تازہ ترین
کشتوار کی سڑکوں پر موت کا رقص ،35لقمہ اجل، 17زخمی ،ایکس گریشیا واگذار
خبراردو: کشتوار میں سڑک کے المناک حادثے میں مسافروں سے کھچا کھچ بس سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری جسکے نتیجے میں گاڑی میں سوار 35مسافر موقعے پر ہی لقمہ اجل جبکہ دیگر 17مسافر شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں 15کو انتہائی نازک حالت میں جموں کے میڈکل کالج منتقل کیا گیا۔
جولائی کی پہلی تاریخ یعنی سوموار کو ضلع کشتوار میں اُس وقت سڑکوں پر موت کاخونین رقص دیکھنے کو ملا جب مسافروں سے کھچا کھچ منی بس زیر نمبرJK17-6787کیشون کے مقام پر سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار35از جان جبکہ مزید 17مسافر شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں سے 15زخمی مسافروں کو نازک حالت میں جموں کے میڈیکل کالج میں معیاری علاج و معالجے کی خاطر داخل کیا گیا۔معلوم ہوا کہ سوموار کی صبح 8:40 بجے کیشون سے کشتوار جارہی منی بس اُس وقت حادثے کا شکار ہوئی جب گاڑی سرگواری کے مقام پر سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ گاڑی میں مسافروں کی بہتات تھی جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور گاڑی کاکنٹرول کھوبیٹھا جس کے نتیجے میں دلدوز حادثہ رونما ہوا۔حادثہ رونما ہونے کےساتھ ہی یہاں چیخ و پکار سنائی دی جس کے نتیجے میں آس پڑوس میں موجود لوگ جائے حادثے کی جانب بڑھنے لگے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثہ اس قدر بھیانک تھا کہ گہری کھائی میں مسافر گاڑی گر جانے سے گاڑی پرزوں میں تقسیم ہوگئی جبکہ گاڑی میںسفر کرنے والے مسافروں کی لاشیں دوردور تک بکھری ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے ابتدائی مرحلے میں 28مسافر موقعے پر ہی لقمہ اجل بن گئے جبکہ دیگر زخمی مسافروں کو مختلف ہسپتالوں کو روانہ کیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ مختلف ہسپتالوں کو منتقل کئے گئے زخمی مسافروں میں سے پہلے 3جبکہ بعد میں مزید 4افراد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے جس کے ساتھ ہی حادثے میں مرنے والوں کی تعداد35تک پہنچ گئی۔
ذرائع سے معلوم ہوا کہ جائے حادثے کے موقعے پر خونین رقص جیسا سماں تھا جہاں لاشیں اور زخمی مسافر خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ حادثے رونما ہونے کے فوراً بعد پولیس، انتظامیہ ، ایس ڈی آر ایف اور مقامی لوگوں نے ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے گاڑی میں پھنسے ہوئے مسافروں کو کافی مشقت کے بعد کشتوار کے کئی ہسپتالوں کو منتقل کیا جبکہ موقعے پر ہی از جان ہوئے افراد کی شناخت اور دیگر طبی و قانونی لوازمات کو پورا کرنے کےلئے پولیس نے لاشوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ادھر جموں میں تعینات دفاعی ترجمان کرنل دیوندر آنند نے بتایا کہ کشتوار حادثے میں زخمی ہوئے افراد کو انڈین ائر فورس کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جموں میڈیکل کالج منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ائر فورس کے چاپر نے 7زخمیوں کو جموں منتقل کیا جن میں ایک کمسن بچہ اور چارتیماردار شامل تھے۔ادھر حادثہ رونما ہونے کے ساتھ ہی ضلع کشتوارمیں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی جبکہ حادثے میں مہلوک افراد کے گھروں میں چیخ و پکار کے مناظر دیکھے گئے۔ معلوم ہوا کہ سانحہ رونما ہونے کی خبر جونہی کشتوار کے مضافات میں پھیل گئی تو لوگوں کی بڑی تعداد اپنے عزیز و اقارب کی سلامتی کےلئے جائے حادثے کی جانب دوڑ پڑے جس دوران کوئی خواتین کو جائے حادثے پر غش آتے ہوئے دیکھا گیا۔ادھر ڈپٹی کمشنر کشتوارانگریزسنگھ رانا نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ گاڑی کاڈرائیور برق رفتاری سے گاڑی چلارہا تھا جبکہ گاڑی میں انتہائی حد تک اوور لوڈ تھا جس کے نتیجے میں گاڑی سڑک سے لڈھک کر گہری کھائی میں جاگری۔انہوں نے کہا کہ 27سیٹوں پر مشتمل منی بس جو کہ کیشون سے کشتوار کی جانب جارہی تھی ، کا ڈرائیور برق رفتار سے گاڑی کو چلارہا تھا۔انہوں نے کہا کہ سرگواری کے مقام پر سوموار کی صبح گاڑی سڑک سے لڑھک کر گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں تلف ہوئیں۔
