کہ چین سے آرہی ان گھمبیر اور پریشان کُن اطلاعات پر سنجیدگی سے غور کریں۔
حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے میانمار میں منصوبہ بند مسلم کشی کے بعد اب چین میںویگھور مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام جو ایک جسدواحد کی طرح متحد اور یکجا ہونا چاہیے تھا آج فرقوں، مسلکوں اور جغرافیائی حدبندیوں میں تقسیم ہوکر اسلام دشمن قوتوں کے لیے تباہ کُن اور مہلک ہتھیار اور گولہ بارود کے لیے ایک آزمائشی مخلوق بن کے رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بین الاقوامی میڈیا میں چینی مسلمانوں کی حالت زار پر زیادہ تفصیلات نہیں آرہی ہیں، لیکن سوشل میڈیا اور چند ایک خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعے جو اطلاعات مل رہی ہیں وہ پریشان کُن ہی نہیں، بلکہ تشویشناک بھی ہیں۔ وہاں کے مسلمانوں کو ہزاروں کی تعداد میں کیمپوں اور گوداموں میں برس ہا برس سے قید کردیا جاتا ہے۔ قید خانوں میں اُن کے ساتھ جسمانی اذیتوں کے ساتھ ساتھ ذہنی طور بھی پریشان کیا جارہا ہے۔ انہیں زبردستی اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے دباو ڈالا جارہا ہے۔ اُن کے عزیز واقارب اور خاص کر معصوم بچوں کو قید کئے ہوئے افراد سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اُن کو یہ بتایا جارہا ہے کہ اُن کے افراد خانہ کو کس جرم میں جیل کی کال کوٹھریوں میں سڑایا جارہا ہے۔ مردوں کی داڑھی منڈوائی جاتی ہے۔ عورتوں کو حجاب پہننے کی اجازت نہیں ہے۔ مسجدوں کو مسمار کیا جاتا ہے۔ شہروں کو سی سی ٹی وی کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تازہ اطلاعات کے مطابق رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی ان نہتے اور بدنصیب مسلمانوں کو چین سے روزہ افطار کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔
حتیٰ کہ اکثر دفتروں، کارخانوں اور دیگر جگہوں پر مسلمانوں کو دن میں زبردستی کھلایا پلایا جاتا ہے اور انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ کھانے پینے کی دکانیں اور ہوٹل عام دنوں کی طرح کھلے رکھیں۔ یہ مذہبی منافرت اور تعصب کی بدترین مثالیں ہیں جس سے ہر ذی حس مسلمان کے قلب وجگر میں تشویش اور فکرمندی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آزادی پسند راہنما نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف ایک منصوبہ بند ماحول تیار کرکے ہر ایک ملک میں انہیں دیس نکالا کرنے کی سازشیں رچائی جارہی ہیں، مائمار میں دل دہلانے والے خونین واقعات انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما کلنک کی طرح تاریخ میں رقم ہوئے ہیں۔ زندگی بھر جمہوریت اور انصاف کے لیے لڑنے والے وہاں کے حکمرانوں کو ایک خاص مذہب کے ماننے والوں پر شب وخون مارنے کے رونگھٹے کھڑا کرنے کے واقعات پر کوئی لب کُشائی تک گوارا نہیں ہوئی۔ اس طوفان بدتمیزی کو روکنا تو دور کی بات، اس کے خلاف آواز اٹھانا بھی وہاں کے نوبل انعام یافتہ حکمرانوں نے ضروری نہیں سمجھا۔ مسلمانوں کی اس کسمپرسی اور ناگفتہ بہہ حالات کی یاد ابھی ذہنوں میں تازہ ہی تھی کہ چین کے ویگھورعلاقے سے یہ دلدوز اور دلخراش اطلاعات صیام کے مقدس ایام میں بھی ذہنی ارتعاش اور تذبذب میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم خود کئی دہائیوں سے بھارت کی بدترین غلامی کے شکار ہیں۔ اکثریتی طبقے کی من مانیاں، اُن کا رعب اور دبدبہ اور ان کی چودراہٹ ایک نہتی اور مجبور ومحکوم اقلیت کے لیے کس قدر تکلیف دہ ہے۔
اس کا درد ہم سے زیادہ کون جان سکتا ہے؟ کوئی بھی شخص اسلام اور آزادی یا اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کی طرف ادنیٰ سا میلان بھی ظاہر کرتا ہے تو اسے طعن وملامت، جسمانی اذیت اور معاشی مقاطعہ کا ہدف بننا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے جہاں کہیں بھی کوئی قوم یا فرد چاہے وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو یا دنیا کے کسی کونے میں رہ رہا ہو، جب بھی ظلم وبربریت کا شکار ہوتا ہے تو ہم اُن کی چیخ وپکار اور آہ وفغان میں اپنی کمزور آواز ملاکر کم سے کم اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہماری آواز ریزوں سے ٹکرا کر واپس ہی آئے گی، ہماری کراہ فضاوں میں ہی تحلیل ہوکر رہے گی، لیکن ہم خاموش رہنا بھی اپنی غیرت اور ملی جذبے کے خلاف تصور کرتے ہیں۔کشمیرنیو زسروس کو موصولہ بیان کے مطابق حریت راہنما نے عالمی اداروں کاص کر اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک کے فورم او آئی سی کے ذمہ داروں سے دردمندانہ اپیل کی کہ چین سے آرہی ان گھمبیر اور پریشان کُن اطلاعات پر سنجیدگی سے غور کریں۔ انہوں نے زوردیکر یہ بات کہی کہ ان ہی ایام میں او آئی سی کا اجلاس منعقد ہورہا ہے۔
تمام مسلمان ممالک خاص کر پاکستان اور ترکی کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس معاشرتی ناانصافی اور عقیدے کے نام پر اس ناروا سلوک کے خلاف ایک مشترکہ اور موثر حکمت عملی تیار کرکے کچھ عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ کاغذی گھوڑے دوڑانے اور علامیہ جاری کرنے سے ظالم کے آہنی ہاتھ روکے نہیں جاسکتے اور اگر ایسا کرنے سے یہ عالمی ادارے قاصر ہیں تو اجلاسوں اور سیمیناروں کے نام پر ملی مسائل پر گفت وشنید کرکے انہیں حل کرنے کی مجبوروں اور محکوموں کو امید دلانے کے کھوکھلے دعوے کرنا بند کردیں تاکہ مظلوم اور بے بس اقوام اپنے قوتِ بازو پر ہی بھروسہ کرکے اپنے دکھوں کا مداوا کرنے کی خود ہی فکر کریں۔
انہوں نے پاکستان کے ارباب اقتدار، حزب اختلاف اور عوام سے اپیل کی کہ پاک چین دوستی کے ناطے چین کے حکام سے بات کرکے اس ظلم وستم اور مذہبی منافرت کے شکار اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لیے آگے آئیں، ورنہ اسلام دشمن قوتیں ہر کلمہ گو کو اپنی تعصب اور نفرت کا شکار بناکر تہہ تیغ کرنے کی ظالمانہ روش پر عمل پیرا ہوں گے اور ہم مسلکی موشگافیوں اور آپسی سر پٹھول میں اُن کا کام آسان کرنے میں مشغول رہیں گے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