ڈپٹی کمشنر انگریز سنگھ رانا کے مطابق حادثے کی شکار منی بس میں کافی اوورلوڈنگ تھی اور ڈرائیور گاڑی کو برق رفتار کےساتھ چلارہے تھے۔انہوںنے کہا کہ ہماری طرف سے جو انکوائری عمل میں لائی گئی اس کے مطابق گاڑی میں کافی اوورلوڈنگ تھی اور گاڑی کو برق رفتاری کےساتھ چلایا جارہا تھا۔ڈپٹی کمشنر کے بقول اس حوالے سے کیس درج کیا گیا ہے اور مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ادھر حادثے میں انسانی جانوں کے تلف ہونے پر عوامی حلقوں میںسخت ناراضگی پائی جارہی ہے اور لوگ ایسے سانحات کےلئے ضلع انتظامیہ کے علاوہ محکمہ ٹریفک کی لاپرواہی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ جموں صوبے کے پہاڑی اضلاع بشمول کشتوار، ڈوڈہ، راجوری اور پونچھ میں گزشتہ کئی برسوں سے متواتر طور پر سڑک کے المناک حادثات رونما ہورہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں تلف ہوئیں۔خیال رہے 27جون 2019کو مغل روڑ پر اسی طرح کے ایک دلدوز حادثے میں سیر و تفریح پر جانے والی 11طالبات جاں بحق ہوئیں۔ ادھر ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے اس اندوہ ناک حادثے پر اپنی گہری فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مہلوک افراد کے لواحقین کےساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرنے کےساتھ ساتھ زخمی ہوئے افراد کی فوری اور جلد صحت یابی کےلئے دعا کی۔ انہوں نے حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین میں فی کس 5لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا ریلیف واگذار کرنے کے احکامات صادر کئے۔
گورنر نے انتظامیہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حادثے میں زخمی افراد کے علاج و معالجے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیورں کی لائسنس کو فوری طور پر منسوخ کریں۔ گورنر کا کہنا ہے کہ بیشتر حادثات میں یہ محسوس کیا گیا ہے کہ غیر تربیت یافتہ ڈرائیوروں کی لاپرواہی اور غفلت شعاری کے نتیجے میں ہی حادثات رونما ہوتے ہیں جن میں انسانی جانیں بڑی تعداد میں تلف ہوجاتی ہیں۔گورنر ستیہ پال ملک نے حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ حادثات کے پیچھے محرکات کا پتہ لگانے کےلئے ٹھوس بنیادوں پر تحقیقات عمل میں لائی جائیں گی اور آنے والی سیک میٹنگ میں اس حوالے سے ٹھوس اور مربوط فیصلے لئے جائیں گے تاکہ ملوث عناصر کےخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔
ادھر حادثے پر جن لوگوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اُن میں وزیر اعظم نریندرمودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، گورنر کے صلاح کار، ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی، ڈاکٹر شاہ فیصل،بیگم خالدہ شاہ، ایڈوکیٹ مظفر شاہ، سجاد غنی لون، عمران رضا انصاری، غلام احمد میر، غلام حسن میر، حکیم محمد یاسین، محمد یوسف تاریگامی، انعام النبی سمیت متعدد سیاسی و سماجی لیڈران شامل ہیں۔
دنیا
شمالی کوریا آئندہ امریکہ-جنوبی کوریا فوجی مشقوں پر برہم
پیانگ یانگ، شمالی کوریا نے اگلے ہفتے شروع ہونے والی امریکہ اور جنوبی کوریا کی بڑی فوجی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے جس سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق کہا کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی تعاون ایک جوہری اتحاد میں تبدیل ہو رہا ہے، اور شمالی کوریا ’’خطرے کی نئی سطح کا جواب دفاعی صلاحیت کی نئی سطح سے دے گا‘‘۔
پیانگ یانگ معمول کے مطابق جنوبی کوریا میں ہونے والی فوجی مشقوں کو اشتعال انگیزی قرار دے کر ان کی مذمت کرتا ہے۔
’’الچی فریڈم شیلڈ‘‘ (Ulchi Freedom Shield) کے نام سے ہونے والی یہ فوجی مشقیں 17 اگست سے شروع ہو کر 27 اگست تک جاری رہیں گی۔ ان میں ڈرون حملوں، جی پی ایس میں خلل اور سائبر حملوں سے نمٹنے کی مشقیں بھی شامل ہوں گی، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی شمالی کوریا کی بدلتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کے مطابق اپنی تیاریوں کو ڈھال رہے ہیں۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مشقیں گزشتہ پانچ برس کی مشقوں سے کافی مختلف ہوں گی اور جدید جنگ کے نئے پہلوؤں کی بنیاد پر جنگ لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے منعقد کی جائیں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’سلامتی یقینی بنانے کا ہمارا مستقل اصول یہ ہے کہ خطرے کی نئی سطح کا جواب دفاعی صلاحیت کی نئی سطح سے دیا جائے۔‘‘
شمالی کوریا نے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے اندازاً 12,000 سے 15,000 فوجی بھیجے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اب وہ مزید 10,000 فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہزاروں شمالی کوریائی فوجی ہلاک ہوئے، تاہم اس معاہدے کے نتیجے میں شمالی کوریا کو جنگ کے میدان میں قیمتی تجربہ حاصل ہوا، جبکہ اسے ہتھیاروں، توانائی اور براہِ راست مالی امداد کی صورت میں بھی فائدہ ملا۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ افواج کے کمانڈ کے ترجمان کرنل ریان ڈونلڈ نے اس ہفتے کہا کہ یورپ میں جاری جنگ میں شمالی کوریا کی فوجی تعیناتی نے جزیرہ نما کوریا میں امریکی اور جنوبی کوریائی فوجیوں کو درپیش خطرے کو تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے وہاں حاصل کیے گئے اسباق کو شمالی کوریا واپس پہنچایا ہے۔ ہماری فوجی تربیت میں اس خطرے کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘‘
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں ایسے وقت میں کی جارہی ہیں جب یورپ، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حصوں میں فوجی اور سیاسی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سنگین ہوتی جارہی ہے۔
شمالی کوریا نے جمعہ کو یہ بھی کہا کہ وہ اپنی جوہری دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا۔ پیانگ یانگ نے امریکہ پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کم کرنے اور دنیا کو ’’جوہری جنگ کے دہانے‘‘ پر پہنچانے کا الزام عائد کیا۔
بدھ کو شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب ایک بیلسٹک میزائل فائر کیا تھا۔ یہ چھ روز کے اندر شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا دوسرا میزائل تجربہ تھا۔
’’الچی فریڈم شیلڈ‘‘ مشقوں میں جنوبی کوریا کے 18,000 فوجی اور ملک میں موجود 28,500 امریکی فوجیوں کے دستوں کے اہلکار حصہ لیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
میر واعظ کا الزام: ایک بار پھر نظر بند کیا گیا، ’معمول کی صورتِ حال‘ کے دعووں پر سوال اٹھائے
سری نگر، کشمیر کے میر واعظ اور حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے جمعہ کو کہا کہ انہیں ایک بار پھر نظر بند کر دیا گیا ہے اور سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جانے سے روک دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں میر واعظ نے بتایا کہ یہ نئی پابندی مقدس ماہ ربیع الاول کے آغاز کی شب عائد کی گئی ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں حکام کی جانب سے ’معمول کی صورتِ حال‘ کے کیے جانے والے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بار بار سری نگر کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکنا انتظامیہ کے ان سرکاری دعووں کی ساکھ کو ختم کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر حکام خود اپنے معمول کی صورتِ حال کے دعووں پر اتنا اعتماد نہیں کرتے کہ مجھے بار بار جامع مسجد جانے سے روکتے ہیں، تو اس دعوے کی کیا ساکھ رہ جاتی ہے؟‘‘
انتظامیہ کی جانب سے میر واعظ پر عائد پابندیوں کی فوری طور پر کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر، خاص طور پر جمعہ کے دن، ان پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں، جس کے باعث وہ تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے اور لوگوں سے خطاب کرنے سے محروم رہے ہیں۔
اس دوران میر واعظ نے ایک بیان جاری کرکے جموں و کشمیر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ربیع الاول کے بابرکت ماہ کی مبارکباد دی۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
غزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
غزہ، تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 43 سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو ’’خطرے کو ختم کرنے‘‘ کے لیے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل ’’اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں ’’شہید‘‘ کیا گیا۔
حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے وحشیانہ جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ کی پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ’’ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں‘‘ کا حصہ ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل جنوبی غزہ کے خان یونس میں دو افراد کو لے جانے والی ایک موٹر سائیکل کو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا، تاہم اس دعوے کے لیے بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں 3 اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غزہ میں فضائی حملے روک رکھے تھے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں ’’اہم پیش رفت‘‘ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے 15 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔
حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے لیے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو ’’حقیقی طور پر غیر مسلح‘‘ نہیں کردیا جاتا۔ اس اعلان کے تین روز بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں میں 1,250 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
وزارت نے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
